Home / Archives / بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر BHRO کی سالانہ رپورٹ

بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر BHRO کی سالانہ رپورٹ

بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کی مرکزی چیئرپرسن بی بی گل بلوچ نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران بلوچستان میں انسانی حقوق کے پامالیوں کی سالانہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان طلبا، وکلا، ڈاکٹرز، انسانی حقوق کے محافظ، صحافی اور خاص کر سیاسی کارکنوں کے لیے بلیک ہول بن چکا ہے۔

اس وقت بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالی خوف ناک صورت حال اختیار کرچکی ہے۔ بلوچستان میں مجموعی اور مصدقہ طور پر انسانی حقوق اور بنیادی انسانی آزادیوں کی خلاف ورزیاں تسلسل کے ساتھ ہو رہی ہیں۔ بلوچستان میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز نسل کشی جیسے غیر انسانی جنگی جرائم میں ملوث ہیں۔ 2017 میں پورے بلوچستان میں جبری گمشدگیاں، ماورائے عدالت قتل اور بے رحم فوجی آپریشن جاری رہے۔

جنوری سے لے کر دسمبر تک پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے 516 عسکری آپریشنز کیے اور بلوچ انسانی حقوق کی تنظیم (Baloch Human Rights Organization/BHRO) نے 2114 جبری گمشدگیوں کے کیسز موصول کیے، جن کو فوج نے بلوچستان اور سندھ سے فوجی آپریشنوں کے دوران اغوا کیا تھا۔ 545 لوگوں کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا جن میں 129 لوگوں کو فوجی آپریشن میں فورسز نے قتل کیا اور 40 لوگوں کو دورانِ حراست تشدد سے قتل کیا۔

بلوچستان کے مختلف علاقوں سے 92 مسخ شدہ لاشیں بھی برآمد ہوئیں، جن کی اکثریت چھاپوں اور آپریشن کے دوران اغوا کی گئی تھی۔ کمزور عدالتی نظام اور فورسز کی جانب سے دھمکیوں کی وجہ سے گم شدہ افراد کے خاندانوں نے جبری گمشدگی کے کیسز درج نہیں کیے اور بعض کیسز میں پولیس نے سیکیورٹی فورسز کے خلاف کیس درج کرنے سے انکار کیا۔

جبری گمشدہ لوگوں کی بہ حفاظت برآمدگی کے لیے کراچی اور کوئٹہ میں بہت سارے مظاہرے ہوئے، لیکن مرکزی دھارے کے میڈیا (Mainstream Media) نے کسی ایک واقعہ کے خلاف مظاہرے کو کوریج نہیں دی۔ 2017 کے آخری مہینوں میں کراچی اور کوئٹہ پریس کلبوں نے بلوچ ہیومین رائٹس آرگنائیزیشن کو پریس کانفرنس کرنے کے لیے جگہ دینے سے انکار کیا۔

انسانی حقوق کی پامالی کے واقعات کی تفصیل میں جانے پہلے یہ بتانا ضروری ہیکہ یہ اعداد و شمار جو BHRO نے مرتب کیے ہیں یہ کل واقعات کا 20 سے 25 فیصد ہیں۔ بلوچستان میں مواصلاتی نظام میں رکاوٹ اور سیکورٹی رسک کی وجہ سے ہمارے نمائندے کل واقعات تک رسائی حاصل نہ کر سکے۔
ب
لوچ ہیومین رائٹس آرگنائزیشن جلد ہی اپنا سالانہ کتابچہ شائع کرے گی، جس میں تمام انسانی حقوق کی پامالیوں کی تفصیلات درج ہوں گی جو سیکورٹی فوزسزکے ہاتھوں2017 ء میں ہوئیں۔ ہم یہ تفصیلات اس عرض کے ساتھ شائع کر رہے ہیں کہ قومی و بین الاقوامی میڈیا اور انسانی حقوق کے ادارے بلوچستان کا دورہ کریں تاکہ اصل صورت حال کو سمجھیں اور ایک غیر جانبدار رپورٹ شائع کریں، جس سے بلوچستان میں روزانہ کی بنیاد پہ انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ رک سکے۔

Source: haalhawal.com

Share on :
Share

About Administrator

Check Also

پارلیمنٹ کے ذریعے ملک کی غلط پالیسیوں کو درست کرنا ہوگا ، لشکری رئیسانی

کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماء نوابزادہ لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ محکوم …

Leave a Reply

'
Share
Share
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com