Home / Archives / موجودہ حالات میں ملک کسی سیاسی انتشار کا متحمل نہیں ہو سکتا ،وزیر اعلی

موجودہ حالات میں ملک کسی سیاسی انتشار کا متحمل نہیں ہو سکتا ،وزیر اعلی

کوئٹہ: نگران وزیراعلٰی بلوچستان علاؤالدین مری نے کہا ہے کہ آزادی کسی بھی ملک اور قوم کے لئے ایک بڑی نعمت ہے اور اس نعمت کی ہمیں بہت قدر کرنی چاہئے،یوم آزادی کے موقع پر ہمیں ان شہداء کی قربانیوں کو فراموش نہیں کرنا چاہئے جنہوں نے ملک اور قوم کے تابناک مستقبل کی خاطر اپنے جانوں کے نذرانے پیش کئے۔

آج پورا ملک خاص طور سے ہمارا صوبہ دہشت گردی کی جس عفریت کا شکار ہے وہ ہم سب کے لیے بڑا چیلنج ہے اور ہم نے دشمن کے اس چیلنج کو قبول کیا ہے، ہمیں اپنی سیکیورٹی فورسز کے جذبے، صلاحیت اور جرات پر بھرپور اعتماد ہے،قوم نے اتفاق رائے کے ساتھ دشمن کی تمام سازشوں کو ناکام بنانے کا پختہ عزم کر رکھا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے یوم آزادی کے موقع پر صوبائی اسمبلی کے سبزہ زار پر منعقدہ قومی پرچم کشائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں اسپیکر صوبائی اسمبلی راحیلہ حمید خان درانی، کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ، نگران صوبائی وزراء ،نو منتخب رکن صوبائی اسمبلی ، چیف سیکرٹری بلوچستان ڈاکٹر اختر نذیر، آئی جی ایف سی میجر جنرل ندیم انجم،آئی جی پولیس محسن حسن بٹ اور دیگر اعلٰی سول و ملٹری حکام نے شرکت کی جبکہ سکول کے بچے اور بچیوں کی جانب سے قومی نغمے پیش کئے گئے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلٰی نے کہا کہ ہم آج کے دن ملک کی سالمیت قومی اثاثوں کے تحفظ اور عوام کے جان و مال کی حفاظت کے لئے جانیں قربان کرنے والے اپنے سیکیورٹی اہلکاروں کو سلام پیش کرتے ہیں،مجھے پورا یقین ہے کہ اللہ تعالٰی کی مدد ہمارے ساتھ ہے اور ہم آپ سب ملکر اپنے ملک اور صوبے کو موجودہ بحرانی کیفیت سے نکال لیں گے، ہمارا مستقبل روشن اور تابناک ہے۔

وزیر اعلٰی نے کہا کہ انہیں مختصر عرصہ کے لئے صوبے کی ذمہ داریاں ملیں لیکن اس دوران دو بڑے سانحات روا ہوئے جن میں بہت سے قیمتی جانوں کا نقصان ہوا، وزیر اعلٰی نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کی جتنی ممکن ہوسکے مدد اور دلجوئی کریں گے تاکہ انہیں کسی کمی کا احساس نہ ہو ، محض جھنڈیاں لگانے اور ایک جھنڈے کے نیچے کھڑے ہوکر ہم ایک قوم نہیں بن سکتے جب تک ہم ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک نہیں ہوں گے۔

مستونگ اور کوئٹہ میں جو واقعات ہوئے اور جب زخمیوں کو ہسپتالوں میں لایا گیا تو ہمیں ایک قوم بن کر ان زخمیوں کے ساتھ کھڑے ہونا چاہیے تھا لیکن بدقسمتی سے کوئٹہ شہر میں سینکڑوں پرائیویٹ ہسپتال ہونے کے باوجود کوئی ڈاکٹر ان زخمیوں کے علاج و معالجے کے لئے سامنے نہیں آیا،جبکہ ہماری ایسی روایات رہی ہیں کہ جب کسی ہمسائے کے گھر میں کوئی فوتگی ہوتی ہے تو تین دن تک انہیں چولہا جلانے نہیں دیا جاتا۔

ہمیں اپنی روایات کو زندہ کرنا ہوگا اور ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہوگا تب ہم ایک مضبوط قوم بن سکتے ہیں، وزیر اعلٰی نے کہا کہ دشمن نے بہت کوشش کی کہ انتخابات کو سبوتاژ کیا جائے لیکن بڑا ٹرن آؤٹ دشمن کے منہ پر طمانچہ ثابت ہوا۔

وزیر علٰی نے کہا کہ ہمیں ثابت کرنا ہے کہ ہم ایک زندہ قوم ہیں اور ہم اپنے شہداء کی قربانیوں کو کبھی نہیں بھولیں گے، وزیر اعلٰی نے کہا کہ ایک ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے ہمارے اوپر بیت سی ذمہ داریاں ہیں ہمیں اپنے ملک کے تمام قوانین کی بھرپور پاسداری کر کے ثابت کرنا ہے کہ ہم ایک منظم اور تہذیت یافتہ قوم ہیں۔

وزیر اعلٰی نے کہا کہ اس میں دورائے نہیں ہوسکتیں کہ ملک و قوم کی ترقی ور استحکام جمہوریت ہی کے مرہون منت ہے اور ہم خوش نصیب ہیں کہ ملک میں جمہوریت ہے ہم بغیر کسی ڈر خوف کے گھوم پھر سکتے ہیں۔

وزیر اعلٰی نے کہا آج کا دن یوم احتساب بھی ہے،زندہ قومیں خود احتسابی پر یقین رکھتی ہیں اور اپنی غلطیوں اور خا میوں کا جا ئزہ لیکر انھیں درست کر نے کے لئے کوشاں رہتی ہیں تاہم یہ امر افسوسناک ہے کہ اگر ہم اپنی کارکردگی کا جائزہ لیں تو70سال گذ ر جانے کے بعد بھی ہم پسماندگی اور غربت کا شکار ہیں ۔

وزیر اعلٰی نے کہا کہ آج کے حالات میں ملک کسی بھی سیاسی انتشار کا متحمل نہیں ہو سکتا، ہمیں جمہوری رویوں کے ساتھ ہی مسائل اور مشکلات کا حل نکالنا ہوگا، جمہوری مسائل کا حل جمہوریت کے ذریعے ہی ممکن ہے ،تاریخ گواہ ہے کہ قوموں نے جمہوریت اور عوامی نظام حکومت سے ہی ترقی کی منازل طے کی ہیں۔

وزیر اعلٰی نے کہا کہ دنیا کے بدلتے ہوئے حالات میں مختلف قوتوں کی توجہ ہمارے صوبہ خاص طور سے ہماری طویل ساحلی پٹی کی طرف مبذول ہوئی ہے،قوت کے توازن میں ہونے والی تبدیلیوں اور خطہ میں سامنے آنے والی نئی اور تیز رفتار تجارتی سرگرمیوں سے استفادہ کرتے ہوئے بلوچستان کے مسائل کا حل تلاش کرنے اور صوبہ کو پسماندگی سے نجات دلانے کے امکانات روشن ہوئے ہیں۔

وزیر اعلٰی نے کہا کہ ہم گوادر پورٹ کو فعال بنانے ، سی پیک منصوبے پر عملدرآمد اور غیر ملکی سرمایہ کاری یہاں لانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں لیکن اس کے لیے دیرپا امن کا قیام لازمی شرط ہے۔ وزیر اعلٰی نے کہا کہ وفاق اور دیگر صوبوں کی طرح بلوچستان میں بھی ایک نئی منتخب عوامی حکومت قائم ہونے جارہی ہے۔

عوام کو اس حکومت سے بہت سی توقعات ہیں،ہمیں یقین ہے کہ نومنتخب حکومت عوام کی توقعات پر پورا اترے گی اور حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی جماعتیں صوبے کے مسائل کے حل کے لئے اپنا اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کرنیگی اور عوام کو مایوس نہیں کرینگی ۔

وزیر اعلٰی نے کہا کہ ہماری نیک خواہشات نئی اسمبلی کے ساتھ ہیں اور ہم نومنتخب حکومت کی کامیابی کے لئے دعا گو ہیں۔وزیراعلٰی نے اس موقع پر قیام پاکستان سے اب تک ملک کے دفاع اور امن کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا۔ قبل ازیں وزیر اعلٰی نے قومی پرچم سربلند کیا۔ اس موقع پر قومی ترانہ بجایا گیا

Source: dailyazadiquetta.com

Share on :
Share

About Administrator

Check Also

At least 70 militants, including commander, surrender in Balochistan

QUETTA: At least 70 militants and a commander of a banned organisation surrendered to the government …

Leave a Reply

'
Share
Share
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com