Home / Archives / جعلی ڈومیسائل پر بلوچستان کے کوٹے پر بھرتیاں کی جاری ہیں،پی ایس ڈی پی میں سب سے زیادہ کٹوتی گوادر منصوبوں پر کی گئی ہے، سینٹ قائمہ کمیٹی کا انکشاف

جعلی ڈومیسائل پر بلوچستان کے کوٹے پر بھرتیاں کی جاری ہیں،پی ایس ڈی پی میں سب سے زیادہ کٹوتی گوادر منصوبوں پر کی گئی ہے، سینٹ قائمہ کمیٹی کا انکشاف

page1image6552اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے میری ٹائم افیئرز میں بتایا گیا کہ موجودہ حکومت نے پی ایس ڈی پی میں سب سے زیادہ کٹوتی گوادر کے منصوبوں پر کی ہے، سیکرٹری میری ٹائم افیئرز نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ5سال میں صرف100جہاز گوادر بندرگاہ پر آئے،جب تک ملک میں تجارت نہیں بڑھے گی گوادر کو صحیح استعمال نہیں کر سکتے،جب تک گوادر میں بنیادی سہولیات فراہم نہیں کی جاتیں سرمایہ کار تجارت نہیں کریں گے،گوادر پر جہازوں سے سامان اتارنے کیلئے تین برتھ بنائے گئے جو استعمال نہ ہونے کے باعث ریت سے بھر گئے ہیں، کمیٹی ارکان نے کہا کہ جعلی ڈومیسائل پر بلوچستان کے کوٹے پر بھرتیاں کی جا رہی ہیں، گوادر کی ترقی کیلئے اقدامات نہ کیے گئے تو سی پیک کو بھی چلنے نہیں دیں گے، سی پیک کے معاملات دیکھنے کیلنے سینیٹر کہدہ بابر کی سربراہی میں ذیلی کمیٹی بنا دی گئی جو گوادر کا دورہ کر کے رپورٹ پیش کرے گی۔
منگل کو سینیٹ کی قا ہ کمیٹی برائے میری ٹایم افیئرز کا اجلاس پارلیمنٹ لاجز میں سینیٹرنذہت صادق کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں سینیٹر عثمان خان کاکڑ، سینیٹر اعظم خان موسٰی خیل، سینیٹر ستازہ ایاز، سیکرٹری میری ٹائم افیئرز، جوائنٹ سیکریٹری میری ٹائم افیئرز، اور محکمے کے دیگر افراد نے شرکت کی۔سینیٹر عث ن خان کاکڑ نے کہا کہ سینیٹ میں بھی گوادر پر چہازوں کی اآمد و رفت سے متعلق سوال کیا تھا۔ گوادر کے عوام کو پانی، بجلی کی بنیادی سہولتیں پیسر نہیں ہیں تو سرمایہ کاری کیسے بڑھے گی۔ گوادر میں اتنے چیک پوائنٹ بنا دیے گئے ہیں کہ سفر کرنا گوادر کے عوام کیلئے عذاب بن گیا ہے۔بلوچستان کے ملازمین کو صوبائی کوٹے کے مطابق سرکاری اداروں میں نوکریاں فراہم نہیں کی جا رہیں۔ بلوچستان کے جعلی ڈومیسائل پر بلوچستان کے کوٹے پر بھرتیاں کی جا رہی ہیں۔اس پر سیکریٹری میری ٹڑائم افیئرز نے کمیٹی کو بتایا کہ گوادر میں بحری جہازوں کی آمد رفت کم ہے۔ گزشتہ5سال میں صرف100جہاز گوادر بندرگاہ پرآئے جبکہ سالانہ20جہاز گوادر بندرگاہ پرآتے ہیں۔ گوادر کو اس کی آپریشنل صلاحیت کے مطابق استع ل نہیں کیا جا رہا۔جب تک ملک میں تجارت نہیں بڑھے گی گوادر کو صحیح استع ل نہیں کر سکتے۔گوادر میں انٹرنیٹ، وائی فائی، اور دیگر ضروری سہولیات موجود نہیں ہیں۔ گوادر کے پی سی ہوٹل میں بھی وائی فائی کی سہولت موجود نہیں ہے جس سے سرمایہ کار تجارت میں دلچسپی نہیں لے رہے۔جب تک گوادر ترقی نہیں کرے گا تب تک گوادر بندرگاہ پر تجارت بھی نہیں بڑھ سکتی۔گوادر پر جہازوں سے سامان اتارنے کیلئے تین برتھ بنائے گئے جو استع ل نہ ہونے کے باعث ریت سے بھر گئے ہیں۔موجودہ حکومت نے پی ایس ڈی پی میں سب سے زیادہ کٹوتی گوادر کے منصوبوں پر کی ہے۔کمیٹی ارکان نے کہا کہ گوادر بندرگاہ لاوارث ہے جس کو وارث چاہیے۔اگر گوادر کی ترقی کیلئے اقدامات نہ کیے گئے تو سی پیک کو بھی چلنے نہیں دیں گے۔

Source: dailyazadiquetta.com

Share on :
Share

About Administrator

Check Also

میر یوسف عزیز مگسی کے مجسمے کو دوبارہ تعمیر کیا جائے، غلام نبی مری

کوئٹہ:بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء غلام نبی مری نے اپنے ایک بیان میں کہا …

Leave a Reply

'
Share
Share
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com