Home / Archives / بلوچستان کابینہ کا پہلا اجلاس ،محکمہ تعلیم میں دس ہزار آسامیوں پر بھرتیوں کی منظوری

بلوچستان کابینہ کا پہلا اجلاس ،محکمہ تعلیم میں دس ہزار آسامیوں پر بھرتیوں کی منظوری

کوئٹہ: وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان کی زیرصدارت نو منتخب صوبائی کابینہ کا پہلا اجلاس منگل کے روز منعقد ہوا۔ طویل دورانیہ کے اجلاس میں سماجی شعبوں کو درپیش مسائل اور ان کی ترقی کے حوالے سے امور کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے اہم نوعیت کے فیصلے کئے گئے تعلیم، صحت اور پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، کے محکموں کے سیکریٹریوں کی جانب سے اجلاس کو اپنے اپنے محکموں کے امور سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

کابینہ نے محکمہ تعلیم کی بہتری کی سفارشات کی تیاری کیلئے ٹاسک فورس کے قیام کی منظوری دی ، جبکہ محکمہ خزانہ اور محکمہ منصوبہ بندی وترقیات کے حکام نے صوبائی کابینہ کو صوبے کے مالی وترقیاتی امور اور مالی سال2019-20کی پی ایس ڈی پی کے خدوخال کے بارے میں آگاہ کیا۔ اجلاس کو سیکریٹری داخلہ اور آئی جی پولیس نے صوبے میں امن وامان کی صورتحال کے حوالے سے بریفنگ دی۔

اجلاس کے آغاز پر کابینہ کے اراکین نے اپنا تعارف کرایا، کابینہ کے اجلاس کے آغاز میں توہین آمیز خاکوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں مسلم امہ کے جذبات کو مجروح کرنے کی ناپاک سازش اور آزادی ء اظہار رائے کی بدترین مثال قرار دیا گیا، اجلاس میں قیام امن کے لئے جانیں قربان کرنے والے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے درجات کی بلندی کے لئے دعا کی گئی۔

صوبائی وزیر ظہور بلیدی نے گزشتہ روز وزیراعلٰی بلوچستان جام کمال خان کی زیر صدارت ہونے والے کابینہ اجلاس کی پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کی مذمت کرتے ہوئے اس اقدام کو امت مسلمہ کے جذبات مجروح کرنے کی ناپاک سازش اور اظہار رائے کی آزادی کی بدترین مثال قرار دیا گیا ۔

اجلاس کے دوران گورنمنٹ سروس ڈیلیوری سسٹم کا جائزہ لیا گیا بلکہ تعلیم ، صحت ، پی ایچ ای محکموں کے حکام کی جانب سے کابینہ کو بریفنگ بھی دی گئی بلکہ کابینہ نے تمام تعلیمی اداروں میں صاف پینے کے پانی ، باتھ رومز اور دیگر سہولیات کے لئے ایک ارب روپے کی لاگت سے منصوبہ شروع کرنے کی بھی منظوری دی ہے ۔

اس کے علاوہ تمام کالجز میں سبجیکٹ اسپیشلسٹ کی تعیناتی کو بھی یقینی بنایا جائے گا ، کابینہ میں فوج کے اشتراک سے3.6ارب روپے کی لاگت سے کارڈیالونی سینٹر کے قیام کی بھی منظوری دی ہے ۔

ظہور بلیدی کا کہنا تھا کہ کابینہ کی طویل دورانیہ کے پہلے اجلاس میں توہین آمیز خاکوں کی مذمت کی گئی بلکہ اسے امت مسلمہ کی جذبات کو مجروح کرنے کی ناپاک سازش اور اظہار رائے کی آزادی کی بدترین مثال قرار دیا گیا ۔ اجلاس میں امن کی راہ میں جانیں قربان کرنے والے شہداء کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا گیا بلکہ انکے درجات بلندی کے لئے دعا بھی کی گئی ۔

انہوں نے کہا کہ اجلاس میں گور نٹ سروس ڈیلیوری کا تفصیلی جائزہ لیا گیا بلکہ محکمہ تعلیم ، صحت ، پی ایچ ای محکموں کے حکام کی جانب سے کابینہ اجلاس کو بریفنگز بھی دی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں امن وامان کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے بلکہ سیکرٹری داخلہ اور آئی جی پولیس کی جانب سے بریفنگ بھی دی گئی ۔

اس کے علاوہ محکمہ خزانہ نے صوبے کی مالی امور اور منصوبہ بندی و ترقیات کے حوالے سے بریفنگ دی ۔ انہو ں نے کہا کہ اجلاس میں محکمہ تعلیم میں نان ٹیچنگ آسامیوں پر مستقل بھرتیوں کا عمل جاری رکھنے کی منظوری دی گئی بلکہ ٹیچنگ اسٹاف کی ایجوکیٹر کے نام سے کنٹریکٹ پر بھرتی کی بھی منظوری دی گئی ۔

انہوں نے کہا کہ ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ اسٹاف کی صوبہ بھر میں10ہزار آسامیاں خالی ہیں جن پر بھرتیاں کی جائیں گی ۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ نے ایک ارب روپے کی لاگت سے سکولوں میں پانی کی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے کی بھی اصولی طور پر منظوری دیتے ہوئے اس سلسلے میں آئندہ اجلاس کے موقع پر تفصیلات پیش کرنے کی بھی ہدایت کی ۔

انہوں نے کہا کہ منصوبے کے تحت10ہزار سکولوں میں پانی اور باتھ رومز کی سہولیات فراہم کی جائیں گی ۔ کابینہ نے صوبے کے ام اسکولوں میں بااختیار پیرنٹ ٹیچر مینجمنٹ کمیٹیوں کے قیام کی منظوری بھی دی جو متعلقہ اسکولوں کے انتظامی ودیگر امور کی دیکھ بھال کریں گی اور بچوں اور اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنائیں گی۔

کابینہ نے ہر یونین کونسل میں بوائز ہائی اسکول اور گرلز ہائی اسکول کے قیام کو لازم قراردیا ہے۔کابینہ نے تعلیم سب کے لئے پالیسی کے تحت پرا ری اسکولوں کے ساتھ ساتھ مڈل اور ہائی اسکولوں کو بھی ضروری سہولیات کی فراہمی کی ہدایت کی ہے۔ کابینہ نے زیرتعمیر بلوچستان ریذیڈنشل کالجز اور کیڈٹ کالجز کی فوری تکمیل اور ان

کے لئے ضروری فنڈز کی فراہمی کی منظوری دی۔

انہوں نے کہا کہ ام کالجز میں سبجیکٹ سپیشلسٹ کی تعیناتی کو یقینی بنایا جائے گا ۔کابینہ نے مزید آٹھ کالجز میں بی ایس پروگرام شروع کرنے کی منظوری دی جس کے بعد ایسے کالجز کی تعداد16ہوجائے گی جن میں بی ایس پروگرام دستیاب ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ کابینہ نے بلوچستان پبلک سروس کی خالی آسامیوں پر جلد تعیناتیوں کا فیصلہ بھی کیا ۔ کابینہ نے صوبے کے ام کالجز میں اساتذہ کی حاضری یقینی بنانے کے لئے بائیو میٹرک نظام کی تنصیب کی منظوری دی۔ کابینہ نے گوادر انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، پولی ٹیکنک انسٹی ٹیوٹ کوئٹہ اور دیگر ام فنی تعلیمی اداروں میں سی پیک کی ضروریات کے مطابق کورسز شروع کرانے کی منظوری دی۔

محکمہ صحت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ کابینہ نے غیر حاضر ڈاکٹروں اور طبی عملے کے خلاف انضباطی کاروائی کی ہدایت کی۔ کابینہ نے محکمہ صحت میں وزیراعلٰی کی سربراہی میں اپیکس کمیٹی کے قیام کی منظوری دی جبکہ محکمہ صحت می اختیارات کی نچلی سطح تک تقسیم کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ کابینہ نے پرا ری ہیلتھ کیئر میں کنٹریکٹ کی بنیاد پر ڈاکٹروں کی تعیناتی کی منظوری بھی دی۔ کابینہ نے ڈپٹی کمش وں کی سربراہی میں ڈسٹرکٹ ہسپتالوں، آرایچ سی اور بی ایچ یو میں ڈاکٹروں او ر طبی عملے کے حاضری چیک کرنے کے لئے کمیٹی کی تشکیل کا فیصلہ کیا۔

کابینہ نے فوج کے اشتراک سے3.6ارب روپے کی لاگت سے کارڈیالوجی سینٹر کے قیام کے منصوبے کی منظوری دی۔ آبنوشی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ کابینہ نے محکمہ پی ایچ ای کو عوام الناس کو پانی کی سنگین صورتحال اور پانی کے کم استع ل کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنے کی خصوصی مہم شروع کرنے کی ہدایت کی۔

محکمہ پی ایچ ای کو کوئٹہ اور گوادر میں پانی کی کمی کے مسئلے کے پائیدار بنیادوں پر حل کے لئے قابل عمل اور موثر اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔ ظہور بلیدی نے کہا کہ کابینہ نے پانی کے استع ل سے متعلق بچوں میں شعور اجاگر کرنے کے لئے نصاب میں خصوصی مضمون شامل کرنے سفارشات تیار کرنے کی ہدایت کی۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی کابینہ نے صوبائی محاصل میں اضافے کے لئے متعلقہ محکموں کی تنظیم نو کرتے ہوئے ان کی کارکردگی کو بہتر بنانے کی ہدایت کی۔ کابینہ نے بلوچستان ریونیو اتھارٹی کے دائرہ کار کو وسعت دے کر زیادہ سے زیادہ اداروں کو سروس ٹیکس کے نیٹ میں شامل کرنے کی منظوری دی۔

انہوں نے خزانہ کے حوالے سے مزید کہا کہ کابینہ نے وفاقی محاصل کے حصول میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے وفاقی حکومت سے رابطے کا فیصلہ کیا۔ کابینہ نے زرعی ٹیوب ویلوں کو بجلی کی مد میں دی جانے والی سبسڈی کے حوالے سے ان ٹیوب ویلوں کی تصدیق کے لئے ڈپٹی کمش وں کی سربراہی میں کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ کابینہ نے فوڈ سبسڈی کا ازسرنو جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے بلکہ کابینہ نے فیصلہ کیا کہ بجٹ خسارے پر قابو پانے کے لئے وفاقی حکومت سے خصوصی گرانٹ کے حصول کی درخواست کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی کابینہ نے محکمہ منصوبہ بندی وترقیات کو مالی سال2019-20کی پی ایس ڈی پی میں شامل منصوبوں کوRationalizedکرکے صوبائی کابینہ سے منظوری لینے کی ہدایت کی۔ کابینہ نے صوبے میں صحت اور تعلیم کے شعبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کی منظوری دی۔

دریں اثناء وزیراعلی بلوچستان جام ک ل خان نے کہا ہے کہ ہم نے صوبے کی تعمیروترقی کے وژن اور عزم کے ساتھ حکومت سنبھالی ہے،عوام کو اس حکومت سے بہت سی توقعات وابستہ ہیں جن پر پورا اترنے کے لئے بھرپور صلاحیتیوں کو بروئے کار لایا جائے گا، گڈ گورننس کا قیام عملی طور پر ممکن بنایا جائے گا۔ بدعنوانی کا خا ہ کرکے صوبے کے بارے میں پائے جانے والے منفی تاثر کو ختم کیا جائے گا، ہم نے عملی اقدامات کے ذریعہ ثابت کرنا ہے کہ موجودہ حکومت دیرینہ مسائل حل کرنے کی اہلیت رکھتی ہے، صوبے اور عوام کے مفاد میں تلخ ،مشکل اور سخت فیصلے بھی کرنا پڑے تو کریں گے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے نومنتخب صوبائی کابینہ کے پہلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعلٰی نے کہا کہ کابینہ سب سے بڑا اور بااختیار فورم ہے جہاں جو بھی فیصلے ہوں گے ان پر سنجیدگی سے عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا جس کے لئے بیورو کریسی کو خلوص نیت کے ساتھ اپنے فرائض کی انجام دہی کرنا ہوگی۔ ہمیں بیوروکریسی سے بہت سی توقعات ہیں،ہم ایسے اچھے افسران کی ٹیم منتخب کریں گے جو صوبے کی ترقی کا عزم رکھتے ہوں اور انہیں ماضی میں نظرانداز کیا گیا۔

وزیراعلٰی نے کہا کہ ام امور میں شفافیت یقینی بنائی جائے گی، نظام میں بہتری لانے کے لئے ضروری قانون سازی کی جائے گی محکموں اور اداروں کو سیاسی اثروروسوخ اور ہر قسم کے دباؤ سے آزاد کرتے ہوئے مضبوط بنایا جائے گا اور ان کی استعداد کار میں اضافہ کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں گے کیونکہ ماضی میں ہ ری استعدا د کار پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔

وزیراعلٰی نے کہا کہ محکموں اور اداروں میں بہتری کی بہت زیادہ گنجائش موجود ہے، ادارے قواعد وضوابط اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کام کریں گے تو اس کے مثبت اثرات عوام تک پہنچیں گے۔ وزیراعلٰی نے اراکین کابینہ پر زور دیا کے وہ اپنے قول وفعل کے ذریعہ عوام تک یہ پیغام پہنچائیں کہ ہم مسائل کے حل میں سنجیدہ ہیں، محکموں کی الاٹمنٹ کے بعد وزراء اپنے اپنے محکموں کی کارکردگی بہتر بنائیں اور محکمے کے ترقیاتی وانتظامی امور کی نگرانی کریں۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی کابینہ ہر ماہ ام محکموں کی کارکردگی کا جائزہ لے گی، بہترین کارکردگی کے حامل افسران کی حوصلہ افزائی کی جائے گی جبکہ کمزور کارکردگی کے حامل افسران حکومت سے کسی قسم کی توقع نہ رکھیں۔

انہوں نے کہا کہ جلد کابینہ میں توسیع کی جائے گی اور کابینہ کا اجلاس ہر ہفتہ منعقد کیاجائے گا جس میں ایجنڈے میں شامل نکات کے علاوہ دیگر امور کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔ وزیراعلٰی نے کہا کہ اللہ تعالٰی سے دعا ہے کہ وہ ہ ری رہن ئی اورمدد کرے۔

Source: dailyazadiquetta.com

Share on :
Share

About Administrator

Check Also

بولان میڈیکل کالج کے رجسٹرار کی تعیناتی سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دیدی

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے بولان میڈیکل کالج کی سینئر رجسٹرار کی پوسٹ پر ایف پی …

Leave a Reply

Share
Share
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com