Home / Archives / بی این پی مرکز میں تحریک انصاف کے نامزد وزیر اعظم اسپیکر او رڈپٹی سپیکر کی مکمل حمایت کریگی ،صوبے میں جمعیت کیساتھ معاہدہ کر چکے ہیں ،اختر مینگل

بی این پی مرکز میں تحریک انصاف کے نامزد وزیر اعظم اسپیکر او رڈپٹی سپیکر کی مکمل حمایت کریگی ،صوبے میں جمعیت کیساتھ معاہدہ کر چکے ہیں ،اختر مینگل

کوئٹہ: پاکستان تحریک انصاف اور بلوچستان نیشنل پارٹی میں وفاق میں حکومت سازی کیلئے چھ نکاتی تحریری معاہدہ طے پا گیا جس کے بعد بی این پی نے قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کی حمایت کا اعلان کردیا ہے۔

سردار اختر مینگل کا کہنا ہے کہ دونوں جماعتوں نے تاریخی دستاویز پر دستخط کئے ہیں ۔امید ہے کہ پی ٹی آئی بلوچستان کے مسائل کے حل کیلئے مشترکہ کوششیں کریں گی۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی پاکستان کے مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے بلوچستان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا چاہتی ہے ۔

تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی ، مرکزی رہن ء جہانگیر خان ترین، صوبائی صدر یار محمد رند اور رکن قومی اسمبلی محمد قاسم خان سوری پر مشتمل پی ٹی آئی کے وفد نے بدھ کی رات کو کوئٹہ میں سردار اختر مینگل کی رہائشگاہ پر ان سے ملاقات کی۔ ملاقات میں بی این پی کے مرکزی سیکریٹری جنرل ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی ، ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اور دیگر عہدیداران بھی شریک تھے۔

تین گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی ملاقات میں حکومت سازی کے معاملات کو حتمی شکل دی گئی اورایک معاہدہ طے پایا گیا جس پر تحریک انصاف کی جانب سے شاہ محمود قریشی، جہانگیر ترین، سردار یار محمد رند جبکہ بی این پی کی طرف سے سردار اختر مینگل ، ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی اور آغا حسن بلوچ نے دستخط کئے۔ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کا آنا ہمارے لئے باعث افتخار ہے۔

انہوں نے خود آکر انہوں نے عزت بخشی اپنی اور پارٹی کی طرف سے مشکور ہوں۔ انہوں نے کوئٹہ آنے کی زحمت گوارا کی اور ہمارے دکھ میں شریک ہوئے۔ انہوں نے نہ صرف آج کوئٹہ بلکہ اسلام آباد میں بھی ہماری بات سنی۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان صاحب سے بھی دو بار ٹییلفون پر گفتگو ہوئی۔

انہیں بلانے کا کوئی قطعاً یہ مطلب نہ لیں کہ ہم نے کسی غرور اور تکبر میں آکر یا اپنی قبائلی انا کی خاطر انہیں یہاں بلایا۔ ہم یہ بتانا چاہتے تھے کہ بلوچستان کے لوگوں گزشتہ70سالوں سے کن مشکلات کا سامنا ہے۔ ہم نے ہم نے پی ٹی آئی اور دیگر جماعتوں کے ساتھ اپنے نکات سامنے رکھے۔

بی این پی کے سربراہ نے کہا کہ یہ نکات ہمارے آج سے نہیں بلکہ گزشتہ دس پندرہ سالوں سے ہم نے ہر ج عت ،پارلیمنٹ سمیت ہر فورم کے سامنے رکھیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وہ قوتیں جو بلوچستان کو ساتھ لیکر چلنا چاہتے ہیں اور بلوچستان کو قومی دھارے میں ساتھ رکھیں تو اس کیلئے ان نکات کے بغیر ہم اس ڈگر پر نہیں پہنچ سکتے۔ بلوچستان کے جملہ مسائل کا ہم نے نچوڑ ان چھ نکات میں نکالا ہے۔

ہم چاہتے تھے کہ یقین دہانی کرائی جائے کہ ان مسائل کے حل کیلئے ان لوگوں کی نیتیں صاف ہیں جن کے پاس آنے والی حکومت ہے۔سردار اختر مینگل نے کہا کہ تین گھنٹے کی بات چیت کے بعد چھ نکات پر دونوں جماعتوں نے اس پر اتفاق کیا اورتاریخی دستاویز پر دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے دستخط کئے۔ہم اس امید کے ساتھ پی ٹی آئی کے ساتھ آگے بڑھیں گے کہ وہ بلوچستان کے مسائل کو حل کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ ادوار میں ہمیں صرف تسلیاں دی جاتی تھیں مگر کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔ ہم نے ماضی میں زبانی وعدوں پر اعتبار کرکے غلطی کی۔انہوں نے کہا کہ70سال ہم نے لوگوں کو آزمایا۔

اس بار بھی اسمبلیوں کی مدت پانچ سال ہے معلوم نہیں وہ پوری کریں یا نہیں مگر اگر اس معاہدے پر عملدرآمد نہیں ہوا تو ہر ایک جماعت کا حق بنتا ہے کہ وہ اپنی جماعت کے تنظیمی اداروں کے توسط سے کوئی فیصلہ کریں۔ وفاق میں وزارتیں لینے سے متعلق سوال پر بی این پی کے سربراہ نے کہا کہ اگر ان چھ نکات پر عملدرآمد ہوتا ہے تو ہمیں کسی وزارت کی ضرورت نہیں۔

اس موقع پر تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بی این پی کے ساتھ دیرینہ مسائل پر بات ہوئی ہم چاہتے ہیں کہ نیت نیتی سے پاکستان کے مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے ان مسائل پر کام کریں۔ہم نے ملکر آگے چلنے کا فیصلہ کیا ہے ہمارے اس اقدام سے بہتری کے امکانات پیدا ہوں گے وفاق اور وفاق کی سوچ مضبوط ہوگی۔

ا نہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اس وقت ملک میں وفاقی سوچ کی علامت ہے۔ہم وفاق کی سوچ لیکر کوئٹہ حاضر ہوئے ہیں۔ تحریک انصاف کے رہنماء نے کہاکہ ہم نے مذاکرات کئے جو کامیابی سے ہمکنار ہوگئے ہیں اور ہم ایک معاہدہ کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں جس پر پی ٹی آئی اور بی این پی کی قیادت نے دستخط کئے ہیں۔

عمران خان صاحب کو بھی اس پیشرفت پر اعتماد میں لیا اور ان سے منظوری حاصل کرلی ہے۔شاہ محمود قریشی نے طے پائے گئے معاہدے کے خدوخال بتائے ہوئے کہا کہ لاپتہ افراد کا مسئلہ ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائیگا۔ نیشل ایکشن پلان پر بھر پور طریقے عملدرآمد کیا جائیگا بلوچستان کے جغرافیائی شناخت کا تحفظ دیا جائیگا۔

بلوچستان کے حقوق کے تحفظ کیلئے ضروری قانون سازی کی جائے گی۔ وسائل کی تقسیم شفاف اور منصفانہ انداز میں کیا جائیگا۔ معدنی وسائل کو استع ل میں لانے کیلئے مقامی سطح پر ریفائرنیز لگائی جائیں گی۔ بلوچستان سے دوسرے صوبوں کو نقل مکانی کے خدشات ختم کرنے کیلئے پانی کے بڑے ڈیمز بنائے جائیں گے تاکہ زیر زمین پانی کے ذخائر محفوظ ہوں۔

وفاق اور فارن سروسز کی ملازمتوں میں بلوچستان کے کوٹے پر عملدرآمد کیا جائیگا۔ ام افغان مہاجرین کو وطن واپس بھیجا جائیگا۔تحریک انصاف کے رہن ء نے بتایا کہ دونوں ج عتوں نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ قومی اسمبلی میں ہم ملکر چلیں گے۔ بی این پی کی قیادت ہ رے ساتھ تعاون بھی کرے گی۔انہوں نے ہ ری حکومت سازی، وزارت اعلٰی، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر پر ہماری حمایت کا فیصلہ کیا ہے جس پر ہم ان کے شکر گزار ہیں۔

معاہدے پر عملدرآمد سے متعلق سوال پر شاہ محمد قریشی نے کہا کہ نیتوں کا عمل دخل ہے۔ اگر کوئی کچھ بھی لکھ کر چلا جائے اور اگر سیاسی عزم اور خواہش نہ ہو تو کچھ نہیں ہوگا۔ ہم نیک نیتی سے آئے ہیں اور بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان ہ ری مستقبل کی ضمانت ہے۔ آج بلوچستان کی اہمیت ماضی کی اہمیت سے مختلف ہے۔

آج ہماری معاشی ترقی کا گیم چینجر کہلانے والے اہم منصوبے سی پیک میں بلوچستان کا بڑا حصہ ہے۔خطے میں امن اور استحکام بلوچستان کے بغیر ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے جغرافیائی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔

تحریک انصاف ان حقائق سے غافل نہیں ہے ہم ایک ایسی جماعت ہے جس کی سوچ وفاقی ہے ہمارے اندر پاکستانیت کا جذبہ ہے ہمیں پاکستان کے مفادات مقدم ہیں ہم نے اس جذبے کو ساتھ لیکر آگے بڑھنا ہے۔

Source: dailyazadiquetta.com

Share on :
Share

About Administrator

Check Also

الیکشن کمیشن نے ضمنی انتخابات کا شیڈول جاری کردیا

اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے قومی وصوبائی اسمبلیوں کی خالی نشستوں پرضمنی انتخابات کے شیڈول …

Leave a Reply

'
Share
Share
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com