Home / Archives / مستونگ: انتخابی ریلی پر خودکش حملے میں سراج رئیسانی سمیت کم از کم 85 افراد ہلاک
سراج رئیسانی کو اسلم رئیسانی کے دور میں بھی حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا جس میں وہ خود بچ گئے تھے البتہ ان کا بیٹا ہلاک ہو گیا تھا

مستونگ: انتخابی ریلی پر خودکش حملے میں سراج رئیسانی سمیت کم از کم 85 افراد ہلاک

بلوچستان کے صوبائی وزیرِ صحت کا کہنا ہے کہ ضلع مستونگ میں ایک انتخابی جلسے پر ہونے والے خودکش حملے میں صوبائی اسمبلی کے امیدوار سراج رئیسانی سمیت کم از کم 85 افراد ہلاک اور ڈیڑھ سو سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔

وزیِر صحت فیض کاکڑ نے بی بی سی کے نامہ نگار خدائے نور ناصر کو بتایا کہ جمعے کو ہونے والے اس حملے میں حال ہی میں بننے والی سیاسی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار نوابزادہ سراج رئیسانی کی کارنر میٹنگ کو نشانہ بنایا گیا۔

سراج رئیسانی کے بھائی اور سابق سینیٹر لشکری رئیسانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اپنے بھائی کی موت کی تصدیق کی ہے۔

ضلع مستونگ کے ڈپٹی کمشنر قائم خان لاشاری نے بی بی سی اردو کے نامہ نگار محمد کاظم کو بتایا کہ یہ دھماکہ کوئٹہ سے تقریباً 35 کلومیٹر دور جنوب مغرب میں کوئٹہ تفتان شاہراہ کے قریب واقع درینگڑھ کے علاقے میں ہوا۔

جب دھماکہ ہوا تو بلوچستان کے سابق وزیرِ اعلیٰ اسلم رئیسانی کے بھائی اور صوبائی اسمبلی کے حلقہ بی پی 35 سے امیدوار سراج رئیسانی ایک انتخابی جلسے میں شرکت کر رہے تھے۔

سرکاری ذرائع ابلاغ نے بم ڈسپوزل سکواڈ کے حوالے سے خبر دی ہے کہ یہ خود کش حملہ تھا جس میں آٹھ سے دس کلوگرام بال بیئرنگ استعمال کیے گئے جس کی وجہ سے زیادہ جانی نقصان ہوا۔

درینگڑھتصویر کے کاپی رائٹKHAIR MUHAMMAD
Image captionسراج رئیسانی کو حکومت سے قریب سمجھا جاتا تھا

اسی حلقے میں اسلم رئیسانی اپنے بھائی کے مخالف آزاد حیثیت میں لڑ رہے تھے۔ سراج رئیسانی کو اسلم رئیسانی کے دور میں بھی حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا جس میں وہ خود بچ گئے تھے البتہ ان کا بیٹا ہلاک ہو گیا تھا۔

سراج رئیسانی کو حکومت سے قریب سمجھا جاتا تھا۔

یہ بلوچستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں انتخابی جلسوں پر تیسرا حملہ ہے۔ کل رات خضدار میں بی اے پی کے دفتر کے قریب دھماکہ ہوا تھا جس میں دو افراد زخمی ہوئے تھے۔

بلوچستان، سراج رئیسانیتصویر کے کاپی رائٹAFP

اس کے علاوہ کراچی سے متصل حب کے علاقے میں تحریکِ انصاف کی کارنر میٹنگ پر گرینیڈ حملہ ہوا تھا جس میں دو افراد زخمی ہو گئے تھے۔

ان دونوں حملوں کی ذمہ داری بلوچ عسکری تنظیموں نے قبول کی تھی۔ ان تنظیموں نے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ انتخابی عمل سے دور رہیں۔

پاکستان میں انتخابی امیدواروں پر شدت پسندوں کے حملوں کے دو واقعات میں کم از کم 73 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔

یہ حملے پاکستان کے صوبہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں جمعے کو ہوئے ہیں۔

اس سے قبل جمعے کو ہی خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع بنوں میں متحدہ مجلسِ عمل کے ٹکٹ پر جمعیت علمائے اسلام ف کے امیدوار اکرم خان درانی کے قافلے پر حملے میں تین افراد ہلاک اور 39 زخمی ہوئے تھے۔

اکرم درانیتصویر کے کاپی رائٹAFP
Image captionاکرم خان درانی بنوں کے قومی اسمبلی کے حلقہ سے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے خلاف انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں

تاہم سابق وزیر اعلیٰ اکرم درانی اس حملے میں محفوظ رہے تھے۔

Source: bbcurdu.com

Share on :
Share

About Administrator

Check Also

شفیق مینگل: ’دہشت کی علامت‘ سے انتخابات تک

سحر بلوچ بی بی سی اردو بلوچستان میں ایک زمانے میں دہشت کی علامت سمجھے …

Leave a Reply

'
Share
Share
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com