Home / Archives / Analysis / جام کمال ۔۔ نئی جماعت ‘‘باپ’‘ کے صدر

جام کمال ۔۔ نئی جماعت ‘‘باپ’‘ کے صدر

جلال نُُورزئی

بلوچستان کے اندر ابن الوقت سیاست دانوں کی کوئی کمی نہیں، جن کی نظریں خالصتاً اقتدار اور مفادات پر جمی رہتی ہیں۔ بدعہدی، دغا اور چال بازیوں کو سیاست، جمہوری اصول اور روایات کا نام دیا جاتا ہے۔

یہ لوگ مقتدر حلقوں کے اشاروں پر اپنا قبلہ تبدیل کرتے رہتے ہیں۔ ایک بڑی تعداد ان موقع پرستوں کی نئی ج عت میں جمع ہوگئی ہے، یعنی بلوچستان میں سیاست کے نام پر مستقبل کی پیش بندی’بلوچستان عوامی پارٹی‘کے نام سے ہوئی ہے۔ اس میں کئی ایسے نام ہیں جو منتخب ہوتے آرہے ہیں، اس لیے آئندہ ہونے والے انتخابات میں اس ج عت سے وابستہ افراد کی کامیابی کے امکانات روشن ہیں۔

جیسا کہ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ مقتدرہ کی اس ج عت کی داغ بیل29مارچ کو ڈالی گئی اور اس میں اک یت نوازشریف کو چھوڑنے والوں کی ہے، اور سب نے حکومت کے آخری مہینوں میں وفاق کی زیادتیوں کا رونا روکر عوام کو بے وقوف بنانا شروع کردیا، یا مسلم لیگ)ن(سے علیحدگی کے لیے بلوچستان کی محرومیوں اور وفاق

page1image14440

کی عدم دلچسپی و تعاون کو جواز کے طور پر پیش کیا۔

بلوچستان عوامی پارٹی کی مرکزی کونسل کا اجلاس15مئی کو بوائے اسکاؤٹس کے سبزہ زار پر منعقد ہوا جس میں جام ک ل صدر اور منظور کاکڑ سیکریٹری ج ل منتخب ہوئے۔ جام ک ل جن کے پاس وزیر مملکت برائے پیٹرولیم کا قلمدان تھا، ان کے ساتھ دوستین ڈومکی)جو وزیرمملکت برائے سائنس و ٹیکنالوجی تھے(، اور رکن قومی اسمبلی خالد مگسی نے5اپریل2018ء کو اسلام آباد پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس میں مسلم لیگ)ن(کو خیرباد کہہ دیا۔

اس کے بعد10مئی کو یہ تین حضرات اور اقلیتی رکن قومی اسمبلی خلیل جارج بھٹو کوئٹہ پریس کلب میں سعید احمد ہاشمی کی قیادت میں پریس کانفرنس کے ذریعے بلوچستان عوامی پارٹی میں شامل ہوئے۔ خلیل جارج بھٹو کو مسلم لیگ)ن(نے سڑک سے اٹھا کر قومی اسمبلی کا رکن بنایا۔ سعید احمد ہاشمی بزنس مین ہیں۔ پتا نہیں کیوں اِس شخصیت کو سیاست کا ماہر کہا جاتا ہے!اور اب تو وہ خود کو بلوچستان عوامی پارٹی کے بانی کے طور پر متعارف کراتے ہیں۔

اس کی اہلیہ ڈاکٹر رقیہ ہاشمی مشیر خزانہ ہیں جنہیں بلوچستان اسمبلی کے اندر بعض ارکان کے نامناسب رویّے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے مشیر خزانہ کے عہدے سے احتجاجاً گورنر اور وزیراعلٰی کو تحریری استعفٰی پیش کردیا۔ اسمبلی میں بجٹ پر عام بحث جاری تھی مگر مشیر خزانہ استعفے کے بعد اجلاسوں میں شریک نہ ہوئیں۔ چناں چہ

وزیراعلٰی کو ایوان میں مطالباِت زر پیش کرنا پڑے۔

بہرحال اس پارٹی کی تشکیل میں یہ سب جٹ گئے تھے۔ جام ک ل کے ساتھ شامل ہونے والے اراکین قومی اسمبلی کہہ چکے ہیں کہ انہوں نے ساڑھے چار سال کا عرصہ بہت مشکل میں گزارا ہے۔ مسلم لیگ)ن(نے سینیٹ کے حوالے سے مشورہ کیا اور نہ ہی ان کے حلقوں میں پیسہ خرچ ہوسکا ہے، اور یہ کہ بڑی پارٹیوں نے چھوٹے صوبوں کے ساتھ زیادتیاں کی ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ان کو اب سہانا مستقبل بلوچستان عوامی پارٹی میں دکھائی دینے لگا ہے، اور جام ک ل صوبائی نشست پر بھی الیکشن لڑیں گے۔ وہ بلوچستان عوامی پارٹی کی جانب سے وزارِت اعلٰی کے امیدوار ہوں گے۔ جام ک ل لسبیلہ کے ضلع ناظم بھی رہے ہیں۔ ان کے والد جام یوسف مرحوم2002ء میں بلوچستان کے وزیراعلٰی تھے، ان کا تعلق مسلم لیگ)ق(سے تھا۔

ان کے دو ِر وزارِت اعلٰی میں نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کا سانحہ پیش آیا لیکن جام یوسف نے وزارِت اعلٰی کا منصب نہ چھوڑا، حالانکہ اس واقعے کے بعد اکتوبر2016ء میں قلات میں گرینڈ بلوچ جرگہ بھی منعقد ہوا۔ بلوچستان عوامی پارٹی کے بعض رہن یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ ان کی مسلم لیگ)ن(سے علیحدگی کی ایک وجہ ختِم نبوت کے قانون میں مبینہ تبدیلی کی کوشش بھی ہے۔

جام ک ل باریش شخص ہیں، تعلق تبلیغی ج عت سے بھی رہا ہے۔ ان کے والد جام یوسف ویڈیو گیمز کھیلنے اور مو سیقی کے شوقین تھے۔ خود بھی تفریح طبع کے لیے گا لیتے تھے۔ جام ک ل کے دادا جام میر غلام قادر بلوچستان کی پہلی اسمبلی یعنی1970ء کی اسمبلی میں1973ء سے1976ء تک وزیراعلٰی رہے۔ اس سے پہلے سردار

عطاء اللہ خان مینگل وزیراعلٰی تھے جن کی حکومت ختم کردی گئی تھی۔ اس طرح جام غلام قادر وزیراعلٰی بن گئے۔

جام غلام قادر اس کے بعد اسپیکر بنے۔ چنانچہ1977ء کے انتخابات کے بعد جام غلام قادر پھر بلوچستان اسمبلی کے اسپیکر منتخب ہوئے۔1985ء کے غیر ج عتی انتخابات کے نتیجے میں بلوچستان کی تیسری اسمبلی وجود میں آئی تو جام غلام قادر1985ء سے1988ء تک ایک مرتبہ پھر صوبے کے وزیراعلٰی منتخب ہوئے۔2002ء کے عام انتخابات کے بعد وزارِت اعلٰی کی کرسی پر جام یوسف متمکن ہوئے اور پانچ سال تک حکومت کی۔

مگسی خاندان بھی بلوچستان عوامی پارٹی کے قریب ہوگیا ہے۔ خالد مگسی نے تو باقاعدہ شمولیت اختیارکرلی۔ البتہ نواب ذوالفقار علی مگسی کی نگاہ حالات کے رخ پر لگی ہے۔ نواب ذوالفقار علی مگسی وزارِت اعلٰی کے لیے موزوں شخصیت ہیں مگر وہ کٹھ پتلی وزیراعلٰی بننا پسند نہیں کریں گے۔ بلوچستان عوامی پارٹی کا اگر وزیراعلٰی بنتا ہے تو وہ جی حضوری کرنے والا شخص ہی ہوگا۔ اس گروہ کے پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے ساتھ یکساں مراسم قائم ہیں۔

بلوچستان عوامی پارٹی نے بلوچستان کی محرومیوں کا سلوگن بلند کیا ہے۔ یہ غیر فطری ج عت اپنے قیام کے ساتھ ہی گروہ بندیوں کا شکار ہوئی ہے۔ آنے والے عام انتخابات کے بعد ان کے درمیان رّساکشی دیدنی ہوگی۔ دیکھا جائے تو یہ بدقسمتی ہی ہے کہ اس صوبے پر بلوچستان عوامی پارٹی کی حکومت مسلط کرنے کی تدبیریں ہورہی ہیں۔ اس سے بڑھ کر بلوچستان سے زیادتی اور کیا ہوسکتی ہے!

Source: dailyazadiquetta.com

Share on :
Share

About Administrator

Check Also

Turbat University celebrates World Mental Heath Day

QUETTA: Similar to other parts of the world, International Mental Health Day was also observed …

Leave a Reply

'
Share
Share
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com