Home / Archives / بلوچوں پر انصاف کے دروازے بند کر دیئے گئے ہیں،لشکری رئیسانی

بلوچوں پر انصاف کے دروازے بند کر دیئے گئے ہیں،لشکری رئیسانی

کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ بلوچوں کو اپنے غدار نہ ہونے کا ثبوت کسی کو دینے کی ضرورت نہیں ہمیں غدار کہنے والوں کی نسلوں میں غدار موجود ہیں پہاڑوں پر موجود غیرت مند بھائی ماؤں اوربہنوں کے سر سے گرنے والے دوپٹے کوتھام کرملکی بین الاقوامی پرامن آئینی جدوجہد میں ہمارا ساتھ دیں گوادر اور ریکوڈک سے پاکستان کے مستقبل کو ترقی دینے والے بدلے میں ہمیں لاشوں کے تحفے دے رہے ہیں ۔

آزاد میڈیا مظلوموں کی آواز بننے کے بجائے ایک گدھے کو ڈونکی کنگ بنارہا ہے ۔ بوٹ پالش کرکے ذاتی مراعات میں اضافہ کرنے والوں کو چھوٹے بچوں کی چیخ و پکار سنائی نہیں دے رہی عدلیہ نے بلوچوں پر انصاف کے دروازے بند کردئیے ہیں ایسے میں بے سہارا مائیں اس دن کے انتظار میں ہیں جب اللہ کا کہر ملکی آئین کو پامال کرنے والوں پر نازل ہوگا ۔

نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی کا گزشتہ روز بلوچ لاپتہ افراد کے اہلخانہ کے احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہنا تھا کہ ہمارا ریاستی اداروں سے مطالبہ ہے کہ لاپتہ بلوچ افراد کو عدالتوں میں پیش کیا جائے تاکہ ہمیں بھی پتہ چلے کہ انہوں نے کیا جرم کیا ہے ۔ مملکت خداداد میں آئین اور قانون کی حکمرانی ،پارلیمنٹ کی خودمختاری میڈیا کی آزاد ی ایک طبقہ کے کنڑول میں ہے ۔

میڈیا بلوچستان سمیت ملک کے طول وعرض میں مظلوموں کی آواز بننے کی بجائے ایک گدھے کو ڈونکی کنگ بنانے میں مصروف ہے ۔ میڈیا کے اس رویہ سے ہمارے دلوں میں میڈیا کیخلاف موجود نفرت اور مذاحمت میں اضافہ ہورہا ہے ۔ نوابزادہ لشکری رئیسانی کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان ایک صوبہ نہیں بلوچوں کا مادر وطن ہے اپنے حق ،قومی حقوق کی بات کرنے پر ہمیں کسی کے سامنے اپنے غدار نہ ہونے کا ثبوت پیش کرنے کی ضرورت نہیں غدار وہ ہیں جنہوں نے ملک کے آئین کو پامال کیا جو اربوں ڈالر لیکر بیرون ملک منتقل ہوگئے ہمیں غدار سمجھنے والوں کی نسلوں میں غدار موجود ہیں ۔

لاپتہ افراد کے لواحقین کی عرش تک پہنچنے والی آواز یہاں بیٹھے گونگے اور بہرے حکمرانوں کو سنائی نہیں دے رہی یہ آواز ان قبائلی معتبری کے دعویداروں کو سنائی نہیں دے رہی جنہوں نے بوٹ پالیشوں کی چاپلوسی کرکے اپنے ذاتی مراعات اور کاروبار میں اضافہ کرنے کیلئے بلوچستان کی سرزمین کو فروخت کردیا ہے ۔

نوابزادہ لشکری رئیسانی کا کہنا تھا کہ میرا ان قبائلی معتبرین سے مطالبہ ہے اس سے پہلے کہ آپ کی آئندہ نسلیں آپ کانام لیتے ہوئے شرمندگی محسوس کریں اپنی ماؤں کے سروں پر ہاتھ رکھ کر اپنے بلوچ بھائیوں کی بازیابی کیلئے آئینی وقانونی جنگ لڑ کر نااہل حکمرانوں سے انصاف کا مطالبہ کریں ۔

لشکری رئیسانی کا مزید کہنا تھا کہ گھروں میں بیٹھنے کا وقت گزر چکا آج کشمیری عوام پر بھارتی مظالم پرسیخ پا ہونے والا بین الااقوامی پارلیمنٹ میں بیٹھا رکن لارڈ نذیر بلوچوں کو را کا ایجنٹ قرار دیکر ان پرہونے والے مظالم کو جائز قرار دے رہا ہے ۔

اپنے دل میں بلوچ وطن کیلئے درد رکھنے والے پہاڑوں پر موجود بلوچ بھائی سڑکوں پر بے سہارا بیٹھی غیرت مند ماؤں اور بہنوں کا سہارا بن کر ان کے سروں سے گرنے والے دوپٹے کو تھام کر ملکی بین الاقوامی پرامن آئینی جدوجہد میں ہمارا ساتھ دیں تاکہ یہ معصوم بچے اور خواتین اپنے گھروں کو لوٹ جائیں اور ہم ان سڑکوں پر ان کی آواز بنیں ۔

ریکوڈک اور گوادر سے پاکستان کو مستقبل کو ترقی دینے والے ہمیں بتائیں کہ صوبے کے طول وعرض سے ملنے والی لاشوں اور لاپتہ افراد پر کیا الزام ہے ہمیں بتایا جائے کہ اپنے حق اور قومی حقوق کی بات کرنے پر کیا ریاست نے ملک میں سزائے موت کا قانون رائج کیا ہے۔

نوابزادہ لشکری رئیسانی کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ ایک دہائی سے سڑکوں پر انصاف کے متلاشی افراد کی آواز آسمان تک پہنچ چکی ہے اب یہ آواز ملک میں انصاف کے دروازے بندکرنے والے ظالم ،جابر، اندھے بہرے حکمران اور انصاف کا ترا زو توڑنے والوں پر اللہ تعالی کا کہر بن کر نازل ہوگی

Source: dailyazadiquetta.com

Share on :
Share

About Administrator

Check Also

Fishermen protest in Gwadar, want their demands fulfilled

The Fishermen Alliance were expressing that with the construction of Eastbay Expressway to link Gwadar …

Leave a Reply

'
Share
Share
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com