Home / Regional / Afghanistan / تین ریاستوں میں بکھرے بلوچ ………… ڈاکٹر نصیر دشتی

تین ریاستوں میں بکھرے بلوچ ………… ڈاکٹر نصیر دشتی

تین ریاستوں میں بکھرے بلوچ
ڈاکٹر نصیر دشتی
وہ تین ریاستیں جہاں بلوچ آباد ہیں یعنی پاکستان‘ افغانستان اور ایران در حقیقت ایک قومی نہیں بلکہ کثیر القومی ریاستیں ہیں لیکن اس کے باوجود یہ ریاستیں اپنی لسانی اور قومی اقلیتوں کو برابری کے حقوق دینے میں ہمیشہ ہچکچاہٹ محسوس کرتی ہیں یہاںیہ بات قابل ذکر ہے کہ ایشیاء اور افریقہ کی کئی ہم عصر ریاستیں جن کی بنیاد سامراجی طاقتوں نے رکھی تھی اور جن پر ایک اکثریتی قوم کی اشرافیہ حکومت کر رہی ہے اور اس اشرافیہ کو کثیر الثقافتی و کثیر السانی ریاست کا تصور غیر فطری اور غیر عملی لگتا ہے ان میں سے کئی ممالک میں ایک قومی ریاست کے اندر کئی حریف قومیتیں پائی جاتی ہیں عام طو رپر غالب قوم دوسری قومیتوں کو گروہ‘ علیحدگی پسند یا قبائلی کا نام دے کر ان کے سیاسی ومعاشرتی وجود سے انکار کرتی ہے جن ممالک میں بلوچ آباد ہیں وہاں اہل اقتدار نے بلوچوں میں قوم پرستی کے رجحانات کو کبھی جائز نہیں سمجھا صرف متعلقہ غالب قومی اکائی کو ہی پاکستان ایران اور افغانستان کی ریاستی قومیت کہا گیا۔
موجودہ ایران سلطنت قاچار کا تسلسل ہے جو 1794؁ء میں قائم ہوئی تھی قاچار کی جگہ 1925؁ء میں پہلوی سلطنت نے لے لی اور 1979؁ء میں آیت اللہ نے اقتدار سنبھالا۔ افغانستان پاکستان سے قبل ایران سے علیحدہ ہو گیا تھا لیکن بلوچستان کا وہ حصہ جسے اب ایرانی یا مغربی بلوچستان کہا جاتا ہے فارس کے زیر تسلط رہا بلوچ علاقے پر اس تسلط کو 1873؁ء میں سلطنت برطانیہ اور فارس کے مابین ایک معاہدے کے ذریعے قانونی قرار دیا گیا دونوں سلطنتوں کے مابین یہ سرحد جو بلوچستان کو تقسیم کرتی ہے گولڈ سمتھ لائن کے نام سے معروف ہے 1935؁ء سے فارس کا نام سرکاری طور پر ایران رکھا گیا ایران ایک ایسی ریاست ہے جو اپنی قومیتوں کے مابین مسلسل اندرونی تنائو اور گہرے تضادات کے باعث ایک معمہ بنا ہوا ہے ایران جس پر زیادہ تر آمریت رہی ایک متزلزل ریاست ہے اور کئی بار تباہی کے دہانے تک پہنچی ہے نسلی بنیادوں پر قومیت کے پرچار کی سرکاری سطح پر ایران میں ممانعت ہے اس سرکاری نابینا پن کی جڑیں تنگ نظر شیعہ قوم پرستی کی اس تصور میں پیوست ہیں جو مذہب کو قوم پرستی کے مقابلے میں سماجی شناخت کا تصدیق شدہ ذریعہ سمجھتی ہے۔ایران میںنسلی شناخت کو سرکاری طور پر غیر ضروری سمجھا گیا اور اسی وجہ سے مختلف زبانوں اور مختلف مذاہب کے پرچار کو ایران میں جائز نہیں سمجھا جاتا ایرانی اسٹیبلشمنٹ کی اس غلط سوچ کے باوجود کہ شیعہ شناخت ہی آخر کار دوسری قومیتوں کی شناخت پر غالب رہے گی نسلی شناخت حالیہ برسوں میں ایران کے زیادہ تر حصوں میں مستحکم ہوئی ہے۔
ایران میں بلوچ زیادہ تر جنوب مشرق اور شمال مشرقی خطوں میں ہی مرتکز ہیں جو افغانستان اور پاکستان کے بلوچ اکثریتی علاقوں سے ملحقہ ہے بلوچ صدیوں سے ایک وسیع و عریض علاقے پر قابض رہے ہیں انہوں نے کچھ حد تک آزادی کی ایک لمبی مدت بھی دیکھی ہے جبکہ Khanate of Kalat کی شکل میں ان کی اپنی کنفیڈریشن تھی لیکن ایک آزاد و متحدہ بلوچ ریاست کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔
ایرانی حکمرانی کے تحت بلوچ طویل عرصے سے حکومتی جبر اور امتیازی سلوک سہہ رہے ہیں۔ایرانی حکومت اور ریاست متواتر بلوچ ایسوسی ایشنز‘ سکولوں‘ چھاپہ خانوں‘ مذہبی‘ ثقافتی اور سیاسی تنظیموں اور تعلیمی اداروں کو نشانہ بنا رہی ہے اور اس طرح بلوچ شناخت کے نشانات مٹائے جا رہے ہیں ایرانیوں کا نکتہ نظریہ ہے کہ بلوچی فارسی کی ہی بولی ہے لہٰذا اسے کسی علیحدہ اہتمام و برتائو کی ضرورت نہیں تمام ریاستی ادارے بلوچوں کے لئے شجر ممنوعہ بنا دیئے گئے ہیں لہٰذا یہ آپ کو فوج‘ انتظامیہ‘ خارجی وزارتوں‘ عدلیہ اور پالیسی ساز اداروں سمیت کہیں بھی نظر نہیں آئیں گے تاریخی اعتبارسے ایرانی سلطنت اور بلوچوں کے تعلقات تسلط کے بعد سے آج تک اکا دکا مسلح تنازعات پر مبنی رہے ہیں آخری منظم جنگ میر دوست محمد کی قیادت میں 1928؁ء میں لڑی گئی جس میں بلوچوں کو شکست ہوئی اور مغربی بلوچستان میں آخری بلوچ فرمانروائی بھی دم توڑ گئی کئی بار کی شدید ترین بغاوتوں اور قوم پرستی کی تحریکوں کے باوجود بلوچ قومیت کا سوال ایران میں نہ صرف بلوچوں بلکہ ایرانی قومی ریاست کے لئے بھی مشکل مسئلہ رہا ہے ایرانی غلامی کا طوق اتار پھینکنے کی بلوچ عوام کی دلی خواہش کو 1970؁ء کے عشرے یں نئی جہت ملی یہ قومی آزادی اور سوشلزم کے لئے اٹھنے والے لہروں کے عروج کے سال تھے انڈو چائنا اور افریقہ میں سامراجیت پر عوامی فتوحات نے دنیا بھر کے مظلوم عوام میں امید کی شمعیں روشن کردی تھیں اور حق خود ارادیت کو مظلوم قومیتوں کا بنیادی حق تصور کیا جا رہا تھا۔
1973؁ء کو پاکستانی بلوچستان میں مختصر مدت کے لئے بننے والی قوم پرست حکومت نے مغربی بلوچستان میں آہستہ آہستہ پھیلنے والی قوم پرستی کی تحریک کو مہمیز کر دیا تھا دوسرا حوصلہ افزا پہلوی سلطنت کی ڈھیلی پڑنے والی گرفت تھی جس کا ٹوٹنا یقینی نظر آرہا تھا بلوچ اس وجہ سے پر امید تھے کہ نئی ایرانی حکومت شاید کسی حد تک بلوچستان کو داخلی خودمختاری دے دے اور ماضی میں بلوچوں پر روا رکھے جانے والے مظالم کا کچھ مداوا کرے لیکن یہ سب صرف خوشنما خیالات ہی ثابت ہوئے جبکہ عملی طورپر ملائوں کی طرف سے قاچار اور پہلوی سلطنتوں کی مظالمانہ پالیسیاں جاری رکھی گئیں اور آیت اللہ کی حکومتوں نے ماضی کی ان ظالمانہ پالیسیوںپر سختی سے عملدرآمد کروایا کئی بلوچ سیاسی کارکن شہید کئے گئے جبکہ اسلامی گارڈ نے کئی ایک کو تشدد کا نشانہ بنایا اور قید کئے رکھا ہزاروں بلوچ دنیا کے مختلف حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے اور بلوچستان میں ملائوں کے ٹولے کو فاتح کی حیثیت مل گئی۔
ایرانی ملائوںنے سلطنت کے لئے ایک واحد اور غالب ایرانی شناخت قائم رکھنے کی خواہش میں 1925؁ء تا 1979؁ء کی رائج پالیسی کو جاری رکھا گیا جس کا مقصد سماجی‘ سیاسی اور مذہبی خیالات اور طور طریقوں میں مکمل ہم آہنگی یکجہتی و یک رنگ کا حصول تھا ایرانی عہدیدار یہ سمجھتے ہیں کہ ایران کے تمام باشندے ایک قوم ہیں جن کی زبان بھی ایک ہی ہے جو فارسی ہے دوسری ایرانی زبانیں جو ایران میں بولی جاتی ہیں انہیں فارسی کا ہی مقامی لب و لہجہ تصور کیا جاتا ہے اقلیتی قومیتوں کو دبانے اور ان کو ایک ایرانی اجتماعیت میں شامل کرنے کے لئے آیت الائوں نے بھی وہی پرانے ظالمانہ طور طریقے اختیار کئے ۔
بلوچی زبان شروع سے بلوچ شناخت کی علامت رہی ہے اس لئے مختلف حکومتوں میں ایرانی قوم پرستوں کے لئے یہ پریشانی کا سبب رہی اور انہیں مجبور کرتی رہی کہ وہ اس پر پابندیاں عائد کردیں اور بلوچی زبان کے فروغ کو محدود کرنے کی کوششیں کریں ایک واحد قومی ریاست کی تشکیل کے مرحلے میں بلوچوں پر شدید ترین دبائو ڈالا گیا کہ وہ غالب مذہبی قوم پرستی کا حصہ بن کر ایرانی شناخت اختیار کر لیں۔ بلوچوں کے ان تمام قومی ریاستوں کے ساتھ جن میں وہ محکومی کی زندگی گزار رہے ہیں تعلقات پوری تاریخ میں ہمیشہ معاندانہ رہے ہیں او رانہوں نے سلطنت ایران (چاہے اس کا فرمانروا شاہ رہا ہو یا آیت اللہ رہے ہوں) کے ثقافتی‘ سیاسی‘ معاشی او رلسانی تسلط کوہمیشہ چیلنج کیا ہے اور اس کے خلاف جدوجہد کی ہے۔
ایسے حالات میں خاص طور پر کثیر القومی ریاستوں میں جب ریاستی نظریے اور سماجی حقیقت میں ہم آہنگی کا فقدان ہوتا ہے اورریاست کی غالب اکثریت ہی حکمرانی کرتی ہے تو ریاست کے پاس تین راستے ہوتے ہیں پہلا یہ کہ وہ اقلیتوں کو جذب کرنے پر اصرار کرے گی اور مختلف حربوں کے ذریعے انہیںمجبور کیا جائے گا کہ وہ اپنی جداگانہ نسلی شناخت سے اور زبان سے دستبردار ہو جائے اور ان کی جداگانہ شناخت کو وسیع ریاستی شناخت اور زبان سے بدل دیں اقلیتوں کو جذب کرنے کی یہ پالیسیاں کئی ریاستوں نے اپنا رکھی ہیں جو اقلیتوں کے لئے کئی بڑے سیاسی اور سماجی مشکلات اور ان کی تاریخی عظمت کے کھو جانے کا باعث بن رہی ہیں ۔یک قومی ریاست کے لئے دوسرا راستہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے غلبے کی وجہ سے اقلیتوں کو مساویانہ سیاسی‘ سماجی اور معاشی حقوق سے محروم کر دے۔ تیسرا راستہ ان ریاستوں کے لئے یہ ہوتا ہے کہ وہ کثیر الثقافتی ہونے کا نظریہ اپنا لیں جہاں شہریوں کو کسی خاص کلچر کے تابع نہ کیا جائے اور انہیں ریاستی معاملات میں یکساں مواقع اور حقوق دیئے جائیں۔ان کی ثقافتی اقداراورسماجی روایات کی پاسداری ہو۔
بڑھتے ہوئے ریاستی دبائو کے پیش نظر اقلیت کا رد عمل بھی تین صورتوں میں ظاہر ہو سکتا ہے اور وہ Alferd Hirchman کے مشہور آپشنز کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے یعنی انخلاء‘ احتجاج یا وفاداری‘ وفاداری کے آپشن سے مراد جذب ہونا ہے تاریخی طو رپر اس طرح کئی نسلی اقلیتیں صفحہ ہستی سے مٹ گئے ہیں دوسرا راستہ اقلیتی قوم کے لئے یہ ہوتا ہے کہ وہ امن سے جینے کی خاطر ایک دوسرے کو تسلیم کرنے اور لسانی‘ مذہبی اور مقامی سیاسی معاملات میں محدود آزادی کیلئے مذاکرات کرے۔ آخری راستہ اقلیتی قوم کے پاس یہ ہوتا ہے کہ وہ غالب قوم اور نام نہاد قومی ریاست کو مسترد کرتے ہوئے اس سے نکل کر اپنی ریاست قائم کرے یہ وہ صورتحال ہے جس کا ہمیں بہت سے یورپین‘ افریقی اور ایشیائی ممالک میں سامنا ہے جہاں بہت سے ممالک میں مسلح جدوجہد مختلف اقلیتی قومیتوں کے مابین یا تو جاری ہے یا پھر ناگزیر ہے۔اسی صورتحال کا سامنا بلوچوں کو ایران یا دیگر ہمسایہ ممالک میں ہے بلوچ ان ممالک میں غالب قومیتوں کی سیاسی و ثقافتی بالادستی کی مزاحمت کر رہے ہیں ایران میں بلوچوں کے پاس بھی تین آپشنز یا راستے ہیں پہلا یہ کہ وہ وہاں جذب ہو کر فارسی‘ فارسی بان یا گجر جیسا کہ بلوچ انہیں کہتے ہیں بن جائیں دوسرا یہ کہ وہ اپنی قومی ریاست کے لئے مسلسل لڑتے رہیں اور تیسرے یہ کہ وہ ایرانی ریاست کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے رہیں کہ وہ انہیں اس خطے میں ایرانی ریاستی حدودمیں سیاسی اور ثقافتی خود مختاری دے دیں۔
بلوچ ان حقائق سے نا بلد نہیں ہیں کہ ایران‘ پاکستان اور افغانستان آنے والے برسوں میں بلوچ زمین پر اپنے تسلط کو مزید مستحکم کریں گے انہیںیہ بھی معلوم ہے کہ ان ممالک کی برسر اقتدار اکثریت بلوچوں کو کبھی بھی حکمرانی کا حق نہیں دیتی یا ان کی بنیادی انسانی حقوق کو تسلیم کرنے کی یا باہمی رضا مندی سے بلوچ علاقوںکو خودمختاری دینے پر رضا مند ہوگی ایران کے بلوچوں کے لئے یہ خود کشی کے مترادف ہوگا اگر وہ ایرانی ملا حاکموں کی معقولیت اور سلامت طبع پر بھروسہ کرتے رہیں انہیں قاچار سلطنت کا کافی تلخ تجربہ ہے تاریخ نے انہیں ایسی غلطیوں سے خبردار کر دیا ہے تمام تر تاریخی واقعات اورایرانی ریاستی نفسیات کوباریک بینی سے پرکنے کے بعد یہ بات محال نظر آتی ہے کہ ایرانی حکمران بلوچوں کو کسی سنجیدہ اور مستحکم جدوجہد کے بغیر کسی قسم کی آزادی دینے پر رضا مند ہو جائیں گے یہ بات ایرانیوں کی انتہاء پسند قومیت کے تصور اور ان کی مذہبی انتہاء پسندی سے بعید نظر آتی ہے کہ وہ کسی ایسی سیاسی ہم آہنگی کے لئے آمادہ ہو جائیں جس سے ایرانی حکومت کی کمزوری ظاہر ہو یا وہ کوئی ایسا پوشیدہ تاثر نہیں دینا چاہتی کہ سائرس اعظم کی عظیم سلطنت کو بلوچ عوام کی خواہشات کے آگے سر تسلیم خم کرنا پڑا یہ شیعہ نفسیات کے بھی خلاف ہے دوسری طرف یہ بات بلوچوں کے خون میں ہی شامل نہیں ہے کہ وہ اپنی شناخت اپنی زمین اور وسائل سے ناجائز ظلم و زبردستی کے باعث دستبردار ہو جائے بلوچ اس کا سوچ بھی نہیں سکتے کہ وہ ایک وسیع تر ایرانی یا فارسی شناخت کا حصہ بن جائیں گزشتہ کئی دہائیوں کے واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اور ایران میں غیر معمولی دبائو کے باوجود بھی بلوچ قومی جذبات و احساسات زندہ رہے ہیں جو ان کی مزاحمت کی بے مثال صلاحیت کی عکاسی کرتے ہیں۔
لہٰذا ایران کے بلوچوں کے پاس ایک ہی راستہ رہ جاتا ہے کہ وہ اپنی قومی ریاست کی تشکیل کے لئے جدوجہد کریں اور اس کے لئے اقوام متحدہ کی طرف سے تفویض کئے گئے حق خود ارادیت پر اصرار کریں اقوام متحدہ کی طرف سے اعلان کردہ معاشی سماجی اور ثقافتی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے کے پارٹ 1کا آرٹیکل اس جملے سے شروع ہوتا ہے۔’’حق خود ارادیت تمام قوموں کا حق ہے‘‘ اس طرح حق خود ارادیت یہ ضمانت دیتا ہے کہ حکمرانوں کو عوام میں سے ہی آنا چاہئے بلوچوں کی اپنی حکمرانی کا مطالبہ جمہوری رویہ ہے جو جابر شیعہ ایران کے مذہبی قوم پرستی سے میل نہیں کھاتا۔
بلوچ دانشوروں لکھاریوں او رباشعور رہنمائوں کی اکثریت اس پر فریب معذرت سے متاثر نہیں ہوئی ہے کہ بلوچ سر زمین غیر حقیقی ہے یا یہ آزاد ملک کی حیثیت سے نہیں رہ سکتی اور نہ ہی یہ بات انہیں قائل کر سکی ہے کہ قومی حقوق کے لئے بلوچ جدوجہد کا اصل مرحلہ گزر چکاہے بلوچ اس بات کے بھی قائل نہیںکہ بلوچوں نے مناسب سطح کی تیاری نہیںکر رکھی ہے اور نہ ہی ان کی کوئی تنظیم ہے اکثریت کا کہنا ہے کہ بلوچوں کو امریکہ میں دہشت گردانہ کارروائی کے بعد اس خطے کے بدلتے ہوئے سٹریٹجک اور سیاسی تناظر میں اہم موقع ملا ہے کہ وہ اپنے صدیوں پرانے خواب کا احساس کرتے ہوئے اس کی تعبیر حاصل کریں اور اس سلسلے میں اپنی پوری توانائی صرف کریں انہیں موجودہ وقت میں عوام اور رہنمائوں کی چند کوتاہیوں کو خاطر میں نہیں لانا چاہئے حتیٰ کہ اگر موجود ہ سیاسی حالات اورواقعات میں پوری آزادی ممکن نہیں ہے لیکن ایک سیاسی مطالبے کے طور پر پورے کا پورا زور اسی پر رکھنا چاہئے۔اوربین الاقوامی سطح پراس پرتمام جمہوری قوتوں کواس با ت پرراضی کرناچاہئے کہ بلوچوںکیلئے ایران میںایک خودمختار ریاست میںہی اس خطے کے سیاسی،معاشی اور اسٹریٹجک مسائل کا حل پوشیدہ ہے۔بلوچوںکوکسی بھی قسم کی محدود اور عارضی اقتدار کو قبول نہیں کیا جانا چاہئے ایران کے بلوچوں کو اس جدوجہد کا خیال یکسر مسترد کر دینا چاہئے جو صرف معاشی مطالبات کے لئے احتجاج تک محدود ہو اور جس میں بلوچ قومی مسئلے کے تاریخی اور قومی پہلوئوں سے صرف نظر کیا گیا ہو۔
سوویت یونین کا شیرازہ بکھرنے کے بعد بین الاقوامی معاملات میں کئی نئی جہتیں دیکھنے کو ملی ہیں مغرب کی سوچ میں اسلامی جنگ جوئی اورمذہبی انتہاء پسندی کا احیاء اور اس کے نتیجے میںمغربی معاشروں کے سماجی اور اقتصادی استحکام کولاحق مبینہ خطرات کا احساس اوراس سے نمٹنے کی تگ ودو اسلامی و بنیاد پرست ریاستوں کی مظلوم اقوام کے لئے امید کی نئی کرن بن کرسامنے آرہا ہے اگر مغربی اہلکاروں کے صرف پچاس فیصد پالیسی پر مبنی بیانات پر سنجیدگی سے غور کیا جائے تو یہ بات عیاں ہے کہ مستقبل قریب میں ان علاقوں کی صورتحال جہاں بلوچ رہ رہے ہیں میں وسیع تر تبدیلی آئے گی ان خطوں میں لا محالہ سیاسی‘ فوجی اور جغرافیائی تبدیلیاں رونما ہونگی ایران کو اہل مغرب بین الاقوامی دہشت گردی کا گڑھ اور اسلامی جنگ جوئی کا مرکز سمجھتے ہیں ایرانی ریاست کی تحلیل اس کی فوجی و دیگر اداروں کو کمزور کرنا مغربی اتحادیوں کے اعلیٰ سیاسی اورجغرافیائی مقاصد میں سرفہرست ہے یہ صورتحال ایران کے بلوچوں کے لئے عطیہ خداوندی ہے یہ سوال کہ کیا ایران کے خلاف مغرب کا ایکشن درست ہے یا غلط بلوچوں کے لئے غیر متعلقہ ہے بنیادی سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا یہ بلوچوں کے حق میں نہیں جاتا کہ ایران کی فوجی طاقت کمزوریا ختم ہو اورکیا یہ عمل بلوچوں کے مجموعی قومی مفاد سے متصادم ہے؟ کیا ان طاقتوں کی طرف داری کرنا جو انتہاء پسندی‘ ظلم اور قومی تسلط کے خلاف ہیں بلوچوں کے مفادات سے تصادم ہیں؟ کیا قومی آزادی کی جدوجہد میں کسی بھی قسم کی امداد کو خوش آمدید نہیں کہنا چاہئے چاہے یہ امداد کسی بھی طرف سے آئے مشرق سے یا مغرب سے نیکی کی جانب سے یا بدی کی طرف سے؟
اگرچہ ایرانی جابرریاست کی جانب سے بلوچوں کو جذب کرنے کی کوششیں بلوچوں کے لئے کافی تکلیف دہ ثابت ہوئی ہیں لیکن ایرانی ریاست بلوچ شناخت کو ختم کرنے میں کسی طرح بھی کامیاب نہیں ہو سکی ہے بلوچ شناخت اور قوم پرستی میں شدید جذباتی کشش ہے اور ساتھ ہی یہ شدید سیاسی تحریک کو متحرک کرنے کی قوت بھی رکھتی ہے یہ مشاہداتی حقیقت ہے کہ جو خود کو مجموعی طور پر بلوچ کہتے ہیں ثقافتی طور پر فارسیوں سے قطعی الگ ہیں او ران کے اس امتیاز کو باہر سے خطرہ رہا ہے خاص طور پر فارسیوں کے امتیازی سلوک اور جذب کرنے کی کارروائیوں سے بلوچ شناخت کوخطرہ رہا ہے۔اس لئے بلوچوں کا یہ حق ہے کہ وہ اس غالب خطرے کا کسی بھی طریقے سے مقابلہ کریں بلوچ مزاحمت کرتے رہیں گے او رانہوں نے مزاحمت کی ہے کیونکہ وہ اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ اگر وہ ایرانی ریاست کے خلاف مزاحمت میں ناکام ہو جاتے ہیں تو پھر اس کا نتیجہ وسیع تر ایرانی قومیت میں ایک اذیت ناک جذبیت کی صورت میں برآمد ہوگا اور شاید انہیں اپنی مقدس زمین‘ روایات اور ثقافتی اقدار سے بھی محروم ہونا پڑے ایران میں بلوچ قوم کو ختم کرنے کی طویل کوشش کے جواب میں بلوچوںکے اندر ایک شدید نظریاتی اور سیاسی حیات بخش لہر ایران و بیرونی دنیا میں اٹھی ہے اگرچہ فی الوقت اعلیٰ تعلیم یافتہ بلوچ اور ہزاروں کی تعداد میں بلوچ مہاجرین مغربی یورپ اور خلیج میں موجود ہیں لیکن ایرانی قوم پرست ریاست میں بلوچ مقصدکے حصول کی خاطر لئے سیاسی طور پر ایک موثر تنظیمی ڈھانچے کی ضرورت ہے جماعت سازی اور اندرونی تنظیم کی کمی بڑے مسائل ہیں حال ہی میں بلوچوں کی قومی شناخت کو لاحق خطرے کو جلا وطن بلوچوں نے محسوس کیا اور اپنی سیاسی سرگرمیوں کے لئے بلوچ یونائیٹڈ فرنٹ کی تشکیل کی جس کے مقاصد یہ ہیں یونائیٹڈ فرنٹ ایک آزاد و جمہوری ایران میں خود مختار بلوچستان اور بلوچ عوام کے حقوق کے لئے پر امن سیاسی جدوجہد کرے گی یہ ایران میں ایک جمہوری اور وفاقی سیاسی نظام کے لئے کوشش کرے گی یہ تمام بلوچ سیاسی تنظیموں کے مابین بھائی چارہ اور اتحاد پیدا کرنے کی سعی کرے گی یہ ایران میں موجود قوموں کے مابین ہر قسم کے امتیاز‘ تعصب‘ نا انصافی‘ نا برابری کی نفی کرے گی یہ ریاست اور مذہب کو علیحدہ علیحدہ رکھنے کی کوشش کرے گی یہ اسلامی حکومت کی جابرانہ پالیسیوں‘ امتیازات‘ اورتنگ نظری کو عیاں کرے گی خاص طور پربلوچوں کی نسل کشی اور بلوچ نوجوانوں کو خفیہ طور پر نشے کا عادی بنانے کی پالیسی کو ظاہر کرے گی یہ دوسرے ایرانی محب وطن عناصر کے ساتھ مل کر جبر اور آمریت سے آزاد ایک جمہوری اور خوشحال ایران کے لئے جدوجہد کرے گی جس کا نظام حکومت وفاقی ہوگا۔
بلوچ یونائیٹڈ فرنٹ کی ایران میں تشکیل ایک خوش آئند امر ہے لیکن بین الاقوامی سیاست کے زمینی حقائق کو بھی سمجھنا صروری ہے بلوچ 20ویں صدی کے رومانوی دور میں نہیں بس رہے ہیں یہی وقت ہے کہ بلوچ سیاست میں مثبت تبدیلیاں لائی جائیں دوسرے الفاظ میں ایک غیر متزلزل سیاسی جدوجہدکی ابتداء ہونی چاہئے اور بلوچ قوم کو ایک واضح مقصد دیا جانا چاہئے چاہے یہ حق خود ارادیت پر اصرار کی صورت میں ہو یا پھر ایرانی ریاست میں زیادہ سے زیادہ خود مختاری کی صورت میں دوسرے یہ کہ جبر کے خلاف جدوجہد میں دوست اور دشمن واضح ہونے چاہئے اور اس کا کھلم کھلا اظہار بھی کیا جانا چاہئے تیسرے یہ کہ یہ بات واضح کر دینی چاہئے کہ بلوچ مذہبی انتہاء پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بین الاقوامی قوتوں کے ساتھ ہیں یہ بلوچوں کے لئے بہت ضروری ہے کہ وہ نئی دنیا کے ساتھ قدم ملا کر چلیں چوتھے یہ کہ ہر بلوچ کے ذہن میں یہ بات واضح کردینی چاہئے کہ ایرانی ریاست کے دشمنوں کا ساتھ دے کر وہ کچھ نہیں کھوئیں گے سوائے اس کے کہ جو پہلے وہ کھو چکے ہیں۔قوموں کی شکست ہمیشہ مخالف کی طاقت کے باعث نہیں ہوتی بلکہ یہ غلط لیڈر شپ اور ناقص پالیسیوں کے ذریعے عمل میں آتی ہے آج کی واضح حقیقت یہ ہے کہ بلوچ قوم پرستی کی موجودہ حالت میں بے بسی اور مایوسی بلوچ عوام کے مورال پر اثر انداز ہو رہی ہے اور وہ بالائی و نچلی دونوں طرح سے نئی محکومیت کی طرف بڑھ رہے ہیں انہیں اس حقیقت کو مدنظر رکھ کر خود شکستی کے خطرے سے بچنا ہوگا۔
بلوچوں کو مثالی پروٹو نیشن کہا جاسکتا ہے یعنی ایسا نسلی گروہ جو ایک قوم کی تو تمام خصوصیات رکھتا ہو مگر اس کی اپنی ریاست نہ ہو یونائیٹڈ فرنٹ کو یہ اطمینان کر لینا چاہئے کہ سیاسی و معاشی حاکمیت بلوچستان کے عوام کا ناقابل تنسیخ حق ہے لہٰذا ان کا مقصد انہی پیمانوں پر بلوچستان کی آزادی ہونا چاہئے ایرانی قوم پرستوںکے اتحاد بلوچ یونائیٹڈ فرنٹ کو موقع پرست افکار کے خلاف جدوجہد کرنی چاہئے جو محکومیت اورمسلسل زیرنگیں رہنے کے حق میں ہیں یہی مناسب وقت ہے کہ ایرانی بلوچوں کی موجودہ نسل اپنا مشن دریافت کرے اپنے آپ کودوبارہ دریافت کرے یہ تمام بلوچوں کا اخلاقی فرض ہے کہ وہ تیزی سے چھا جانے والی اس بین الاقوامی صورتحال کو اپنی قوم کے حق میں استعمال کریں اور اس ہنگامہ باد آورد کو حیلہ شب خون بنا کر بیرونی تسلط سے آزادی کے مشن کو پورا کریں ۔
(آساپ19اپریل2004؁ء)
Share on :
Share

About Administrator

Check Also

گھر میں نظربند کر دیا گیا ہے انتخابی مہم چلانے نہیں دی جا رہی،گزین مری

کوہلو:سابق صوبائی وزیر داخلہ اورپی بی نو کوہلو سے آزاد امیدوار گزین مری نے کہا …

Leave a Reply

'
Share
Share
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com