Home / Archives / Elections in Pakistan and the Baloch Dilemma

Elections in Pakistan and the Baloch Dilemma

By Miran Baloch
بلوچستان میں انتخاباتی عمل میں شمولیت اور پاکستانی پارلیمانی اداروں کا حصہ بننے کے فیصلہ کو لیکر بلوچ قومپرست جماعتوں کی راۓ
منقسم ہے. ٢٠٠٢ میں اس وقت کی بلوچ سیاسی قومپرست جماعتوں سے نکل کر تشکیل نو پانے والی نئی بلوچ جماعتوں کی جانب سے پارلیمانی سیاست کو مسترد کرتے ہوئے انتخاباتی عمل میں حصہ لینے کو بلوچ قومی تحریک کے لئے نقصاندہ قرار دیا گیا اور اس سے وابستہ رکھی جانی والی ہر امید کو سراب کہلایا. جبکہ دوسری جانب پارلیمانی سیاست کا حصہ رہنے والی بلوچ قومپرست جماعتیں پاکستانی انتخاباتی عمل کی شفافیت پر بارہا تشویش کا اظہار کرنے کے باوجود جدوجہد کی اس جہت کو مکمل طور سے نظرانداز کرنے کی حمایت نہیں کرتیں.
 اس تحریر کا مقصد بلوچ قومپرست جماعتوں کے مابین پاکستانی پارلیمانی سیاست کو لیکر پائی جانے والی اختلاف راۓ کا تاریخی جائزہ لینا اور جتنا ممکن ہو سکے اس حوالے سے ایک متوازن راۓ سامنے رکھنا ہے جسے مدنظر رکھ کر بلوچ قومپرست جماعتوں کو باخبر اور سنجیدہ فیصلہ لینے میں آسانی ہو اور یہ جاننے میں بھی مدد ہو کہ اس حوالے سے اٹھاۓ جانے والے انکے کسی بھی فیصلے کا بلوچ قومی نجات کی تحریک اور عام و خاص بلوچ کی زندگی پر براہراست کیا اثر پڑے گا.
ایک ریاست مختلف ریاستی اداروں کا مجموعہ ہوتا ہے، ان میں شامل حکومتی ادارے ایک پیچیدہ (ویب آف ایکٹرز) ہوتی ہیں جو سماج کی مستقبل کی تعمیر کا کام کرتی ہیں اور وہ عناصر جو ایک عام و خاص انسان کی زندگی پر اثرانداز ہوتی ہیں وہ تعلیم، صحت اور معیشت وغیرہ ہیں. ان تمام کے حوالے سے پالیسیز ریاستی پارلیمانی اداروں سے بنتی اور متاثر ہوتی ہیں اور انتخابی عمل کے ذریے ہی عوام اپنے نمائندوں کو چن کر ان ایوانوں میں اپنے مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے بھیجتی ہے.
پاکستان کی تخلیق و سیاسی تاریخ کے تناظر میں دیکھا جائے تو جمہوری اور وفاقی ریاست ہونے کے آئینی دعووں کے برعکس ریاست پاکستان تاریخ، زبان اور ثقافتی اعتبار سے مختلف اقوام پر ایک مخصوص نسلی گروہ کی حکمرانی ہے جو بیشتر ریاستی اداروں بالخصوص مصلح افواج میں اکثریت رکھنے کی وجہ سے دیگر اقوام کی زندگیوں اور مفادات پر کافی حد تک اثر انداز ہے. ملک میں اپنی حکمرانی قائم رکھنے کے غرض سے ریاستی اسٹیبلشمنٹ دیگر اقوام کی شناخت اور وسائل کے علاوہ انتخابات میں مداخلت کرتے ہوئے انکے مینڈیٹ کو بھی چراتی آئی ہے وہ بھی کسی احتساب کے بغیر.
 مگر کوئی بھی ریاستی حکمران گروہ ایسا کیوں چاہے گا کہ اسکے زیر دست ادارے اور وسائل اسکی مضبوطی کی بجاۓ اسکی کمزوری میں معاونت کریں یا اس کی حاکمیت کو رد کرنے والی قوتوں کے ترقی میں استعمال ہوں؟ ایک قومی نجات کی تحریک جسکے افرادی و مالی وسائل ناپید ہوں اور بیرونی کمک میسّر نہ ہو تو ایسی صورت میں اس کے پاس وسائل کی حصول اور اپنی توانائی کی بحالی کے زراۓ کیا رہ جاتے ہیں؟
 یہ ایک غیر معمولی رجحان ہوتا ہے کہ کوئی بھی ریاست نا چاہتے ہوئے بھی اپنی حکومت کے قیام اور فعالیت کے لئے جو ادارے بناتی ہے اور جو وسائل ان اداروں کے ذریے بہتی ہیں اسکے فوائد وہ بھی حاصل کرتے ہیں جن کی سہولت کے لئے ان اداروں کا قیام اور وسائل کی تقسیم عمل میں نہیں لائی گئی ہوتیں. اس کی مثال تعلیمی اداروں، اسپتالوں اور دیگر یکساں حکومتی اداروں سے لی جا سکتی ہیں.
تاریخی اعتبار سے ریاستی اداروں کا بلوچ کی جانب روا رکھے جانا والا رویہ عدم برداشت پر مبنی اورغیر منصفانہ رہا ہے اور انہی بنیادوں پر تشکیل دیے جانے والی تمام تر بلوچ مخالف ریاستی پالیسیز کا مقصد بلوچ قومپرستی کی نظریے کو کمزور کرنا اور اس نظریے کا پرچار کرنے والی تمام تنظیموں اور رہنماؤں کو کنارہ کش کرنا مقصود رہی ہیں.انہی تجربات نے  بلوچ قومپرستوں کے ایک حصہ کے ریاستی اداروں پر سے اعتماد اٹھنے اور انکے استعمال کو ترک کرنے کے فیصلے میں معاونت کی ہے.
ان پالیسیز پر شروع دن سے عمل پیرا ریاستی اسٹیبلشمنٹ اور انکے کارندوں کی کوششوں کا نتیجہ رہا کہ بلوچ قومپرست تنظیموں پر کسی نہ کسی بہانے سے پاپندی لگانہ اور بلوچ قومپرست رہنماؤں کی کردارکشی اور انہیں برسرزنداں کیا گیا اور انکی شعوری نشونماء کے زرائے، انکی افرادی و معاشی قوت کو پوری طرح سے خشک کرنے کی کوشش کی گئی اور ساتھ ہی ساتھ  یہ ممکن بنانے کی سر توڑ کوشش رہی کہ وہ قانونی طریقہ کار سے ریاستی اداروں اور وسائل کو اپنی بحالی اور نظریے کی فروغ کے لئے بروئیکار نہ لا پائیں- اسکا بہترین اور کارآمد ذریعہ بلوچ کی حقیقی نمائندہ لیڈر اور جماعتوں کو پارلیمانی و پالیسی ساز اداروں سے دور رکھنا اور ان کے متبادل ان لوگوں کو بلوچ کا منتخب نمائندہ پیش کر کے سامنے لانا جن کی بلوچ اور بلوچستان سے کوئی بھی جذباتی لگاؤ نہ ہو اور نہ وہ کسی بھی طرح سے بلوچ قومی اقدار اور مفادات کی نمائندگی کرتے ہوں.
اس کی مثال ہمیں نیپ کی ١٩٧٢ کی اس بلوچ قومپرست حکومت سے ملتی ہے جو پہلی بار بلوچستان میں کئے جانے والی شفاف انتخابات کے نتیجہ میں اقتدار میں آئی اور بلوچ قومی مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے کئی اہم فیصلے لئے جن میں بلوچستان میں تعلیمی اداروں کا قیام، درسگاہوں میں علاقائی زبانوں کا فروغ اور بوسیدہ سرداری نظام کے خاتمہ کا بل پیش کرنا، اور سینکڑوں گھرانوں کی مالی مدد کے لئے کئی لوگوں کو برسر روزگار لگایا لیکن چونکہ ان تمام اقدامات کا فائدہ براہراست بلوچ قوم کو جاتا تھا تو ریاستی مشینری فعال ہوئی اور اس سے پہلے ان پالیسیز پر مکمل عملدرآمد ہو پائے بلوچ حکومت پر غداری کے مقدمات لگا کر زندانوں اور پیشیوں کی نظر کر دیا.
نتیجتاً احتجاج کے طور پر بلوچ رہنماء ریاستی اداروں پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے سیاسی سرگرمیوں سے کنارہ کشی اختیار کی، لیڈر کی غیر موجودگی اور سیاسی اداروں کی غیر فعالی میں کسی نظریے کو بآسانی کرپٹ کیا جا سکتا ہے. چونکہ بلوچ رہنماؤں کا یہ فیصلہ مناسب ہونے کی بجاۓ جذباتی تھا تو اسکا فائدہ ریاستی اسٹیبلشمنٹ نے یوں اٹھایا کہ بلوچ لیڈروں کی غیر موجودگی میں جو خلا پیدا ہوئی تھی اسے اپنے منظورنظر جماعتوں اور لوگوں سے پر کیا جو بظاھر تو بلوچ قومپرستی کے دعوہ دار تھے مگر ریاستی مفادات کے ترجمان جنہوں نے بلوچ سماجی ڈھانچے اور قومی سیاست کو کافی نقصان پہنچایا اور لالچ و انفرادیت کو فروغ دیا.
انہی ریاستی کارندوں کی مرہون منت 1988 کی دہائی میں مخلوط بلوچ جماعتوں کی حکومت اور ١٩٩٨ کی اقتدار میں آنے والی بلوچستان نیشنل پارٹی کی حکومت کو ٩ ماہ بھی چلنے نہ دیا اور ریاستی اداروں کی ساز باز سے ان حکومتوں کو ایوانوں سے باہر نکال کیا ہتکہ بلوچوں کی نمائندہ جماعت کو کمزور کرتے ہوئے کئی ٹکڑوں میں تقسیم کیا. ان تمام ریاستی اقدامات کا مقصد واضح ہے.
اس کے بعد پاکستان میں آنے ہونے والی فوجی حکومت نے بلوچستان میں اپنے ماتحت مذہبی جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ کے مفادات کے تصدیق شدہ پیروکاروں کو حکومت بخشی جنکا کام بنیادی طور پر بلوچ معاشرے میں بدعنوانی، مفادپرستی کو عام کرنا اور بلوچ مخالف قوتوں کو معاشی طور پر مضبوط بنانا رہا. اس نہج میں بلوچستان کے بدلتے حالات کی پیش نظر بلوچ قوم پرستوں کی انتخاباتی عمل میں شمولیت کے حوالے سے راۓ منقسم ہو چکی تھی اور ٢٠٠٨ کے بلوچستان میں ہونے والے عام انتخابات میں حصہ نہ لینے کے فیصلے نے بلوچ مخالف قوتوں کو ہی فائدہ پہنچایا اور بلوچ قومپرستوں کی نمائندگی نہ ہونے کی وجہ سے بڑی آسانی کے ساتھ انہی ایوانوں سے بلوچ وسائل کی لوٹ مار کو تقویت ملی اور اس لوٹ مار کو قانونی ڈھال پہنایا گیا. یہی کچھ ٢٠١٣ کے  انجنیئرڈ الیکشن کے نتائج میں دیکھنے کو آیا ریاستی طاقت اور منشا کا ثبوت ٥٠٠ ووٹ لینے والے شخص کو اسمبلی کا سپیکر بنایا تو محض ٤٠٠٠ ووٹ لینے والے کو وزیرعلیٰ! بلوچ قومپرستوں کی تقسیم کا اس سے بدتر صورتحال آنے والے دنوں میں بلوچستان میں مذہبی شدت پسندوں اور سماجی طور خستہ حال لوگوں کی بلوچستان کے ایوانوں میں حکومت ہوگی.
 اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ پاکستانی ریاستی اسٹیبلشمنٹ کا اثر رسوخ انتخاباتی عمل پر گہرا ہے اور پارلیمانی اداروں میں اسکے اثر رسوخ و مداخلت کو قطعی نظرانداز نہیں کا جا سکتا اور قومپرست جماعت کے لئے ریاستی اداروں میں شرکت بھی جھوکم سے مبرا نہیں ہوتیں. ایک اہم خطرہ جو کسی بھی محکوم قوم کی نمائندہ جماعت کو درپیش ہوتا ہے وہ اسے غیر منصفانہ مداخلت سے الیکشن میں ہرا کر دنیا کے سامنے اسکے مینڈیٹ کو نقصان پوھنچانا ہوتا ہے. یہ امید رکھنا کے ریاستی پارلیمانی اداروں کے ذرے بلوچ قوم کو اس کے تمام حقوق مل جائے گے ایک خام خیالی ہے البتہ ایک قومی نجات کی تحریک محض امیدوں کی کشتی میں سوار نہیں ہوتی بلکہ وقت و حالات اور ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی حکمت عملیوں پر نظرثانی کرتی رہتی ہے. نہ چاہتے ہوئے بھی بلوچی اکیڈمی کی بنیاد ہو یا بلوچستان کی یونیورسٹیوں کا  قیام ہو یہ تمام بلوچ قومپرستوں کی حکومت میں سرانجام پائے.
 کسی بھی تحریک کے سرکردہ جماعتوں کو اس بات کو نظرانداز نہیں کرنا چاہئے کے وہ ایک اجتماعی عوامی تحریک کی نمائندگی کر رہے ہوتے ہیں اور انکی ہر عمل کا اثر براہراست عوام اور اس سے جڑی ہرانسانی زندگی کے پہلو پر پڑتی ہیں.انہیں سوچنا ہوگا کہ بلوچ دشمن عناصر کا راستہ کیسے روکھنا ہے. دور رس نتائج کے حصول کے لئے عوام کی زندگی دیر تک ساکت نہیں رہ سکتی اور زندہ رہنے کیلئے اسے وقت کی رفتار کے بھاؤ کے ساتھ چلنا پڑتا ہے اسکے زخمی کاندوں پر اسکی حیثیت سے زیادہ بوجھ اسکی لاغر جسم کو بے جان کر سکتی ہے. یہ ایک طویل سفر ہے جو بنیادی سماجی زندگی سے ہٹ کر طے نہیں کی جا سکتی اور یہ ذمداری تحریک کے سرکردہ کی ہے کہ اس لمبے سفر میں عوام کی توانہ ہونے کی زرایے کا انتظام کرے.
(The writer is a Karachi based student of international affairs. The editorial board of Balochistan Affairs invites intellectuals, writers and activists to express their opinion on this issue)
Share on :
Share

About Administrator

Check Also

بلوچستا ن کے لوگ ناراض نہیں ، بھارت فنڈڈ دہشتگرد صوبے میں سر گرم ہیں ،اسد عمر

اسلام آباد: وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ ہم نے عالمی مالیاتی ادارے کی …

Leave a Reply

'
Share
Share
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com