Home / Archives / سیندک کا پر گولڈ پراجیکٹ وفاقی منصوبہ ہے جسے کمپنی چلا رہی ہے ،وفاقی حکومت

سیندک کا پر گولڈ پراجیکٹ وفاقی منصوبہ ہے جسے کمپنی چلا رہی ہے ،وفاقی حکومت

اسلام آباد: سینٹ کو بتایا گیا ہے کہ ملک میں منظور شدہ گیس سکیموں پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا ٗملازمین کو مستقل کرنے کے حوالے سے کمپنی پالیسی کے مطابق عمل کیا جائے گا ٗ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی منڈی سے منسلک ہیں ٗمہمند ڈیم پراجیکٹ کی کل لاگت309ارب روپے سے زائد ہے ٗ کام کے آغاز کے بعد یہ منصوبہ پانچ سال آٹھ ماہ میں مکمل ہوگا ٗسرکاری گاڑیوں اور بھینسوں کی نیلامی سے حاصل ہونے والی آمدنی اور اشتہارات پر خرچ ہونے والی رقم سے متعلق تفصیلات ایوان میں پیش کی جائیں گی ٗموجودہ ڈیموں کی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرنے کے حوالے سے کوئی تجویز واپڈا کے زیرغور نہیں۔
جمعہ کو سینٹ میں وقفہ سوالات کے دوران سینیٹر ینہ سعید کے سوال کے جواب میں وفاقی وزیر پٹرولیم غلام سرور خان بتایا کہ بین الوزارتی کمیٹی برائے گیس نے ترقیاتی سکیموں کے تحت اپریل2018ء میں ضلع صوابی کے علاقے چار باغ سے شوانڈ تک گیس کی فراہمی کی سکیم تجویز کی تھی۔ بعد ازاں الیکشن کمیشن کی پابندی کے باعث اسے کابینہ سے منظوری نہ مل سکی۔ انہوں نے کہا کہ جو سکیمیں بھی منظور شدہ ہیں ان پر عمل کیا جائے گا کیونکہ فنڈز کا بھی مسئلہ ہوتا ہے۔وفاقی وزیر پٹرولیم و قدرتی وسائل غلام سرور خان نے بتایا کہ کمپنی میں1988ء اور1990ء کے عرصے سے بھی ملازمین عارضی طور پر کام کر رہے ہیں۔ ماضی میں اس
معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس امر کو یقینی بنایا جائے گا کہ کم از کم اجرت سے زیادہ معاوضہ مل سکے۔
وفاقی وزیر پٹرولیم و قدرتی وسائل غلام سرور خان نے بتایا کہ پاکستان میں پٹرول کی قیمت92.83فی لٹر اور بھارت میں144.20روپے ہے جبکہ ڈیزل کی قیمت بھارت میں129روپے65پیسے اور پاکستان میں106روپے57پیسے ہے۔ اسی طرح خطے کے دیگر م لک سے بھی پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سینڈک‘کاپر‘گولڈ پراجیکٹ ایک وفاقی منصوبہ ہے جسے پٹرولیم ڈویژن کے زیر انتظام سینڈک میٹلز لمیٹڈ چلا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سینڈک میٹل لمیٹڈ کو حکومت بلوچستان نے مائیننگ لیز دی ہے جو صوبے کو ام اخراجات اور رائیلٹی ادا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے2002ء کے بعد سے ہونے والے معاہدوں کی ام نقول ایوان کو فراہم کردی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ پٹرول پمپس اور سی این جی سٹیشنز کے ڈسپنسرز پر لگے گیجز کا ہر صوبے کے متعلقہ محکمے معائنہ کرتے ہیں۔ اوگرا بھی اس حوالے سے کارروائی کرتا ہے اور اس سلسلے میں قانون کی خلاف ورزی پر جرمانے اور این او سی کو منسوخ کرنے جیسے اقدامات کئے جاتے ہیں۔ جولائی اور اگست کے دوران رواں سال220پٹرول پمپس کا معائنہ کیا گیا اور کم فلنگ کے59کیسز سامنے آئے۔ وزارت آبی وسائل کی طرف سے بتایا گیا کہ دیامر بھاشا ڈیم کے لئے کل37ہزار419ایکڑ جبکہ داسو ڈیم کے لئے9ہزار917ایکڑ اراضی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ داسو ڈیم کے لئے کنٹریکٹرز کیمپس کی تعمیر کا کام جاری ہے۔ مہمند ڈیم پراجیکٹ کی کل لاگت309ارب روپے سے زائد ہے۔ کام کے آغاز کے بعد یہ منصوبہ پانچ سال آٹھ ماہ میں مکمل ہوگا۔وزیر مملکت برائے پارلی نی امور علی محمد خان نے بتایا کہ سرکاری گاڑیاں اور بھینسیں عام بولی کے ذریعے نیلام کی گئی ہیں اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لئے اخبارات میں اشتہارات دیئے گئے ہیں جبکہ اس حوالے سے ام معلومات وزیراعظم آفس اور پیپرا کی ویب سائٹ پر دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے جتنی بھی آمدنی ہوئی ہے یا اشتہارات پر جتنی رقم خرچ ہوئی ہے اس حوالے سے ایوان کو آگاہ کریں گے۔اجلاس کے دوران چیئرمین سینٹ نے بتایا کہ وزارت ہاؤسنگ سے سینٹ سیکرٹریٹ کو آگاہ کیا گیا کہ جمعہ کو وقفہ سوالات کے ایجنڈے میں شامل سوالات مؤخر کردیئے جائیں کیونکہ وفاقی وزیر ہاؤسنگ ملک میں50لاکھ گھروں کی تعمیر سے متعلق وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس کی وجہ سے ایوان میں حاضر نہیں ہو سکتے۔ بعدازاں چیئرمین نے وزارت ہاؤسنگ سے متعلق ام سوالات آئندہ اجلاس تک مؤخر کردیئے۔اجلاس کے دور ان چیئرمین سینٹ نے سینڈک کاپر گولڈ پراجیکٹ سے متعلق سوال متعلقہ قا ہ کمیٹی کے سپرد کردیااس حوالے سے سینیٹر چوہدری تنویر خان کے سوال کا جواب وزیر پٹرولیم غلام سرور خان نے دیا۔ تاہم سینیٹر عث ن کاکڑ‘اعظم موسٰی خیل اور دیگر ارکان نے کہا کہ یہ معاملہ متعلقہ قا ہ کمیٹی کو بھجوایا جائے تاکہ اس حوالے سے تفصیلات وہاں آسکیں جس پر چیئرمین نے یہ سوال قا ہ کمیٹی کو بھجوا دیا۔وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے بتایا کہ2004ء سے2009ء تک منگلا ڈیم میں پانی ذخیرہ

کرنے کی صلاحیت میں30فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے تاہم اس حوالے سے مزید موجودہ ڈیموں کی صلاحیت بڑھانے کی کسی تجویز پر غور نہیں کیا جارہا۔اجلاس کے دور ان سینیٹر مہر تاج روغانی کے سوال کے جواب میں وزارت آبی وسائل کی طرف سے تحریری جواب میں ایوان کو آگاہ کیا گیا کہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے بجلی کے بلوں میں نیلم جہلم سرچارج وصول کرنے کی اس منصوبہ سے پیداوار شروع ہونے تک منظوری دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ سرچارج نیلم جہلم سے بھاشا مہمند پراجیکٹس میں تبدیل کرنے کی کوئی تجویز زیرغور نہیں ہے۔اجلاس کے دور ان چیئرمین سینٹ نے ہدایت کی کہ وقفہ سوالات اور ایوان کی دوسری کارروائی کے دوران متعلقہ وزراء کو ایوان میں موجود ہونا چاہیے۔وزارت ہاؤسنگ سے متعلق سوالات کے دوران انہوں نے ہدایت کی کہ ایوان کی کارروائی میں متعلقہ وزراء کو اپنے متعلقہ سوالات اور دیگر معاملات کا جواب دینا چاہیے ۔ اگر متعلقہ وزیر موجود نہیں ہے تو وہ کابینہ کے کسی دوسرے رکن کی اس حوالے سے ذمہ داری لگا سکتے ہیں۔

Source: dailyazadiquetta.com

Share on :
Share

About Administrator

Check Also

ماؤرائے عدالت گرفتاریاں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں ، بی این پی

کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں کہا گیا ہے کہ پارٹی کے مرکزی …

Leave a Reply

'
Share
Share
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com