Home / Archives / بلوچستان حکومت کے اتحادیوں میں کچھ چل رہا ہے ، افغان مہاجرین کے معاملے پر عمران خان کے رویے میں مثبت تبدیلی آئی ہے ، اختر مینگل

بلوچستان حکومت کے اتحادیوں میں کچھ چل رہا ہے ، افغان مہاجرین کے معاملے پر عمران خان کے رویے میں مثبت تبدیلی آئی ہے ، اختر مینگل

کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ رکن قومی اسمبلی سردار اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ ضمنی انتخابات میں کامیابی کے بعد بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن اتحاد کی پوزیشن مستحکم ہوئی ہے ،جہاں بٹوارا ہوتا ہے وہاں ناراضگیاں تو ہوتی ہے ،لگتا ہے کہ بلوچستان میں حکومتی اتحاد میں کچھ چل رہا ہے ۔چاہے حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں ظلم اور نا انصافی کیخلاف آوازاٹھاتے رہیں گے ،چیئرمین نیب کو مسنگ پرسنز کے معاملے پر پردہ ڈالنے جبکہ سابق چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ کو توتک واقعے کی رپورٹ منظر عام پر نہ لانے پر نوازا گیا۔

وزیراعظم عمران خان کا افغان مہاجرین کے معاملے پر روئیہ تبدیل ہوا ہے اب وہ مہاجرین کو آباد کرنے پر بات نہیں کریں گے،یہ بات انہوں نے جمعرات کی شب نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ۔ سردار اختر جان مینگل نے کہا کہ ضمنی انتخابات میں ہم نے مستونگ ،واشک اور خضدار کی سیٹیں جیتی ہیں جس کے بعد بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن اتحاد کی پوزیشن مزید مستحکم ہوئی ہے ،انہوں نے کہا کہ سننے میں آرہا ہے کہ بلوچستان حکومت کے اراکین اور اتحادی ناراض ہیں لگتا ہے کہ حکومت کی طرف بھی کچھ پک رہا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ یہ نہیں معلوم کہ مولانا فضل الرحمن میرے راستے پر چل پڑے ہیں یا میں انکے راستے پر چل پڑا ہوں ،بلوچستان میں اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے سے متعلق سوال پی ٹی آئی سے کرنا چاہیے کہ ہم کیوں اپوزیشن میں بیٹھے ہیں اور بلوچستان عوامی پارٹی جو وفاق میں پی ٹی آئی کی اتحادی ہیں وہ حکومت کا حصہ ہیں ۔ یہ بلوچستان کی پرانی سیاسی روایات ہیں اس میں کوئی نئی بات نہیں ،انہوں نے کہا کہ ہمارا اور ایم ایم اے کا عام انتخابات میں اتحاد ہوا جو ضمنی انتخابات میں بھی قائم رہا ،جس کے مثبت نتائج سامنے آئے دوسری جانب ہمارے مخالفین کی وڈھ کے انتخابات میں نیشنل پارٹی ،بلوچستان عوامی پارٹی نے کھل کر حمایت کی اور الیکشن کے دن انکا پولنگ ایجنٹ بھی نیشنل پارٹی سے تھا ۔

انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب نے مسنگ پرسنز اور ایبٹ آباد کمیشن کے حقائق سامنے نہیں لائے جبکہ توتک واقعے کی تحقیقات کرنیوالے سابق چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ کو بھی حقائق سامنے نہ لانے پر نوازا گیا ،ہم سے توقع کی جاتی ہے کہ مٹی ڈال دیں لیکن ہم ایسا نہیں کر سکتے حکومت اگر دو ماہ میں تمام مسنگ پرسنز یا دیگر معاملات میں بہتری نہیں لاسکتی تو نئے لوگ بھی غائب نہیں ہونے چاہیے۔

سردار اختر جان مینگل نے کہا کہ میں نے گزشتہ روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومت پر جو تنقید کی ہے وہ صرف حکومت پر نہیں تھی دراصل ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اس حکومت کو ووٹ دیا ہے اور ہم نے اپنا 6 نکاتی ایجنڈا بھی دیا ہے ہم نہیں چاہتے ہیں کہ حکومت صرف ہمارے مسئلے حل کریں بلکہ عوام کے مسئلے بھی حل کریں یہ حکومت کی ذمہ داری ہے ۔

انہوں نے کہا کہ میرے گھر پر چند روز پہلے جب میں انتخابی مہم میں حصہ لے رہا تھا تو میرے گھر پر حملہ ہوا یہ تیسری بار ہے کہ میرے گھر پر حملہ ہوا ہے ،ہم نے اسی وقت دو ملزمان کو ہینڈ گرنیڈ کیساتھ گرفتار کرکے مقامی انتظامیہ کے حوالے کردیئے مگر چند گھنٹے کے بعد ملزمان کو رہا کر دیا گیا اور وہی لوگ جو میرے گھر پر حملہ کرنے آئے تھے اور جن کے قبضے سے دو ہینڈ گرنیڈ برآمد ہوئے تھے وہ ہمارے مخالفین کی انتخابی مہم میں حصہ لے رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ سابقہ صدر مملکت جنرل ر)(پرویز مشرف نے آئین کی خلاف ورزی کی ہے اسکو سزا ملنی چاہیے ،اگر وہ بیمار ہے تو اسکو اپنے عمل کی سزا مل رہی ہے جولوگوں کی بدعا کا نتیجہ ہے ،اگر کسی شخص کو سزا ہوتی ہے تو بیمار ہو جاتا ہے تو اسکو معاف نہیں کیا جا سکتا ہے اسے اپنے گناہوں کی سزا ملنی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم حکومت کے صرف اتحادی ہے ،حکومت کیساتھ نہیں ہے ،انہوں نے کہا کہ ہم اپوزیشن میں ہے اگر حکومت اچھا کام کرے گی تو ہم اسکی تعریف کریں گے اور اگر وہ عوام کیخلاف کام کرے گی تو ہم اس پر تنقید ضرور کریں گے ،یہ ہمارا حق ہے ،ہم اس سے کبھی بھی دستبردار نہیں ہوں گے ۔

موجودہ حکومت کو عوام نے منتخب کیا ہے اس کو حکومت کرنے کا حق حاصل ہے ،ہم نے جو6نکات معاہدہ دیا ہے جس پر تحریری معاہدہ بھی ہوا تھا یہ ایجنڈا ہم نے سابقہ حکومت کو بھی دیا تھا مگر افسوس کہ انہوں نے ہمارے اس ایجنڈے پر اس وقت کوئی عملدرآمد نہیں کیا ۔ کیونکہ شاہد اس وقت ہمارے پاس ارکان کی اک یت نہیں تھی ،انہوں نے ہمارے ایجنڈے کو اہمیت نہیں دی اب ہ رے پاس اک یت ہے امید ہے کہ حکومت نے جو ہم سے تحریری معاہدہ کیا ہے وہ اس کو ہر صورت میں پورا کرے گی یہ حکومت کی ذمہداری ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ نہیں ہوسکتا ہے کہ کوئی پاکستان کے آئین کو توڑے اور وہ شخص صدر مملکت بھی ہوں اور فوج کا سربراہ بھی ہوں اور جب وہ بیمار ہوں تو اسکو معاف کر دیا جائے ایسا کبھی ہم ہونے نہیں دیں گے ،جس نے پاکستان کی آئین کو توڑا ہے ۔ اس کو ہر صورت میں سزا ملنی چاہیے اور ہم اپنے موقف پر قائم ہے ،انہوں نے کہاکہ افغان مہاجرین کے مسئلے پر حکومت سے تفصیلی بات ہوئی ہے ،وزیراعظم عمران خان کا اس حوالے سے روئیہ مثبت ہے ،اب وہ اور ہم اس مسئلے پر نہیں بولیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ ہم حکومت میں اس امید سے گئے تھے کہ ہمیں گوادر ملے گا لیکن یہاں ہمارے ماہی گیروں کو بیروزگارکیا جا رہا ہے ،انکی شکار گاہیں بند کی گئیں ہیں ،اب ہمارے لوگوں سے کشتی لنگر انداز کرنے کا حق بھی چھین لیا گیا ہے ۔ اسلام آباد میں بیٹھ کر منصوبہ بندی کرنیوالوں کو بلوچستان کی جغرافیاء پتہ نہیں وہ نقشے نکال کر لکیریں کھینچ دیتے ہیں اب جب لوگ احتجاج کریں گے تو کہا جائیگا کہ انہوں نے بغاوت کی ہے میری گوادر کے ماہی گیروں کے معاملے پر پرویز خٹک سے بات ہوئی ہے پیر کو اس حوالے سے ایک اعلی سطح اجلاس بھی بلایا گیا ہے ۔

Source: dailyazadiquetta.com

Share on :
Share

About Administrator

Check Also

صحت ترجیح مگر، بی ایم سی ہسپتال کا آئی سی یو غیر فعال،لواحقین مریضوں کو نجی ہسپتالوں میں منتقل کرنے پر مجبور

کوئٹہ: سابق ادوارکی طرح موجودہ حکومت کے دورمیں بھی محکمہ صحت میں تبدیلی کے دعوے …

Leave a Reply

'
Share
Share
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com