Home / Archives / پارٹی کی اکثریت ہمارے پاس ہے چند افراد کو پارٹی سے کھیلنے نہیں دیں گے ، احسان شاہ

پارٹی کی اکثریت ہمارے پاس ہے چند افراد کو پارٹی سے کھیلنے نہیں دیں گے ، احسان شاہ

تربت: بی این پی عوامی کے قائم مقام صدر ،ایم پی اے سیداحسان شاہ نے کہا ہے کہ پارٹی کے سینٹرل کمیٹی کے ارکان کی اکثریت ہمارے پاس ہے مرکزی کابینہ کا ایک بڑا حصہ ہمارے پاس ہے اس لئے ہم پر پارٹی توڑنے کا الزام خام خیالی کے سوا کچھ نہیں ،2،4افراد کا گروپ پارٹی نہیں ، پارٹی کو توڑنے نہیں دیں گے بلکہ مزید مضبوط و منظم صورت میں عوام کے پاس جائیں گے۔

پارٹی میں موجود آئینی بحران کوحل کرنے کا واحد ذریعہ کونسل سیشن ہے ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے بی این پی عوامی کے ورکروں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ بی این پی عوامی میں جو بحرانی صورتحال آئی ہے اس سکا زمہ دار کچھ افراد ہیں جو وزارت کی خاطر پارٹی کے آئین سے کھیل رہے ہیں۔

آج کے اجلاس کا مقصد پارٹی کو بچانا اور منظم رکھنا ہے کیوں کہ میں کوئی گورپ نہی بنانا چاہتا بلکہ میر اسرار اور اسد کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ پارٹی کے مرکزی کونسل سیشن میں آئیں اور ہمارے ساتھ مل جائیں اور پارٹی کو متحد رکھیں کیوں کہ پارٹی کی سی سی اور کابینہ میں اکثریت اراکین ہمارے ساتھ ہیں2اور4افراد کسی پارٹی کو نہیں توڑ سکتے ہیں ان کے پاس کوئی اکثریت نہیں ہے۔

آئینی طور پر وہ اکیلے ہیں پارٹی کا بالادست تریں ادارہ کونسل سیشن ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت تقسیم بلوچ، بلوچستان اور ہمارے مفاد میں نہیں کیوں کہ بلوچستان میں سیاسی صورتحال بے حد خراب ہے انتخابات میں جو نتیجہ آتا ہے وہ ہ رے سامنے ہے ایسے میں اگر ہم مذید تقسیم کا شکار ہوگئے تو اس کا اثر مذید منفی صورت میں آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں معاشی صورتحال انتہائی خطر ناک ہوگئی ہے۔

پنجاب، سندھ اور کے پی کے والوں نے مل کر پاکستان کو لوٹ لیا بلوچستان کسی دور میں لوٹ مار میں شامل نہیں رہا چور پنجاب خود ہے اور اس کے بدلے میں ہمارے وسائل بیچ کر الزام لگاتا ہے ۔ ریکوڈک منصوبے کو بیچ کر اس سے کروڈوں ڈالر کمائے گئے ہیں سی پیک کے نام پر پنجاب اور میں تھرمل پاور پروجیکٹ اور اورینج ٹرین سمیت کئی منصوبے شروع کئے گئے مگر گوادر ابتک پیاسا ہے ہم نے سی پیک کی حمایت کی ہے۔

لیکن سی پیک کے47ارب ڈالر میں سے26ارب ڈالر اب تک مل گئے ہیں ان میں سے ایک پیسہ بلوچستان پر خرچ نہیں کیا گیا ہے بلوچستان کے معاملے میں حکمرانوں نے ایک وعدہ بھی پورا نہیں کیا جو افسوس کا مقام ہے ہمارے ساتھ اس طرح کی زیادتی کسی صورت ہم قبول نہیں کرینگے اس کے لیئے ضروری ہے کہ بلوچستان کو ایک مضبوط سیاسی اور منظم قومی جماعت ہو۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے ایک کروڈ نوکریوں اور پچاس لاکھ گھر تعمیر کرنے کا اعلان کیا ہے اگر اس میں بلوچستان کو اس کا معقول حصہ مل جائے تو یہاں پر بے روزگاری اور ناانصافی کا خاتمہ ممکن ہوگا لیکن ہمارے خدشات یہ ہیں کہ بلوچستان پہلے کی طرح نظر انداز ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے وسیع تر مفاد، قومی وسائل کے تحفظ اور اہم منصوبوں کو بچانے کے لئے ایک قومی جمہوری سیاسی ڈھانچے کی ضرورت ہے۔

جو آئینی حدود میں رہ کر بلوچستان کے مفادمیں سیاست کرے جس کا فائدہ صرف اور صرف بلوچوں کو پہنچے ۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بی این پی عوامی کے رہن معتبر حاجی برکت رند نے کہا کہ میر رؤف رند کی نااہلی کا فیصلہ پارٹی ورکروں کی کامیابی ہے الیکشن میں جس بڑے پیمانے پر دھاندلی کر کے ہمارے ووٹ چرائے گئے اس کا اثر آج ہمارے سامنے ہے۔

یہ اللہ کی گرفت ہے مخالفین پر جنہوں نے عوام کے بجائے اقتدار کی راہیں کہیں اور تلاشیں انہیں اب سبق ملنا چاہیے۔ اجلاس سے بی این پی عوامی کے مرکزی قائم مقام جنرل سیکرٹری میر غفور احمد بزنجو،قاضی نور احمد، مراد جان گچکی، خان محمد جان گچکی ، خان محمد بلوچ، خلیل کٹور، صادق تاجر، خالد رضاء، گل خان، غنی موسی، محمد عظیم گچکی، ڈاکٹر محمد حیات،محمد اقبال،حاجی فدا، التاز سخی، میجر کریم بخش، کہدہ داؤد، عبدالطیف، منظور احمد اور سراج بیبگر نے بھی خطاب کیا۔

Source: dailyazadiquetta.com

Share on :
Share

About Administrator

Check Also

میر یوسف عزیز مگسی کے مجسمے کو دوبارہ تعمیر کیا جائے، غلام نبی مری

کوئٹہ:بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء غلام نبی مری نے اپنے ایک بیان میں کہا …

Leave a Reply

'
Share
Share
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com