Home / Archives / بلوچستان کے اردو شعراء ادباء کے ساتھ بلوچی اکیڈیمی کے چیئرمین ممتاز یوسف کی صدارت میں ایک اجلاس منعقد ہوا

بلوچستان کے اردو شعراء ادباء کے ساتھ بلوچی اکیڈیمی کے چیئرمین ممتاز یوسف کی صدارت میں ایک اجلاس منعقد ہوا

کوئٹہ(پ ر)بلوچی اکیڈیمی کی طرف سے اکیڈیمی کی سالانہ گرانٹ کٹوتی کے معاملے پر بلوچستان کے اردو شعراء ادباء کے ساتھ بلوچی اکیڈیمی کے چیئرمین ممتاز یوسف کی صدارت میں ایک اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے اردو پشتواور براہوئی شعراء ااور ادباء کی کثیر تعداد نے شرکت کی اجلاس کا آغاز کرتے ہوئے بلوچی اکیڈیمی کے چیئرمین ممتاز یوسف نے ایک ڈمی اور کاغذی اکیڈیمی (بلوچی ادبی اکیڈیمی )کی طرف سے بلوچی اکیڈیمی کی سالانہ گرانٹ کی کٹوتی کے بعد بلوچی اکیڈیمی کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات کی تفصیل بتائی جس پر شرکاء نے سیر حاصل بحث کی اور بلوچی ادبی اکیڈیمی کی جانب سے ایک فعال اور بلوچستان کی سب سے قدیم اکیڈیمی کی گرانٹ کٹوتی کی نہ صرف مذمت کی بلکہ اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ وہ بلوچی اکیڈیمی گرانٹ کی دوبارہ بحالی کیلئے بلوچی اکیڈیمی کے عہدہ داران اور خیر خواہوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں.

اجلاس میں کہا گیا یہ ایک غیر عمل ہے قانونی ایک فعال اکیڈیمی کی گرانٹس کی کٹوتی ایک ڈمی اور کاغذی اکیڈیمی کے لئے کیا جائے شرکاء نے وزیراعلیٰ بلوچستان کے اس اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ بلوچی اکیڈیمی کی گرانٹس میں اضافہ کیا جائے انہوں نے کہاکہ بلوچی اکیڈیمی اس وقت پورے بلوچستان میں سب سے زیادہ فعال ادارہ ہے شرکاء نے بلوچی اکیڈیمی کے عہدہ داروں کو ہدایت کی کہ بلوچی ادبی اکیڈیمی کی طرف سے نہ صرف بلوچی اکیڈیمی کی گرانٹس پر ڈھاکہ زئی کی گئی بلکہ اکیڈیمی کے نام کو بھی شاطرانہ انداز میں ہتھیالیا گیاہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے شرکاء نے کہا کہ بلوچی اکیڈیمی بلوچی ادبی اکیڈیمی کے اختیا رداروں کو قانونی نوٹس بھیجے کہ وہ بلوچی اکیڈیمی کے نام سے مماثلت رکھنے والے اس نام سے دستبردار ہو جائے اگر نہ بلوچی اکیڈیمی اپنے نام کے قانونی حقوق کیلئے قانونی چارہ جوئی کرے اجلاس میں شامل سینئر وکلاء نے بلوچی اکیڈیمی کے اس قانونی حق کیلئے اکیڈیمی کو اپنی خدمات بھی پیش کر دیں اجلاس کے آخر میں چیئرمین بلوچی اکیڈیمی ممتاز یوسف نے بلوچستان کے نامور اردو،پشتو اور براہوئی کے شعراء اور ادباء کا شکریہ ادا کیا اجلاس میں آغا گل سرور جاوید عمر گل ،نور خان محمد حسنی،محسن شکیل،فاروق سرور ڈاکٹر سلیم کرد ،وصاف باسط ،اکبر ساسولی،قیوم بیدار اور احمد عطاء شامل رہے.

اجلاس میں مندرجہ ذیل قرار داد متفقہ طور پر منظور کئے گئے آج کی یہ مجلس حکومت بلوچسان کی طرف سے بلوچی اکیڈیمی کی سالانہ گرانٹ کے کٹوتی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور یہ مطالبہ کرتی ہے کہ بلوچی اکیڈیمی کے گرانٹ میں کمی کے احکامات واپس لئے جائیں یہ مجلس مطالبہ کرتی ہے کہ زبان و ادب کی ترویج و ترقی میں شامل اداروں کی گرانٹ میں کمی کی بجائے اسے بڑھایا جائے کیونکہ ادبی اداروں کو سرکار کی طرف سے ملنے والی موجودہ مالی گرانٹ دفتری و اشاعتی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ناکافی ہے آج کی یہ مجلس یہ مطالبہ کرتی ہے کہ ایسے تمام ادبی ادارے جو کئی سالوں سے قومی زبان اور ادب کی ترویج میں سرگرم عمل ہیں اور مختلف موضوعات پر کئی کتابیں چھاپ چکے ہیں ان کے لئے سالانہ گرانٹ کا اعلان کیا جائے یہ سالانہ گرانٹ پسند و ناپسند کی بنیاد پر شخصی یا کاغذی اداروں کو ملنے کی بجائے اداروں کی کارکردگی اور ادبی کاوشوں کو مد نظر رکھ کر دیا جانا چاہیئے اس کے علاوہ ایک باقاعدہ پالیسی کے تحت کاغذی اور ڈمی اداروں کو سرکاری گرانٹس دینے کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیئے آج کی یہ مجلس مطالبہ کرتی ہے کہ بلوچی اکیڈیمی ادبی اکیڈیمی کو قانونی نوٹس بھیجے کہ وہ بلوچی اکیڈیمی کے نام سے دستبردار ہو جائے اور اگر بلوچی ادبی اکیڈیمی عہدہ داران اس بات سے انکار کر دیں تو بلوچی اکیڈیمی عدالت میں جا کر قانونی چارہ جوئی کرے.

Share on :
Share

About Administrator

Check Also

Fishermen protest in Gwadar, want their demands fulfilled

The Fishermen Alliance were expressing that with the construction of Eastbay Expressway to link Gwadar …

Leave a Reply

'
Share
Share
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com