Home / Archives / بلوچی اکیڈمی کی جنرل باڈی کا ممتاز یوسف کے زیر صدارت ہنگامی اجلاس اکیڈمی کے سالانہ گرانٹ میں کٹوتی کا فیصلہ واپس لیا جائے، ممبران

بلوچی اکیڈمی کی جنرل باڈی کا ممتاز یوسف کے زیر صدارت ہنگامی اجلاس اکیڈمی کے سالانہ گرانٹ میں کٹوتی کا فیصلہ واپس لیا جائے، ممبران

کوئٹہ (پ ر) بلوچی اکیڈمی کی جنرل باڈی کا ایک ہنگامی اجلاس چیئرمین ممتاز یوسف کے زیر صدارت منعقد ہوا جس میں سرکار کی جانب سے اکیڈمی کی سالانہ گرانٹ میں کٹوتی کرنے اور اسے ایک کاغذی ادارے ’ بلوچی ادبی اکیڈمی ‘ کو دینے کے خلاف شدید احتجاج کیا ۢگیا۔ اکیڈمی کے ممبران نے مطالبہ کیا کہ بلوچی اکیڈمی کے فنڈز کی کٹوتی بلوچی زبان و ادب کے ساتھ دشمنی کے مترادف ہے۔لہذاوزیراعلیٰ بلوچستان سے اپیل ہے کہ بلوچی اکیڈمی کو گرانٹ کو کم کرنے کے بجائے دگنا کیا جائے تاکہ بلوچی زبان و ادب کی ترویج کے لیے کوششیں تیز تر کی جائیں۔ممبران نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی موجودہ حکومت نے بلوچی اکیڈمی کی سالانہ گرانٹ میں 25لاکھ روپے کی کٹوتی کرکے اسے ’بلوچی ادبی اکیڈمی ‘ نامی کاغذی تنظیم کو دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ عمل نہ صرف غیر قانونی بلکہ بلوچی زبان و ادب کے دشمنی کے مترادف ہے۔ بلوچی اکیڈمی پچھلے چھ دہائیوں سے بلوچی زبان و ادب کی ترویج میں مصروف عمل ہے۔ اس دوران اکیڈمی نے 480 کتابیں چھاپی ہیں جو کہ بلوچی زبان ، ادب، تاریخ اور ثقافت کے موضوعات پر مشتمل ہیں جو مختلف جامعات اور تعلیمی اداروں کے نصاب کا حصہ ہیں۔ اس کے علاوہ قومی اور بین الاقوامی ادبی تقریبات کا انعقاد کرچکی ہے۔ اس وقت بلوچی انسائیکلوپیڈیا ، بلوچی انگلش ڈکشنری، انگلش بلوچی ڈکشنری اور دوسری زبانوں کے معروف شہہ پاروں کے تراجم سمیت متعدد منصوبوں پر عمل درآمد کررہی ہے۔ لیکن انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ اکیڈمی کی سالانہ گرانٹ میں اضافہ کرنے کے بجائے 25 لاکھ کی کٹوتی کرکے، ایک مخصوص شخص کی کاغذی تنظیم بلوچی ادبی اکیڈمی کو دینے کی منظوری دی گئی ہے جو کہ نہ صرف غیر قانونی عمل ہے بلکہ بلوچی اکیڈمی جیسے ادارے کو زک پہنچانے کے مترادف ہے۔اجلاس کے شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بلوچی زبان اور بلوچی اکیڈمی کے خلاف سازشوں میں ملوث افراد کو بے نقاب کیا جائے۔ اجلاس میں قرارداد پیش کیا گیا کہ بلوچی اکیڈمی کی جنرل باڈی کا یہ ہنگامی اجلاس اکیڈمی کے سالانہ گرانٹ میں کٹوتی کے حکم کو ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ اس اقدام کو بلوچی زبان کے فروغ کے راہ میں قدغن لگانے کا عمل گردانتی ہے اور اس ناانصافی پر مبنی فیصلے کو فوری واپس لینے کا مطالبہ کرتی ہے۔

بلوچی اکیڈمی کا یہ اجلاس وزیراعلیٰ بلوچستان سے مطالبہ کرتی ہے کہ بلوچی اکیڈمی کی جانب سے جمع کیے گئے تمام منصوبوں (جن میں انسائیکلوپیڈیا، دوسری زبانوں کے بلوچی میں تراجم اور ڈکشنری وغیرہ شامل ہیں) کو فوری طور پر منظور کرکے ان کے فنڈز جاری کرنے کا حکم صادر فرمائے۔ بلوچی اکیڈمی کا یہ اجلاس حکومت کے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کرتی ہے کہ بلوچی اکیڈمی سے ملتے جلتے ناموں کی رجسٹریشن کو منسوخ کرے تاکہ مستقبل میں ’ بلوچی ادبی اکیڈمی ‘ جیسی کاغذی تنظیمیں بلوچی اکیڈمی کے نام کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال نہ کرسکیں۔ عبدالواحد بندیگ کو سختی سے تنبیہ کی جاتی ہے کہ وہ چندے یا اس قسم کی دوسری مراعات حاصل کرنے کے لیے بلوچی اکیڈمی کا نام استعمال کرنے سے گریز کرے وگرنہ اکیڈمی ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ اکیڈمی کا یہ اجلاس ایگزیکٹو باڈی کو یہ ہدایت کرتی ہے کہ بلوچی اکیڈمی کے آئین کی خلاف ورزی اور اس کے فنڈز کے کٹوتی کی مذموم سازش میں شریک افراد جن میں عبدالواحد بندیگ ، ان کے بیٹے بی بگر بلوچ اور معاون و ساتھی غلام حیدر بادینی کے خلاف آئین کے مطابق انکوائری کرنے اور کاروائی کی ہدایت کرتی ہے۔

اس حوالے سے اگر عبدالواحد بندیگ کے دئور چیئرمینی میں وہ اور ان کے بیٹے بی بگر نے اگر اکیڈمی کے فنڈز میں کسی قسم کی خرد بُرد کی ہے تو ایسے عناصر کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے تاکہ مستقبل میں اکیڈمی کے فنڈز کا ضیاع نہ ہو اور احتسابی عمل کو ممکن بنایا جاسکے۔ اس کے علاوہ غلام حیدر بادینی جو بلوچی اکیڈمی کے ممبر ہیں وہ ’’ بلوچی ادبی اکیڈمی ‘‘ کی کابینہ کی رجسٹریشن کے لیے انڈسٹری ڈیپارٹمنٹ میں بطور گواہ اور معاون شامل ہیں جو اکیڈمی کے خلاف سرگرم عمل ہیں، کے خلاف بھی کاروائی عمل میں لایا جائے۔بلوچی اکیڈمی کا یہ اجلاس صوبائی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ صوبے بھر میں زبان و ادب کے فروغ میں سالہا سال سے سرگرم عمل اداروں کی کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے لیے سالانہ گرانٹ منظور کرکے بلوچستان میں توانا تخلیقی ادب کے فروغ کو ممکن بنائے۔ بلوچی اکیڈمی کا یہ اجلاس مطالبہ کرتی ہے کہ صوبے میں ادبی اداروں کو فنڈز کے اجرا کے لئے باقاعدہ طور پر اصول، ضوابط اور قوانین مرتب کیے جائیں تاکہ پسند و ناپسند کی بنیاد پر نام نہاد، موقع پرست اور کاغذی اداروں کی حوصلہ شکنی ہو اور قومی دولت کے ضیاع کو روکا جاسکے۔

Share on :
Share

About Administrator

Check Also

بلوچوں پر انصاف کے دروازے بند کر دیئے گئے ہیں،لشکری رئیسانی

کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا …

Leave a Reply

'
Share
Share
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com