Home / Archives / Analysis / تبدیلی اور بلوچستان

تبدیلی اور بلوچستان

طاہر حسنی

ھم پاکستان میں متوقع تحریک انصاف کی حکومت اور اس کے حامیوں کو مبارک باد پیش کرتے ہیں اس امید کے ساتھ کہ خان صاحب جس تبدیلی کا نعرہ  لے کر اقتدار میں آئے ہیں – وہ جلد وقوع پذیر ھو اور ھم جیتی جاگتی آنکھوں سے ایک خواب کو حقیقت میں تبدیل ھوتا دیکھ سکیں –  یقینا  دنیا میں جرائم پیشہ اور مجنوں افراد کے علاوہ کون پاگل یہ سمجھتا ھے کہ امن نہ ھو؟ لہذا ھم بھی چاھتے ھیں کہ ھمارے دیس میں بھی خوشیوں کی سوغات تقسیم ھو اور عام آدمی کو ریلیف ملے (چاھے کسی طور ہی سہی) ۔
ویسے ھم بلوچستان کے باشندے ہیں ایسے معاملوں میں ھمارا انکار و اقرار اور تنقید و تائید کیا معنی رکھتا ہے؟  بقول منیر نیازی

ہستی ہی اپنی کیا ھے زمانے کے سامنے
اک خواب ھیں جہاں میں بکھر جائیں ھم تو کیا

بہرحال کچھ دوست ھم سے خائف ہیں کہ ھمیں تبدیلی اچھی نھیں لگتی یا ھم خدا نا خواستہ “نورا لیگ ” کے سپورٹر ھیں؟  ایسے دوستوں کی سہولت کے لئے چند سطریں عرض ھیں کہ ھم بلوچستانی ھونے کے ناطے اس پوزیشن میں ہی نہیں ھیں کہ ملکی سطح  پر کسی پارٹی کو فیورٹ قرار دیں – ھم تو بس آپنے گھر کو جلتا ھوا دیکھتے ہیں –  پھر بھی عہد جنون میں اگر کوئی پارٹی اچھی لگتی تھی تو وہ پیپلز پارٹی تھی- آج بھی کہیں پیپلز پارٹی کا ترانہ سماعتوں سے ٹکراتا ھے تو آنکھیں نم ھو جاتی ہیں کہ وہ خواب بھی کب کا چکنا چور ھوا ۔ ۔

تو دوستوں کے لیئے عرض ھے کہ ھم تبدیلی سے ھر گز خائف نہیں بلکہ ھمیں خوف ھے کہ یہ تبدیلی کہیں سراب نہ ثابت ھو کہ خواب عذاب کے سلسلے بڑے اذیت ناک ھوتے ھیں – کیونکہ پچھلے سات دھایئوں کی تاریخ اٹھا کے دیکھیں کہ ان تبدیلیوں کے پیچھے کون سے عوامل کار فرما تھے – پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کا قاتل کون تھا؟ ھر دل عزیز محترمہ فاطمہ جناح کیسے ایک ڈکٹیٹر ایوب خان سے ھار گئی؟ پہلے جنرل الیکشن کے بعد کس نے بنگال میں قتل عام کا حکم دیا؟ ”  نیپ” کی حکومت اور بعد ازاں پارٹی کو کس کے اشارے پر تحلیل کیا گیا؟ وفاقی اکائیوں کے مقبول رہنمائوں کے لیئے کس نے غداری کے سرٹیفیکیٹ جاری کیئے؟ وادی بولان و مہران میں کس نے خون کی ھولی کھیلی؟ ایک منتخب وزیراعظم کو تختہ دار پر لٹکانے اور دو کا دھڑن تختہ کرنے والا کون ھے ؟ ” آئی جے آئی” سے لیکر موجودہ بلوچستان میں “باپ” بنانے والے لوگ کون ھیں؟ یہ سب تاریخ کا حصہ ھے ۔

بلوچستان میں تحریک انصاف کی تنظیم سازی نہ ھونے کے برابر ھے –  پھر بھی ایک قومی اور چار صوبائی نشستیں جیتنا کسی معجزے سے کم نہیں –  مذید براں جس کٹھ پتلی سردار کو انھوں نے بلوچستان میں پارٹی صدر بنایا ھے ان کا بلوچ قوم دھارے میں کوئی کردار نہیں ھے –  خود خان صاحب بلوچستان کے معاملے کو کس طرح دیکھتے ھیں؟ اور انھیں بلوچستان کے ماضی حال اور مستقبل کا کتنا  ادراک ھے ؟  اور سب سے اھم بات یہ کہ وہ بلوچستان کے حساس معاملات کو حل کرنے کا کتنا اختیار رکھتے ھیں؟  یہ سب مستقبل قریب میں واضح ھو جائے گا ۔

خدا کرے ھمارے اندیشے اور وسوے غلط ثابت ھوں اور خان صاحب ایک بااختیار وزیراعظم بن کے سامنے آئیں اور اس ملک کے عوام کو حقیقی تبدیلی نصیب ھو – خاص کر چھوٹے صوبوں کے تحفظات کسی حد تک دور کرنے میں کامیاب ہوسکیں- اس تناظر میں بلوچستان میں “بی این پی” کے ساتھ جس حالیہ معاہدے پر دستخط ہوئے ہیں اس میں کم ازکم پہلے نکتے پر ہی عمل ھو جائے تو ھماری ماؤں کی عید ھو جائے گی ۔

مصنف میرین اینڈ کوسٹل ریسورس انسٹیٹیوٹ، پرنس آف سونگکلاء یونیورسٹی، ہتیائی، تھائی لینڈ سے منسلک پی ایچ ڈی اسکالر ہیں. بلوچستان کی مختلف سیاسی و سماجی مسائل پر مصنف کی تحریر کردہ آرٹیکلز مختلف آنلائن ویب سائٹس پر نشر ہوتی رہی ہیں.

This is part of the policy adopted by Balochistanaffairs.com to provide views and opinions on issues facing the Baloch and Balochistan. The opinions expressed by writers and contributors are their own and do not express the opinion of the editorial board of BalochistanAffairs. The editorial board of Balochistan Affairs requests that writers and political activists should also send their original identity with their write-ups for publication to; balochistanaffairs@gmail.com

Share on :
Share

About Administrator

Check Also

Training Workshop organized in UoT main & Gwadar campus

QUETTA: University of Turbat has organized a Three Day Training Workshop under Faculty Professional Development …

Leave a Reply

'
Share
Share
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com