Home / Archives / حکومت پنجاب کے اشتہار پر تنازع: ’کیا پنجاب میں پشتون کو دہشت گرد تصور کیا جاتا ہے؟‘

حکومت پنجاب کے اشتہار پر تنازع: ’کیا پنجاب میں پشتون کو دہشت گرد تصور کیا جاتا ہے؟‘

پاکستان کی وفاقی حکومت نے پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما اور شمالی وزیرستان سے ممبر قومی اسمبلی محسن داوڑ کی نشاندہی پر حکومت پنجاب کی جانب سے محرم الحرام میں سکیورٹی کی آگاہی کے لیے بنائی گئی اشتہاری ویڈیو کو براڈکاسٹ کرنے سے روک دیا ہے۔

حکومت پنجاب کی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کی گئی اس آگاہی ویڈیو پر تنازع کھڑا ہو گیا تھا اور الزام لگایا گیا تھا کہ اس اشتہاری ویڈیو میں نسلی پروفائلنگ کی گئی ہے۔

تقریباً 30 سیکنڈ کی اس ویڈیو میں لوگوں سے استدعا کی گئی تھی کہ وہ نفرت انگیز تقاریر، اسلحے کی نمائش، لاؤڈ سپیکرز کا غیر قانونی استعمال اور دیگر مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع ’15‘ پر دیں۔

’پشتون تحریک کو دشمن قوتیں استعمال کر رہی ہیں‘

وانا میں پی ٹی ایم کارکنوں پر حملے کے بعد کرفیو نافذ

اس ویڈیو میں جہاں ’نفرت اور فرقہ واریت پر مبنی تقاریر‘ کی بات کی گئی ہے اس میں پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما منظور پشتین کو تقریر کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

منظور پشتین نے بی بی سی پشتو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے کبھی بھی نفرت آمیز بیانات نہ دیے ہیں اور نہ آئندہ دیں گے۔ البتہ ان کے بقول پاکستان میں مقتدر حلقے ہمیشہ پشتونوں کو دہشت گرد، چوکیدار اور نفرت پھیلانے والوں کے روپ میں پیش کرتے ہیں۔

منظور پشتین کا کہنا تھا کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی فرقہ وارانہ واقعات میں ملوث ہے مگر بجائے ذمہ داروں کو سامنے لانے کے ان کی تنظیم عام پشتونوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔

اس آگاہی اشتہار کی براڈکاسٹ کے بعد ممبر قومی اسمبلی محسن داوڑ نے ٹویٹ میں حکومت کے اس اشتہار کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اس اشتہار کو پشتونوں کی نسلی پروفائلنگ قرار دیا۔

محسن داوڑ نے ٹویٹ میں کہا ’پنجاب حکومت کے اس اشتہار کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔ اگر پشتون خود دہشت گردی کا متاثر ہو اور امن کا درس دیتا ہو تو پھر بھی کیا پنجاب میں پشتون کو دہشت گرد تصور کیا جاتا ہے؟ یہ نسلی پروفائلنگ ہے۔ پی ٹی آئی کو اپنے آپ کو اس طرح استعمال ہونے کی مخالفت کرنی چاہیے۔ اور اگر یہ مجبوری ہے تو پھر کچھ معقول بات کرے۔‘

ٹویٹرتصویر کے کاپی رائٹTWITTER

محسن داوڑ کی ٹویٹ کے بعد سوشل میڈیا پر اس حوالے سے کافی شور پڑا جس کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے محسن داوڑ کی ٹویٹ کے جواب میں ٹویٹ کیا اور تصدیق کی کہ اس اشتہار کو مزید براڈ کاسٹ کرنے سے روک دیا گیا ہے۔

فواد چوہدری نے ٹویٹ میں کہا ’جیسے ہی اس اشتہار کو ہمارے نوٹس میں لایا گیا اس کو براڈکاسٹ کرنے سے روک دیا گیا۔ یہ بمشکل چند بار ہی چلا ہو گا اور تمام چینلز کو احکامات دے دیے گئے کہ اس طرح کے اشتہار نہ چلائے جائیں۔‘

فواد چوہدری نے ساتھ ہی لوگوں سے استدعا کی کہ وہ اس مسترد اشتہار کو نہ پھیلائیں۔

ٹویٹرتصویر کے کاپی رائٹTWITTER

اگرچہ فواد چوہدری نے تصدیق کی کہ یہ اشتہار براڈکاسٹ نہیں کیا جائے گا تاہم محسن داوڑ ایک اور ٹویٹ میں مطالبہ کیا کہ تحقیقات کی جائیں تاکہ اس غلطی کو سرزد کرنے والوں کا تعین ہو سکے۔

’ہم اس اشتہار کے ذمہ داران کے تعین کے لیے تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔ یہ کوئی عام بات نہیں ہے۔ یہ صرف اشتہار میں چہروں کی بات نہیں ہے، یہ بات ہے وہ چہرے ایک نسل کی نمائندگی کرتے ہیں۔ کم از کم حکومت پنجاب کو اس پر معافی مانگنی چاہیے۔ یہ نہایت اشتعال انگیز اور مایوس کن ہے۔‘

اس اشتہار کے حوالے سے سوشل میڈیا پر بھی کافی شور پڑا ہے۔

صحافی عالیہ چغتائی نے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کو ٹیگ کر کے سوال کیا ہے ’یہ اشتہار منظوری کے بغیر چل کیسے سکتا ہے؟‘

ٹویٹرتصویر کے کاپی رائٹTWITTER

مشہور صحافی ماریانا بابر نے پشتونوں کی نسلی پروفائلنگ کے حوالے سے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ پہلے پاکستانی فلموں میں چوکیدار دکھائے جاتے تھے، پھر عام چور دکھائے جانے لگے اور پھر ان کا درجہ بڑھا کر دہشت گرد کر دیا گیا ہے۔

ماریاناتصویر کے کاپی رائٹTWITTER

صحافی اور تجزیہ کار مشرف زیدی نے اس حکومت پنجاب کے اشتہار کے بارے میں لکھا کہ یہ اچھی بات ہے کہ حکومت پنجاب عاشورہ کے دوران سکیورٹی کے حوالے سے عوام میں سکیورٹی کی اہمیت کو اجاگر کر رہی ہے اور شاید اسی وجہ سے نئی حکومت کے آنے کے بعد اتنی جلدی اشتہار بن کر براڈکاسٹ بھی ہو گیا۔

مشرفتصویر کے کاپی رائٹTWITTER

انھوں نے مزید کہا ’اس اشتہار میں منظور پشتین کو ’ملک دشمن‘ فورسز کے ساتھ لنک کیا گیا ہے۔ یہ لکھنا اور اس کی منظوری باخبر فیصلہ ہے۔ یہ فیصلہ کس نے کیا؟‘

انھوں نے مزید کہا ’اگر ہم منظور پشتین کو ’ملک دشمن‘ مان بھی لیں تو اس کے فرقہ وارانہ تشدد کی تائید کرنے کے شواہد کہاں ہیں؟

انھوں نے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری سے اس حوالے سے تحقیقات کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے مزید کہا ’کسی بھی گروپ پر غیرمنصفانہ طور پر فرقہ وارانہ تشدد کا الزام لگانا ناقبل قبول ہے۔ پبلک سروس پیغام اہم ہوتے ہیں۔‘

Source: bbcurdu.com

Share on :
Share

About Administrator

Check Also

وزیر اعلی بلوچستان کے معاونین خصوصی کی تقرری بلوچستان ہائیکورٹ میں چیلنج ،حکومت کو نوٹس جاری

کوئٹہ: وزیراعلٰی بلوچستان کے معاونین خصوصی کی تقرری کا قانون بلوچستان ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا …

Leave a Reply

'
Share
Share
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com