Home / Archives / امریکی پابندیوں سے ایران کو کیا فرق پڑے گا؟
EPA

امریکی پابندیوں سے ایران کو کیا فرق پڑے گا؟

ایران میں پیر کے روز سے امریکہ کی طرف سے لگائی گئی پابندیوں کے عمل میں آنے سے پہلے ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ سخت گیر موقف رکھنے والے ان مظاہرین کی جانب سے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی مخالفت بھی کی گئی۔

مزید پڑھیے

ایران پر پابندیوں کے اثرات: چارٹس میں

اسرائیلی ایران مخالف پالیسی کے بنیادی نکات

اس سے پہلے ایران کے ایک طاقتور ادارے گارڈین کونسل نے پارلیمان کو ایک بِل پر دوبارہ غور کرنے کا حکم دیا جس کے تحت ایران اقوام متحدہ کی دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف معاہدے کا حصہ بن جائے گا۔

اس کا مقصد بظاہر انٹرنیشنل فائنینشل ایکشن ٹاسک فورس کو یقین دہانی کروانا تھا کہ ایران عالمی تقاضوں کو پورا کر رہا ہے۔

’سخت ترین پابندیاں‘

وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ ایران پر لگنے والی یہ پابندیاں اس پر لگائی جانے والی ’اب تک کی سخت ترین پابندیاں ہوں گی‘۔ ان پابندیوں کا نشانہ ایران اور اس کے ساتھ تجارت کرنے والی تمام ریاستیں ہوں گی۔

امریکی فیصلے کے تحت سن 2015 کے جوہری معاہدے کے بعد جو پابندیاں ختم ہوئی تھیں وہ دوبارہ عمل میں آ جائیں گی۔

تمام آٹھ ممالک کو وقتی طور پر ایران سے تیل کی خریداری کے لیے ان پابندیوں سے چھوٹ دی گئی ہے۔

ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای ٹوئٹر پر کہہ چکے ہیں کہ امریکی فیصلہ اس کے اپنے مقام اور لبرل جمہوریت کے لیے باعث ’ذلت ہے‘۔

پابندیوں کی تفصیل

امریکی پابندیوں کی زد میں آنے والے شعبوں میں جہاز رانی، سمندری جہاز بنانے کی صنعت، فنانس اور توانائی شامل ہیں۔

امریکی محکمہ خزانہ کے سیکرٹری نے کہا ہے بین الاقوامی ادائیگیوں کا نیٹ ورک ’سوفٹ‘ بھی ایران سے تعلق ختم کر دے گا اور اس صورت میں ایران بین الاقوامی فنانس سِسٹم سے مکمل طور پر کٹ جائے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل مئی میں بھی ایران پر کچھ پابندیاں دوبارہ لگا دی تھیں اور یہ پابندیوں کی دوسری کھیپ ہے۔

یران احتجاجتصویر کے کاپی رائٹEPA

کون پابندیاں کی زد میں نہیں

امریکی سیکرٹری خارجہ نے ان آٹھ ممالک کا نام نہیں بتایا جنہیں وقتی طور پر پابندیوں سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے تاکہ وہ ایران سے تیل خرید سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ان آٹھ ممالک نے ایران کے ساتھ تعاون اور اس سے تیل کی خرید میں بہت حد تک کمی کر دی ہے۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ان آٹھ ممالک میں امریکی اتحادی اٹلی، جاپان اور جنوبی کوریا بھی شامل ہیں۔ روئٹرز کے مطابق ترکی کو بھی چھوٹ دی گئی ہے۔

تاہم بی بی سی کی نامہ نگار کے مطابق تیل کی اس فروخت سے حاصل ہونے والی آمدن ایک خاص اکاؤنٹ میں جائے گی اور ایران اس سے صرف وہ اشیا خرید سکے گا جس کی اجازت ہو گی، یعنی ایران کو اس سے کیش نہیں ملے گا۔

ایران کا رد عمل

ایران میں وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے سرکاری ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اپنے اقتصادی معاملات چلانے کی صلاحیت اور علم رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا امریکہ اس طرح کے اقدامات سے کبھی اپنے سیاسی مقاصد حاصل نہیں کر سکے گا۔

یورپی یونین کا موقف

برطانیہ، جرمنی اور فرانس اور یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ نے ایک مشترکہ بیان میں امریکہ کی طرف سے ایران پر پابندیاں بحال کرنے کے اقدام پر ’انتہائی‘ افسوس کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ جائز قانونی کاروبار کرنے والے افراد کو یورپی یونین کے قانون اور اقوام متحدہ کی قرارداد 2231 کے تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

ایران احتجاجتصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES

ایرانی تیل کی کمی کیسے پوری ہو گی؟

واشنگٹن میں بی بی سی کی نامہ نگار باربرا پلیٹ کے مطابق گذشتہ چھ ماہ میں امریکہ نے ایران سے تیل کی درآمد صفر کے قریب لانے کی پوری کوشش کی ہے۔ تاہم وہ یہ بھی نہیں چاہتا کہ پانچ نومبر کو مارکیٹ سے ایران کا تیل مکمل طور پر غائب ہو جائے اور تیل کی قیمتیں بڑھ جائیں۔ اس سے ایران کو فائدہ ہو گا اور امریکی اس صورتحال سے خوش نہیں ہوں گے۔

امریکہ نے ایرانی تیل کی کمی پوری کرنے کے لیے تیل کی اپنی پیداوار بڑھا دی ہے اور دوسروں کو خاص طور پر سعودی عرب سے بھی ایسا ہی کرنے کے لیے کہا ہے۔

امریکہ مظاہرہ کر چکا ہے کہ وہ اپنی اقتصادی طاقت کے بل پر کیا حاصل کر سکتا ہے لیکن ایران کو اپنے پرانے ساتھیوں کی عدم موجودگی میں صرف طاقت کے بل پر تنہا کرنا ایک مشکل کام ہو گا۔

Source: bbcurdu.com

Share on :
Share

About Administrator

Check Also

بلوچوں پر انصاف کے دروازے بند کر دیئے گئے ہیں،لشکری رئیسانی

کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا …

Leave a Reply

'
Share
Share
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com