Home / Archives / Analysis / اسلم گچکی سے لی گئی انٹرویو، “بلوچستان مسئلہ کیا ہے؟” – مجاہد بریلوی
Interview - Aslam Gichki- balochistanaffairs.com

اسلم گچکی سے لی گئی انٹرویو، “بلوچستان مسئلہ کیا ہے؟” – مجاہد بریلوی

اسلم گچکی کے بارے میں بلوچستان میں ١٩٧٣-١٩٧٧ کی فوج کشی کے دوران پیپلز پارٹی کی حکمت کے جوائنٹ چیف آف اسٹاف نے یہ حکم صادر فرمایا تھا کہ، “اسلم گچکی جہاں نظر آئے اسے ختم کر دیا جائے”.
چار سال تک بلوچستان کے پہاڑوں پر اسلم گچکی بلوچ عوام کی جنگ لڑتے رہے. جولائی ١٩٧٧ کے بعد وہ پہاڑوں سے واپس آئے- اور جب سے وہ خاموش ہیں. تین ماہ پہلے جب کوئٹہ کی جناح روڈ پر میری ان سے ملاقات ہوئی اور میں نے ان سے پوچھا کہ انکی خاموشی کب ٹوٹے گی؟ تو “اسلم گچکی بس مسکرا کر رہ گئے”.
کراچی میں جب میری ان سے ملاقات ہوئی اور میں نے ان سے انٹرویو دینے کے لئے کہا تو اسلم گچکی نے اپنے مخصوص دھیمے لہجے میں کہا-“یہ ہمارا میدان نہیں ہے ہم تو کارکن لوگ ہیں، ہمیں سیاسی رہنماؤں کی طرح انٹرویو اور بیان دینا نہیں آتے”. میرے اسرار پر اسلم گچکی گفتگو کرنے کے لئے تیار ہو گئے-
اسلم گچکی اس وقت کسی پارٹی میں شامل نہیں ہیں مگر بلوچستان کے “کاز” سے ان کا کمٹمنٹ بڑا گہرا ہے. ان کی سیاسی سوچ اس وقت عوام کے ایک وسیح حلقے کی ترجمانی کرتی ہے.

س : اس وقت بلوچستان کو ملک کا سب سے پر امن صوبہ قرار دیا جا رہا ہے آپ اس سے کس حد تک اتفاق کرتے ہیں؟

ج : بلوچستان سرکاری حلقوں کے دعوے کے مطابق اگر اس وقت ملک کا سب سے پر امن صوبہ ہے تو سرکاری نقطہ نظر سے ایسا ہی ہوگا اور یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ ہماری اور سرکاری سوچ میں ہمیشہ زمین آسمان کا فرق رہا ہے. میں اسوقت مستقبل کے بارے میں کوئی پیشن گوئی نہیں کرنا چاہتا اس لئے کہ تاریخ کا اپنا ایک تسلسل سے سفر ہوتا ہے جسے جبر کی قوتیں پیچھے کی جانب نہیں کینچ سکتیں. دنیا میں جہاں جہاں سامراجیت اور ڈکٹیٹرشپ کے خلاف تحریکیں چلی ہیں اور چل رہی ہیں ان کی تاریخ ہمارے سامنے ہے کبھی یہ تحریکیں بھپری ہوئی لہریں بن جاتی ہیں اور کبھی ان میں وقتی طور پر ٹہراؤ آجاتا ہے. بلوچستان اگر پر سکوں ہے تو اس سے کسی کو غلطفہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے. آپ کیا یہ سمجھتے ہیں کہ بلوچستان کے لوگوں نے “سوچنا” چھوڑ دیا ہے؟ بات ایسی نہیں ہے آج بلوچستان کی متحرک سیاسی قوتوں کی سوچ میں زیادہ نظریاتی پختگی آگئی ہے. اگر گزشتہ سات سالوں میں وہ کسی سیاسی تحریک میں فعال نہیں ہے تو اس کہ سبب یہ ہے کہ بلوچستان کے عوام کو اب اس بات کا یقین ہوگیا ہے کہ محض جمہوریت ان کی معاشی و سیاسی مسائل کا حل نہیں ہے. پچھلے ٣٧ سال سے ہم یہ نعرے سن رہے ہیں اور اب ہم مزید جمہوریت کے ان خالی خولی نعروں سے بیوقوف بننے کے لئے تیار نہیں آپ خود جانتے ہیں کہ قیام پاکستان کے ٢٤ سال بعد جو بلوچستان کی پہلی منتخب حکومت بنی تھی اس کا حکمرانوں نے کیا حشر کیا اس لئے اب مستقبل کی کسی بھی تحریک میں بلوچستان کے عوام اس وقت اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے جب انہیں اس بات کی واضح طور پر ضمانت دی جائے گی کہ اس سے انہیں ان کے معاشی و سیاسی حقوق حقیقی معنوں میں مل جائیں گے-

بلوچستان میں بظاہر خاموشی نظر آنے کا ایک دوسرا سبب یہ بھی ہے کہ سیاسی پارٹیاں کالعدم قرار دی جا چکی ہیں. سردار عطااللہ مینگل لندن میں اور نواب خیر بخش مری کابل میں بیٹھے ہیں.پھر بلوچستان کی سیاسی قوتیں اس بات سے بھی آگاہ ہیں بیانوں، قراردادوں اور جلسوں سے کوئی فائدہ نہیں. ویسے بھی ہمارے علاقے کی سیاسی روایات ذرا مختلف ہیں ہماری جدوجہد کے طور طریقے علحیدہ ہیں بلوچستان میں جو آج امن و امان نظر آ رہا ہے اس کا یہ سبب نہیں کہ حکومت کے ترقیاتی کاموں کے سبب عوام میں خوشحالی آئی ہے اور وہ مطمئن ہو کر بیٹھ گئے ہیں.
حقیقت یہ ہے کہ آج بلوچستان کے ساتھ ماضی سے زیادہ نا انصافی کی جا رہی ہے سب سے زیادہ خطرناک کھیل جو یہاں کھیلا جا رہا ہے وہ، “لڑاؤ اور تقسیم کرو” کا ہے. انفرادی شکل میں نفرتیں بڑھائی جا رہی ہیں مختلف قبائلی گروہوں کو ایک دوسرے سے لڑایا جا رہا ہے. مگر مجھے یقین ہے کہ ان ہتھکنڈوں سے سرکار کو کامیابی حاصل نہیں ہوگی وقتی طور پر ہو سکتا ہے کہ اس سے وہ کچھ فائدہ حاصل کر لیں.

س : آپ کے خیال میں بلوچستان کے حقیقی مسائل کونسے ہیں؟
ج: بنیادی اور اولین مسئلہ تو معاشی ہی ہے دیگر مسائل بھی اسی کے گرد گھومتے ہیں. بلوچستان کی ٥٠ فیصد سے زائد آبادی خانہ بدوش ہے یہ خانہ بدوش تلاش معاش میں ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرتے رہتے ہیں بارشیں بھی کم ہوتی ہیں جس سے بیشتر علاقہ بنجر اور پتریلہ ہے. لوگوں کو دو وقت کی روٹی مشکل سے ملتی ہے کسی بھی علاقے کو ترقی یافتہ بنانے اور عوام کے گھروں میں خوشحالی لانے کیلئے سب سے بنیادی کام سڑکیں بنانے کا ہوتا ہے. سڑکوں سے ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں بنیادی سہولتیں پہنچائی جا سکتی ہیں خاص طور پر شہری علاقوں سے دیہی علاقوں کا رابطہ سڑکوں ہی سے ہوتا ہے پاکستان بننے کے بعد سے ہم آر.سی.ڈی روڈ کے بارے میں سن رہے ہیں. ایوب خان کی حکومت نے کہا کہ یہ سڑک ہمارے دور میں مکمل ہوئی پیپلز پارٹی کی حکمت نے کہا کہ یہ ہمارے دور میں مکمل ہوئی- موجودہ حکومت کا دعوئ ہے کہ یہ شاہراہ عظیم اس کے دور میں مکمل ہوئی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ آج بھی بن ہی رہی ہے. بلوچستان کے وسیح و عریض رقبے میں میرا دعوی ہے کہ کوئی بھی سڑک آپ کو دس میل سے لمبی نہیں ملے گی جو سڑکیں تعمیر ہوئی ہیں ان کا بھی یہی حال ہے کہ ایک پانی کا ریلہ انہیں بہا لے جاتا ہے. سڑک ٹوٹتی ہے تو اس سے راشن کی سپلائی بند ہو جاتی ہے. غریب لوگ کئی کئی دن بھوکے رہتے ہیں. سڑکوں کے جال بچھانے کے بڑے بڑے دعوے کئے جاتے ہیں آپ میرے ساتھ پی آئی اے کے دفتر چلیں جہاں آپ کو ایک ہفتے بعد کا بھی تربت گوادر کا ٹکٹ نہیں ملے گا یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگوں کو ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں جانے کیلئے ہوائی راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے. جب سے پاکستان بنا ہے زندگی کے ہر شعبے میں ہمارے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا ہے. اب یہی دیکھیں کہ بلوچستان کو صوبائی حیثیت ہی کہیں ١٩٧٠ میں جا کر ملی. مرکزی حکومت میں بھی ہماری نمائندہ حیثیت کو تسلیم نہیں کیا گیا. معاشی طور پر بلوچستان کی پسماندگی کا ایک بڑا سبب یہ بھی ہے کہ چونکہ حکمران طبقہ کا تعلق بلوچستان سے نہیں ہے اس لئے وہ ہمیں معاشی و سیاسی حقوق سے محروم رکھے ہوئے ہیں. اس وقت دنیا میں پاکستان کے جتنے بھی سفارت خانے ہیں ان میں شاید ایک بھی بلوچ سفیر یا قونصل جنرل نہیں ہوگا. فیڈرل گورنمنٹ میں جوائنٹ سیکریٹری کی سطح کا افسر بھی کوئی مشکل ہی سے نظر آئے گا. خود ہمارے صوبے میں سرکاری و نیم سرکاری اداروں میں بلوچوں کا تناسب نہ ہونے کے برابر ہے. جبکہ گزشتہ دس سالوں میں ایک خاصی بڑی تعداد بلوچ ڈاکٹروں انجینئروں اور ایم اے ،بی اے پاس کی نکلی ہے. تعلیمی طور پر تو ملک کے دیگر علاقوں سے ہم پسماندہ ہیں ہی مگر جو نوجوان تعلیم حاصل کر رہے ہیں انہیں بھی تو روزگار نہیں مل رہا.

س: بلوچستان کی اس پسماندگی کا ذمہ دار سرکاری حلقے سرداری نظام کو ٹھراتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ جب حکومت ان علاقوں میں ترقیاتی کام کرتی ہے تو یہ سردار بغاوت پر آمادہ ہو جاتے ہیں.

ج: یہ ایک جھوٹا پروپگینڈہ ہے. میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کس سردار نے حکومت کو ترقیاتی کام کرنے سے روکا ہے. ایک دور تھا کہ جب بلوچستان میں سرداری نظام اپنے عروج پر تھا اور معاشی و سیاسی طور پر سردار بڑے مضبوط تھے مگر آج تو بلوچستان میں سرداری نظام اس نوعیت کا نہیں ہے جن علاقوں میں تعلیم کی سہولتیں دی گئی ہیں وہاں سے ہمارے نوجوان تعلیم حاصل کر رہے ہیں. خود سردار عطااللہ مینگل کے علاقے میں سب ڈویژن قائم ہوا ہے کچھ ترقیاتی کام بھی ہوئے وہاں تو کسی نے اسکول یا ہسپتال قائم کرنے سے حکومت کو نہیں روکا ہاں یہ ضرور ہے کہ جب بلوچستان میں عوام کو کچلنے کے لئے فوج کشی کی گئی تو پھر ہم نے ہر سطح پر اس کی مزاحمت کی. اور پھر جناب سرداروں کی اکثریت تو ہمیشہ سے حکومت وقت کے ہی ساتھ رہی ہے مجھے صرف دو سردار نظر آتے ہیں ایک سردار عطااللہ مینگل اور دوسرے نواب خیر بخش خان مری جنہوں نے بلوچستان کے عوام کی جنگ میں ان کی قیادت کی اور وہ بھی سیاسی صورت میں محض ایک سردار کی حیثیت سے نہیں. نواب خیر بخش مری اور سردار عطااللہ مینگل نیشنل عوامی پارٹی کے عہدیدار تھے پھر پارٹی ہی کی بنیاد پر انہوں نے انتخاب بھی لڑا اور جب نیپ کی حکومت ختم کی گئی تو انہوں نے بھی عوامی حقوق کی جنگ میں بھرپور کردار ادا کیا. جہاں تک سرداری نظام کا تعلق ہیں تو اس کی جڑیں انگریز کے دور میں مضبوط ہوئیں. قیام پاکستان کے بعد بھی یہ سردار، نواب و معتبرین کاسہ لیسی کے عوض مراعات حاصل کرتے ہے. اس سرداری سسٹم کو محض ایک آرڈینینس سے ختم نہیں کیا جا سکتا یوں تو ١٩٧٢ میں بھی اس کے خاتمے کا اعلان کر دیا گیا تھا مگر نتائج آپ کے سامنے ہیں. آج بھی ہمارے ہاں قبیلوں سے تعلق رکھنے والے بلوچوں کی اکثریت اپنے دکھ سکھ کو اپنے سردار سے وابستہ کئے ہوئے ہے جگھڑے فساد کی صورت میں وہ فیصلے کرانے کے لئے سردار ہی کے پاس جاتے ہیں. کہیں جائز کہیں ناجائز بھی یہ سردار کرتے ہیں اس کی وجہ یہ نہیں کہ یہ سردار اتنے مضبوط ہیں کہ یہ ان کے پاس جانے کے لئے مجبور ہیں. سردار سے ان کے رجوع کرنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ایک غریب بلوچ یہ جانتا ہے کہ اسے ان ریاستی اداروں سے اتنا بھی انصاف نہیں ملے گا مجبور ہو کر وہ یہ سوچتا ہے کہ چلو جتنا بھی ملے مگر کچھ تو انصاف ملے گا. سرداری سسٹم کا خاتمہ بلوچستان میں اسی صورت ہو سکتا ہے جب ہم اس استحصالی نظام کی جگہ ایک دوسرا بہتر انصاف اور مساوات پر مبنیٰ غیر استحصالی معاشرہ قائم کریں.

س: بلوچستان کے بعض رہنماؤں کی جانب سے کنفیڈریشن اور آزادی کے نعرے لگائے جا رہے ہیں آپ کے خیال میں اس کے کیا اسباب ہیں؟

ج: پاکستان کی سیاسی تحریک آپ کے سامنے ہے ایک جاتا ہے دوسرا اس سے بدتر آتا ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ آنے والا دعوی یہی کرتا ہے کہ وہ ماضی کی تاریخ کو نہیں دوہراۓ گا مگر ہوتا یہ آیا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں وہ کہیں زیادہ امتیازی سلوک ہم سے کرتا ہے. آج اس صورتحال کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب بلوچستان کے سیاسی لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سیاسی جماعتوں کے ذریعے سے اور جمہوری طریقوں سے وہ اپنے حقوق حاصل نہیں کر سکتے. حکمران طبقے سے سیاسی روایات کو جس طرح کچلا ہے اس کے بعد یہ توقع رکھنا کہ ہم سر جھکاۓ سب کچھ برداشت کرتے رہیں گے حماقت نہیں تو اور کیا ہے. آج جو کنفیڈریشن علیحدگی یا آزادی کے نعرے لگ رہے ہیں تو اس کا سبب محرومی اور مایوسی کا وہ احساس ہے جس کی شدت میں وقت گزرنے کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے.

س: افغان انقلاب کے بلوچستان پر کیا اثرات پڑ رہے ہیں؟

ج: گزشتہ برسوں میں اس ریجن میں جو تبدیلیاں رنوما ہوئی ہیں اس سے لازمی طور پر ہمارے خطے کو بھی متاثر ہونا تھا. ہمارے حکمرانوں کا واضح طور پر جھکاؤ امریکہ اور اس کے حلیفوں کی طرف ہے جس نے اس خطے کو آتش فشاں بنا دیا ہے. امریکہ اور اس کے حلیفوں نے اب “چوکیداری” کا ٹھیکہ پاکستانی حکمرانوں کو سونپا ہے اور افسوسناک بات یہ ہے کہ حکمران طبقات نے ملکی مفادات کو پس پشت ڈال کر اس ذمداری کو خوش دلی سے قبول بھی کر لیا ہے. یہ بات اب ڈھکی چھپی بھی نہیں رہی ہے کہ امریکہ اور اس کے حریف ہمیں اپنی بینالاقوامی حکمت عملی کیلئے اس ریجن میں استمعال کر رہے ہیں. حال ہی میں مغربی ذرا ئح ابلاغ میں ایسے مضامین چپھے ہیں جن میں اعداد و شمار کے ساتھ یہ دعوی کیا گیا ہے کہ سی آئی اے افغان مجاہدین کو پاکستان کے راستہ اسلحہ سپلائی کرتی رہی ہے اور کر رہی ہے. حکمران طبقات اپنا وزن ایک پلڑے میں ڈال چکے ہیں جس کے سبب ہماری سرزمین سنگین خطرات میں گھرگئی ہے.
فی الحال تو اس صورتحال سے واپسی کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا. بلوچستان کی اس خطے میں جو مسئلہ بن الااقوامی اہمیت ہے اس کے پیش نظر مغربی ذرایع ابلاغ جو پیشنگوئیاں کر رہے ہیں اسے محض ایک افواہ نہیں سمجھنا چاہئیے-

یہ انٹرویو مجاہد بریلوی کی مرتب کردہ کتاب “بلوچستان مسئلہ کیا ہے؟” سے لیا گیا ہے-

سال اشاعت : نومبر ١٩٨٤

 

Share on :
Share

About Administrator

Check Also

Four bodies and skeletons recovered from Panjgur

QUETTA:  Levies force has recovered four mutilated bodies of unknown persons from Prom close to …

Leave a Reply

'
Share
Share
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com