Home / Archives / Analysis / مشعل کے اندر چنگاری۔۔۔۔۔۔۔نواب اکبر بگٹی

مشعل کے اندر چنگاری۔۔۔۔۔۔۔نواب اکبر بگٹی

مشعل کے اندر چنگاری
نواب اکبر بگٹی

(نوٹ: جمہوری وطن پارٹی کے قائد نواب محمد اکبر خان بگٹی نے 25مئی 2005؁ء کوپریس کلب کراچی میں ڈیرہ بگٹی سے ٹیلیفونک پریس کانفرنس سے خطاب کیا ذیل میںان کے خیالات کا مکمل متن دیا جا رہا ہے۔)

بلوچستان میں گزشتہ 57 سالوں سے حقوق کے حصول کے لئے جدوجہد جاری ہے بلوچستان کے مسائل و معاملات کے حل کے لئے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی گئی پھر اس کی دو سب کمیٹیاں بنائی گئیں اور 90 دن میں کمیٹی کو رپورٹ پیش کرنی تھی مگر آج دن تک ایسا نہیں ہوا۔
17 مارچ 2005؁ء کو ڈیرہ بگٹی میں ریاستی اداروں نے بگٹی عوام پر بھاری توپ خانہ مارٹر شیلز گن شپ ہیلی کاپٹر اور دیگر جنگی سازو سامان کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں 60 سے زائد لوگ شہید ہوئے ہیں جن میں 33 ہندو (خواتین اور بچے)شامل ہیں اور 58 لوگ شدید زخمی ہوئے اورکچھ لوگ معمولی زخمی ہوئے اور ڈیرہ بگٹی کا گنجان آباد علاقہ بری طرح متاثر ہوا بالخصوص ہندو محلہ کو بہت نقصان پہنچا در اصل میں ہی ان کا خاص ٹارگٹ تھا میری رہائش گاہ بیٹھک کچہری اور جہاں جہاں میں روز مرہ کے معمولات نمٹایا کرتا ہر اس جگہ کو نشانہ بنایا گیا اور مارٹر اور توپوں کے گولے میرا پیچھا کرتے رہے مگر مارنے والے سے بچانے والا طاقتور ہے جس نے مجھے بچا لیا۔
سوال یہ پیدا ہوا ہے کہ آخر یہ کیوں ہوا؟ ان کے کیا مقصد تھے حکمران مجھے سیاسی منظر سے ہٹا کر دوسروں کو خبردار کرنا چاہتے تھے تاکہ بلوچ قومی دولت اور حق حاکمیت سے دستبردار ہوں اس لئے انہو ںنے طے شدہ پروگرام اور منصوبے کے تحت جس کا ہمیں علم نہیں تھا پہل کرکے ہمارے گارڈ پر ڈیرہ بگٹی شہر سے چار کلو میٹر دور پٹرول پمپ جو سنگسیلا موڑ پر ہے فائر کھول دیا جس کے نتیجے میں ہمارے پانچ بگٹی شہید اور کچھ زخمی ہو کر گرے اور پھر روڈ پر جنگ چھڑ گئی لیکن فوراً ہی پہاڑوں پر موجود FC کے 7 فائرنگ پوائنٹس سے مارشلز توپ RR گن مشین گنوں اور طرح طرح کے جدید اسلحہ سے ڈیرہ بگٹی کی سول آبادی پر بلا امتیاز فائرنگ شروع کر دی گئی میرے قلعہ رہائش بیٹھک کچہری ہندو محلہ کو چار فائرنگ پوائنٹس سے خطرناک طور پر نشانہ بنایا گیا تھا ڈیرہ بگٹی شہر کی گنجان آبادی پر بلا امتیاز گولہ باری کی گئی اس Selected اور ٹارگٹ بمبارمنٹ کے نتیجے میں ساٹھ سے زائد بگٹی بشمول 33 ہندو شہید ہوئے 58 لوگ شدید زخمی 100سے زیادہ لوگ معمولی زخمی ہوئے شہر کے درو دیوار ہل گئے ہر جانب تباہی کا منظر تھا یہ سب ریاستی اداروں کی گولہ باری کے نتیجے میں ہوا۔
دوسری جانب FC کے 35 سے 38اہلکار بشمول ایک کیپٹن کے مارے گئے اور 25 سے زائد زخمی ہوئے جو آمنے سامنے گولیوں کا نشانہ بنے ہماری اطلاعات کے مطابق
38تابوت سوئی اور کشمور سے لائے گئے تھے جن میں ان کی لاشوں کو پنوں عاقل لے جایا گیا جہاں لوگوں نے خود دیکھا اور گنتی بھی کی۔
الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر سرکاری اہلکار طوطے کی طرح بول رہے تھے کہ کوئی فوجی کاروائی نہیں ہوگی لیکن کارروائی ہوئی اور خاص پروگرام اور منصوبہ بندی کے تحت کارروائی ہوئی پہلے میں اپنے بیانات میں کہتا رہا کہ حاکم زور آور ہیں مجھے مار سکتے ہیں سینکڑوں دیگر بلوچوں کو مار سکتے ہیں مگر ہم بھی اپنے دفاع میں ان کے دو چار خون کے قطرے بہائیں گے چنانچہ ایسا ہی ہوا ہندو بھی بگٹی کا حصہ ہیں ان سمیت بگٹی قبیلے کے جن لوگوں نے قربانی دی اپنے وطن سر زمین قومی عزت ننگ و ناموس اور غیرت کیلئے وہ امر ہو گئے ہم انہیں سلام پیش کرتے ہیں یہ سب بلوچ قوم کے ہیرو ہیں یہ ساری جنگ اور جدوجہد بلوچ قومی دولت اور بلوچ سر زمین پر حق حاکمیت کے لئے ہے سوال یہ ہے کہ اس کا مالک بلوچ ہے یا کوئی اور؟ اگر بلوچ ہے تو کوئی جھگڑا نہیں۔
ترقی ہرا یک چاہتا ہے مگر وہ ترقی جو بلوچ چاہیں اور جس کی ضرورت ہو جبری تھونپی جانے والی ترقی ہرگز قبول نہیں ہے اگر حکمران واقعی بلوچستان کی ترقی سے دلچسپی رکھتے ہیں تو وہ بلوچوں سے پوچھیں ہم بتائیں گے کہ ہم کیا چاہتے ہیں ہماری تمام تر جدوجہد بلوچ قوم کے حقوق اور ترقی دینے کے لئے ہیں۔
17 مارچ کے سانحہ ڈیرہ بگٹی کے بعد چوہدری شجاعت حسین اور مشاہد حسین کے ساتھ مذاکرات صرف ڈیرہ بگٹی کے حالیہ واقعات پر ہوئے جو خالصتاً ڈیرہ بگٹی کے بگٹی عوام سے متعلق ہیں اور تباہی بھی بگٹیوں کی ہی ہوئی ہے جبکہ میں نے اس بارے میں اخبارات کے ذریعے کہا تھا کہ ا س معاملے پر اگر کوئی ہمیں Support کرتا ہے یا مشورہ نے تو ہم Welcome کریں گے مگر کسی نے اس کی ضرورت محسوس نہیں کی۔
لہٰذا ہم نے وضاحت کی تھی کہ صرف ڈیرہ بگٹی کے حالیہ واقعات پر مذاکرات ہوئے جبکہ بلوچستان بھر کے مسائل پر مذاکرات نہیں ہو سکتے کیونکہ میں نہ Electedاور نہ ہی Selected نمائندہ ہوں اور ویسے بھی بلوچستان کے معاملات پر مجھے بات چیت کرنے کا مینڈیٹ حاصل نہیں بلوچستان کے بارے میں دیگر بلوچوں کے ساتھ ساتھ ہمارے بھی تحفظات ہیں اور بلوچ قومی جدوجہد سے ہم دستبردار نہیں ہوں گے۔
بلوچستان کے معاملات کے بارے میں گزشتہ سال کے آخر میں نا معلوم وجوہات کی بناء پر مذاکرات کا سلسلہ ٹوٹ گیا تھا اور اب صورتحال کافی تبدیل ہو گئی ہے بلوچستان کو حقوق دینے میں نہ ماضی کی حکومتیں مخلص تھیں اور نہ اب کی حکومت مخلص ہے اور نہ آئندہ آنے والی حکومت مخلص ہوگی ہر حکومت عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے جھوٹے وعدے بلند بانگ دعوے کرتی ہے مگر کچھ نہیں ہوتا۔
آج بلوچستان سمیت ملک جس کرب سے گزر رہا ہے وہ وفاق کے اندر ’’بندوق تانے‘‘ گروہ جس کو عرف عام میں ’’گھس بیٹھے‘‘ لوگوں کا نام بھی دیا جاتا ہے کا قبضہ و غلبہ ہے جب بھی اس طبقہ نے اقتدار پر قبضہ اور سرحدوں کی حفاظت سے غافٰل رہے ایوبی مارشل ہو تو بلوچستان سے ’’میر جاوا‘‘ کا علاقہ جدا ہوا یحییٰ خان کے مارشل لاء میں مشرقی پاکستان میں 90 ہزار فوجی قید ہو کر وہاں کے صوبہ کو نہ بچا سکے کیونکہ وہاں کے عوام کو ان سے نفرت تھی اسی طرح جنرل ضیاء الحق جب مسلط ہوئے ’’سیاچن ‘‘ کا علاقہ پاکستان کے ہاتھوں سے چلا گیا یوں آج کے جنرل کی بہادری آپ کارگل میں دیکھ چکے ہیں پاکستان کی تاریخ کا تیس سالہ فوجی دور محض شکست رسوائی پسپائی اور ذلت کا دوسرا نام ہے جبکہ پاکستان کے وسائل کا 80 فیصد نام نہاد دفاع کی مد میں عوام کا پیٹ کاٹ کر وصول کیا جاتا ہے۔
آپ کراچی کے صحافی پاکستان کی تاریخ سے زیادہ واقف ہیں 58-57 سال کی تاریخ کا حامل یہ ملک ہے مگر بلوچ قوم اور اس کی سر زمین جس کو بلوچستان کہا جاتا ہے کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے جس سے آپ واقف نہیں ہیں ہمارے آبائو اجداد کو یہ سر زمین کسی نے تحفے میں نہیں دی کسی نے پلاٹ الاٹ نہیں کر دیا کسی ڈیفنس ہائوسنگ سوسائٹی کا بلوچستان حصہ نہیں ہے۔
جبکہ اس مادر وطن کا حصول و دفاع ہمارے بزرگوں نے اپنے خون سے ممکن بنایا ہے پاکستان کی 57 سالہ تاریخ محض مسلمانی دھوکہ ہے جس میں لوگوں کو پھنسا کر ان کے وسائل پر قبضہ کیا گیا حالانکہ لوگوں نے محض مسلمان ہونے کے جذباتی ناطے میں پاکستان میں شمولیت اختیار کی کسی فوج نے ہماری سر زمین کو فتح نہیں کیا ہماری سر زمین کی بناء پر پاکستان کی پہچان ہے جبکہ بلوچستان کی شناخت قدیمی ہے۔
جنوری 2005؁ء میں سوئی گیس فیلڈ ہسپتال کی ایک لیڈی ڈاکٹر شازیہ خالد کے ساتھ اجتماعی زیادتی کا واقعہ ہوا جس کا رد عمل بلوچ عوام نے دکھایا کیونکہ اس قسم کے واقعات کا بلوچ معاشرے میں تصور بھی نہیں ہے سوئی میں فوجی چھائونی کے قیام کی راہ ہموار کرنے کے لئے گیس کی تنصیبات کے نقصان کا جو عذر پیش کیا گیا گیس پلانٹ کو جان بوجھ کر بند کرکے کہا گیا کہ پرزے باہر سے منگوا کر ایک ماہ میں گیس کی فراہمی بحال کی جائے گی اور اربوں روپے کے نقصانات کا واویلا کیا گیا مگر سب نے دیکھا کہ گیس کی سپلائی تین چار دنوں میں بحال ہوئی ڈاکٹر شازیہ کیس پر بلوچوں کے رد عمل کو غیر معمولی قرار دیا جاتاہے اسی سندھ کی ایک بیٹی کی پکار پر عرب سے محمد بن قاسم دوڑا چلا آیا اور اس کی داد رسی کی۔ دیبل سے ملتان تک فتوحات کے جھنڈے گاڑ دیئے جب اسی سندھ کی ایک اور بیٹی ڈاکٹر شازیہ کے ساتھ زیادتی ہوئی (کیس کے لئے 100,000 ڈالر دے کر) اور شازیہ کے ساتھ انصاف کرنے کی بجائے ان کو ملک بدر کیا گیا یہ کارنامہ روشن خیال پاکستان کے حکمرانوںکا تھا اس حوالے سے بگٹی علاقے میں کشیدگی کی فضاء قائم تھی کہ اچانک 17 مارچ 2005؁ء کو ڈیرہ بگٹی کے نہتے اور بے گناہ شہریوں پر گولوں کی برسات برسائی گئی لوگوں کو بھاری جانی و مالی نقصان ہوا پورے ایک ماہ تک ادویات اور خوراک کے بغیر اپنی سر زمین اور بقاء کے لئے ریاستی اداروںکے سامنے سینہ سپر رہے۔
حکومت کا دامن ہمارے 60 سے زائد بے گناہ خواتین و بچوں اور مردوں کے خون سے آلودہ ہے ہم کبھی بھی ان بیش بہا قربانیوں کو پس پشت نہیں ڈال سکتے ہماری ہر بات چیت اور عمل کے اندر ان شہداء کی یاد سرفہرست ہوگی۔
ایسے حالات میں کیسے ممکن ہے کہ ڈیرہ بگٹی و سوئی کا راستہ کھل گیا تو بس معاملات ٹھیک ہو گئے بلوچستان کا مسئلہ حل ہو گیا؟ یہ غلط فہمی یا خوش فہمی ہے حقیقت یہ ہے کہ ہم پر ایک جنگ مسلط کی گئی
There will be more battles yet, a battle was fought but the war continues”
اس وقت تک جب تک بلوچ عوام کو ان کے اطمینان کی حد تک اپنے وسائل پر دسترس نہ ہو اور اپنی ملکیت پر حق حاکمیت اور مکمل صوبائی خود مختاری To the setisfection of the peopleنہ دی جائے جدوجہد کی یہ جنگ جاری رہے گی۔
17 مارچ 2005؁ء کا سانحہ در اصل قوم کی قربانیوں کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ ہے اور قومی حقوق کی بازیابی کی جاری جدوجہد کے مدہم مشعل کے اندر ایک چنگاری کی مانند ہے جس نے قومی بقاء کے گرد اندھیروں کے اندر روشنی کی کرن پیدا کر دی ہے جس سے مردان آہنگ کو نیا ولولہ ملے گا در اصل 17 مارچ کو ڈیرہ بگٹی میں 60 سے زائد بلوچ عوام کے شہداء کی قربانی سے بلوچ قوم کے کھلیان کی خون سے آبیاری ہوئی ہے جو بلوچ قوم کے مستقبل کے گلشن میں بہار لانے کی جدوجہد میں اپنا حصہ ہم سے پہلے ادا کرکے دوسروں کے لئے نمونہ بنے ہیں ان کا یہ جذبہ سرفروشی تاریخ کا لازوال حصہ بن گیا ہے ہم ان کی قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہوئے عقیدت کے پھول نچھاور کرتے ہیں۔
17 مارچ کے شہدائے وطن کی یاد میں ڈیرہ بگٹی میں بلند مینار تعمیر کرکے ان پر جانثاران وطن کے نام کندہ کئے جائیں گے تاکہ آئندہ آنے والی نسل اپنے قومی ہیروز کے نام کو ہمیشہ ہمیشہ یاد رکھے اور اپنی جدوجہد سے کوئی غافل نہ رہے۔

(آساپ26مئی2005؁ء)

Share on :
Share

About Administrator

Check Also

گھر میں نظربند کر دیا گیا ہے انتخابی مہم چلانے نہیں دی جا رہی،گزین مری

کوہلو:سابق صوبائی وزیر داخلہ اورپی بی نو کوہلو سے آزاد امیدوار گزین مری نے کہا …

Leave a Reply

'
Share
Share
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com