Home / Archives / مردم شماری کے مخالف نہیں تحفظات دور کئے جائیں، بی این پی

مردم شماری کے مخالف نہیں تحفظات دور کئے جائیں، بی این پی

کوئٹہ : مردم شماری لاکھوں کی تعداد میں افغان مہا جرین اور بلوچ آئی ڈی پیز کے اپنے علاقوں تک واپسی کی بغیر صاف شفا ف ہونا ممکن نہیں مردم شماری اور سی پیک کے مخالف نہیں لیکن خدشات اور تحفظات دور ہونا چا ہئے ہزاروں سالوں پر محیط بلوچ تاریخ ، تہذیب وتمدن کو کسی بھی صور ملیات میٹ نہیں ہونے دینگے افغان مہا جرین کی موجودگی پشتونوں اور تمام بلوچستانیوں کیلئے بھی مشکلات کا سبب بنے گا ان خیالات کا اظہار بلوچستان نیشنل پارٹی کی جانب سے کلی داد شاہ میں مینگل ہاؤس میں اجتماع سے خطاب کر تے ہوئے پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ، کوئٹہ کے مرکزی قائمقام صدر یونس بلوچ، مرکزی کمیٹی کے ممبر سردار عمران بنگلزئی، نصیرآباد کے صدر میر اسما عیل مینگل، میر غلام رسول مینگل، ملک محی الدین لہڑی، ڈاکٹر علی احمد قمبرانی، آغا خالد شاہ دلسوز، خدائے رحیم بلوچ، ملک صلاح الدین شاہوانی، حاجی نیاز مینگل، ظہور بلوچ نے خطاب کیا اسٹیج سیکرٹری کے فرائض ضلعی سیکرٹری اطلاعات اسد سفیر شاہوانی نے سرانجام دی اس موقع پر وارث کرد ایڈووکیٹ، کاول خان مری، دوست محمد بلوچ بھی موجودتھے مقررین نے کہا کہ مردم شماری خانہ شماری لاکھوں کی تعداد میں افغان مہا جرین اور بلوچ آئی ڈی پیز کی عدم موجودگی جو لاکھوں کی تعداد میں ہے خانہ شماری، مردم شماری صاف شفاف نہیں ہو سکتے بلکہ یہ مردم ہزاری کے متراد ف ہو گا حالیہ مردم شماری نے 40 لاکھ افغان مہا جرین کو شامل کرانا آنے والے وقتوں میں مقامی پشتونوں اور بلوچستانیوں کے لئے مسائل ومصائب کا شکار ہونگے اور اس سے معاشی معاشرتی اور سماجی مسائل بڑھیں گے پارٹی مردم شماری اور سی پیک کے مخالف نہیں لیکن خدشات اور تحفظات دور کئے بغیر بلوچ قوم کو مطمئن نہیں کیا جاسکتا ہے اور حکمرانوں پر ذمہ داری عائد ہو تی کہ ان دو اہم ایشوز کو حل کریں مقررین نے کہا کہ آج بلوچ سرزمین وسائل سے مالامال ہے ریکوڈک، سیندک، گواد ر اور تیل وگیس اور قدرتی مالک ہونے کے باوجود آج عوام نا ن شبینہ کے محتاج ہے بی این پی سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں بلوچ ہزاروں سالوں کے تاریخ سرزمین کی بقاء اور ننگ وناموس کی حفاظت کے جدوجہد کررہی ہے انہوں نے کہا کہ پارٹی مردم شماری اور گوادر میگا پروجیکٹ کے حوالے سے آواز بلند کر تی آرہی ہے اور مردم شماری کے حوالے سے ہم نے عدالتوں سے رجوع بھی کیا اور انصاف مترافی بھی ہے پاک شفاف مردم شماری مسئلے کا حل ہے اگر خدشات اور تحفظات دور نہیں کئے گئے تو ہم مردم شماری کو مسترد کرینگے اور ایسی مردم شماری قابل قبول نہیں انہوں نے کہا کہ آج بلوچستان نیشنل پارٹی کو جو عوامی پذیرائی مل رہی ہے اس ثابت ہو تا ہے کہ بلوچ عوام نے بی این پی کو ہی اپنا نجات دھندہ پارٹی بنایا ہے انہوں نے کہا کہ اکیسیوی صدی میں بھی عوام غربت، افلاس اور مشکلات کا شکار ہے ہم اپنے حقوق کے حصول کے لئے جدوجہد کریں اور عملی سیاست کی وجہ سے عوام بی این پی کو اپنا ترجمان جماعت سمجھتی ہے مقررین نے کہا کہ ہمیں چاہئے کہ ہم متحد ہو کر عوام کے حقوق کے حصول اٹھ کڑے ہوں اور ذاتی رنجشوں اور قبائلی جھگڑوں سے ہٹ کر بلوچستان میں عوام کو آپس میں شیر وشکر کر کے جدوجہد کو آگے بڑھائے مقررین نے کہا کہ بی این پی ترقی پسند روشن خیال جماعت ہے ہم تعصب ، نفرت اور نسل پرستی کے سیاست پر یقین نہیں رکھتے 1998 میں جب سردار اختر جان مینگل جب وزیراعلیٰ تھے تو مردم شماری کرائی گئی تھی اس وقت ساڑھے پانچ لاکھ افغان خاندان شناختی کارڈ نہیں بنائے تھے اور نہ ہی بلوچستان کے حالات مخدوش تھے اب تو غیر ملکیوں نے بڑی تعداد میں ملکی دستاویزات حاصل کر رکھی ہے ان کی موجودگی میں جاری مردم شماری ہو گی صاف وشفاف ممکن نہیں۔

بشکریہ: ڈیلی آزادی

Share on :
Share

About Administrator

Check Also

شفیق مینگل: ’دہشت کی علامت‘ سے انتخابات تک

سحر بلوچ بی بی سی اردو بلوچستان میں ایک زمانے میں دہشت کی علامت سمجھے …

Leave a Reply

'
Share
Share
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com