Home / Archives / Analysis / بلوچ جدوجہد کی علامات کی کردار کشی – قمبر مالک بلوچ

بلوچ جدوجہد کی علامات کی کردار کشی – قمبر مالک بلوچ

قمبر مالک بلوچ

مظلوم اقوام کی قومی جدوجہد ہمیشہ سے ایک الجھا ہوا رجحان رہی ہے. اور اس کا شمار پیچیدہ ترین انسانی سرگرمیوں میں ہوتا ہے. یہ اپنے طے شدہ مقاصد کے حصول کی راہ میں متوقع طور پر لامحدود چیلنجوں سے گزرتا ہے. اس عمل کے دوران کئی سیاسی کردار ابھر کر سامنے آتے ہیں جن کے نقش قدم اور تعلیمات کو اپنے مقاصد اور حمایت کی حصول کے لیے رہنمائی کا ذریعہ گردانہ جاتا ہے. مخالف قوتوں کی جانب سے ان سیاسی کرداروں کو گٹھانے کے لیے منظم اقدامات اٹھائے جاتے ہیں. اس زمر میں بلوچ معاملہ کو بھی کوئی استثنا حاصل نہیں ہے.

ایک زہریلا رجحان جو بلوچ قومی جدوجہد میں دیکھنے کو ملتی ہے وہ دیرینہ تعقب کردہ , دانستہ اور منظم منصوبہ بندیاں ہیں جن کا مقصد بلوچ قوم پرستی کے نامور ہستیوں کی کردار کشی ہے. ان حکمت عملیوں کے درپردہ مقاصد بلوچ مخالف قوتوں کے ترتیب کردہ ارادوں کی تکمیل ہے جن کا مقصد بلوچ نوجوانوں کو بلوچ کی قومی نجات کی جدوجہد کے سرکرداہوں سے گمراہ اور دور کرنا مرکوز ہے. ایک بلوچی کہاوت کے مطابق، ” تانکہ راست پدّر ببیت ، دروگ جاگہہ سوچیت” – “جب تک سچ خود کو آشکار کرے تب تک جھوٹ جگہے کو جلا دیتی ہے”. بلوچ کے سیاق و سباق میں یہ سرگرمیاں اتنے بڑے پیمانے میں جاری رہی ہیں کہ کئی مخلص سیاسی کارکن ان جھوٹ کا شکار ہوئے ہیں.

قیام پاکستان اور بلوچستان کا مذہبی ریاست میں شمولیت کے بعد نیشنل عوامی پارٹی – نیپ کے رہنما میر غوث بخش بزنجو، سردار عطااللہ مینگل اور نواب خیر بخش مری بلوچ قومی جدوجہد کے سرخیل کی صورت میں سامنے آئے. اپنی مستقل اور بے لوث کوششوں کی بنیاد پر وہ نہ صرف بلوچستان کی عوام کے درمیان واضح عزت و ستائش حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے بلکہ پاکستان بھر میں موجود دیگر مظلوم اکائیوں کے لئے بھی وہ امید کی کرن بن کر سامنے آئے. ریاستی اسٹیبلشمنٹ ان اکابرین کو لمبے عرصے تک زندانوں کی نظر کرنے کے باوجود کافی فکرمند ہوکر بلوچ قیادت کو سیاسی اور ذاتی حوالے سے نقصان پہنچانے میں سرگرم رہی. سرکاری میڈیا میں انہیں سردار تو کبھی جابر بتایا گیا، انکی ترقی پسندانہ موقف کو اسلام مخالف اور چنانچہ ریاست مخالف گردانہ گیا. بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او) جو نیپ کی حمایت میں سب سے زیادہ سرگرم تنظیم تھی اسے دو دڑھوں میں تقسیم کیا گیا اور بی ایس او -اینٹی سردار کے نام سے اسٹیبلشمنٹ نواز دھڑہ بنایا گیا جو بعد میں بی ایس او – عوامی بنی. اس تنظیم کی قیادت کو جو ذمداری دی گئی تھی اسکا حاصل حصول بلوچ رہنماؤں اور انکی قومی ظلم و جبر کے خلاف جدوجہد کے خلاف غلط معلومات پھیلانا تھا. یہ بات غور طلب ہے کہ واحد کمبر اور عبدالنبی بنگلزئی کے علاوہ اس طلبہ تنظیم کے اکثر رہنما آگے جا کر فعال بلوچ مخالف سیاستداں بنے اور ان میں سے کچھ تو ابھی بھی بلوچستان میں اسٹیبلشمنٹ کی منصوبہ بندیوں پر عمل پیرا ہیں. بلوچ لکھاریوں کی ایک گروہ کو اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے اجرت پر رکھتے ہوئے عوام کو بلوچ جدوجہد کے اصل مقاصد کے حوالے سے الجھن کا شکار رکھنے کا کام سونپھا گیا. یہ نام نہاد لکھاری اور ان کے پیروکار اب بھی جھوٹ پھیلانے اور بلوچ قومی تحریک کی تاریخ کو مسخ کرنے میں سرگرم ہیں.

بلاحیرت میر بزنجو کی حالیہ ١١ اگست ٢٠١٨ کو منائی جانے والی برسی کے سلسلہ میں من گھڑت جھوٹ کو سوشل میڈیا میں ہوا دی گئی اسکے علاوہ چند بلوچ سیاسی حلقوں میں بزنجو صاحب پر یہ الزام دھڑا گیا کہ وہ بلوچی زبان کی فروغ کے مخالف تھے. یہ الزامات نیپ کی بلوچستان میں قائم ہونے والی ٩ ماہ پر محیط حکومت کی اردو کو بحیثیت آفیشل زبان اعلان کرنے کے حوالے سے سامنے آئے ہیں.

سچ کا ادراک کرنے کے لیے، تاریخی سیاق و سباق اور اس وقت کے حالات کے تناظر کو نظر انداز کرنے کی بجائے انکا تفصیلی جائزہ لینا چاہیے. ٩ ماہ کی نیپ حکومت کو مختلف اندرونی اور بیرونی مشکلات کا سامنا تھا جو اسکی کاروائی میں حائل تھیں. نیپ کی لیڈرشپ کو صوبے کے لئیے آفیشل زبان کی چناؤ کا سوال درپیش تھا. اس وقت کی مروجہ حالات کے مطابق اردو زبان کا دفتری امور کے لئے انتخاب زیادہ موضوع تھا. اس بات کو بھی سامنے رکھتے ہوئے کہ مذکورہ وقت میں بلوچستان کی آبادی کا ایک نہایت ہی چھوٹا سا حصہ بلوچی زبان میں پڑھنا اور لکھنا جانتا تھا اور زبان کی اپنی نشونما اس مقام تک نہیں ہوئی تھی کہ اسے حکومتی معاملات چلانے کے لیے موضوع سمجھا جائے. لہٰذا اردو کا آفیشل زبان کے حیثیت سے استعمال کا انتخاب کیا گیا اور حتی الامکان کوششیں کی گئیں تاکہ بلوچی زبان کو قابل استعمال شکل دی جا سکے.

اس سلسلے میں صوبائی حکومت کی جانب سے ایک کانفرنس منعقد کرنے کا فوری اقدام کیا گیا. تانکہ بلوچی زبان کے حوالے سے ایک عمل پذیر رسم الخط پر ادبی شخصیات کے مابین اتفاق رائے قائم ہو سکے. اسٹیبلشمنٹ کو یہ ہضم نہیں ہو پایا اور کانفرنس کی کاروائی میں خلل ڈھالنے کے لیے ان کے خدمت گزاروں کی جانب سے ٹھوس اقدامات اٹھائے گئے. یہ جاننا دلچسپ ہے کہ مذکورہ کانفرنس میں صلاح سامنے آئی کہ بلوچی زبان کی ترقی کے لئے رومن رسم الخط کا استعمال ممکن بنایا جائے. بلوچی زبان کی جلد فروغ کے لیے یہ ضروری محسوس کیا گیا کیونکہ رومن حروف تہجی سیکھنے میں آسان ہے اور بلوچی زبان کی مختلف بولیوں کی لکھائی کی صورت میں اظہار آسان ہے. کانفرنس میں شامل ایک مخصوص حصہ جسے اسٹیبلشمنٹ کی مبینہ آشیرباد حاصل تھی عربی حروف تہجی کے استعمال پر بضد تھی اور انکا ماننا تھا کہ یہ آبائی ہے اور اسے تبدیل کرنے کا کوئی بھی اقدام اسلام مخالف ہے. انکے انتشاری رویے کے سبب کانفرنس کی کاروائی جاری نہیں رہ پائی اور سرکاری طور پر بلوچی زبان کی ترقی کا عمل اپنی تعمیل کو نہیں پہنچ پایا اور اسٹیبلشمنٹ اور بلوچی ادبی حلقوں میں انکی کارگزاروں کی فعال ھیرا پھیری کی سبب یہ کام مکمل نہیں ہو پایا.

نیپ کی لیڈرشپ کی جانب سے دفتری امور کے لیے اردو زبان کا چناؤ وقت و حالات کے ضروریات کے مطابق تھا. اور یہ نیپ کے رہنماؤں کا مشترکہ فیصلہ تھا جس میں میر غوث بخش بزنجو گورنر، سردار عطااللہ مینگل وزیر اعلیٰ، نواب خیر بخش مری نیپ بلوچستان کے صوبائی صدر اور میر گل خان نصیر وزیر تعلیم تھے. جو لوگ سوشل میڈیا یا کہیں اور اس ہتک آمیز سرگرمیوں میں ملوث ہیں انہیں تمام بلوچ لیڈرشپ کا یکساں بنیادوں پر احتساب کرنے کی جرات کرنی چاہیے، انکے عمل کو منظور یا اسکی مذمت کرنی چاہیے. نہ کہ محض ماضی کی بلوچ قیادت (جس سے بلوچ کی موجودہ نسل انسپریشن حاصل کر رہے ہیں) کے خلاف دیرینہ اور مجبورکن بدخواہی کی بنیاد پر چھانٹ کر اور موضوعی تنقید کریں. اس سب سے صرف بلوچ دشمن کے مقصد کی خدمت اور بلوچ قومی جدوجہد میں موجودہ بدنظمی کی صورتحال میں مزید اضافہ ہوگا.

تنقید اپنی حقیقی روح کے مطابق، اقدام، حکمت عملی یا فن پاروں کی خصوصیات اور خامیوں کے علاوہ ان حالات اور وقت کے تقاضوں کا بھی تفصیلی جائزہ لینے کا نام ہے جس دوران انہیں وضع کیا گیا تھا. حکمت عملی بے فائدہ ثابت ہو سکتی ہے یا ان پر عمل درآمد کا عمل غلط ہو سکتا ہے. لیکن ضروری نہیں ہے کہ یہ حکمت عملی بنانے والے کے ارادوں کا عکاس ہو یا کسی کی تحریک سے وفاداری کا فیصلہ اسکی بنیاد پر کیا جائے. وقت کی ضرورت ہے کہ بلوچ سیاسی اور سماجی کارکنان تنقیدی سوچ کی روح کو سمجھیں اور ان بنیادوں پر چیزوں کو پرکھیں. تفصیلات کا جائزہ لینے کے لیے ایک محتاط نقطہ نظر کی ضرورت ہے بجائے اس کے کہ انہیں ظاہری وجود سے ہی قبول کر لیا جائے. ٹھیک ایسے ہی جیسے ہم اپنی ذاتی و قومی مفادات کے معاملات میں محتاط نقطہ نظر اپناتے ہیں. غیر واضح نقطہ نظر موضوع کی غلط تجزیہ کی طرف لے جاتا ہے جس کی بنیاد پر اٹھائے گئے فیصلے منفی نتائج کا مرتکب ہوتی ہیں. جس طرح سے جوزف مزینی مشاہدہ کرتے ہیں کہ، ” آپ اسلئے مجرم نہیں ٹھرتے کہ آپ جاہل ہیں بلکہ تب جب آپ خود کو جہالت کے سپرد کر دیتے ہیں”.

(مصنّف برطانیہ میں مقیم سماجی و سیاسی ایکٹیوسٹ ہیں جن کا تعلق پنجگور بلوچستان سے ہے، وہ بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی، بیوٹمز اور بلوچ اسٹوڈنٹس اینڈ یوتھ ایسوسی ایشن یوکے کے سابق چیئرمین ہیں)

This is part of the policy adopted by Balochistanaffairs.com to provide views and opinions on issues facing the Baloch and Balochistan. The opinions expressed by writers and contributors are their own and do not express the opinion of the editorial board of BalochistanAffairs. 
Share on :
Share

About Administrator

Check Also

At least 70 militants, including commander, surrender in Balochistan

QUETTA: At least 70 militants and a commander of a banned organisation surrendered to the government …

Leave a Reply

'
Share
Share
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com