Home / Archives / بنگالی اور افغان شہریوں کی پاکستانی شناخت پر تشویش کیوں؟
کراچی کے بنگالی اور برمی شہریوں کی شہریت کی لیے سابق حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن نے بھی رضامندی ظاہر کی تھی

بنگالی اور افغان شہریوں کی پاکستانی شناخت پر تشویش کیوں؟

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے بنگالی اور افغان شہریوں کو پاکستانی شناخت دینے کے اعلان پر سندھی اور بلوچ قوم پرست جماعتوں نے تحفظات اور خدشات کا اظہار کیا ہے جبکہ پشتون قوم پرست جماعتیں اس اقدام کی حمایتی ہیں۔

کراچی میں اتوار کو ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا تھا کہ ان کی حکومت افغان اور بنگلہ دیشی پناہ گزینوں کو پاکستانی شہریت دینے کے معاملے پر غور کر رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ‘یہ وہ لوگ ہیں جو یہاں رہتے ہیں۔ بنگلہ دیش سے ڈھائی لاکھ لوگ ہیں، افغانستان کے لوگ بھی یہاں رہتے ہیں۔ ان کے بچے بھی یہاں بڑے ہوئے ہیں، ان کو پاسپورٹ اور شناختی کارڈ نہیں ملتے۔ یہ دو چیزیں نہ ہوں تو نوکریاں نہیں ملتیں۔ جو ملتی بھی ہیں، وہ آدھی اجرت پر۔’

مزید پڑھیے

پاکستان میں بسنے والے بنگالیوں کی مشکلات

ریاستی صرفِ نظر کا شکار برمی اور بنگالی

سافٹ بارڈر

پاکستان کے قیام سے لیکر مختلف ادوار میں دیگر ممالک سے مسلمانوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہا جن کی مذہبی جماعتیں مذہب اور بعض قوم پرست جماعتیں نسل کی بنیاد پر حمایت کرتی رہیں۔

لیاقت علی خان اور جواہر لال نہرو ملاقات کے بعد 1951 میں شہریت کا قانون لایا گیا تاہم اس کے بعد بھی انڈیا سے مسلمانوں کی آمد کا سلسلہ 1980 کی دہائی تک جاری رہا۔

’نصف سے زیادہ پناہ گزین بچے ہونا لمحۂ فکریہ ہے‘

1971 میں بنگلہ دیش کی آزادی کے بعد بہاری کمیونٹی نے پاکستان آنے کو ترجیج دی تاہم کئی خاندان وہاں رہ گئے، جو بعد میں انفرادی حیثیت میں 1985 تک آتے رہے۔ 1979 میں انقلاب ایران کے بعد ترقی پسند ایرانی شہریوں نے یہاں کا رخ کیا۔

1980 میں افغانستان پر روس کے حملے کے بعد آبادی کی ایک بڑی تعداد کو پاکستان نے پناہ دی۔ برما میں جب مسلمانوں پر حملے ہوئے تو برمی یا ارکانی مسلمانوں نے بھی پاکستان کا سفر شروع کیا۔

صنعتیں، روزگار کے مواقعوں کی فراوانی اور خوشگوار موسم کی وجہ سے ان کی پہلی ترجیح کراچی رہی۔

افغانی اور برمی شہریوں کے لیے پالیسی نہیں

پاکستان میں قومی رجسٹریشن اتھارٹی یعنی نادرا کی گائیڈ لائینز میں بنگلہ دیش سے آنے والے لوگوں کا طریقہ کار موجود ہے تاہم برمی مسلمان اور افغان شہریوں کے لیے کوئی طریقہ کار واضح نہیں کیا گیا۔

برمی، بنگالی
Image captionکراچی میں فش ہاربر میں ایک سال سے کام رکا ہوا ہے جس کی بڑی وجہ بنگالی اور برمی شہریوں کے پاس شناختی کارڈ کی عدم موجودگی ہے

بنگالیوں کے بارے میں پالیسی کے مطابق وہ بنگالی جنہوں نے بنگلہ دیش کی آزادی کے وقت پاکستان میں رہنے کو ترجیج دی، وہ پاکستانی جو اس وقت بنگلہ دیش میں موجود تھے اور پھر واپس آئے یا وہ بنگالی جنہوں نے رضاکارانہ طور پر پاکستان آنے کی خواہش کا اظہار کیا، انہیں شہریت دی جائے گی لیکن اس کے لیے انہیں دستاویزات پیش کرنا ہوں گے۔

عمران خان کے اعلان پر بنگالی کمیونٹی نے خوشی کا اظہار کیا ہے، تحریک پاکستان کے رہنما خواجہ خیرالدین کے فرزند اور بنگالی شہریوں کے نمائندے خواجہ سلمان کا کہنا ہے کہ عمران خان نے یہ اعلان کر کے 25 لاکھ بنگالیوں کا دل جیت لیا ہے، اب اس پر اگر تیزی کے ساتھ عملدرآمد ہو تو یہاں کے بنگالی عمران خان کے ساتھ رہیں گے اور مستقبل میں بھی ان کی حمایت کریں گے۔

‘مسلم لیگ ن نے بھی کوشش کی تھی پر انہیں خوف تھا کہ سندھ میں اس کا رد عمل ہوگا۔ 40 برسوں کے علاوہ جو 1985 سے یہاں رہتا ہے اس کو بھی شہریت ملنی چاہیے۔’

‘شناختی کارڈ کے بغیر بنگالیوں کو تعلیمی اداروں میں داخلہ نہیں ملتا، ہسپتالوں میں علاج معالجے کی سہولت میں مشکلات پیش آتی تھیں، ملازمتوں میں دشواری ہوتی ہے اور اگر ملازمت ملتی بھی ہے تو آدھی اجرت پر کام کرتے ہیں۔ بیرون ملک ملازمت پیشکش ہو تو اس سے محروم رہتے ہیں۔’

غیر قانونی تارکین وطن کی غیر حتمی تعداد

بنگالی
Image captionدو ہزار چار کے بعد پاکستان نے شناختی کارڈ سے متعلق تمام ڈیٹا کو کمپیوٹرائزڈ کیا

پاکستان میں غیر قانونی تارکین وطن کی تعداد کتنی ہے؟ اس بارے میں حتمی اعداد و شمار دستیاب نہیں، گذشتہ سال وزارت داخلہ کی ایک رپورٹ میں ان کا تخمیہ 50 لاکھ لگایا گیا تھا۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 14 لاکھ رجسٹرڈ اور سات لاکھ غیررجسٹرڈ افغان پناہ گزین ہیں۔

کراچی میں افغان کیمپ کے نمائندے نازک میر کا کہنا ہے کہ انہیں یہاں 40 سال ہوگئے ہیں ان کے تمام بچوں کی بھی پیدائش یہاں ہوئی ہے، کیا یہ ان کا حق نہیں بنتا کہ انہیں شہریت دی جائے، کیونکہ امریکہ ہو یا یورپ جو وہاں پیدا ہوتا ہے اس کو شناختی کارڈ مل جاتا ہے۔

‘ہم سب یہاں کاروبار کرتے ہیں شناختی کارڈ کے بغیر جائیداد کے خرید و فروخت اور سودا کرنا بڑا مشکل ہوتا ہے شہریت ملنے سے ہم بینکوں میں اکاؤنٹ کھولیں گے اس ملک میں پیسہ آئے گا۔’

پشتون قوم پرست افغان شہریوں کی حمایتی

پشتون قوم پرست جماعتیں عوامی نیشنل پارٹی اور پشحون خواہ ملی عوامی پارٹی افغان شہریوں کی حمایتی رہی ہیں، عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان زاہد خان نے افغانوں کو پاکستانی شہریت دینے کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس پر عملدرآمد کے لیے جامع طریقہ کار اور مکینیزم بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

شربتتصویر کے کاپی رائٹHUFFINGTON POST
Image captionپاکستان کا جعلی شناختی کارڈ بنوانے کے الزام میں شربت گلہ کو گرفتار کیا گیا تھا

زاہد خان کا کہنا ہے کہ شہریت کے بارے میں پاکستان کے قانون میں واضح ہے کہ پاکستان کے اندر پیدا ہونے والے بچوں کو پاکستانی شہریت کا حق حاصل ہوگا۔ وہ حکومت سے یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستان میں مقیم بے گھر افغانوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے اور ساتھ ہی ان کی دہری شہریت کا حق تسلیم کیا جائے تاکہ ان کی آمدورفت میں آسانی پیدا ہو۔

افغانی شہریوں پر شک و شبہات

حکومت پاکستان افغان شہریوں کی سرگرمیوں پر شک و شبہات کا اظہار بھی کرتی آئی ہے، دہشت گردی کے خلاف قومی ایکشن پلان کے20 نکات میں ایک نکتہ افغانی پناہ گزین کے بارے میں پالیسی واضح کرنا اور انہیں وطن بھیجنے کے بارے میں بھی تھا۔

غیر قانونی تارکین وطن کی رجسٹریشن کے ادارے کو جب نارا کا حصہ بنایا گیا اس میں بھی واضح کیا گیا کہ غیر قانونی تارکین وطن کی وجہ سے کئی سماجی اور معاشی مسائل جنم لے رہے ہیں ان کا مقابلہ کرنے کے لیے نادرا کے پاس صلاحیت نہیں لہذا اس کو نادرا کو اس میں ضم کیا جارہا۔

سندھی اور بلوچ قومپرستوں کے خدشات اور اعتراضات

کیا میں پاکستانی نہیں ہوں؟

موجودہ حکومت سے قبل مسلم لیگ ن کی حکومت نے بھی بنگالی اور بہاری کمیونٹی کے بلاک شناختی کارڈ کھولنے اور نئے کارڈ کا اجرا شروع کیا تھا، تاہم سندھ میں قوم پرست جماعتوں نے شدید رد عمل کا اظہار کیا، جس کے بعد یہ سلسلہ رک گیا۔

سندھ یونائیٹیڈ پارٹی کے سربراہ جلال محمود شاہ کا کہنا ہے کہ پاکستانی شہریت ایکٹ 1951 میں واٰضح ہے کہ کون اس ملک کا شہری ہوسکتا ہے کون نہیں۔ اس ایکٹ سے ہٹ کر کسی غیر ملکی کی شہریت قبول نہیں کی جائے گی۔

’سندھ کی جو قدیم آبادی ہے اس کو تشویش ہے کہ ایسا نہ ہوکہ غیر قانونی تارکین وطن اتنی تعداد میں آجائیں اور پھر وہ کاغذات بناکر کہیں کہ یہ زمین ہی ہماری ہے آپ یہاں سے نکلو کیونکہ کراچی میں قدیم آبادی کے ساتھ ایسا ہوتا رہے، اس لیے یہ ان کا حق ہے کہ اپنے خدشات کا اظہار اور احتجاج کریں۔

سندھی قوم پرستوں کی طرح بلوچ قوم پرست جماعتیں بھی غیرقانونی تارکین وطن کو شہریت دینے کی مخالف ہیں جن میں تحریک انصاف کی اتحادی جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی بھی شامل ہے۔

بی این پی کے رہنما اور رکن بلوچستان اسمبلی ثنااللہ بلوچ اس کو غیر دانشمندانہ فیصلہ قرار دیتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ اس کا جو سماجی اور معاشی دباؤ ہے وہ صوبوں پر پڑنا ہے کسی صوبے سے مشاورت نہیں کی گئی، اسمبلی میں زیر بحث نہیں لایا گیا، یہ دو یا چار افراد کی شہریت کا معاملہ نہیں ہے یہ ایک سے ڈیڑھ کروڑ افراد کی شہریت کا معاملہ ہے ، اس کو صوبائی اسمبلیوں، مشترکہ مفادات کاؤنسل اور بین الصوبائی کی وزارات میں لانا چاہیے تھا۔

’ہم نے جو چھ نکات پیش کیے تھے اس میں ایک نکتہ افغان پناہ گزین کی واپسی ہے، جن کی وجہ سے بلوچستان کی ڈیمو گرافی اور اس کی آبادی کا جو تناسب ہے وہ متاثر ہو رہا ہے، بلوچستان میں سہولیات پر بڑا دباؤ ہے جس نے معشیت اور ملازمتوں کے سیکٹر کو متاثر کیا ہے۔

Source: bbcurdu.com
Share on :
Share

About Administrator

Check Also

بلوچستا ن کے لوگ ناراض نہیں ، بھارت فنڈڈ دہشتگرد صوبے میں سر گرم ہیں ،اسد عمر

اسلام آباد: وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ ہم نے عالمی مالیاتی ادارے کی …

Leave a Reply

'
Share
Share
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com