Home / Archives / بلوچستان کیلئے گیس ٹیرف پر ایک ارب روپے سبسڈی دی جائے، سینٹ قائمہ کمیٹی

بلوچستان کیلئے گیس ٹیرف پر ایک ارب روپے سبسڈی دی جائے، سینٹ قائمہ کمیٹی

اسلام آباد:سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کم ترقی یافتہ علاقے نے بلوچستان کو گیس ٹیرف پر ایک ارب روپے سبسڈی دینے کی سفارش کر دی، او جی ڈی سی ایل حکام کی جانب سے کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ بلوچستان کیلئے30ایئر مکس پلانٹس مکمل ہو چکے ہیں۔

ملک بھر میں گیس چوری سے سالانہ3ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے، بلوچستان میں گیس پہنچانے کیلئے دو نئی لائنیں بچھائی گئی ہیں جس سے موسم سرما میں گیس پریشر کم نہیں ہوگا، فاٹا کو گیس پہنچانے کیلئے12ارب روپے کی لاگت سے منصوبہ شروع کر رہے ہیں، او جی ڈی سی ایل میں ہر سال300طلبا کو پیڈ انٹرن شپ دی جاتی ہے۔

کمیٹی ارکان نے کہا کہ نئی تحقیق کے مطابق بلوچستان دنیا کا سب سے غریب ترین صوبہ بن چکا ہے، بلوچستان میں شدید سردی کے باعث گیس جان بچانے کیلئے استع ل ہوتی ہے،کاروباری افراد کو حکومت300ارب روپے بلوچستان کو گیس کیلئے ایک ارب کی سبسڈی نہیں دی جاتی،بلوچستان کی گیس سے ملک کھربوں روپے ک رہا ہے۔منگل کو سینیٹ کی قا ہ کمیٹی برائے کم ترقی یافتہ علاقے کا اجلاس سینیٹر عث ن خان کاکڑ کی زیر صدارت ہوا۔

اجلاس میں سینیٹر گیان چند، سینیٹر حاحل خان بزنجو، سینیٹر اعظم موسٰی خیل، سینیٹر کلثوم پروین، گیس سے متعلق کمپنیوں کے حکام نے شرکت کی۔کمیٹی ارکان نے کہا کہ نئی ریسرچ کے مطابق بلوچستان دنیا کا سب سے غریب ترین صوبہ بن چکا ہے۔ نئی مردم ش ری میں بلوچستان میں بلوچستان کی آبادی120فیصد بڑھی ہے گزشتہ مردم شماری کے مقابلے میں۔

بارشیں نہ ہونے کے باعث پانی کی سطح بہت نیچے چلی گئی ہے۔کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ بلوچستان کیلئے30ایئر مکس پلانٹس مکمل ہو چکے ہیں جن میں سے10پلانٹس کیلئے ٹینڈرنگ کا عمل شروع ہو چکا ہے۔

کوشش ہو گی کہ ٹینڈرنگ2ماہ کے اندر مکمل ہو۔ایئر مکس ملانٹس سے بلوچستان میں اردگرد کے5کلومیٹر علاقے کے لوگوں کو فائدہ ہوگا۔سینیٹ میں متفقہ طور پر گیس کی قیمت کے حوالے سے قرار داد منظور کی گئی تھی جس سے ادارے کو سالانہ ایک ارب روپے خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ملک بھر میں گیس چوری سے3ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے۔

کمیٹی ارکان نے کہا کہ بلوچستان میں موسم سرما میں شدید سردی پڑتی ہے جس کے باعث لوگ ہجرت پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ایک ہزار روپے میں ایک من لکڑیاں ملتی ہیں۔ باقی صوبوں میں گیس کھانے مکانے میں استع ل ہوتی ہے جبکہ بلوچستان میں گیس جان بچانے کیلئے استعمال ہوتی ہے۔

کاروباری افراد کو حکومت 300ارب روپے تک کی بھی سبسڈی دے دیتی ہے لیکن بلوچستان کو گیس کیلئے ایک ارب کی سبسڈی نہیں دی جاتی۔کمیٹی نے بلوچستان کو گیس ٹیرف پر ایک ارب روپے سبسڈی دینے کی سفارش کر دی۔ارکان نے کہا کہ بلوچستان سے نکالی گیس سے ملک کھربوں روپے ک رہا ہے۔کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ بلوچستان میں گیس پہنچانے کیلئے دو نئی

لائینیں بچھائی گئیہیں۔

امید ہے کہ اس سال موسم سرما میں بلوچستان میں گیس پریشر کم نہیں ہوگا۔فاٹا میں گیس پہنچانے کیلئے منصوبے کا سروے مکمل کر لیا ہے۔ فاٹا کو 12ارب روپے کی لاگت سے گیس پہنچائی جائے گی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ او جی ڈی سی ایل میں ہر سال طلبا کو پیڈ انٹرن شپ دی جاتی ہے جس کیلئے ام صوبوں سے75طلبا کو چنا جاتا ہے۔

ادارے میں جتنی بھی بھرتیاں کی جاتی ہیں ان میں میرٹ کی پابندی یقینی بنائی جاتی ہے۔ بلوچستان اور دوسرے کم ترقی یافتہ علاقوں میں بھی کوٹے کے مطابق نوکریاں دی جا رہی ہیں۔

2017-18میں تیل کی پیپداوار میں پنجاب کا حصہ18.13فیصد، سندھ کا31.58,فیصد بلوچستان کا0.09فیصد، اور خیبر پختونخوا کا حصہ50.20فیصد ہے جبکہ گیس کی پیداوار میں پنجاب کا حصہ3.85فیصد، سندھ کا64.50فیصد، بلوچستان کا10.36فیصد اور خیبر پختونخوا کا حصہ10.36فیصد ہے۔

Source: dailyazadiquetta.com

Share on :
Share

About Administrator

Check Also

وزیر اعلی بلوچستان کے معاونین خصوصی کی تقرری بلوچستان ہائیکورٹ میں چیلنج ،حکومت کو نوٹس جاری

کوئٹہ: وزیراعلٰی بلوچستان کے معاونین خصوصی کی تقرری کا قانون بلوچستان ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا …

Leave a Reply

'
Share
Share
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com