Home / Archives / بلوچوں نے ہمیشہ انتخابات کا بائیکاٹ کرکے غلطی کی ہے، جان محمد دشتی

بلوچوں نے ہمیشہ انتخابات کا بائیکاٹ کرکے غلطی کی ہے، جان محمد دشتی

تربت:معروف بلوچ دانشور و ادیب اور بی این پی کے مرکزی رہنماء واین اے271میں قومی اسمبلی کے نامزد امیدوار جان محمد دشتی نے کہا ہے کہ بلوچوں نے1977کے غیر جماعتی الیکشن سمیت پانچ مرتبہ انتخابات کا بائیکاٹ کر کے بڑی غلطی کی ہے اور اسی غلطی کی وجہ سے آج غیر سیاسی عناصر پارلیمانی سیاست پرقبضہ کیے ہوئے ہیں جس سے سیاسی افق پراگندہ ہو گئی ہے۔

پارلیمنٹ ایک موثرفورم ہے اسے استعمال کیا جائے ، انہوں نے کہا کہ حقدار کواس کا حق دینگے اگرمجھے کچھ دستیاب ہوا،اورمیں جوابدہ رہوں گا، سیاست شعور و آگاہی کا نام ہے، جھوٹ اور فریب کا اس سے دور کا رشتہ نہیں ہے ۔

عوام ایک مقصد کے تحت اپنی نمائندگی اور اختیارات ووٹ کے ذریعے جس شخص کو سونپ دیتے ہیں اس کا فرض بنتا ہے کہ وہ عوام کے اعتماد پر پورا اترے اور اسے ایماندار اور عوام کا خادم ہونا چاہیے ،میں حرص و لالچ کی سیاست کو منافقت سمجھتا ہوں ۔

بلوچوں نے1977میں بھٹوکے انتخابات ، جنرل ضیاء الحق کے غیر جماعتی الیکشن سمیت پانچ مرتبہ انتخابات کا بائیکاٹ کر کے بڑی غلطی کی ہے اور اسی غلطی کی وجہ سے آج غیر سیاسی عناصر پارلیمانی سیاست پرقبضہ کیے ہوئے ہیں جس سے سیاسی افق پراگندہ ہو گئی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ مجھے جولوگ ووٹ کریں وہ محض ووٹ نہ کریں میرے کاروان کاحصہ بنیں اورسربلند رہیں اوراعتماد کے ساتھ اس کاروان میں شامل رہیں ،آج کونسا بلوچ گھرہے جوتکلیف اورمایوسی کے دلدل میں نہیں پھنسا ہے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ شب آپسرکے علاقے ڈاکی بازار میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،اجتماع میں اہل علم کی کثیرتعداد شریک تھی۔

اس موقع پر انہوں نے مختلف سوالات کے جوابات بھی دیئے ،انہوں نے کہا کہ بلوچوں کو کسی دور میں بھی انتخابات کا بائیکاٹ نہیں کرنا چاہیے تھا کیونکہ انتخابات کے بائیکاٹ نے بلوچوں کوسیاسی نقصان سے دوچار کیا ہے ،انہوں نے کہا کہ عام بلوچ سیاستدان اس لیے میری نظر میں قابل احترام ہیں کیونکہ انہیں یہ عزت عوام  دیتے ہیں اور انہیں ووٹ دے کر منتخب کرتے ہیں ۔

اس لیے میں ان کی عزت کرتا ہوں ، جان محمد دشتی نے مزید کہا کہ اس وقت بلوچستان کی صورتحال کے تناظر میں بلوچوں کے لیے دو صورتیں ہیں، یا وہ چپ سادھ کر بیٹھ جائیں یا پھر انتخابات کے ذریعے پارلیمنٹ میں جا کرعوام کے حقوق کی آواز بلند کریں ۔

انہوں نے کہا کہ عوام انتخابات میں حصہ لے کر ثابت کر دیں کہ وہ اپنے حقیقی نمائندوں کو پہچانتے ہیں ،جان محمد دشتی نے کہا کہ اس وقت بلوچستان میں ہزاروں نوجوان بے روزگارہیں جن کی تعداد ہر سال بڑھ رہی ہے، اگر پارلیمنٹ میں عوام نے نمائندگی کا حق دیا تو وہاں یہ ضرور کہوں گا کہ بلوچستان کی دولت اوروسائل میں سے بلوچوں کو ان کا حق دیا جائے۔

جان محمد دشتی نے مزید کہا کہ سیاسی پارٹیوں میں ایک عام رجحان یہ پایا جاتا ہے کہ وہ پارٹی کے لیے قربانی دینے والوں کو ورکر کا نام دیتے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ جو میرے کاروان میں شامل ہیں وہ میرے ورکر نہیں بلکہ میرے دوست ،ساتھی اور ہمراہ ہیں اور میری ان کے ساتھ یہ دوستی صرف25جولائی تک نہیں رہے گی بلکہ اس کے بعد بھی یہ رشتہ برقرار رہے گا۔

اس موقع پر حلقہ پی بی47کے امیدوار میجر جمیل احمد دشتی ، نذیر احمد ایڈوکیٹ، حاجی عبدالعزیز کونسلر ، جاڑین دشتی ایڈوکیٹ، باہڑ دشتی ایڈوکیٹ، واجہ محمد اسماعیل، ڈاکٹرعبدا لصبوربلوچ ، ڈاکٹرغفورشاد، عبیدشاد، برکت اسماعیل ، فضل بلوچ ،ڈاکٹر حیات ساجد ، سنگت رفیق ، زاہد سلیمان، علی چراگ، نعیم شاد بلوچ ، عبدالقدیر بلوچ ، شگر اللہ یوسف ،ماسٹر عبدالحمید بلوچ اوردیگرلوگ شامل تھے ،بعد ازاں ایک پر تکلف عشائیے کا بھی اہتمام کیا گیا

Source: dailyazadiquetta.com

Share on :
Share

About Administrator

Check Also

افغان مہاجرین کو واپس بھیجنے کی بجائے شہریت دینے کی بات باعث حیرت ہے ، اختر مینگل، شہریت مہاجرین بچوں کا حق ہے ، عمران کا جواب

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں حکومتی اتحادی بی این پی مینگل کے سربراہ سردار اختر …

Leave a Reply

'
Share
Share
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com