Home / Archives / احسان شاہ کو شوکاز نوٹس جاری ،پارٹی مینڈیٹ چرانے کیخلاف 27اگست کو بلوچستان بھر میں احتجاج کرینگے ،اسرار زہری

احسان شاہ کو شوکاز نوٹس جاری ،پارٹی مینڈیٹ چرانے کیخلاف 27اگست کو بلوچستان بھر میں احتجاج کرینگے ،اسرار زہری

کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی)عوامی(کے سر براہ سابق سینیٹر میر اسرار اللہ زہری نے کہا ہے کہ انتخابات میں بلوچستان نیشنل پارٹی کا مینڈیٹ چرایا گیا ہے ۔

جس کی ہم مذمت کر تے ہیں اور اس کے خلاف27اگست کو صوبہ بھرکے پریس کلبوں کے سامنے احتجاج اور9ستمبر کو ڈویژنل سطح پر سیمینار اور ورکشاپ منعقد کرنے کا اعلان کر تے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی آئین کی خلاف ورزی کرنے والے5  رہنماؤں کو شوکاز نوٹس جاری کر دیئے ہیں مرکزی کمیٹی کو مطمئن نہ کرنے کے بعد ان کی رکنیت ختم کر دی جائے گی ۔

ان خیالات کا ا ظہار انہوں نے جمعرات کو پارٹی کی سینٹرل کمیٹی کے اجلاس میں ہونیوالے فیصلوں کے حوالے سے کوئٹہ میں اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کے دوران کیا اس موقع پر منتخب رکن صوبائی اسمبلی اور پارلیمانی لیڈر میر اسدا للہ بلوچ، مرکزی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر ناشناس لہڑی، محی الدین بلوچ،چیئرمین سعید بلوچ،نور احمد ملازئی،حافظ مجید بلوچ،شکیل بلوچ، نثار بلوچ،سید اکبر شاہ، محمد یوسف ، نور احمد بلوچ،شاہد بلوچ سمیت دیگر بھی موجود تھے ۔

میر اسرار اللہ زہری نے کہا ہے کہ ہماری جماعت ایک ترقی اور جمہوریت پسند قوم پرست جماعت ہے جس کا محور بلوچستان اور یہاں پر بسنے والے اقوام کی معاشی، معاشرتی، سیاسی، سماجی اقدار کی بحالی، احساس محرومی، استحصال، قومی نا برابری ، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کے خلاف آواز بلند کی ہے ۔

دوسری طر ف پاکستان میں خارجہ پالیسی کی وجہ سے ملکی معیشت زبوں حالی کا شکار ہے اور ملک و قوم قرجوں کے بوجھ تلے ڈوبی ہوئی ہے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کا قرض بلین ڈالرز تک جا پہنچا ہے جس کی وجہ سے مہنگائی، افراط زر غیر مستحکم ہونے سے معیشت نے غریب اور متوسط طبقے کی زندگی اجیرن بنا دی ہے ۔

اس لئے ہماری جماعت سمجھتی ہے کہ ملک میں غیر جانبدار خارجہ پالیسی تشکیل دے کر قومی منصوبے تشکیل دیئے جائے تاکہ تعلیم، صحت ، زراعت کی بہتر پالیسیاں ، لوڈ شیڈنگ کے خاتمے لئے ڈیمز بنائے جائے اور ملک کو قرضوں سے نجات دلائی جائے ۔

سی پیک کے حوالے سے پاکستان اور چائنا کے56بلین ڈالر کے معاہدے کی تقسیم منصفانہ اور میرٹ پر کی جائے اور اس کی آدھی رقم مکران اور بلوچستان کے مختلف شعبہ زندگی پر خرچ کی جائے انہوں نے کہا ہے کہ ستر سال بعد بھی حکمران ملک اور قوم کے مسائل حل نہیں کر سکیں ۔

اس لئے فیڈریشن کی سخت پالیسیوں پر نظر ثانی کر کے فلاحی ریاست چھوٹی قوموں کے احساس محرومی کو دور کرنے استحصال سے پاک معاشرے کے قیام کے لئے ایک نیا عمرانی معاہدے کے تحت قانون سازی کی جائے ۔

انہوں نے بتایا کہ25جولائی2018کو ہونیوالے انتخابات جدید ٹیکنا لوجی کے تحت الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کرائے تھے لیکن جدید سسٹم آر ٹی ایس منصفانہ غیر جانبدارانہ ، شفاف الیکشن کا نام دیا گیا لیکن ملک بھرمیں نتائج کے حوالے سے اس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ۔

سسٹم الیکشن کے دن ہی فیل ہوا جس پر اربوں روپے خرچ ہوئے اورملک کی معیشت کیساتھ ساتھ الیکشن کے نظام کو درہم برہم کیا انتخابات پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں اور بین الاقوامی دنیا میں ہمارے ملک کی جگ ہنسائی ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ ہماری پارٹی کا ووٹ بینک بھی چرا کر ہماری جیت کو ایک منظم اور ٹیکنیکل بنیاد پر ہار میں تبدیل کیا گیا حلقہ پی بی28سے میر اصغر بلوچ ، نیشنل اسلامی کے حلقہ این اے270سے کیپٹن محمد حنیف اور پی بی36سکند رآباد سے میر ظفر اللہ زہری سمیت میرے ڈھائی ہزار ووٹوں کو ڈبل ٹھپہ لگا کر جیت کو ہار میں تبدیل کیا۔

اس منظم دھاندلی کی مذمت کرتے ہیں اور سینٹرل کمیٹی کے فیصلوں کے مطابق بی این پی تمام زونز کو ہدایت کر تی ہے کہ27اگست2018کو اس دھاندلی کے خلاف بلوچستان بھر کے پریس کلب کے سامنے احتجاج ریکارڈ کروائیں اور9ستمبر کو کوئٹہ ڈویژن، سبی ڈویژن، قلات ڈویژن، مکران ڈویژن کے اضلاع میں سیمینارز، ورکشاپ منعقد کر کے اپنا موقف عوام کے سامنے پیش کریں ۔

انہوں نے بتایا کہ سینٹرل کمیٹی کے متفقہ فیصلے کے مطابق میر اسد اللہ بلوچ کو پارٹی کی جانب سے بلوچستان اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر منتخب کیا ہے اور انہیں ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ اتحادیوں کیساتھ مل کر پارٹی پالیسی سمیت دیگر امور پر مذاکرات کے ذریعے بلوچستان کے جملہ مسائل کے حل کیلئے پارلیمنٹ کے اندر حکمت عملی اپنائیں ۔

انہوں نے بتایا کہ پارٹی کی کمیٹی کے اجلاس میں عدم شرکت اور الگ اپنے آپ کو قائم مقام صدر ظاہر کرنے پر سید احسان شاہ ، سینئر نائب صدر نے جو اجلاس طلب کیا تھا انہوں نے پارٹی آئین کے ڈسپلن کی خلاف ورزی کی ہے اور بد نیتی پر مبنی عمل کیا ہے جس کی مذمت کر تے ہوئے اس غیر آئینی اجلاس میں شریک ہونیوالے ممبران کی بنیادی رکنیت پارٹی آئین کی روشنی میں انہیں شوکاز نوٹس جاری کر رہے ہیں ۔

ایک ہفتے کے اندر وہ مرکزی کمیٹی کو مطمئن کرے بصورت دیگر ان کی پانچ رہنماؤں جن میں سینئر نائب صدر سید احسان شاہ، ڈپٹی سیکرٹری غفور بزنجو، جوائنٹ سیکرٹری مراد جان گچکی، جونیئر جوائنٹ سیکرٹری چاکر مینگل، فشریز سیکرٹری خلیل کٹور ، جو نیئر فنانس سیکرٹری شامل ہے ۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ہے کہ ہماری جماعت ، نیشنل پاٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے بلوچستان کے مسائل کے حوالے سے منشور یکساں ہے لیکن انا کی وجہ سے تمام جماعتیں  ایک نقطہ اور پلیٹ فارم پر متحد نہیں ہو رہی ۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ہے کہ ملک کی بڑی جماعتیں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ)ن(اقتدار میں آنے سے قبل بلوچستان کے مسائل پر بات کرتی ہے لیکن اقتدار میں پہنچ کر ان مسائل کے حل کے حوالے سے چشم پوشی اختیار کر لیتی ہے جس کی وجہ سے بلوچستان کے مسائل جوں کے توں ہے ۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ہے کہ بلوچ کی عزت نفس کا احترام کرتے ہوئے اسکا حق دے کر اس کا سر لے سکتے ہیں لیکن زور زبردستی سے اس سے کچھ حاصل نہیں کر سکتے ہمیں بھی آغاز حقوق بلوچستان پیکج کا کہا گیا تھا ۔

لیکن ہم نے بلوچ قوم کے بہتر مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے پیکج کی بجائے ان کی عزت نفس اور ان کے حقیقی مسائل کے حل کی بات کی تھی جس پر کوئی توجہ نہیں دی گئی ہم نے ہمیشہ بلوچستان کے لو گوں کی تعصب سے بالاتر ہو کر حقیقی معنوں میں خدمت کی ہے اور کر تے رہیں گے۔

Source: dailyazadiquetta.com

Share on :
Share

About Administrator

Check Also

Training Workshop organized in UoT main & Gwadar campus

QUETTA: University of Turbat has organized a Three Day Training Workshop under Faculty Professional Development …

Leave a Reply

'
Share
Share
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com