Home / Archives / Analysis / بلوچ قومپرستی اور ریاست پاکستان

بلوچ قومپرستی اور ریاست پاکستان

بہرام کریم

بلوچستان میں بلوچیت اور بلوچ قوم پرستی کی جھڑیں بلوچستان کی زمین میں کافی نیچھے اتر چکے ہیں۔ ریاست پاکستان شروع دن سے جانتی تھی کہ بلوچ کا سماجی اور معاشرتی ڈھانچہ اس کےلئیے خطرناک ہوسکتے ہیں۔ اس خطرے کے خوف کو لیکر ریاست آج تک بلوچ قوم پرستی اور بلوچیت کو دوام بخشنے نہیں دیتا اور وقتا فوقتا بلوچ قوم پرستی کو جھڑ سے اکھاڑنے کی کوشش کرتی ہے۔ریاست کی یہ پالیسی کہیں بار کھل کر عیاں ہوئی ہے۔ جب 1972 میں نواب خیر بخش مری، سردار عطا اللہ مینگل، میر غوث بخش بزنجو اور گل خان نصیر جیسےاعلی پائے کے سیاسی اور سماجی شخصیات بلوچ کی عوامی مینڈیٹ لے کر آتے ہیں۔ وفاق اور صوبے میں بلوچستان کی نمائیندگی کرتے ہیں۔ پاکستانی ریاست بلوچ کی مینڈیٹ کا خیال کئیے بغیر بلوچ رہنماوں کے خلاف سازشیں کرتی ہے۔جن سازشوں کے برے اثرات بلوچستان کو آج بھی خون کے آنسو رلا رے ہیں۔

١٩٧٣ میں نیپ کی حکومت کےخلاف ریاستی سازش نے بلوچ کی معاشرتی زندگی کو بری طرح متاثر کیا۔ بلوچستان کے عوامی مینڈیٹ کو بے احترام کیا گیا۔اور ان کے رہنماوں کو جیل وزندان میں ڈالا گیا، گفت و شنید کے سارے دروازے بند کیئے گئے، سماج کے سیاسی کردار مسخ کر دیئے گئے۔ نواب مری اور سردار مینگل جلا وطن ہوگئے۔ میر غوث بخش بزنجو بلوچستان کے سیاسی خلا میں مظبوط پاکستانی اسٹبلشمنٹ کے سامنے اکیلے پڑگئے۔نواب مری پاکستانی طرز سیاست سے بیزار ہوگئے۔بلوچ اور بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیئے انھیں ریاست سے مکمل نجات کا رستہ زیادہ متاثر کن لگا اور آئندہ سالوں میں وہ بلوچستان کی آزادی پسند قوتوں کے لئیے رول ماڈل بن گئے۔ اور آج تک بلوچستان کی تحریک آزادی میں متحرک قوتوں کے لیئے نواب مری بابائے بلوچستان کی حثیت رکھتے ہیں۔ بلوچ سماج کا ایک بڑا حصہ (جنمیں خواتین اور نوجوانوں کی نمائندگی قابل ذکر ہے) نواب مری کی سوچ سے متاثر ہے۔ جس میں آزادی پسند بلا امتیاز سیاسی اور مسلح فرنٹ کے شامل ہیں۔

سردار مینگل جلا وطن تھے۔ اپنے معاشرتی، سیاسی اور سماجی ڈھانچے کو بکھرتے ہوئے دیکھ رہے تھے، جنہں ریاست اپنے کرائے کے لوگوں سے بھر رہی تھی۔ 1972 کی بلوچ قوم پرست حکومت کے خاتمے کے بعد ریاست بلا امتیاز قوم پرست قوتوں کو ہدف بنانے لگا۔ ان کی نشو ونما کو روکھنے کی کوشش کی گئی۔ انہیں سیاسی منظر سے دور رکھنے کی کوشش کی گئی تانکہ وہ بلوچ معاشرے کو اپنے نمائندہ لوگوں کی طرف لے کر آئے۔ سرکار کے کرائے کے کرداروں میں کوئی نظریاتی کردار نہیں تھا۔ سب کے سب کھانے اور کھلانے والے تھے۔بلوچ سماج میں قوم پرست قوتوں نے اتنی جڑیں پکھڑی تھی کہ ریاست بلوچستان کے سیاسی خلا کو آلودہ کرنے میں کافی حد تک ناکام رہا۔ بلوچ قوم پرست قوتیں دو دہائی تک ریاستی سازشوں کے بھنور میں رہنے کے باوجود بلوچ کے سیاسی، سماجی اور معشرتی زندگیوں میں نمودار ہونے لگے۔ لیکن تب تک ریاست نے بلوچستان کے سیاسی خلا کو اپنے سیاسی، نیم سیاسی اور غیر سیاسی قوتوں سے سائنسی انداز میں بھرنے کا ٹھیک ٹھاک سمان کیا ہوا تھا۔ بلوچ سماج کے ہر طبقے سے کرائے کے لوگ بھرتی کیئے گئے۔ جن میں قوم پرست، ملا، سردار، نواب، غنڈے بدمعاش مختصرا یہ کہ ہر طبقہ سے بھرتی کیئے گئے۔ اور یہ لوگ بلوچ سماج کو دیمک کی طرح چھاٹ رہے تھے جن کا سب سے بڑا ٹارگٹ بلوچ سماج اور بلوچی طرز زندگی تھا جو کہ بلوچ قوم پرستوں کی موجودگی میں ممکن نہ تھا۔

بلوچ قوم پرست قوتوں کو نیست و نابود کرنے میں ریاست نے ہر ممکن کوشش کی تھی لیکن ریاست عطا اللہ مینگل، خیر بخش مری، غوث بخش بزنجو اور گل خان نصیر کا نعم البدل پیدا کرنے میں ناکام ہوا۔ 1988 میں قوم پرست قوتیں ایک بار پھر عوامی مینڈیٹ لے کر آگئے۔ لیکن اس بار بھی ریاستی اداروں نے ہار نہیں مانی۔ عوامی مینڈیٹ کو ایک بار پھر رسوا کیا گیا۔ لیکن اس بار بلوچ قوم پرست قوتیں سیاسی خلا پیدا کرنے کے حق میں نہیں تھے۔ گلی کوچوں میں بی۔ ایس۔او بستا تھا۔ قوم پرستی کی سیاست پروان چھڑ رہی تھی۔ لیکن اب ریاست بھی اپنا ٹارگٹ مزید مخصوص اور سائنسی کرچکا تھا۔ اب اسکی زیادہ فوکس بلوچ قوم پرست طبقہ پر تھا۔ مزید کرائے کے قوم پرست بنا رہا تھا۔ جس کی واضح مثال 1998کے بلوچ قوم پرست حکومت کو توڑنے میں ملتا ہے۔ یاد رہے کہ ریاست نہ صرف بلوچ قوم پرستوں کی حکومت کو ختم کرنے میں کامیاب ہوا تھا بلکہ حکمران جماعت بی۔این۔پی کو بھی دو حصوں میں تقسیم کردیا۔

١٩٩٩ میں پرویز مشرف آئے جو آئندہ آنے والے سالوں میں بلوچستان کو تھس نھس کرنے والا تھا۔ ٢٠٠٢ سے لیکر آج تک بلوچ قوم پرست قوتیں ماس موبلائزیشن کرنے میں کافی حد تک کامیاب تو ہوئے ہیں۔ لیکن ان ہی سالوں میں قوم پرست قوتوں اور ریاست کے درمیان گھمسان کی لڑائی بھی لڑی جا رہی ہے۔ یہ جنگ سیاسی فرنٹ سے بلوچ نے شروع کی۔ چونکہ ریاست بلوچ کے سیاسی فرنٹ کے سامنے اپنا سیاسی فرنٹ کھڑا کرنے میں ناکام رہا اور آخر کار وہ تشدد کا رستہ اپنانے پر مجبور ہوگیا۔ سیاسی لوگوں کو لاپتہ کرنا شروع ہوا۔انکی ٹارگٹ کلنگ کی گئی۔ان کی مسخ شدہ لاشیں ویرانوں میں پھینکی گئی۔ تب کافی سارے قوم پرست سیاسی کارکن سماج سے نکل گئے اور حذب معمول کوہ نشین ہوگئے۔ ریاست نے ایک بار پھر سیاسی پیدا کردہ خلا کو کرائے کے لوگوں سے پھر کرنے کی تگ و دو میں لگ گیا۔ اب ریاست کافی چیلنجز کے ساتھ میدان میں آیا تھا۔ لاپتہ، مسخ شدہ، ڈیتھ اسکواڈ، خوف و حراس بلوچ سماج میں معمول کے قصے بن گئے۔ اور قوم پرست حلقے بھی اس بار دو ٹرمنالوجیز کے ساتھ سامنے آگئے۔آزادی اور حق خود ارادیت کے نعرہ زبان تک تو ٹیھک تھے مگر جب بحث ہ مباحثے کی نوبت آگئی قوم پرست رہنما اپنے کارکنان کی صیح معنوں میں تربیت نہ کر پائے ۔ آزادی اور حق خود ارادی کو لیکر سیاسی کارکنوں میں ایک بےحودہ سی بحث چڑگئی اور دونوں طرف کی لیڈرشپ دونوں ٹرمنالوجیز میں الجھ گئی۔ قوم کی حثیت سے دونوں طرف کے سیاسی کارکنان اور رہنما ریاستی جبر اور تنگ نظری کے شکار تھے۔ ریاست نے بلا امتیاز اندرونی تفریق کے بلوچ قوم پرستی کے تمام عناصر کو یکساں دبانے کی کوشش کی ہے۔

گو کہ آزادی پسندوں کے لیئے طریقہ کار مختلف ہے اور پرلیمانی سیاست کرنے ولوں کے لئیے مختلف لیکن ریاست بلوچ قوم پرستی کے تمام پہلووں پر قدغن لگانا چاہتی ہے اور پچھلے 70 سالوں سے ریاست یہی کرتی آرہی ہے۔ ریاست اپنے قبضے کو سائنسی بنیادوں پر ہمارے سماج پر مسلط کر چکا ہے۔ ہر بار جب ریاست اور بلوچ قوم پرست آمنے سامنے ہوجاتے ہیں ہر بار ریاست بلوچ قوم پرست حلقوں کی کمزریوں سے فائدہ اٹھاتا ہے اور انھیں سماج سے دور رکھتا ہے اور خلا پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ جب خلا پیدا کرچکا ہوتا ہے تب اس خلا کو اپنے کرائے کے لوگوں سے بھرنے کی کوشش کرتا ہے۔ دوسری طرف بلوچ قوم پرست حلقے ہر بارتقسیم در تقسیم کا شکار ہوجاتے ہیں اور آخر میں ان کے ہاتھ صرف ٹرمنالوجیز لگ جاتے ہیں۔ بلوچ قوم پرست حلقوں میں ریاست آزادی پسند رہنماوں میں ڈاکٹر الللا نزر اور پارلیمنٹیرین میں اختر مینگل کے خلاف قدر یکساں سازشیں کر رہی ہیں اور سائنسی بنیادوں پر کر رہی ہے۔ ایک کو جڑ سے اکھاڑنےکی کوشش کر رہی ہے اور دوسرے کو سماج سے دور رکھنے کی۔ بلوچ قوم پرست کرکنان کی ضرورت صرف پہاڑوں میں نہیں بلکہ بلوچ سماج کے ہر حصے کو ہے۔ بلوچ قوم پرست حلقوں کو اس بار خلا پیدا کرنے کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ اگلی تقسیم بلوچ قوم پرستی کو جڑ سے اکھاڑ سکتی ہے۔

 

The writer is a student of Biosciences and a political activist from Quetta, Balochistan. He is writing with his Pen Name. The editorial board of Balochistan Affairs requests that writers and political activists should also send their original identity while contributing to the discussion.

(This is part of the policy adopted by Balochistanaffairs.com to provide views and opinions on issues facing the Baloch and Balochistan. The opinions expressed by writers and contributors are their own and do not express the opinion of the editorial board of BalochistanAffairs)

Share on :
Share

About Administrator

Check Also

افغان مہاجرین کو واپس بھیجنے کی بجائے شہریت دینے کی بات باعث حیرت ہے ، اختر مینگل، شہریت مہاجرین بچوں کا حق ہے ، عمران کا جواب

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں حکومتی اتحادی بی این پی مینگل کے سربراہ سردار اختر …

Leave a Reply

'
Share
Share
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com