Home / Archives / بلوچستان میں ایک دن میں تبدیلی کا ہمارا کوئی دعو ٰی نہیں صوبے کو آگ سے نکالیں گے، اختر مینگل

بلوچستان میں ایک دن میں تبدیلی کا ہمارا کوئی دعو ٰی نہیں صوبے کو آگ سے نکالیں گے، اختر مینگل

حب: بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ ہم بلوچستان کو ایک دن میں جنت میں تبدیل کرنے کے دعوے نہیں کررہے ہیں بلکہ ہم بلوچستان کو اس دوزخ کی آگ سے نکالنے کی جدوجہد کررہے جو70سالوں سے دہکتے آگ میں جل رہا ہے۔

بلوچستان میں تعلیمی ایمرجنسی لگانے والے اس بات سے بے خبر ہیکہ25لاکھ بچے آج بھی سکولوں سے باہر ہے جن کو پارٹیاں بدلنے کی عادت ہے وہ عوام کی کیا خدمت کریں گے ۔

ان خیالات کا ظہارانہوں نے بلوچستان کے صنعتی شہر حب میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطا ب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ عوام نے آج کے جلسہ میں ہزاروں کی تعداد شر کت کرکے25جولائی کا فیصلہ آج سنا دیا ۔

انہوں نے کہا کہ نے کہا کہ میں گذشتہ روز لسبیلہ کے پہاڑی علاقے ک اج گیا جب وندر سے نکلا تو بڑا خوبصورت اور چھوڑا روڈ دیکھ کر میں سمجھا کہ وہاں بہت کام ہوا ہوگا اسکول ہسپتال پانی کی سہولتیں روزگار و دیگر سہولیات فراہم کی ہونگی مگر جب دودر کمپنی تک پہنچے تو یہ روڈ ختم ہوگیا آگے وہی پتھر والے زمانے کا حال تھا یقین کریں ایک مجمع تھا میں نہیں کہتا کہ لاکھوں کا مجمع تھا لیکن جو بھی تھے میں پوچھا کہ اس دودر کمپنی سے کتنے لوگوں کو روزگار دیا گیا ہے کوئی ہاتھ اوپر کرے مگر ایک نے بھی ہاتھ اوپر نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت بلوچستان کے تعلیمی حالت یہ ہے کہ31فیصد اسکولوں میں بجلی نہیں82فیصد اسکولوں میں پینے کا پانی نہیں85فیصد اسکولوں میں باتھ روم کی سہولت جبکہ64فیصد اسکولوں کے چاردیواری نہیں ہیں وفاق اور صوبے سے تعلیم کیلئے اربوں روپے ملتے ہیں کہاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے ہر ایم پی ایز کو سالانہ35کروڑ روپے ترقیاتی فنڈز ملتے ہیں اگر ایک ایم پی اے اپنے اپنے حلقے میں صرف ایک کروڑ ایک گاؤں میں لگائے تو سالانہ500گاؤں میں تعلیم و صحت کی سہولیات مہیسر ہونگے لیکن شائد آپ لوگوں کے منتخب ائندوں کو بی ری نہیں لگتی۔

انہوں نے کہا کہ ہم یہ دعوی نہیں کرتے کہ بلوچستان کو ایک رات میں جنت میں تبدیل کرینگے لیکن اتنا ضرور کہونگا کہ اس جدوجہد سے بلوچستان کو اس دوزخ سے نکالنے کیلے ہم اگر ایندھن کے طور پر خون کی ضرورت پڑی تو انشاء اللہ دینے سے گریز نہیں کرینگے انشاء اللہ بلوچستان کو اس دوزخ سے نکال کررہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت کے نیپ کی حکومت کو آج تک کیوں یاد کیا جاتا ہے اسکے بعد کئی حکومتیں آئیں مگر کوئی یاد نہیں کرتا کیونکہ وہ نیپ کی حکومت تھی جب سگریٹ کے پیکیٹ پر لکھ کر دیا جاتا تو اس شخص کو ملازمت ملتی تھی آج تو وزیر صاحب خود سیکریٹری کے آفس جاتے ہیں پھر بھی نوکری نہیں ملتی کیونکہ سیکریٹری صاحب جانتے ہیں کہ بغیر مٹھائی کے نوکری نہیں ہوتی۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے لسبیلہ کے عوام کی عظیم تر مفاد کے خاطر ہم نے پیپلزپارٹی کے ساتھ سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسمنٹ کیا تو میں قومی اسمبلی کی نشستNA272پر کھڑا ہوں میرا انتخابی نشان کلہاڑا ہے اور ہ را اتحادی پیپیکےشریفپالاریہیں۔

انکا انتخابی نشان تیر ہے تو عوام اگر ان حاکم کے نام پر ظالموں سے نجات چاہتے ہیں تو کلہاڑے اور تیر پر25جولائی کو مہر لگائیں کیونکہ تیر سے شکار کرو اور کلہاڑے سے ذبح کرو، جلسہ عام سے پی پی کے امیدوار صوبائی اسمبلی کے حلقہPB49شریف پالاری، بی این پی کے سعید مینگل، بشیر مینگل، بی ایس او کے نذیر بلوچ، پی پی کے یوسف راہی و دیگر نے خطاب کیا، بی این پی کے سربراہ سردار اخترجان کو محمد انور میروانی نے انکا انتخابی نشان کلہاڑا پیش کیا جبکہ دیگر نے روایتی اجرکیں پہنائیں

Source: dailyazadiquetta.com

Share on :
Share

About Administrator

Check Also

Fishermen protest in Gwadar, want their demands fulfilled

The Fishermen Alliance were expressing that with the construction of Eastbay Expressway to link Gwadar …

Leave a Reply

'
Share
Share
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com