Home / Archives / ڈیرہ بگٹی سے پورے ملک کو گیس فراہم کی جاتی ہے مگر وہاں کے لوگ لکڑیاں جلاتے ہیں، سینٹ قائمہ کمیٹی

ڈیرہ بگٹی سے پورے ملک کو گیس فراہم کی جاتی ہے مگر وہاں کے لوگ لکڑیاں جلاتے ہیں، سینٹ قائمہ کمیٹی

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم نے صنعتوں کو گیس کے نئے کنکشز پر عائد پابندی ختم کرنے کی سفارش کر دی، وزارت پٹرولیم حکام نے کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا کہ ملک بھرمیں گیس کے نئی صنعتی کنکشنز جاری کرنے پر2011سے پابندی عائد ی گئی ہے۔

پاکستان کی مقامی گیس کی پیداوار3,317ایم ایم سی ایف ڈی ہے جبکہ باقی ضروریات آر ایل این جی اور دیگر ذرائع سے پوری کی جاتی ہیں، کمیٹی کی سفارشات ای سی سی میں پیش کریں گے جو اس کا جائزہ لے گی،اس سال نئے گیس کنکشنز کی24لاکھ درخواستیں موصول ہوئی ہیں لیکن اک سال میں6لاکھ گیس کنکشن لگاتے سکتے ہیں،سلام آباد کے علاقے سواں میں جن لوگوں نے31جنوری2018سے پہلے درخواستیں دی تھیں وہاں گیس کے میٹر لگائے جا رہے ہیں۔

کمیٹی ارکان نے کہا کہجو صوبے گیس پیدا کر رہے ہیں ان کو پہلے گیس ملنی چاہیے، جن صوبوں میں گیس کی پیداوار استعمال سے زیادہ ہے وہاں کی صنعتوں کو گیس کے نئے کنکشز فراہم کیے جانے چاہییں، ڈیرہ بگٹی سے پورے ملک کو گیس سپلائی کی جاتی ہے لیکن وہاں کے لوگ لکڑیاں جلاتے ہیں۔ پیر کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم کا اجلاس سینیٹر محسز عزیز کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں ہوا۔

اجلاس میں سینیٹر سلیم ضیاء،سینیٹر شمیم آفریدی، سینیٹر عطائالرحٰمن، سینیٹرجہانزیب جمالدینی، سیکریٹری پٹرولیم، چیئرپرسن اوگرا، سوئی ناردرن گیس پائپ لائن، سوئی سدران گیس پائپ لائن، اور وزارت پٹرولیم کے حکام نے شرکت کی۔ ایس ایس جی سی کے حکام نے کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا کہ گیس کے نئی صنعتی کنکشنز جاری کرنے پر2011سے پابندی عائد ی گئی ہے لیکن صنعتوں کو آرایل این جی کی کنکشز جاری کر رہے ہیں۔

سندھ میں گیس کے صنعتی صارفین کی تعداد4ہزار215اور گھریلوگیس صارفین کی تعداد22ہزار605ہے۔اس پر کمیٹی ارکان نے کہا کہ سندھ کی گیس کی ضرورت35فیصدہے جبکہ اس کو27فیصد گیس فراہم کی جا رہی ہے۔جو صوبے گیس پیدا کر رہے ہیں وہاں کے لوگوں کی ضروریات پہلے پوری کی جانی چاہییں۔ ڈائریکٹر جنرل گیس نے کمیٹی کو بتایا کہ پنجاب میں گیس کی پیداوار119ایم ایم سی ایف ڈی اور استعمال1ہزارایم ایم سی ایف ڈی ہے، خیبر پختونخوا میں گیس کی پیداوار411ایم ایم سی ایف ڈی اور استعمال296ایم ایم سی ایف ڈی ہے، سندھ میں گیس کی پیداوار2,320ایم ایم سی ایف ڈی اور استعمال1,696ایم ایم سی ایف ڈی ہے جبکہ بلوچستان میں گیس کی پیداوار467ایم ایم سی ایف ڈی اور استعمال290ایم ایم سی ایف ڈی ہے۔

پاکستان کی کل مقامی گیس کی پیداوار3,317ایم ایم سی ایف ڈی ہے جبکہ باقی ضروریات آر ایل این جی اور دیگر ذرائع سے پوری کی جاتی ہیں۔اس پر کمیٹی ارکان نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صنعتوں کو گیس کی فراہمی پر پابندی2011میں عائد کی گئی جو آج تک جاری ہے۔

جن صوبوں میں گیس کی پیداوار استعمال سے زیادہ ہے وہاں کی صنعتوں کو گیس کے نئے کنکشز فراہم کیے جانے چاہییں۔کمیٹی نے وافر گیس پیدا کرنے والے صوبوں میں صنعتوں کو گیس کے نئے کنکشز پر عائد پابندی ختم کرنے کی سفارش کر دی۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ2011میں صنعتوں کو گیس کنکشز پر پابندی گیس کی کمی کے باعث عائد کی گئی۔اس پر سیکرٹری پٹرولیم نے کمیٹی کو بتایا کہ کمیٹی کی سفارشات ای سی سی میں پیش کریں گے جو اس کا جائزہ لے گی۔ سندھ چیمبر آف کامرس کے نمائندے نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ میں گیس وافر موجود ہے لیکن کمیشن حاصل کرنے کیلئے ان کو مقامی گیس آر ایل این گی کے نام پر مہنگی فروخت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

کمیٹی ارکان نے کہا کہ سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں وافر گیس پیدا ہو رہی ہے وہاں جن علاقوں میں گیس کی سہولت موجود نہیں ہے ان کو بھی گیس فراہم کی جائے۔ ڈیرہ بگٹی سے پورے ملک کو گیس سپلائی کی جاتی ہے لیکن وہاں کے لوگ لکڑیاں جلاتے ہیں۔

کمیٹی کو وزارت پٹرولیم حکام کی جانب سے سوال پر بتایا گیا کہ اس سال نئے گیس کنکشنز کی24لاکھ درخواستیں موصول ہوئی ہیں لیکن اک سال میں6لاکھ گیس کنکشن لگاتے سکتے ہیں۔

اس میں ان لوگوں کو ترجیح دی جاتی ہے جن کے گھر پر گیس کا کنکشن کوجود نہیں ہے اور دوسرا کنکشن لگوانے والوں کو ایک سال کا وقت دیا جاتا ہے۔اسلام آباد کے علاقے سواں میں جن لوگوں نے31جنوری2018سے پہلے درخواستیں دی تھیں وہاں گیس کے میٹر لگائے جا رہے ہیں ۔

Source: dailyazadiquetta.com

Share on :
Share

About Administrator

Check Also

Fishermen protest in Gwadar, want their demands fulfilled

The Fishermen Alliance were expressing that with the construction of Eastbay Expressway to link Gwadar …

Leave a Reply

'
Share
Share
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com