Home / Archives / بلوچ کلچر ڈے پر صوبے بھر میں تقریبات بلوچی دستاراو رپوشاک کی بہاریں ، ڈھول کی تھاپ پر نوجوانوں کا چاپ
QUETTA: Youngsters wear tradition dress during “Baloch Culture Day” celebration ceremony . INP PHOTO by Adnan Ahmed

بلوچ کلچر ڈے پر صوبے بھر میں تقریبات بلوچی دستاراو رپوشاک کی بہاریں ، ڈھول کی تھاپ پر نوجوانوں کا چاپ

کوئٹہ+اندرون بلوچستان: بلوچ کلچر ڈے کی مناسبت سے کوئٹہ سمیت اندرون بلوچستان مختلف تقریبات کا اہتمام کیا گیا ، جس میں بلوچی ثقافت کو اجاگر کرنے کیلئے ہنڈی کرافٹ کھانوں اور دیگر سٹالز لگائے گئے تھے، بلوچ ثقافت کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کر نے سمتی شرکاء نے بلوچی پوشاک اور دستار زیب کر رکھا تھا، اس موقع پر بلوچی چاپ فولک میوزک شیروشاعری کا انعقاد کیاگیا تھا، بلوچی پوشاک زیب تن کئے نوجوانوں نے ڈھول کی تاب پر بلوچی چاپ کیا، دن بھر شہر کی سڑکوں پر بلوچی دستار پہنے افراد گھومتے رہے اور اپنی ثقافت کا والہانہ اظہار کیا، مختلف اسٹال بھی لگائے گئے ، جس میں تقاریب میں شریک ہونے والوں نے گہری دلچسپی کا اظہار کیا، کوئٹہ کے علاوہ ، گنداواہ ، صحبت پور، اوستہ محمد، ڈیرہ اللہ یار ، سبی ، ڈھاڈر، مچھ، نوشکی، نوکنڈی ، کوہلو ،ڈیرہ بگٹی ، سوئی، سونمیائی وندر میں تقریبات کا انعقاد کیاگیاتھا ،بلوچ کلچر ڈے کی مناسبت سے کوئٹہ پریس کلب میں پاکستان سوشل ایسوسی ایشن کی جانب سے تقریب منعقد کی گئی ۔ جس میں بلوچی ثقافت کو اجاگرکرنے کیلئے کپڑے ہنڈی کرافٹ کھانوں اور دیگر سٹالز لگائے گئے تھے اس موقع پر پاکستان ایسوسی ایشن کی آمنہ مینگل ملک عبدالستار بلوچ ، الف اعلان کے سعد اللہ بلوچ و دیگر نے کہاکہ بلوچ کلچر ڈے منانے کا مقصد بلوچی روایات اور ثقافت کو اجاگر کرنا ہے اور ان روایات کو نئی نسل اور نئے دور کے لوگوں میں ابھارنا ہے ثقافت صرف زندہ قوموں میں زندہ رہتی ہے جبکہ جدید دور کا تقاضا ہے کہ قومیں تعلیم ، خصوصی طورپر سائنسی تعلیم پر توجہ مبذول کریں بلوچستان حساب اور سائنس کی تعلیم کا فقدان ہے اس حوالے سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تقریب کے دوران بچوں نے مختلف ٹیبلو پیش کئے جبکہ نوجوانوں کی جانب سے روائتی بلوچی چاپ بھی کیا گیا ،جامعہ بلوچستان کے زیر اہتمام بلوچ کلچر ڈے کی مناسبت سے مختلف تقریبات کا انعقاد کیا گیا بلوچ ثقافت کے مختلف پہلووں کو اجاگر کرنے سمیت طلبہ نے بلوچی پوشاک اور دستار زیر تن کیئے ہوئے تھے۔ بلوچی چاپ فولک میوزک شیر و شاہری کا انعقاد کیا گیا اور جامعہ کے آٹوریم میں رنگا رنگ تقریب کا انعقاد کیا گیاجس کے مہمان خصوصی جامعہ کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اقبال تھے جس میں ڈین آف فیکلٹی ڈاکٹر اکرم دوست رجسٹرار محمد طارق جوگیزئی ٹریثرار جیئند خان جمالدینی اساتذہ اور طلباوطالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔وائس چانسلر نے اس موقع پر کہا کہ انتہائی خوش آنند اقدام ہے کہ جامع بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے بڑے شھا شان طریقے سے منایا جا رہا ہیں ۔جو زندہ قوموں کی پہچان ہیں۔ چونکہ بلوچستان ایک گلدستہ کی مانند ہیں جس میں مختلف اقوام کی خوبصورت رنگیں موجود ہیں ۔جو امن محبت یکجہتی اور بھائی چارگی کو فروغ دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ بلوچستان مقامی زبانوں ثقافت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں اور مقامی زبانوں کے لیئے الگ بلاک تعمیر کیا گیا پیں جس میں زبانوں کی ترقی و ترویج و اعلیٰ تعلیم کے اصول کو ممکن بنایا جائیگا۔ اس موقع پر جامعہ بلوچستان کی بلوچی فولک میوزک کا باقائدہ طور پر افتتاح بھی کیا گیا اور وائس چانسلر نے بلوچی فولک میوزک کے ترتیبب شدہ شاہر طالبعلم محمد جانگیر بلوچ کے لیئے پچاس ہزار روپے اور تعلیمی اخراجات کا بھی اعلان کیا اور طلبا و طالبات کے کاوشوں کو سراہا،پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماء صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز احمد بگٹی نے کوئٹہ کے مقامی مال سینٹر میں بلوچ کلچر ڈے کے حوالے سے منعقدہ تقریب اورمیڈیا سے گفتگو کے دوران کیا اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ان کہنا تھا کہ آج کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں بلوچ کلچر ڈے منایا جارہاہے اس حوالے سے مختلف مقامات پر پروگرا م منعقد کئے جارہے ہیں جس میں لوگ اپنی ثقافت کلچر اور رسم ورواج کے حوالے سے لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کی کوشش کررہے ہیں زندہ قومیں ہی اپنی ثقافت کلچر اور رسم ورواج کا پرچار کرتی ہے جو قومیں اپنی ثقافت اور رسم ورواج کو بھول جاتی ہے وہ ترقی نہیں کرسکتی اس لئے ہمیں نوجوان نسل کو اپنی ثقافت رسم وروا ج کی آگاہی کیلئے پروگرام منعقد کرنے چاہئیں بلوچ کلچر ڈے کے حوالے سے کوئٹہ سے سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پروگرام منعقد کئے گئے جس میں فنکاروں نے بلوچی دھن پر نغمے پیش کئے اور اس حوالے سے بلوچ ثقافت کو اجاگر کرنے کیلئے مختلف سٹال بھی لگائے گئے جس میں ان کا تقاریب میں شریک ہونے والوں نے گہری دلچسپی ظاہر کی ، ڈپٹی کمشنر جھل مگسی کیپٹن (ر) محمد وسیم نے کہا ہے کہ زندہ قومیں اپنے ثقافت کا دن جوش و خروش سے مناتی ہیں۔بلوچ کلچر تہذیب ثقافت ہمیں بھائی چارہ روا داری کا درس دیتی ہیں اور آج کا دن بلوچ عوام کے لیئے کسی خوشی سے کم نہیں جس قوموں نے اپنی روایات اور تشخص زندہ رکھا دنیا میں ان کااپنا مقام ہے ،منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہن تھا کہ یہ کلچر صرف اور صرف لباس اور ثقافتی چیزوں تک نہیں اس میؓں روایات بھی شامل ہیں بلوچ قوم روایات کی پُختہ ہے اسکی روایات یہ بھی ہیں کہ اگر قاتل گھر میڑ ھ لیکر آجائے تو اسکو معاف کیا جاتا ہے۔اور اگر بدلہ لینے پر آجایءں تو آخری حد تک جاتے ہیں اس موقع پرایس پی جھل مگسی سکندر ترین ، اے سی گنداواہ امیر فضل گھمرو، حفیظ اللہ کھوسہ ، قاضی الطاف حسین کلواڑ، فدا حسین ، علی مدد مگسی ، میر دولت دیناری و دیگرز نے خطاب کیا ۔ اس موقع پر ڈی سی جھل مگسی کیپٹن محمد وسیم کی قیاد ت میں میں ریلی نکالی گئی جبکہ اقراء پبلک سکول گنداواہ کے بچوں نے ڈھول کی چاپ پر بلوچی رقص بھی کیا،صحبت پور میں بلوچ کلچر ڈے بڑی دھوم دھام سے منایا گیا ۔ بلوچی ثقافت کو اجاگر کرنے کے لیئے ایک شاندار ریلی نکالی گئی ریلی کے آگے لوگ بلوچی لباس اور بلوچی پگڑی پہنے بلوچی رقص کرتے خوشی سے جھومتے بلوچی گیت گاتے ہوئے اس دن کے حوالے سے منعقد کی گئی تقریب میں شریک ہوئے ۔تقریب میں سابق صوبائی وزیر میر سلیم خان کھوسہ ، ڈپٹی کمشنر آغا شیر زمان درانی، ڈی پی او غلام حسین باجوئی اور علاقے معتبرین اور دیگر لوگو ں نے بڑی تعداد میں بلوچی لباس اور بلوچی پگڑی پہن کر شرکت کی ۔ تقریب میں بلوچی ساز پر بلوچی رقص کئے گئے ۔ اور بلوچی قومی گیت گا کر خوشی کا اظہار کرتے رہے ۔اس حوالے سے لوگوں اپنا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ قوم اس دن کو بڑی دھوم دھام سے مناتے ہیں اس دن کو اجاگر کرنے کا اصل مقصد بلوچ ثقافت کو نمایاں کرنا ہے تاکہ بلوچستان میں رہنے والے بلوچی ثقافت کو اپنائیں اوربلوچی لباس اور بلوچی پگڑی کی اہمیت کو سمجھیں اور اسے اپنی روزمرہ کی زندگی میں اپنائیں تاکہ بلوچستان میں رہنے والا ہر فرد بلوچی ثقافت اپنا کر بلوچی کہلائے، بلو چستان بھر کی طر ح اوستہ محمد میں بھی بلو چی کلچر ڈے منایا گیا جس میں تمام سیا سی سماجی رہنما ؤں نے شرکت کی اور پریس کلب میں ایک تقریب منعقد ہوا تقریب سے نیشنل پارٹی کے جنرل سیکرٹیری میر غلام نبی بلو چ بی این پی کے رہنما امیر جان بلوچ پیارے بلو چ بی این پی عوامی کے ٹکری محمد عالم جتک کونسلر سجاد احمد ابڑو ودیگر نے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ 2مارچ بلو چی ڈے منانے کا مقصد اپنے ثقافت کو اجا گر کریں کیونکہ اپنے ثقافت کلچر کو بھول جانے سے قومیں ترقی نہیں کر سکتی انہون نے کہا کہ جو قومیں تعلیم حاصل نہیں اور اس کی جانب توجہ نہیں دی اور وہ قومیں ترقی نہیں کر سیکں انہون نے کہا کہ آج ہمیں خوشی ہے کہ بلوچ قوم کی 2مارچ کلچر ڈے کی ثناخت ہے انہوں نے کہا کہ ہم حکومت سے اپیل کر تے ہیں 2مارچ کو سرکاری طورپر منانے کا اعلان کریں تاکہ بلو چ قوم ایک ہو کر روایات کو برقرار رکھیں ، ملک بھر کی طرح ڈیرہ اللہ یارمیں بھی بلوچ کلچر ڈے جوش اور جذبے سے منایا گیا جعفرآباد کے شہر ڈیرہ اللہ یار کے مراد جمالی پبلک اسکول میں بلوچ کلچر ڈے کے سلسلے میں ایک رنگا رنگ تقریب کا اہتمام کیا گیاتفصیلات کے مطابق:۔ اس موقع پر نوجوانوں اور بچوں نے بلوچی پگڑی پہن کر اپنے ثقافت کو اجاگر کیا بلوچ کلچر ڈے کے حوالے سے نوجوانوں کی جانب سے ریلیاں بھی نکالی گئیں بلوچ کلچر ڈے کے سلسلے میں اسکول کے طلباء اور طالبات اور نوجوانوں نے ڈھول کی تھاپ پر روائتی رقص بھی کیااس حوالے سے آج جعفرآباد میں عید کا سماں ہے بلوچ ثقافت دن کے حوالے سے نوجوانوں نے ایک دوسرے کو بلوچی پگڑیاں بھی پہنائیں اس موقع پر بلوچ جوانوں کا کہنا تھا کہ بلوچ اپنی ثقافت بڑے جوش اور جذبے سے منا رہے ہیں بلوچ قوم ایک باشعور ،بہادراور امن پرست قوم ہیں انہوں نے کہا کہ بلوچ نے ہمیشہ بھائی چارے کو فروغ دیا محبت اور امن کا پیغام دیاہے،دنیا بھر کی طرح سبی میں بھی بلوچی کلچر ڈے شایان شان انداز سے منایا گیا اس موقع پر نوجوانوں نے مخصوص تقافتی لباس بلوچی دستار کے ساتھ ساتھ بلوچی چاپ کا بھی خوب صورت مظاہرہ کیا گیا بلوچی کلچرڈے سبی کے آرگنائزر ڈسٹرکٹ پریس کلب سبی کے جزل سیکرٹری یار علی گشکوری کی جانب سے صحبت سرائے سبی میں خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا گیا جس بلوچ قوم کی عظیم راویات کے مطابق رسم ورواج کے انداز بلوچی ہتھیاروں کے ساتھ نوجوانوں نے اپنی صدیوں پرانی روایات ثقافت کا اجاگر کرکے ثابت کردیا کہ ہمیشہ وہ ہی قوم ترقی کی جانب گامزن ہوتی ہیں جو اپنی راویات کو زندہ رکھکر قوم کی ترقی خوشحالی میں اپنا کردار ادا کرتی ہیں بلوچ قوم کی ثقافت دنیا بھر میں اپنی مثال آپ ہے بلوچ قوم مہمان نوازی کے ساتھ ساتھ بہادر جفا کش بھی ہے جو اپنے اصول پرستی میں اہم مقام بھی رکھتی ہے سبی سمیت بلوچستان کے کونے کونے کے علاوہ دنیا بھر میں بلوچی کلچر ڈے کے سلسلے میں تقریبات کا بھی انعقاد کیا گیا ریلیان نکال کر بلوچ قوم نے اظہار یکجہتی کا بھی مظاہرہ کیا ،ڈھاڈر میں بھی بلوچ کلچر ڈے نہایت جوش جزبے کے ساتھ منایا گیا اس سلسلے میں بلوچ پیر ورنا نے ثقافتی بلوچی لباس دستار،بلوچی تلواراور بلوچی چاپ کا خوبصورت مظاہرہ کیا اور ریلی کا انعقاد بھی کیا گیا جسکی قیادت وڈیرہ علی احمد رند نے بعد ازاں ڈھول کی تھاپ پر بلوچی رقص بھی پیش کیا گیا اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وڈیرہ علی احمد رند،عبدالحئی گولہ،شیر جان رند،محمد سمیع جلبانی،حاجی خان جتوئی اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ قوم کی تاریخ ہزاروں سالوں پر محیط ہے صدیوں کی تاریخ کے والی وارث بلوچ قوم اپنے قومی دن کو آج جس جوش جزبے کے ساتھ منارہے ہیں تمام مبارک باد کے مستحق ہیں علاوہ ازیں انٹر کالج ڈھاڈر میں بھی بلوچی کلچر ڈے پر ایک سادہ مگر پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس کے مہمان خاص اسسٹنٹ کمشنر ڈھاڈر وکیل احمد کاکڑ تھے ان کے ہمراہ تحصیلدار ڈھاڈر میر محمد ظریف کرد،نائب تحصیلدار سنی محمد رازق اور دیگر تھے تقریب میں کالج کے طلباء نے بلوچی ملی نغمے اور بلوچ ثقافت تاریخ پر روشنی ڈالی پرنسپل انٹر کالج ڈھاڈر محمد رزاق ابڑ و نے بلوچی کلچر ڈے پر بلوچ قوم کو مبارک با د پیش کی اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر ڈھاڈر وکیل کاکڑ بلوچ کلچر ڈے کے حوالے سے تقریب منعقد کرنے پر انٹر کالج انتظامیہ کو خراج تحسین پیش کی اور کہا کہ بلوچی دستار چھوٹ بلوچی شلوار قمیض ہماری زندہ ثقافت کی عظیم باب ہیں ہمیں اپنی کلچر کو فروغ دینے کیلئے اسے ہر سال جو ش جزبے کے ساتھ منانا چاہیئے انہوں نے کہا کہ بلوچ قوم ایک عظیم نامدار اور تاریخی قوم ہے جسکی ثقافت صدیوں پر مشتمل ہے بلوچ قوم کہ تاریخ اپنی ایک الگ جداگانہ شناخت رکھتی ہے انہوں نے بلوچ کلچر ڈے پر تمام بلوچ قوم کو مبارک باد پیش کی بعد ازاں اسسٹنٹ کمشنر ڈھاڈر کی نگرانی میں انٹر کالج سے ریلی نکالی گئی اور شاہی چوک پر کالج کے طلباء نے بلوچی چاپ کا خوبصورت مظاہرہ کیا،مچھ بلوچ کلچر ڈے انتہائی جوش و جذبے کیساتھ بھر پور انداز میں منائی گئی نوجوانوں بچوں بچیوں نے بلوچی لباس زیب تن کیے تھے اور دھول کی تاپ پر بلوچی رقص کیا گیا مچھ میں دفعہ 144کی نفاذ کیوجہ سے بلوچی کلچر ڈے کی مناسبت سے ہونے والی ریلی ملتوی کردی گئی بلوچ کلچر ثقافت تہذیب تمدن روایات ہمیں بھائی چارگی رواداری کی درس دیتی ہے بلوچ تہذیب انتہائی قدیم تہذیبوں میں شمار کیا جاتا ہے دنیا ہمارے تہذیب پر تحقیق کررہے ہیں شرکاء کا تقریب سے خطاب تفصیلات کیمطابق دو مارچ بلوچ کلچر ڈے دنیا کی طرح مچھ میں انتہائی جوش جذبے احترام کیساتھ منائی گئی علی الصبح مچھ بازار میں بلوچی کلچر ڈے کی مناسبت سے ایک تقریب منعقد ہوئی تقریب میں بچے بچیوں اور نوجوانوں نے بلوچی لباس زیب تن کیے ہوئے تھے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ بلوچ اقوام کا اپنام ایک تاریخ ہے بلوچ قوم کو زبانوں میں تقسیم کرنے کی سازش ہورہی ہے ہمیں زبانوں سے بالاتر ہوکر ایک ہی ایجنڈے پر متفق ہونے کی اشد ضرورت ہے ثقافت تہذیب ہی ہماری پہچان اور بقاء مضمر ہے جس قوم نے اپنی ثقات تہذیب کی قدر نہیں کی انکی شناخت دنیا سے ختم ہوگئی جس نے اپنی کلچر کی قدر کی وہ آج دنیا میں اپنی ایک مقام اور پہچان اور شناخت رکھتی تقریب کی اختتام پردھول پر بلوچی رقص کیا گیا جبکہ بلوچ کلچر ڈے کی مناسبت سے ہونے والی ریلی مچھ میں دفعہ 144کی نفاذ کیوجہ سے ملتوی کردی گئی، نوشکی شہر میں بلوچ کلچر ڈے کی مرکزی تقریبات بابائے نوشکی کرکٹ گراؤنڈ میں بلوچ کلچر کمیٹی کے زیراہتمام اور بی این پی کے زیراہتمام میونسپل کمیٹی کے سبزہ زار پر بھرپور وروایتی اندازمیں منایا گیا،جبکہ شہید صفی اللہ ایف سی سکول وکالج ،گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج،ایلیمنٹری کالج اور دیگر سکولوں میں بھی کلچر ڈے کے مناسبت سے تقریبات کا انعقاد کیاگیا،جہاں بلوچ کلچر کو اجاگر کرنے کے علاوہ بلوچی رہن سہن کے چیزیں بھی نمائش کے لئے رکھی گئی تھیں،اسی طرح طلباء وطالبات نے بلوچی لباس زیب تن کیئے ہوئے تھے،جبکہ بلوچی کلچر کا اہم حصہ ڈھول کے تاپ پر بھرپورانداز میں رقص بھی کیا گیا،جبکہ خواتین اور بچوں نے بھی اس دن کو خوب جوش وخروش کے ساتھ منایا ،بابائے کرکٹ گراؤنڈ میں بلوچ کلچر ڈے کے حوالے سے تقریب کا انعقاد کیاگیاتھا،جہاں کثیر تعداد میں نوجوانوں اور ہر مکتبہ فکر کے لوگوں نے شرکت کی،تقریبات کا آغاز بلوچ قومی ترانہ سے کیا گیا،جبکہ ڈھول کی تاپ پر رقص،سکول کے بچوں نے ٹیبلو پیش کی اور مختلف ثقافتی تقریبات پیش کئے گئے جبکہ بلوچی دیوان کا انعقاد بھی کیا گیا ،جس میں مقامی گلوکاروں اور شعرا ء نے اپنے فن کا مظاہرہ پیش کیا،نوکنڈی میں بلوچ کلچر ڈے انتہائی جوش خروش کیساتھ منائی گئی،تقریبات کا آغاز علی الصبح ہوئی جو بعد از دوپہر اختتام پذیر ہوا اس موقع پر تقریب سے خان محمد ابرہیم خان سنجرانی،سردار نوربخش شیرزئی ،سردار شوکت ایجباڑی ،میر رحمان خان بلوچ ،حاجی تاج محمد کبدانی ،انجئینر ملک محمد ساسولی و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ قوم ایک بہادر نسل سے تعلق رکھتاہے جسکی تاریخ اور ثقافت صدیوں سالوں پہ محیط ہے جیسے ہرحال میں زندہ رکھنا ہے اس موقع پر منچھلے نوجوانوں اور قبائلی معتبرین اور سرداروں نے ڈھول کی تاپ پر بلوچی رقص کا مظاہر کرکے عوام سے خوب داد وصول کیا ،بلوچ گلوکاروں نے خو بصورت میوزیکل پروگرام پیش کرکے ثقافتی دن کی خوبصورتی کو دوبالا کیا اس موقع پر بلوچ قوم کی ثقافتی دن کی خوشیوں میں کمانڈنٹ تفتان رائفلز کرنل کاشف اعجاز چوہدری اور کرنل قمر نے بھی شرکت کی جہاں رکن ضلع کونسل چاغی خان محمد آ صف سنجرانی و دیگر قبائلی عمائدین نے انکا اسقبال کیا خان محمد ابراہیم سنجرانی نے کرنل کاشف اعجاز چوہدری اور سردار نور بخش شیرزئی نے کرنل قمرکو بلوچ پگڑی پہنائی پروگرام کے آخر میں ایک ریلی بھی نکالی گئی جس میں شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی،کوہلومیں بھی بلوچ کلچر ڈے شایان شان طریقے سے منا یاگیا بلوچ کلچر ڈے کے حوالے سے ایف سی کینٹ میں تقریب ‘تقریب میں ضلعی آفیسران قبائلی رہنماؤں اور شہریوں نے شرکت کی تقریب کا باقاعدہ آغاز قرآن پاک کی تلاوت سے کی گئی مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ ایک زندہ بہادر قوم ہے جس کی تاریخ بہت وسیع ہے بلوچی ثقافت تمام قوموں اور صوبوں پر ہاوی ہے اگر بلوچ قوم کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو بلوچ قوم کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں مقررین نے مزید کہا کہ کوہلو قدرتی دولت سے مالا مال ہے تقریب میں مختلف قسم کے ٹیبلوں پیش کئے گئے بلوچی ڈانس نے تقریب کو چار چاند لگادیئے قبائلی عمائدین اور شہریوں نے کثیر تعداد میں بلوچی لباس زیب تن کیا ہوا تھا تقریب میں بلوچی ثقا فت کی مناسبت سے مختلف اسٹال لگائے گئے جس میں بلوچی دستکاری اوربلوچی ثقافت کے عکس کو ظاہر کیا گیا شہریوں نے میوند رائفلز کی اس کاوش کو سراہا ہے ،ڈیرہ بگٹی میں بھی بلوچ یوم ثقافت بھر پور طریقے سے منائی گیا, اس سلسلے میں اہم تقریب کا انعقاد ایف سی ہیڈ کوارٹر ڈیرہ بگٹی میں کیا گیا, تقریب میں مہمان خصوصی کماندنٹ بمبور رائفلز کرنل ندیم بشیر کے علاوہ سیاسی و قبائلی عمائدین اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی, تقریب میں ایف سی پبلک اور دیگر اسکولوں کے بچوں نے بلوچ ثقافت کے وہ رنگ بکھیر ے کہ دیکھنے والے دنگ رہ گئے,جب کہ اس موقع پر نہ صرف ثقافتی رنگ چھلکے,بلکہ روایتی بلوچی موسیقی نے بھی دیکھنے اور سننے والوں کو اپنے حصار میں رکھا,اس موقع پرقبائلی اور سیاسی عمائدین نے تاریخی بلوچ ثقافت پر روشنی ڈالی,جبکہ مہمان خصوصی کماندنٹ بمبور رائفلز کرنل ندیم بشیر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتیہوئے بلوچ ثقافت اور تاریخ کو پاکستان کے لئے قیمتی سرمایہ قرار دے دیا,اور ملک وقوم کے ترقی و خوشحالی کے لئے بلوچ عوام کے کردار کو سراہتے ہوئے خراج تحسین پیش کیا,جب کہ ڈپٹی کمشنر جاوید نبی کھوسہ نے پاکستان اور بلوچستان کو لازم و ملزوم قرار دیتے ہوئے کہا,کہ آج کا یہ تقریب دشمن کے لئے ایک واضح پیغام ہے کہ,ہم نہ صرف ایک دوسرے کے دکھ سکھ کے ساتھی ہیں بلکہ ہر قبیلہ ایک دوسرے کی ثقافت اور تاریخ کو بھی اپنی تاریخ اور ثقافت سمجھ کر اس پر فخر کرتا ہے,تقریب کے آخر میں مہمان خصوصی اور قبائلی عمائدین نے پرفارمنس پیش کرنے والے بچوں اور شہریوں میں انعامات تقسیم کئے،سوئی میں بھی بلوچ کلچر ڈے کے مناسبت سے ایف سی کے زیر اہتمام بلوچ ثقافتی میلے کا انعقاد کیا گیا میلے میں سول و عسکری حکام کے علاوہ قبائلی عمائدین اور عوام کی ایک بہت بڑی تعداد نے شرکت کی میلے میں بلوچ ثقافت کو اجاگر کرنے کے لئے مختلف قسم کے اسٹال اور روایتی کھیلوں اونٹ دوڑ گھڑ دوڑ گدھا گاڑی ریس کے علاوہ رسہ کشی کے مقابلوں کا انعقاد کیا گیا اور جیتنے والے کو انعامات دیئے گئے میلے میں بلوچی چھاپ کو حاضرین نے خوب سراہا جبکہ سیکٹر کمانڈر ایسٹ بریگیڈیئر امجد ستی میر عطااللہ کلپر میر جان محمد مسوری میاں خان موندرانی بشیر اللہ کلپر کرنل سرناز میجر معراج سمیت معززین نے بلوچی چھاپ میں حصہ لیا اس موقع پر معروف گلوکار سبز علی بگٹی اور بین الاقوامی شہرت یافتہ سروز نواز استاد سچو نے اپنے فن کا مظاہرہ کر کے حاضرین سے داد سمیٹی تقریب سے عطا اللہ کلپر میر جان محمدمسوری کے علاوہ مہمان خصوصی بریگیڈیئر امجد علی ستی نے بھی خطاب کیا،صوبہ بھر کی طرح وندر میں بھی بلوچ کلچر ڈے جوش جذبے سے منایا گیا دھول کی تاپ پر رقص اور بازار کا گشت کیا گیا نیشل پارٹی اور بی ایس او(پجار) کی جانب سے یوم ثقافت منایا گیا۔ تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز بلوچستان بھر کی طرح تحصیل سونمیانی کے صدر مقام وندر میں بھی نیشنل پارٹی اور بی ایس او (پجار) کی جانب سے بلوچ دود ربیدگ کا دن انتہائی عقیدت اور جوش و جذبہ سے منایا گیا ۔ دھول کی تپ پر نوجوانوں نے روایتی بلوچ رقص کیا اور ایک ریلی کی شکل میں بازار کا گشت کرتی ہوئے مین بازار میں میراں پیر چوک پر رکی جہاں نوجوانوں کے ساتھ ساتھ بزرگ بھی دھول کی تپ پر خوب رقص کیا بعد ازاں ریلی وندر اسپورٹس گراؤنڈ میں ایک جلسہ کی شکل اختیار کر گئی جس سے نیشنل پارٹی لسبیلہ کے ضلعی جنرل سیکریٹری، کامریڈ سلیم بلوچ، ایجوکیشن آفیسر وندر فقیر محمد بلوچ، بی ایس او کے محمد حنیف بلوچ، نادر بلوچ، اسلم بلوچ و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہر قوم کی پہچان اسکی ثقافت ہوتی ہے اور ہم اس قوم سے ہیں جس کی ثقافت دنیا کی مشہور ترین ثقافت ہے ہمیں یہ ایک عظیم تحفہ مفت میں ملا ہے جس کی حفاظت ہمارا فرض ہے بلوچ قوم ایک بہادر اور خدمت کرنے والا قومی ہے ۔ مقررین نے کہا کہ بلوچ ثقافت کی بقاء کیلئے اب تک کتنے بلوچوں نے اپنی جانیں قربان کی ہیں ہم انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ہماری آنے والی نسل اپنی ثقافت اور بقاء کی حفاظت بھر پور انداز میں کریگی۔ آخر میں موسیقی کے پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس میں سیف جان بلوچ نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔

بشکریہ: ڈیلی آزادی

Share on :
Share

About Administrator

Check Also

اکیڈیمک پلیجرزم: پاکستان کے اکثر استاد سرقہ کرتے ہیں

واشنگٹن —  پاکستان میں ’اکڈیمک پلیجرزم‘، یعنی تحقیقی مقالوں میں سرقے کی روایت بہت عام …

Leave a Reply

'
Share
Share
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com