Home / Archives / Analysis / ” پنجگور; کل اور آج”

” پنجگور; کل اور آج”

تحریر؛ قمبر مالک بلوچ

معاشروں کی تشکیل و ترقی کا عمل انسانی تجربات اور شعور کی دین ہیں. بنی انسان کو اندھیروں سے روشنی تک کے اس سفر میں قدامت پسند خیالات کا مقابلہ اور کئی ادوار کا فاصلہ طے کرنا پڑا ہے. پنجگور بھی اپنے سماج کی تعمیر میں اسی کٹھن سفر کا مسافر رہا ہے- بلوچی مزاج کی رہنمائی میں اپنے سماجی ڈھانچہ میں موزوں بدلاؤ اور اپنی ایک مثبت پہچان و عزت کمانے کی کوششوں میں پنجگور کا فرزند کئی نسلوں تک کا سفر طے کرتا آیا ہے. اپنی جغرافیائی حیثیت اور سماجی ڈھانچہ کی وجہ سے پنجگور بلوچستان کے مختلف علاقوں کے لئے پر کشش رہا ہے اور اپنی علم و بلوچ دوستی کے حوالے سے اسکے فرزندوں نے پنجگور کی ایک مثبت تعریف بلوچ قوم میں کرائی ہے.

موجودہ وقت اور حالات کی پیشرفت میں، اپنے سماجی ڈھانچے کو درپیش اندرونی اور بیرونی مداخلت کا موئثر اور منظم ردعمل کی عدم موجودگی کی وجہ سے پنجگور اپنی بلوچی و علمی کردار اور ساکھ کو تیزی کے ساتھ کھو رہا ہے- ایک فرد جب اپنے کردار کی ہر اس پہلو جو کہ اسے ایک اچھا انسان بناتے ہیں انہیں برقرار رکھنے میں ناکام ہو جاتا ہے تو وہ اپنی عظمت و وقار کھو دیتا ہے ، ٹھیک ایسے ہی ایک معاشرہ جو اپنی سماجی ڈھانچہ اور اقدار کو قائم نہیں رکھ پاتا وہ افسوس اور ندامت کے اندھیروں کا شکار ہو جاتا ہے.

انسان عقائد و رواج کی روشنی میں معاشرے کی بنیاد رکھتے ہیں اور بدلے میں معاشرہ انسان و انسانی کردار کی تشکیل کا کام روزانہ کی بنیاد پر سرانجام دیتا رہتا ہے. ہم انسان سماجی ہونے کے ساتھ ساتھ ترقی پسند مخلوق ہیں. ہماری اجتمائی زندگی اپنے سماجی ڈھانچہ کی تحفظ اور سماجی قوانین کی پاسداری میں ہے جبکہ معاشرے کی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی سماجی اقدار کو انسان اور وقت کی پیشرفت کے مطابق اپنے حالات کے لئے موزوں بنانے کے لئے نظرثانی کرتے رہیں.

زندگی کے وہ پہلو جو انسانی معاشرے کی ترقی کے پہیے کو چلاۓ رکھتے ہیں ان میں تعلیم، صحت، معیشت اور سیاست اولین اہمیت کے حامل ہیں. معاشرے کی ترقی کا یہ ایک نا ختم ہونے والا سلسلہ ہوتا ہے جس کی کہانی کا کوئی اختتام نہیں ہوتا. معاشرے کی پیشرفت کی اس دوڑ میں ہم اپنے حصہ کی زیادہ سے زیادہ شراکت یہ دے سکتے ہیں کہ جس شکل میں ہمارا معاشرہ ہمیں نصیب ہوا ہے اگر ہم اس میں بہتری نہیں لا سکتے تو کم ازکم اسے اس کی موجودہ حالت سے بدتر شکل میں اپنی آنے والی نسلوں کے ہاتھوں میں تھما کر نہ جائیں.

پنجگور کی ترقی اور اسکی مثبت نمائندگی میں کئیں شخصیات اور خاندانوں کا کردار رہا ہے. ان عظیم ناموں کی فہرت طویل ہے. ان میں سے چند ہی نام بطور مثال ذکر کرنا ممکن ہے جنہوں نے پنجگور کی سماج کی سالمیت اور پیشرفت میں اہم کردار ادا کیا. واجہ غلام حسین بلوچ جنہوں نے پنجگور میں تعلیم کی مشعل جلانے میں اہم کردار ادا کیا اور اسی کردار کی پیروی کرتے انکی بیٹیوں کا پنجگور میں لڑکیوں کیلئے اسکول اور انکی تعلیم کی بنیاد رکھنے میں قابل ستائش کردار رہا ہے. واجہ عبد القيوم بلوچ جنہوں نے بلوچی اکیڈمی اور عزت اکیڈمی کی بنیاد رکھی، سماجی خدمات سرانجام دیں، اور انکی بیٹیوں نے مکران اور بالخصوص پنجگور میں خواتین کی تعلیم کی فروغ میں اہم کردار ادا کیا. مُلا عزت جن کا نام بلوچ رومانوی شاعری اور بلوچ ادب کے فروغ میں نمایا ہے. آغا غلام حسین، مُلا احمد، بابو یارجان، مرزا حسین علی اور کئیں ایسی نامور شخصیات ہیں جو اسی معاشرے کی پیداوار ہیں جن کا پنجگور اور اس کے باسیوں سے جذباتی لگاؤ رہا اور پنجگور نے انہیں اور انہوں نے پنجگور کو ایک مثبت پہچان بخشی. اسی پنجگور کی کھوک سے ایسے کردار بھی جنمے جو اعلیٰ حکومتی عہدوں پر فائز رہے جنہوں نے اپنی اور اپنی اولاد کی ترقی کی راہ میں پنجگور کے معاشرے کو حائل سمجھا اور پنجگور کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کرنے کی بجائے اس معاشرے کو دتکھارتے ہوئے اپنی پہچان سے غافل ہو کر وہاں سے دیگر شہروں کو کوچ کر گئے اور واپس پلٹ کر بھی نہیں دیکھا.

چونکہ پنجگور دنیا سے الگ تلگ ایک معاشرہ نہیں ہے بلکہ بلوچستان کا ایک اہم حصہ ہے اور بلوچستان کے حالات پر اثرانداز اور اسکے مجموعی حالات سے کافی حد تک متاثر ہے. بلوچستان میں جاری بلوچ قومی نجات کی تحریک میں اپنا حصہ ڈھالنے کی پاداش میں پنجگور کے نوجوانوں نے اپنے معاشرے میں لا شعوری طور پر بیرونی قوتوں کی مداخلت کے دروازے کچھ ایسے کھولے کہ اسکی اپنی زندگی و ترقی کے دروازے بند ہونے کو آئے ہیں. آج کا پنجگور، اپنی اپنائی ہوئی سماجی ڈھانچہ اور اقدار کے برخلاف ایک الگ ہی پہچان تشکیل دے رہا ہے جو پنجگور کے ان فرزندوں کے کردار کے برعکس ہے جنہوں نے اس معاشرے کو نکھار اور پہچان بخشی. آج پنجگور ایسی عوامی شخصیات سے محروم نظر آتا ہے جو پنجگور اور اسکی عوام کو درپیش مسائل کی پیچیدگیوں سے واقف ہوں اور انکا گہرا تجزیہ اور موزوں حل تجویز کرنے میں انکی رہنمائی کریں. اور بھکرتی ہوئی معاشرے کی سالمیت کو برقرار رکھ پائیں. آج معاشرے کی ترقی کا پہیہ رکھ چکا ہے اور اسکا چہرہ بری طرح سے مسخ کیا جا رہا ہے.

معیشت انسان کی بنیادی ضروریات میں سے ایک ہے اور ایک معاشرتی انسان کی زندگی کے فیصلوں پر کافی حد تک اثرانداز بھی ہے. لیکن پنجگور میں روش کچھ ایسے بدلی کہ انسان کی کامیابی کو اسکی مالی حیثیت سے جوڑا جانے لگا اور جہاں کہیں کامیابی کو امارت سے جوڑا جائے تو اس معاشرے میں پیسوں کے امیر اور کردار کے غریب پیدا ہونا شروع ہو جاتے ہیں. پنجگور کے فرزندوں کی اس کمزوری کا باہر سے آیا ہوا اجنبی بھرپور طریقہ سے استحصال کر رہا ہے اور ہم یہ استحصال ہونے دے رہے ہیں. پنجگور تیز رفتاری کیساتھ اجتماعیت سے انفرادیت کی جانب گامزن ہے.

آج اسی معاشرے میں زندہ پنجگور کی موجودہ نسل اوپر ذکر کئے گئے مثبت کرداروں اور انکی پنجگور کے معاشرے کی نکھار میں شراکت سے کافی حد تک ناواقف ہے، ماؤں کی داستانوں کے کردار تبدیل ہو رہے ہیں اور اجنبی کے ہاتھ کا اجنبی پنجگور اپنا بتایا جا رہا ہے. وہ مسائل جو پنجگور کی سماجی ڈھانچہ کو دھیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں پنجگور کا پڑھا لکھا فرزند ان سے لاتعلق ہو کر اپنی تباہی کا تماشہ دیکھ رہا ہے. اپنی ذاتی مفادات کی حصول میں مجبور و مگن اس کی لاشعور میں یہ احساس پیدا ہو چکا ہے کہ پنجگور سے وابستہ اجتماعی مسائل اسکی گھر کی دہلیز تک آکر رکھ جاتے ہیں اور انکے حل میں وہ کوئی خاطر خواہ کردار ادا نہیں کر سکتا. لیکن کوئی بھی مثبت کردار ادا کرنے کے لئے سب سے پہلے یہ احساس کا جاگنا ضروری ہے کہ آپ اپنے معاشرے کو اپنائیں اور اپنا حق جتانے سے پہلے اپنی زمداریوں کا ادراک کریں اور انہیں نبھائیں. اپنی زمداریوں کا ادراک کرنے کے لئے اپنی شعور کو جھنجوریں، ارد گرد معاشرے پہ نظر دوڑائیں، اور معاشرے کی موجودہ انسانی چاہ کی پوچھ گچھ کریں.

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے کے اقدار اور آئیڈیل تبدیل کئے جا رہے ہیں. آج میر و واجہ کی تشریح تبدیل ہو چکی ہے اور باہر سے آئے ہوئے، بلوچ سماج و اقدار سے نابلد اور درآمدہ مذہبی پیشواہ اور کردار کے پست افراد سماجی فیصلوں پر رہنمائی کرتے ہیں. سیاسی پارٹیوں سے وابستہ افراد جو عوامی مینڈیٹ کے بغیر ایوانوں میں بیجھے جاتے ہیں وہ اجتماعی مفادات کی نمائندگی و تحفظ کی بجاۓ اپنی ذاتی مفادات کی حصول میں مشغول اور بیرونی قوتوں کی مرضی کے تابع ہو جاتے ہیں. سماج کے دوتھکارے ہوئے بدکردار آج سماج سے بدلہ لینے کے لئے مسلح کئے جا چکے ہیں اور قانون و ملک کی رکھوالی کے دعویدار اس غیر قانونی بھنور میں اس معاشرے کو ڈھال کر سبق سکھانے کی ٹھان چکا ہے. مذہبی، سیاسی اور سماجی بدکرداروں کے اس بندھن کی مرہون منت ہے کہ آج پنجگور میں لاقانونیت عروج پر ہے اور اپنے ہی گھر میں عوام چھوٹے لوگوں کے ہاتھوں ہراساں اور اپنی عزت غیر محفوظ محسوس کرتا ہے. اس گٹھن کے ماحول میں لوگ اپنی بےبسی کے ہاتھوں مجبور ہیں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ باہر سے آیا ہوا شخص اور سماج کا دتکھارا بے بنیاد فرد آپ کی سماج، سماجی قوانین اور آپ کی عزت کو کبھی بھی نہیں اپناتا لہٰذا آپ کی پریشانیوں اور مسائل کی وجوہات میں وہ شامل تو ہو سکتا ہے مگر انکے حل سے اسے کوئی غرض نہیں ہوتا.

ان کرداروں کو پنجگور کی سماجی ڈھانچہ کی مفادات کے تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ آپ کی سماج کو چاٹنے والے دھیمک کون ہیں. درآمدہ مذہبی پیشواہ آپ کی دود و ربیدگ سے انکاری ہے، جس کی سوچ اور تربیت کے مطابق زندگی موت کے بعد شروع ہوتی ہے تو ایسا فرد آپ کی زندگی اور معاشرے کی تعمیر و ترقی میں کیا کردار ادا کر سکتا ہے؟ یہ وہی لوگ ہیں جو آپ کی خوف اور ناخواندگی میں پلتے پوستے ہیں، کبھی معاشرے کے بچوں اور بچیوں سے انکی تعلیم کی حصول کا حق چھیننے کی کوشش کرتے ہیں، تو کبھی آپ کی اجتماعی بلوچی مزاج کا مزاق اڑانے کے لئے اور معیشت کو نقصان پہنچانے کے لئے نت نئے تماشے کھڑے کرتے ہیں. ان کے سرپرست اپنی بلوچ مخالف پالیسیوں کے ناقدین اور اختلاف رائے رکھنے والوں کی عزت نفس مجروح کرتے ہیں، ان کی چادر و چار دیواری پامال کرتے ہیں اور انہیں ماورائے عدالت غائب کرتے ہیں، غیر قانونی بنیادوں پر انسانیت سوز سزا دیتے ہیں، ان کے خاندان کو نفسیاتی دباؤ میں ڈھال کر الیکشن کے قریب آتے ہی انہی کے ہاتھوں انکی بازیابی کا ڈھول پیٹھ کر ان کو معاشرے کا مسیحا ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں.

سیاسی فرنٹ پر نظر دوڑائیں تو پچھلے پانچ سالوں میں پنجگور کے وزراء پنجگور کی عوام کی ترقی کے نام پر اربوں کے ڈویلپمنٹ فنڈز حاصل کرنے کے باوجود عوام کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں ناکام رہے ہیں، نہ شرح تعلیم میں بہتری آئی، نہ سکول و صحت کے مراکز بنے، اور نہ ہی پنجگور کی بنیادی ڈھانچہ میں کوئی مثبت تبدیلی نظر آئی اور پھر بھی خستہ حال سڑکوں پر بےبس عوام کی تکتی آنکھوں کے سامنے اکڑ کر چلتے ہیں لیکن انکی اکڑ بیرونی قوتوں کے آگے عاجز ہو جاتی ہے اور انکی طاقت لینڈ مافیا اور بھتہ خور گروہوں کے سامنے سرنگوں ہو جاتی ہے. بلوچ سماج میں بلوچ یا معاشرے کی اجتمائی مفاد میں بہترین کارکردگی پر “میر” و “واجہ” کا جو خطاب ملتا ہے انہیں اجتمائی مفادات کا سودا لگا کر ذاتی نشو نما کرتے ہوئے لوگ میر و واجہ بن گئے ہیں. لیکن پنجگور کی نمائندگی کا دعوه کرنے والے سیاسی وزیر پنجگور کی حالیہ نامعقول حلقہ بندیوں اور مردم شماری کے غیرمنصفانہ عمل اور نتائج پر خاموش رہے جبکہ ہر ضلع کی ترقیاتی فنڈ ,میڈیکل و دیگر تعلیمی اداروں اور کمیشن کے سیٹ تمام مردم شماری کی بنیاد پر طے ہوتے ہیں اور پنجگور کے بیپرواہ وزراء شاباشی کے مستحق ہیں کہ انکی پنجگور کی عوام سے محبت کا نتیجہ ہے کہ دیگر اضلاع کے مقابلہ میں پنجگور کے حصہ میں نہ اضافی سیٹ آئے اور نہ روزگار کے مواقعوں میں بہتری آئی. لیکن یہ انتظام ضرور کیا گیا کہ جناب ایم پی ایز کو تا حیات بنیادی مراعات ملتی رہیں.

کوئی شخص اس لئے مجرم نہیں ٹہرتا کہ وہ بے خبر ہے مگر وہ مجرم ٹہرتا ہے جب وہ اپنے آپ کو علم و سچائی سے غافل رکھتا ہے. ہمیں خود سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ آیا آج ہم جہاں کھڑے ہیں کیا اسی کے لئے ہمارے آباؤ اجداد زندہ رہے؟ اور کیا یہی وہ معاشرہ ہے جس میں آپ اپنے بچوں کا مستقبل دیکھتے ہیں؟ آپ کا شہر جس میں آپ کے آبا ؤ اجداد دفن ہیں اور معاشرہ جس نے آپ کی نشونما کی اور آپکی آنے والی نسلوں کی مستقبل کا ضامن ہے، یہ سب اتنے ارزاں ہیں کہ آپ اپنے ہاتھوں سے اسے کسی بھی اجنبی کو تھما دینگے؟

پنجگور اور مجموعی طور پر بلوچستان بھر میں بلوچ اور بلوچستان کی حقیقی نمائندہ اور دوراندیش قومپرستوں کو سیاسی اختیار سے دور رکھنے کی خاطر نئی بلوچ مخالف بے اصول و بے نظریہ جماعت کی فروغ کا عمل جاری ہے. چونکہ ہمارے غصہ اور جذبات کے اظہار کے ذریعے بند یا تو نہایت محدود کئے جا چکے ہیں. لہٰذا اپنی شعور کی رہنمائی میں محدود زرایوں کا بہتر استعمال کرتے ہوئے ہم اپنی اور اپنے معاشرے کی بحالی اور پیشرفت کے حوالے سے لا تعلق ہونے کی بجائے کچھ بہتر کر سکتے ہیں. سیاسی سرکرداہوں کی پچھلی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے آنے والے وقت میں موجودہ سیاسی پارٹیوں میں سے بہتر کا انتخاب کریں. ان افراد کو چنئیں جو آپ میں سے ہوں، جو آپ کو اور آپکی سماج کو اپناتے ہوں اور بلخصوص جنکی انتخابی منشور میں آپ کے مسائل اور انکا مثبت حل تجویز ہو. اس حوالے سے پنجگور کے وہ فرزند جنہوں نے تعلیم و شعور حاصل کی ہے وہ اپنے گھر اور محلے والوں کی صحیح انتخاب کرنے میں رہنمائی کریں اور جب شعوری طور پر اپنا انتخاب کر چکیں تو اس سیاسی تنظیم اور اسکے رہنماء کی اس منشور کی عملداری میں بھرپور ساتھ دیں. معاشرے کی بہتری ایک اجتماعی عمل ہے اور اس میں معاشرے کے ہر فرد کی شراکت نہایت معنی خیز ہے.

The writer is a UK based Baloch socio-political activist originally from Panjgur, Balochistan. He is the ex chairperson of Baloch Students Action Committee, BUITEMS and Baloch Students and Youth Association UK. 

(This is part of the policy adopted by Balochistanaffairs.com to provide views and opinions on issues facing the Baloch and Balochistan. The opinions expressed by writers and contributors are their own and do not express the opinion of the editorial board of BalochistanAffairs)

Share on :
Share

About Administrator

Check Also

سی پیک سمیت ملک بھر میں چینی باشندوں کی سیکورٹی کا از سرنو جائزے کا فیصلہ

لاہور:محکمہ داخلہ میں سی پیک منصوبہ پر کام کرنے والے چینی انجینئرز اور دیگر سٹاف …

Leave a Reply

'
Share
Share
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com