Home / Archives / ہماری حکومت آئی تو بلوچستان کے ساحل وسائل پر کسی کو قبضہ نہیں کرنے دینگے،اختر مینگل

ہماری حکومت آئی تو بلوچستان کے ساحل وسائل پر کسی کو قبضہ نہیں کرنے دینگے،اختر مینگل

اوتھل: بلوچستان سب سے امیر ترین صوبہ ہے یہاں گیس ، سونا ، چاندی، معدنیات ، سمندر اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود بلوچستان کے لوگ بھوک اور افلاس کی ذندگی بسر کر رہے ہیں ۔

سیندک اور چاگی سے سونا نکال کر بیرون ملک بیجا جا رہا ہے جبکہ بلوچستان سے نکلنے والی گیس سے بلوچستان کے عوام کو فراہم کرنے کے بجائے دوسرے صوبوں کو دی جا رہی ہے اور بلوچستان کی گیس سے پاور سپلائی چلائے جا رہے ہیں اور بلوچستان کی خواتین سروں پر لکڑیاں لادھ کر اپنی ضروریات پوری کرتی ہیں ۔

سی پیک سے بلوچستان کی عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔ سی پیک منصوبے پر66ارب روپے خرچ کیے جا رہے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس سے بلوچستان کے لوگوں کی ضروریات کے لئے ایک ارب بھی نہیں ملا ۔

ان خیالات کا اظہار بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اور272-NAکے امیدوار سردار اختر جان مینگل نے اوتھل میں انتخابی جلسہ سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ۔ انہوں نے کہا کہ ایکسپریس وے نیشنل ائرپورٹ سے نکل کر چائنیز لیبر کالونی روڈ اور2منصوبے تھے جن میں150میگا والٹ بجلی کے منصوبے تھے جو ابھی تک شروع ہی نہیں کئے گئے اور نا ہی ان منصوبوں بنیادیں رکھی ۔

گیس سی پیک کے منصوبوں سے بلوچستان کو کچھ بھی فائدہ نہیں ہوگا جبکہ گوادر کے لوگوں کو پینے کا پانی میسر نہیں ہے اور گوادر کے لوگ سراپا احتجاج میں ہیں انہوں نے کہا کہ ایران سے مکران ڈویژن میں آنے والی بجلی بند کر دی گئی ہے لوگ کہتے ہیں کہ بلوں کی عدم ادائیگی کی وجہ سے بجلی بند کر دی گئی ہے جبکہ حکومت بجلی کی بندش کو فنی خرابی قرار دے رہی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ بجلی کی بحالی حکومت پر عائد ہوتی ہے بڑے بڑے شہروں میں ایک گھنٹے کے لئے بجلی بند ہوتی ہے تو لوگ آس ن سر پر اٹھا لیتے ہیں جبکہ بلوچستان کے عوام کے لئے کئی مہینوں تک بجلی بند ہو جاتی ہے لیکن اس کے باوجود بلوچستان کے عوام نے صبر کا دامن نہیں چھوڑا ۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی بندش کی وجہ سے لوگوں کی حالت بدحالی کی طرف جا رہی ہے ۔

بلوچستان کے مسائل حل کرنے کے لئے حکومت اگر سنجیدہ ہو جائے تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے کہ بلوچستان کے مسائل ہو ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیشہ بلوچستان کے مسائل اور وسائل پر قبضہ کیا گیا ہ ری حکومت آتی تو ہم بلوچستان کے ساحل اور وسائل پر کسی کو قبضہ نہیں کرنے دیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ باصلاحیت اور جرائت ائندے منتخب ہو کے وہ لوگ عوام کے نفع اور نقصان میں فرق سمجھیں گے اور اپنی ائندگی کا حق ادا کر سکیں ۔ انہوں نے کہا کہ66ارب روپے سے ملک کے دوسرے حصوں پر کام کیے جاسکتے ہیں تو اس علاقے کے ائندوں کی ہٹ دھرمی تھی دیدا دلیری تھی یا ڈاکہ زنی تھی جو انہوں نے سب کچھ کیا ۔ ان کے ائندگان جب سب کطھ کر سکتے ہیں تو کیا ہ رے ائندگان نے چوڑیاں پہنی ہوئی تھیں ۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن ملتوی نہیں ہوسکتے اگر الیکشن ملتوی کرانے کی کوشش کرے گا اسے جہاز سے ہی گرفتار کر لیا جائے گا ۔ ایک سوال کے جواب میں میں انہوں نے کہا کہ تین وزیر اعظم بھی تبدیل ہوئے وہ بھی بلوچستان کی حالت نہیں بدل سکے ۔

انہوں نے کہا کہ جب تک بلوچستان کی عوام اپنی حالت نہیں بدلیں گے تب تک کوئی بھی بلوچستان کی حالت نہیں بدل سکتا اس لئے بلوچستان کی عوام2018ء الیکشن میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے امیدواروں کو کامیاب کر کے اپنی تقدیر بدل سکتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں کبھی بھی شفاف الیکشن نہیں ہوئے ہمیشہ دھاندلیاں کیں گئیں اور نتائج چوری کیے گئے جہاں عوام سے ووٹ دینے کا حق چھینا جائے وہاں حق رائے دہی سے روکا جائے تو ملک بحران کا شکار ہو جاتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ1970ء میں صاف و شفاف الیکشن ہوئے تھے تو ان کے نتائج کو قبول نہیں کیا گیا جس کے نتیجے میں ملک دو حسوں میں تقسیم ہو گیا اس کے بعد بھی سبق حاصل نہیں کیا گیا بلکہ ہر الیکشن میں نت نئے تجربات کیے گئے ۔

کبھی نئی نئی پارٹیاں بنائی جاتی ہیں اور نئے اتحاد بنائے جاتے ہین اور انھیں تجربات کی بنیاد پر ہم نے عدل و انصاف نہین پایا اور ہ ری رائے پر پابندی عائد کی گئی اور سارے نظام کو مفلوج کر کے رکھ دیا جب تک کسی ملک میں بنیادی چیزیں میسر نہیں ہونگی اس وقت تک ملک کا نظام ٹھیک نہیں ہوسکتا ۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے1996ء میں ملازمین کے حقوق کے لئے آواز بلند کر کے چالیس فیصد الاؤنس کے لئے ملازمین کی تحریک کے لئے ساتھ دیا اور ہ رے کارکنان نے گرفتاریاں پیش کیں ۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے ذمینداروں کے فلیت ریت کے لئے آواز بلند کیا اور م نے الیکشن کے دوران جو وعدے کیے تھے وہ پورے کر کے دکھائے انہوں نے کہا کہ میں1996ء کے الیکشن مہم کے سلسلے میں ایک علاقے میں گیا وہاں ایک فوتگی ہوگئی تھی جہاں میت کو غسل دینے کے لئے پانی نہیں تھا ہم نے ان علاقوں میں پانی اور بجلی کی سہولیات فراہم کی ۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت کی نااہلی تھی کہ ہر سال عربوں روپے لیپس کر دیتے تھے جوبلوچستان کے حکمرانوں کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے اور عربوں روپے سالانہ وفاقی حکومت کو واپس کر دیتے تھے جبکہ بلوچستان میں اسکولوں ہسپتالوں کی حالت دیکھ کر رونا آتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی کے دو ہی ممبران تھے اور حکومت نے ہمارے علاقے کے فنڈز پر قدغن لگائی ہوئی تھی کیوں کہ ہم اپوزیشن میں تھے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ہر ممبر اسمبلی کو سالانہ35کروڑ روپے دیے جاتے ہیں کہ اپنے علاقوں میں ترقیاتی کام کریں لیکن لسبیلہ کے ائندوں سے میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ35کروڑ روپے والا فنڈ کہا ں خرچ ہوا جبکہ لسبیلہ کے لوگ پینے کے صاف پانی کے لئے ترس رہے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ لسبیلہ کے منتخب ائندوں نے کبھی اپوزیشن دیکھی ہی نہیں ہر سال35کروڑ روپے صرف15سالوں کا حساب لگایا جائے تو25سو کروڑ بنتے ہیں میں ان ائندوں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ70سالوں سے حکمرانی کرنے والوں عوامی ائندوں نے15سالہ دور حکومت میں25سو کروڑ روپے لسبیلہ پہ خرچ کرتے تو لسبیلہ کے عوام کے تمام مسائل حل ہو سکتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان سے پیدا ہونے والی گیس سے بلوچستان کی عوام محروم ہیں انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کو1985ء میں اس لئے گیس فراہم کی گئی کہ وہاں چھاؤنی تھی اور کوئٹہ کے دیگر علاقے اب بھی گیس سے محروم ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ لوگ تختیاں لگا کر عوام کو بے وقوف بنارہے ہیں کہ ہم نے سڑکیں بنائی ہیں لیکن ان سڑکوں کی حلات زار کو دیکھا جائے تو سائیکل گزرے تو وہ سڑک ٹوٹ جاتی ہے انہوں نے کہا کہ ووٹ کا صحیح استعمال کر کے ایسے نمائندے منتخب کریں جو عوام کے مسائل کے حل کے لئے آواز بلند کر سکیں ۔

انہوں نے کہا کہ پہلے الیکشنوں میں جس طرح پولنگ ایجنٹوں کو اغوا کر کے ٹھپے لگائے جاتے تھے اب ایسا نہیں ہوگا اور لوگ بلوچستان نیشنل پارٹی کے امیدواروں کو بھاری اکثریت سے کامیاب کریں گے ۔

جلسے سے بلوچستان نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر قاسم رونجھو نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ70سالوں سے بلوچستان کا استحصال کیا گیا اور دھاندلی کے ذریعے ہمارے نتائج چوری کیے جاتے رہے اور ہمیشہ ملک میں دھاندلی کی گئی اور اس دفعہ ساف و شفاف انتخابات کا دعوٰی پورا نہ ہوا تو اس کے نتائج اچھے نہیں ہونگے ۔

انہوں نے کہا کہ اس الیکشن میں اچھے ائندوں کا انتخاب کریں جو آپ لوگوں کے مسائل حل کر سکیں انہوں نے کہا کہ بلوچ عوام کو سردار اختر مینگل کی کاوشوں سے شناخت ملی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ اس دفعہ عوام نے بی این پی کو موقع دیا تو انقلابی اقدامات کیے جائیں گے یہی ایک واحد پارٹی ہے جو بلوچستان کے ساحل و وسائل کی حفاظت کرے گی ۔ بلوچستان عوامی پارٹی کے بانی رکن نور الحق بلوچ ، پیپلز پارٹی کے یوسف راہی اقبال قمر ، غلام سرور جمعہ خان رونجھو عاصم رونجھو نے بھی خطاب کیا

Source: dailyazadiquetta.com

Share on :
Share

About Administrator

Check Also

شفیق مینگل: ’دہشت کی علامت‘ سے انتخابات تک

سحر بلوچ بی بی سی اردو بلوچستان میں ایک زمانے میں دہشت کی علامت سمجھے …

Leave a Reply

'
Share
Share
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com