Home / Archives / پی ایس ڈی پی بارے آگاہ کیا جائے، بی ایس پروگرام پر صوبے بھر میں یکساں عمل درآمد کیا جائے، بلوچستان اسمبلی

پی ایس ڈی پی بارے آگاہ کیا جائے، بی ایس پروگرام پر صوبے بھر میں یکساں عمل درآمد کیا جائے، بلوچستان اسمبلی

کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی کا اجلاس چالیس منٹ کی تاخیر سے ڈپٹی سپیکر سردار بابر موسٰی خیل کی زیر صدارت شروع ہوا۔

اجلاس میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے ثناء بلوچ نے پوائنٹ آف آرڈر پر ایوان کی توجہ بی ایس پروگرام کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال بلوچستان بھر میں بی اے ، بی ایس سی ختم کرکے بی ایس پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس پر پورے صوبے میں عملدرآمد ہوا مگر اچانک گزشتہ روز ایک نوٹیفکیشن جاری ہوا جس کے تحت صوبے کے74میں سے اب صرف18کالجز میں بی ایس پروگرام کے تحت کلاسز ہوں گی ام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لئے بغیر یہ فیصلہ کرکے طلبہ کے مستقبل کے خطرات سے دوچار کر دیا گیا ہے ۔

اٹھارہ میں سے9کالجز صرف کوئٹہ میں ہوں گے جبکہ پورے صوبے میں9کالجز میں بی ایس پروگرام ہوگا جو افسوسناک ہے اور اس کی وجہ اساتذہ و دیگر سہولیات کی کمی بتائی جارہی ہے حکومتی بینچوں سے اس حوالے سے صورتحال واضح کی جائے صوبائی وزیر اسد بلوچ نے بھی ثناء بلوچ کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے پورا صوبہ متاثر ہوگا یہ ایک اہم مسئلہ ہے اس پر توجہ دی جائے ۔

صوبائی وزیر میر ضیاء لانگو نے پوائنٹ آف آرڈر پر آر ٹی سی قلات کو کوئٹہ منتقل کرنے کی جانب توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی بار بار ایسا کیا جاتا رہا ایک بار پھر سینٹر کو کوئٹہ منتقل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اس کو روکا جائے ۔ اجلاس میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے نصراللہ زیرئے نے اپنی تحریک التواء بر2پیش کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز صوبائی کابینہ نے اپنے اجلاس میں انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کوہائیکورٹ کے فیصلے کے برخلاف سپنی روڈ کی بجائے کسی اور مقام پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو نہ صرف ہائیکورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے اس لئے ایوان کی کارروائی روک کر اس اہم نوعیت کے مسئلے کو زیر بحث لایا جائے ۔

صوبائی وزیر اسد بلوچ نے کہا کہ کابینہ نے اپنے اجلاس میں کارڈیالوجی ہسپتال کے کینٹ میں قیام کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہم ہائیکورٹ کے فیصلے اور ہدایات کا احترام کرتے ہیں اور اس کے مطابق دل کا ہسپتال قائم کیا جائے گا نصراللہ زیرئے نے کہا کہ ہائیکورٹ کہہ چکی ہے کہ مذکورہ ہسپتال سپنی روڈ پر مختص کردہ اراضی پر تعمیر ہو صوبائی وزیر سردار عبدالرح ن کھیتران نے کہا کہ ہسپتال کہیں اور منتقل کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا اگر نصراللہ زیرئے کے پاس اس حوالے سے کوئی دستاویز ہے تو وہ لائیں جس پر ہم بات کرسکیں ۔

page1image27152page1image27312

صوبائی وزیر اسد بلوچ نے کہا کہ ہم عوام کی خدمت کرنے آئے ہیں اور عوام کے مفادات کے برعکس کوئی فیصلہ نہیں کریں گے ہم عدالت کے فیصلوں کا احترام کرتے ہیں اور ان کے مطابق ہی عمل کریں گے اس موقع پر ڈپٹی سپیکر نے تحریک التواء کو بحث کی منظوری کے لئے ایوان کے سامنے رکھا رائے ش ری کے بعد سپیکر نے رولنگ دیکہچونکہتحریکالتواءکوبحثکےلئے مطلوبہارکانکیح یتحاصلہوگئیہےلٰہذااسپر28ستمبرکے اجلاس میں بحث ہوگی ۔

اجلاس میں22ستمبر کے اجلاس میں موخر شدہ پی ایس ڈی پی پر بحث کا آغاز ہوا بلوچستان نیشنل پارٹی کے اختر حسین لانگو نے کہا کہ ہم نے گزشتہ اجلاس میں بھی یہ نکتہ اٹھایا تھا کہ بتایا جائے کہ حکومت کی جانب سے پی ایس ڈی پی کے حوالے سے کیا رپورٹ تیار کی گئی ہے وہ ارکان کو فراہم کردی جائے تاکہ اس کا مطالعہ کرکے ہم اس پر بحث کرسکیں مگر یہ رپورٹ آج بھی ہمیں موصول نہیں ہوئی ۔

جمعیت العل ء اسلام کے سید فضل آغا نے کہا کہ آج کے اجلاس میں بحث سے قبل پی ایس ڈی پی سے متعلق رپورٹ فراہم کی جاتی تاکہ ہم اس کا مطالعہ کرتے اور معلوم ہوتا کہ ہائیکورٹ کے فیصلے کی روشنی میں حکومت نے کیا اقدامات اٹھائے ہیں تاکہ ہم اس پر بحث کرسکتے ۔

صوبائی وزیر سردار عبدالرح ن کھیتران نے کہا کہ یہ اجلاس اپوزیشن ارکان نے پی ایس ڈی پی پر بحث کے لئے ریکوزٹ کیا ہے پی ایس ڈی پی کی کاپیاں ام ارکان کے پاس موجود ہیں پی ایس ڈی پی کا ایک طریقہ کار ہوتا ہے کہ پہلے اسے کابینہ میں پیش کیا جاتا ہے وہاں سے اسے صوبائی اسمبلی میں لایا جاتا ہے پی ایس ڈی پی پر نظر ثانی کا سلسلہ جاری ہے اور کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں اقدامات کرکے پی ایس ڈی پی کو حتمی شکل دی جارہی ہے اس حوالے سے آج کابینہ کا اجلاس ہورہا ہے اپوزیشن ارکان آج کے اجلاس کا انتظار کریں اس کے بعد ہم اس ایوان کو صورتحال سے آگاہ کریں گے نہ تو بجٹ پراس ایوان کی منظوری کے بغیر عملدرآمد ہوسکتا ہے اور نہ ہی ایک روپیہ خرچ کیا جاسکتا ہے ہم ایوان کو اعت د میں لے کر ام صورتحال سے آگاہ کریں گے ۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے ثناء بلوچ نے کہا کہ22ستمبر کے اجلاس میں بھی پی ایس ڈی پی پر حکومتی اورا پوزیشن ارکان نے تحفظات کا اظہار کیا تھا جس پر وزیراعلٰی نے یہ یقین دلایا تھا کہ پی ایس ڈی پی کا طریقہ کار اور فریم ورک پر ایوان میں بات کی جائے گی ایوان کو اعت د میں لیا جائے گا لیکن آج وزیراعلٰی ایوان میں موجود نہیں ہیں لٰہذاانکیآمدتکپیایسڈیپیپربحثموخرکیجائےانکیآمدپرہمایوانمیںپیایسڈیپیکیتیاری کے حوالے سے اپنی تجاویز دیں گے تاکہ پی ایس ڈی پی نہ صرف شفاف انداز میں تیار ہو بلکہ ہم نے آئندہ مالی سال کے پی ایس ڈی پی کے حوالے سے بھی حکمت عملی طے کرنی ہے صوبائی حکومت کی جانب سے ۔

صوبائی وزیر سردار عبدالرح ن کھیتران نے ثناء بلوچ کی تجویز کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں پی ایس

ڈی پی کے حوالے سے جو کچھ ہوتا رہا ہم اسے نہیں دہرائیں گے ہم پورے ایوان کو ساتھ لے کر چلیں گے ہم ارکان کی تجاویز کا خیر مقدم کریں گے اگروزیراعلٰی آج کوئٹہ پہنچ جاتے ہیں تو آج ہی ورنہ آئندہ اجلاس میں پی ایس ڈی پیپربحثکریںگے۔

اجلاس میں پوائنٹ آف آرڈر پر جمعیت العل ء اسلام کے سید فضل آغا نے ایوان کی توجہ این ٹی ایس طلباء کے احتجاج اور بھوک ہڑتالی کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہا کہ این ٹی ایس کے کامیاب امیدوارآٹھ مہینوں سے کوئٹہ پریس کلب کے باہر احتجاج پر بیٹھے ہوئے ہیں حکومت بتائے کہ ان کی تقرری کے لئے کیااقدامات کئے گئے ہیں ۔

صوبائی وزیر انجینئر زمرک خان اچکزئی نے بتایا کہ سابق دور حکومت میں محکمہ تعلیم میں مختلف آسامیوں کے لئے این ٹی ایس میں45ہزار امیدواروں نے امتحانات میں کامیابی حاصل کی جن میں سے میرٹ پر چار ہزار چھ سو کے قریب اساتذہ کو تعینات کیا گیاجو امیدوار تعینات نہیں ہوئے ۔

انہوں نے احتجاج کیا جس پر میر عبدالقدوس بزنجو جب وزیراعلٰی منتخب ہوئے توا نہوں نے ان امیدواروں سے دوبارہ درخواستیں لیں اور میرٹ کی بنیاد پر چار سو کے قریب اساتذہ کو ملازمت دی گئی جبکہ اب بھی بڑی تعداد میں امیدوار احتجاج کررہے ہیں صوبائی حکومت اس کے لئے طریق کار طے کررہی ہے کہ اس کے لئے کیا کیا جاسکتا ہے۔

بی این پی کے ملک نصیر شاہوانی نے کہا کہ یہ طلباء آٹھ مہینوں سے احتجاج پر ہیں جبکہ اطلاعات ہیں کہ ماضی میں کامیاب طلباء کو نظر انداز کرکے بڑی تعداد میں بوگس امیدواروں کو ملازمتیں دی گئیں انہوں نے کہا کہ ساڑھے تین سو کے قریب امیدوار اب بھی احتجاج کررہے ہیں کم سے کم اس ایوان یا حکومت کی کوئی کمیٹی پریس کلب کے باہر جا کر ان سے اظہار یکجہتی کرے ۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کی شکیلہ دہوار نے ایوان کی توجہ لسبیلہ یونیورسٹی کے فارغ التحصیل طلباء کی جانب سے جاری احتجاج کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی کے واٹر مینجمنٹ اور ویٹرنری کے فارغ طلباء ملازمتوں کے لئے احتجاج کررہے ہیں مگر انہیں مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے حکومت ان کے لئے ملازمتوں کا انتظام کرے ۔

انہوں نے کہا کہ کڈنی سینٹر میں چند سال قبل267ملازمین عارضی ، مستقل و دیگر بنیادوں پر تعینات کئے گئے اس کے لئے کیا پالیسی اختیار کی گئی اور جو آسامیاں اس وقت خالی پڑی ہیں بتایا جائے کہ انہیں کس طرح پر کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ کڈنی سینٹر کے بورڈ آف ڈائریکٹرز پر نظر ثانی کی جائے اور ام معاملات سے ایوان کو آگاہ کیا جائے ۔ اجلاس میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے نصراللہ زیرئے کی22ستمبر کے اجلاس میں باضابطہ شدہ تحریک التواءپربحثکاآغازہوا۔

بحث میں حصہ لیتے ہوئے نصراللہ خان زیرئے نے کہا کہ یقیناًچالیس سال کی پالیسیوں کی وجہ سے امن وامان کی صورتحال دن بدن خراب ہوتی جارہی ہے ج ل ضیاء کے دور سے لے کر اب تک جو سلسلہ جاری ہے یہ ام خطے ، ملک اور خاص کر پشتونخواوطن اس کا شکار ہوا ہے پشین ، چمن اور قلعہ سیف اللہ میں جس طرح سے ایک منصوبے کے تحت لیویز اہلکاروں کو نشانہ بنایاگیا ان واقعات کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے پشین میں اسسٹنٹ کمش کی گاڑی پر حملہ ہوا جس کے نتیجے میں تین اہلکار جبکہ16ستمبر کو دن دیہاڑے قلعہ سیف اللہ بازار میں ایک رسالدارکو شہید کیا گیا اور اس واقعے کے دو دن بعد قلعہ سیف اللہ میں تین لیویز اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا یہایکبہتلمبیتاریخہےاگراسپرباتکیجائےتوچاردنمیںبھیاسپربحثنہیںہوسکتی۔

انہوں نے کہا کہ بارہا ہم نے یہ بات کی ہے کہ جب تک داخلہ و خارجہ پالیسی میں تبدیلی نہیں آئے گی اس وقت تک حالات بہتر نہیں ہوں گے2005کے بعد جو صورتحال اس صوبے میں شروع ہوئی بے گناہ عوام کی ٹارگٹ کلنگ ، پنجابی اور ہزارہ برادری کی جو ٹارگٹ کلنگ شروع کی گئی اس کے بعد جو سلسلہ چل پڑا اب تک ہزاروں لوگ ان واقعات کی بھینٹ چڑھ گئے انہوں نے کہا کہ سانحہ8اگست کاجو واقعہ ہوا اس کے بعد باچاخان یونیورسٹی اور آرمی پبلک سکول میں بے گناہ اور نہتے معصوم بچوں کو نشانہ بنایاگیا بدقسمتی سے استع ری سیاست کی وجہ سے حالات خراب ہوتے جارہے ہیں اور ایک عجیب منطق ہے کہ ہم آج بھی اچھے اور برے دہشت گردوں کی یز میں اپنے ہی وطن کو تباہی اور دوچار سے کیا وقت آگیا ہے کہ اچھے اور برے دہشت گردوں کا خا ہ کرکے اس ملک اور پشتونخوا وطن کو امن وامان کا گہوارہ بنایا جائے اگر یہ پالیسی ترک نہیں کی گئی تو یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

سابقہ حکومت نے نیشنل ایکشن پلان کے تحت22نکات تشکیل دیئے مگر ان بائیس نکات پر عملدرآمد نہیں کیا گیا انہوں نے کہا کہ جنوری سے لے کراگست تک پولیس ایریا میں1729واقعات ہوئے جبکہ لیویز ایریا میں415کرائم کے واقعات رو ا ہوئے اور منصوبے کے تحت صوبے میں لیویزنظام کو ختم کرنے کے لئے ایسے حربے استع ل کئے جارہے ہیں انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز قلعہ سیف اللہ میں واقعے کے خلاف ام سیاسی ج عتوں نے پرامن احتجاج کیا مگر انتظامیہ نے دہشت گردوں کو پکڑنے کی بجائے پرامن احتجاج کرنے والوں کے گیارہ افراد پر ایف آئی آر درج کی اگر اسی طرح واقعات کا سلسلہ جاری رہا تو پھر ہم خاموش نہیں رہ سکتے ۔

عوامی نیشنل پارٹی کے پارلی نی لیڈر اصغرخان اچکزئی نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ یہاں اس ایوان میں ایسے بہت سے لوگ بیٹھے ہیں جو اس درد اور کرب سے گزرے ہیں جن کے قریبی رشتہ دار ان واقعات کا نشانہ بنے اور ایوان میں ہ ری ایسی بہنیں بھی ہیں جو ان حالات سے گزری ہیں اس ملک میں سیکورٹی اہلکاروں کی شہادتوں کے بعد سب سے زیادہ شہادتیں سیاسی حوالے سے عوامی نیشنل پارٹی نے دی ہیں اور عوامی نیشنل پارٹی کی مرکزی قیادت سے لے کر عام کارکن تک کسی کو بھی نہیں بخشا گیا ۔

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی ج ل سیکرٹری میاں افتخار حسین کے اکلوتے بیٹے اور پارٹی کے سینئر نائب صدر غلام احمد بلور کا پورا خاندان دہشت گردی کے واقعات کا شکار ہوا ولی خان کی بیٹی بھی نہیں بخشی گئی انہوں نے کہا کہ ہم عدم تشدد کے فلسفے پرعمل پیرا ہیں اور دنیا ہمیں عدم تشدد کے فلسفے سے جانتی ہے اور اس وقت دنیا میں ہزاروں لوگ باچاخان پر پی ایچ ڈی کررہے ہیں ۔

چالیس سال سے ہ رے اکابرین نے کہا کہ یہ جنگ اسلام اور کفر کی جنگ نہیں ہے او رنہ ہی یہ جنگ ملک کے مفادات میں ہے مگر کچھ لوگوں نے ہمیں مختلف القابات سے نوازا آج وہی ہوا جو ہ رے اکابرین کہتے تھے کہ اگر ہم کسی کے معاملات میں مداخلت کرین گے تو ہمیں بھی نہیں بخشا جائے گا اس جنگ میں ہم نے سب کچھ کھودیا علمی اور کاروباری لحاظ سے ہم تباہ ہوئے بلوچستان اور خیبرپشتونخوا آج بھی اس ناسور کے لپیٹ میں ہے ہم شروع دن سے کہتے تھے کہ وزیرستان اور پشاور میں حالات خراب ہونے کے بعد یہاں کے پشتون علاقے بھی متاثر ہوں گے آجوہیہورہاہےجسکاہمنےخدشہظاہرکیاتھا۔

انہوں نے کہا کہ میں آج بھی کہتا ہوں کہ اگر سانحہ8اگست کے واقعے کے بعد کمیشن کی رپورٹ پرعملدرآمد ہوتا تو یہ سانحات رو ا نہ ہوتے اگر اس وقت کی حکومت میں ہم ہوتے تو ہم اسی وقت استعفٰی دے دیتے کیونکہ جب ہم اس دلخراش واقعے پر کچھ نہ کرسکیں تو پھر ہ ری سیاست کا کیا فائدہ ۔ انہوں نے کہا کہ افسوس سے کہنا پڑتا

ہے کہ اس وقت کی حکومت اس واقعے میں فریق بن گئی اور وکلاء کی ادائیگی بھی حکومت نے کی سانحہ8اگست کے واقعے کے بعد سانحہ پی ٹی سی پیش آیا کھڈ کوچہ کا واقعہ بھی سابقہ حکومت میں پیش آیا کیا کسی نے ان واقعات پر کوئی بات کی کیونکہ مرکز سے لے کر صوبے تک ان کی مضبوط حکومت تھی اور ام تر طاقت کے باوجود کچھ نہیں کرسکے ۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور ایران کے اختلافات کے اثرات بھی ہم پرپڑے ہم ایسے خطے میں رہتے ہیں جو ہر حوالے سے مالا مال ہے اور دنیا کی نظریں بھی اسی خطے پر لگی ہوئی ہیں لوگ عطیہ اور قبضہ کرنا چاہتے ہیں دوسروں کے مفادات کی خاطر ہم اپنے آپ کو تباہ کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ ہمیں ام تر اختلافات کو ختم کرنا

ہوگا اور اس جنگ کے خلاف ہم سب مل کر اتحاد وا تفاق سے اس کا مقابلہ کرنا ہوگا سابقہ حکومت میں شامل ج عتیں جواپنے آپ کو اس دھرتی کی پیداوار سمجھتی ہیں ۔

انہوں نے ان سانحات کی روک تھام کے لئے کوئی خاص اقدامات نہیں اٹھائے انہوں نے کہا کہ جب یہ جنگ اس خطے میں جاری تھی تو کچھ لوگ اسے اے این پی کی جنگ سمجھتے تھے مگر سب کے سامنے ہے کہ دہشت گردوں نے کسی کو نہیں بخشا نوابزادہ سراج رئیسانی شہید ہم سب کے سامنے ہیں یہ جنگ ہم سب کی ہے یہ نہ اسلامکیجنگہےنہہیکسیاورکیجنگہےبلکہابہمیںچوکپریہکہناہوگاکہاسجنگکیبربادیسے ہمیں جو مشکلات پیش آئیں اس پر سب کو سوچنا ہوگا اگر ایسا نہ کیا گیا تو ہم ایک ایک کرکے مارے جائیں گے ۔

عید کی خوشیاں بھی ہم تکلیف میں گزاری ہیں اسفندیار ولی خان پر عید کے روز حملہ کیا گیا آفتاب احمدخان شیرپاؤ پر جنازے میں حملہ کیاگیا رح ن بابا کے مزار کو بھی بم سے اڑادیا گیا پہلے سعودی عرب اور ایران کی وجہ سے ہ را خطہ ڈسٹرب تھا اب چائنہ اور امریکہ کی جنگ میں ہمیں مارا جائے گا انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ فوری طور پر حالیہ واقعات میں شہید ہونے والے لیویز اہلکاروں کے لواحقین کو معاوضہ دیں اورمتاثرین کو ملازمتیں بھی دی جائیں اگر ہم نے ان کی داد رسی نہیں کی تو آئندہ وہ ہ رے لئے بندوق اٹھا کر ہ رے ساتھ کھڑے نہیں ہوں گے۔

صوبائی وزیر عبدالخالق ہزارہ نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر دس فیصد بھی عملدرآمد نہیں ہوا ہے نیشنل ایکشن پلان کے اٹھارہ پوائنٹس پر عملدرآمد سے ہر قسم کی دہشت گردی پرقابو پایا جاسکتا ہے خطے کی موجودہ صورتحال کا تقاضہ ہے کہ ام ادارے اور حکومت ایک پیج پر ہوں ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی سے ہزارہ قوم سب سے زیادہ متاثر رہی ہے ہم نے سب سے بڑے سانحے کا سامنا کیا ہے بسوں سے ہ رے لوگوں کو اتار کر شناخت کرکے انہیں قتل کیا گیا سانحہ پی ٹی سی اور سول ہسپتال کے واقعے میں ہ ری ریڑھ کی ہڈی پر وار کئے گئے2012ء میں بارہ دنوں کے اندر ہزارہ قبیلے کے31افراد کو شہر کے بیچ مصروف شاہراہوں پرقتل کیا گیا مگر اس وقت ایوان میں بیٹھے لوگوں کی توجہ اس جانب نہ ہونے سے مسائل میں روز بروز اضافہ ہوتا گیا جس نے نہ صرف ایک مسلک یازبان نہیں بلکہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ پاک افغان سرحد پر باڑ لگنے سے یقیناًصوبے میں دہشت گردی کا خا ہ اور بیرونی مداخلت کو روکا جاسکے گا لیویز ، ایف سی سمیت ام قانون نافذ کرنے والے ادارو ں نے دہشت گردی کا جوا ردی سے مقابلہ کرتے ہوئے ملک میں قیام امن کو یقینی بنایا ہے ان کی قربانیوں پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں تاہم ضروری ہے کہ بیرونی ایجنڈوں کو عوام کے سامنے لایا جائے تاکہ عوام کو صورتحال اور محرکات سے باخبر رکھا جاسکے ۔

جمعیت العل ء اسلام کے ملک سکندر ایڈووکیٹ نے کہا کہ دہشت گردی کا نشانہ بننے والے شہداء کے ورثاء کو معاوضہ دیا جائے دہشت گردی کی ح یت کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تاہم دہشت گردی کے نام پر معصوم لوگوں کو ہراساں کرنا مناسب عمل نہیں انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی دہشت گردی نے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جس کی آڑ میں مسلم م لک کو کمزور کرنے کی سازشیں کی جارہی ہیں دہشت گردی نے افغانستان ، عراق ، لیبیا ، فلسطین کو تباہ و برباد کردیا ہے کشمیر میں ہونے والے مظا سب کے سامنے عیاں ہیں ایسے میں پاکستان کی پارلیمنٹ اور باشعور عوام کو سوچنا ہوگا کہ ترکی اور پاکستان دونوں بین الاقوامی دہشت گردوں کی نظروں میں ہیں ایسے میں ہ را کردار کیا ہوگا اس پر سوچنا چاہئے ۔

انہوں نے کہا کہ دینی مدارس پر حملے ہورہے ہیں طلباء وطالبات کو ہراساں کیا جارہا ہے تاکہ دینی مدارس جو کہ اسلام کے قلعے ہیں انہیں کمزور کیا جاسکے2010ء میں مدارس کے منتظمین اور وفاقی حکومت کے مابین ایک معاہدہ طے پایاتھا کہ مدارس کو وزارت داخلہ کی بجائے محکمہ تعلیم سے جوڑا جائے گا مگر اس پر اب تک کسی قسم کا عملدرآمد نہیں ہوا ۔

انہوں نے کہا کہ ہ رے قائد مولانا فضل الرح ن ، مولانا عبدالغفور حیدری سمیت دیگر اکابرین پر دہشت گردانہ حملے ہوئے آج تک ان واقعات میں ملوث کسی ملزم کو گرفتار نہیں کیا گیا ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی بیخ کنی کے لئے دہشت گردوں کا تعین ہونا چاہئے قلعہ سیف اللہ اور پشین میں دہشت گردی کے واقعات ایک گہری سازش ہے جس کے ذریعے صوبے میں بدامنی کو پھیلانے کی کوشش کی گئی ۔

بلوچستان عوامی پارٹی کے اقلیتی رکن دنیش ک ر نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے سیکورٹی فورسز کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کے لواحقین کو معاوضوں کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنایا جائے میں نے چھ ستمبر کو وزیراعلٰی کی ہدایت پر شہداء کے گھروں میں گیا جہاں ان کے لواحقین نے بتایا کہ انہیں معاوضہ تاخیر سے فراہم کیا جاتا ہے جو درست اقدام نہیں ہے انہوں نے بھارتی جرنیل کی جانب سے پاکستان کے خلاف گیڈر بھھکیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی قوم پرامن ہے مگر اس کی امن پسندی اور شرافت کو کمزوری نہ سمجھا جائے اگر بھارت نے کوئی غلطی کی تو سب سے پہلے بلوچستان کے عوام سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوں گےاوربھارتنےغلطیکیتوپھراسکانامونشانبھینہیںرہےگا۔

انہوں نے زور دیا کہ بھارتی ج ل کے بیان کے خلاف ایوان سے مذمتی قرارداد منظور کی جائے ۔ جمعیت عل ء اسلام کے اصغرعلی ترین نے شہید لیویز اہلکاروں کی مغفرت کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ ضلع پشین جیسے پرامن ضلع میں یہ افسوسناک سانحہ رو ا ہوا ہمیں دیکھنا ہوگا کہ پشین جیسے پرامن شہر میں یہ واقعہ کیوں پیش آیا ضلع پشین

نوے فیصد لیویز اور دس فیصد پولیس ایریا پر مشتمل ہے ۔ پشین لیویز میں تحصیلداروں کی چودہ آسامیاں ہیں مگر اس وقت صرف6تحصیلدار کام کررہے ہیں8آسامیاں خالی ہیں تحصیلدار لیویز کے نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں جب اتنی تعداد میں آسامیاں خالی ہوں تو پھر نظام کو کیسے بہتر بنایا جاسکتا ہے لیویز کے پاس گاڑیاں، فیول اور دیگر سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں دوسری جانب پشین میں پولیس حکام کی جانب سے نفری کی کمی کی بات کی جاتی ہے جب وجہ پوچھی جائے تو بتایا جاتا ہے کہ پشین سے نفری کوئٹہ طلب کی گئی ہے اسی طرح ایک پولیس افسر کو دو دو چارج دیئے گئے ہیں پشین میں صرف ایک پولیس چیک پوسٹ ہے ضرورت کے مطابق چیک پوسٹیں قائم کی جائیں ۔

انہوں نے زور دیا کہ پشین سے کوئٹہ نفری طلب کرنے کا سلسلہ بند ایک پولیس افسر کو ایک عہدے کا چارج دیا جائے اور لیویز کو ام سہولیات فراہم کی جائیں ۔جمہوری وطن پارٹی کے پارلی نی لیڈر نوابزادہ گہرام بگٹی نے کہا کہ ملک کی سلامتی کے لئے سیکورٹی فورسزاور عوام نے جو قربانیاں دی ہیں اس پر ہم انہیں سرخ سلام پیش کرتے ہیں یہاں پر سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں اور عوام نے سوچ اور نظریے کے لئے قربانیاں دی ہیں تاکہ یہاں پر عوام پر امن طور پر رہ سکیں ڈیرہ بگٹی میں ماضی میں دہشت گردی کے واقعات ہوتے تھے مگر اب ان واقعات میں بہت کمی آئی ہے مگر گزشتہ رات دہشت گردوں نے تین مزدوروں کو نشانہ بنایا بدقسمتی سے وہاں لیویز اور پولیس کے اہلکار ڈیوٹیاں نہیں دیتے اور جب ہم ان سے پوچھتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ وہ ڈسٹرکٹ سے باہر ڈیوٹی دے رہے ہیں اگر پولیس اور لیویزکے اہلکار ڈیوٹیاں نہیں دیں گے تو امن وامان کی صورتحال کیسے بہتر ہوگی کیا ام تر ذمہ داری ایف سی کی ہے کہ صرف وہ ہی ڈیوٹیاں کریں ؟لیویز اہلکار قبائلی معتبرین کے ساتھ ڈیوٹیاں دیتے ہیں اور ایسے اہلکار بھی ہیں جو گھروں میں بیٹھ کر تنخواہیں لے رہے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی آرمی چیف نے جس طریقے سے احمقانہ بیان دیا ہے اس کی ہم مذمت کرتے ہیں اس بیان کے بعد را کے ایجنٹ پھر ایکٹیو ہوں گے اور یہاں حالات خراب کرنے کی کوشش کریں گے اگر کسی نے بھی ملک پر میلی نگاہ ڈالی تو ہم ملک کا دفاع کریں گے ۔

بی این پی کے رکن اختر حسین لانگو نے کہا کہ بلوچستان میں امن وامان کا مسئلہ سب سے بڑا مسئلہ ہے سریاب روڈ پر جب نقوی صاحب کو شہید کیاگیا تو سب سے پہلے ہم نے آواز اٹھائی مگر بدقسمتی سے اداروں نے دہشت گردوں کو پکڑنے کی بجائے وہاں صرف چیک پوسٹ بنائی کیا دہشت گردوں کے ساتھ ایسا معاہدہ ہوا ہے کہ وہ دوبارہ آکر یہاں دہشت گردی کریں گے ہ را خطہ حالت جنگ میں ہے جان بوجھ کر ہم نے دوسروں کی جنگ میں اپنے آپ کو فریق بنایا اور ایندھن بن کر اپنے آپ کو تباہی و بربادی سے دوچار کیا بلوچستان کے ام بارڈر پر چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے ہ رے ملک کو بین الاقوامی اڈہ بنادیا گیا ہے جو بھی آتا ہے اس سے کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوتی وہ آکر ہ رے بازاروں میں مقیم ہوجاتے ہیں باہر م لک سے آنے والے مہاجرین کا ڈیٹا کسی کے پاس نہیں ہے اگر صورتحال یہی رہی تو یہاں کے لوگ اقلیت میں اور مہاجرین اک یت میں ہوں گے۔

پولیس امن وامان کی بہتری کے لئے دوسرے کاموں میں مصروف رہتی ہے ۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے ثناء بلوچ نے کہا کہ ہ رے ہاں سیاسی و س جی مسائل بہت زیادہ ہیں34ارب روپے ہر سال امن وامان کے لئے مختص کئے جاتے ہیں فی کس اخراجات2835بنتی ہے پاکستان میں سب سے امن وامان پر بلوچستان میں فنڈز خرچ ہوتے ہیں اگر تعلیم

اور صحت پر توجہ دی جاتی تو یہاں حالات بہتری کی طرف جاتے۔

بے روزگاری میں اضافہ اور لوگوں کو صاف پانی میسر نہ ہونا بھی لوگوں کو اسلحہ اٹھانے پر مجبور کرتا ہے ہ رے ہاں سب سے بڑا مسئلہ معاشرے میں ہونے والی ناانصافیاں ہیں بلوچستان میں بیرونی مداخلت بھی موجود ہے افغانستان اور ایران کے ساتھ ہ ری سرحد لگی ہوئی ہے اب ہمیں معاشی طو رپر بلوچستان کو محفوظ بنانے کی ضرورت ہے جب یہاں فوڈ سیکورٹی ، ہیلتھ سیکورٹی اور تعلیمی سیکورٹی کا مسئلہ ہو توامن وامان کیسے بہتر کرسکتے ہیں جب بھی کوئی واقعہ رو ا ہوتا ہے تو سرکاری ہسپتالوں میں سہولیات نہ ہونے کے برابر ہوتی ہیں ٹراما سینٹر میں تین آپریشن تھیٹرز ہیں جن میں صرف ایک فنکشنل ہے باقی دو پر اب تک کام نہیں ہوا ۔

انہوں نے کہا کہ لیویز کے لئے صوبائی کابینہ نے8ارب روپے مختص کئے ہیں اگر یہ آٹھ ارب روپے بلوچستان کی تعلیمی بہتری اور فوڈ سیکورٹی کے لئے خرچ کرتے تو صورتحال بہترہوتی اس وقت66فیصدبچے بھوک سے مرتے ہیں اور دہشت گردی سے دس فیصد لوگ مرتے ہیں بلوچستان کے اندر شعور پیدا کرنا ہوگا ۔ مشرف کے دور میں گیارہ ارب روپے پولیس و لیویز کے لئے مختص ہوئے ان میں چھ ارب روپے سیمنٹ سریا اوردوسرے کاموں پر خرچ ہوا مگر آج بھی جہاں جہاں چیک پوسٹیں ہیں ان کی حالت بہتر نہیں ہے ۔

صوبائی وزیر داخلہ و قبائلی امور میر سلیم کھوسہ نے بحث سمیٹتے ہوئے ایوان کو بتایا کہ پشین اور قلعہ سیف اللہ میں حالیہ پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعات کی تحقیقات میں پیشرفت ہوئی ہے چند لوگ گرفتار کرلئے گئے ہیں مزید تفتیش کا عمل بھی جاری ہے انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر سوفیصد عملدرآمد سے امن وامان کی صورتحال میں ایاں بہتری آئے گی انہوں نے کہا کہ لیویز فورس کی تجدید نو کرکے صوبے کے نوے فیصد علاقوں میں قیام امن کو یقینی بنایا جائے گا سی پیک کے حوالے سے نیشنل پروٹیکشن یونٹ لیویز کے حوالے کیا جائے گا لیویز میں تفتیش ، بم ڈسپوزل سکواڈ سمیت دیگر متعدد شعبے قائم ہیں جنہیں فعال بنایا جارہا ہے ۔

انہو ں نے کہا کہ عوام کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے پاک افغان اور ایران سرحد پر باڑ لگنے سے دہشت گردی پر قابو پایا جائے گا اور سیکورٹی کے معاملات بہتر ہوں گے کوئٹہ شہر میں سیف سٹی پراجیکٹ پر آئندہ چند ہفتوں میں باقاعدہ کام شروع ہوجائے گا جس کے تحت کوئٹہ شہر میں چودہ سو کیمروں کی تنصیب کی جائے گی ۔ شہداء کے ورثاء کو معاوضے کی ادائیگی اور پس ندگان کو نوکریوں کی فراہمی کے لئے باقاعدہ منصوبہ بندی کی ضرورت ہے جس میں اس ایوان میں موجود اراکین حکومت کو اپنی تجاویز دیں ۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں حالات کی خرابی میں بیرونی قوتیں ملوث ہیں جن کی روک تھام کے لئے عام عوام سیکورٹی اداروں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ معاونت کو یقینی بنائیں ۔وزیر داخلہ نے کہا کہ محرم الحرام کے دوران سیکورٹی فورسز نے قیام امن کو یقینی بنایا اور اس کے لئے اپنی ام صلاحیتیں بروئے کار لائیں ۔

اس موقع پر اجلاس کی صدارت کرنے والے پینل آف چیئر مین اصغرخان اچکزئی نے صوبائی وزیر داخلہ سے کہا کہ قلعہ سیف اللہ واقعے کے بعد وہاں درج ہونے والی ایف آئی آر کو دیکھیں کیونکہ ایسے واقعے کے بعدعوام کی جانب سے احتجاج ایک فطری عمل ہوتا ہے جس پر صوبائی وزیر داخلہ نے کہا کہ کہ وہ ایف آئی آر کی نوعیت دیکھ کر اس سلسلے میں کوئی اقدام کرسکیں گے پینل آف چیئر مین کے رکن اصغرخان اچکزئی نے کہا کہ چونکہ تحریک التواء پر سیر حاصل بحث ہوچکی انہوں نے ارکان کی رائے سے تحریک التواء ٹانے اور پی ایس ڈی پی و این ایف سی ایوارڈ میں تاخیر سے متعلق بحث آئندہ اجلاس میں کرانے کی رولنگ دی اور اجلاس28ستمبر تک ملتوی کر دیا۔

Source: dailyazadiquetta.com

Share on :
Share

About Administrator

Check Also

بلوچستا ن کے لوگ ناراض نہیں ، بھارت فنڈڈ دہشتگرد صوبے میں سر گرم ہیں ،اسد عمر

اسلام آباد: وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ ہم نے عالمی مالیاتی ادارے کی …

Leave a Reply

'
Share
Share
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com