Home / Archives / Analysis / قوموں کی بقا اور ان کی ترقی میں زبان اور ادب کی اہمیت
The Balochi Academy on Adalat Road.—Photo by writer AT

قوموں کی بقا اور ان کی ترقی میں زبان اور ادب کی اہمیت

ہیبتان عمر

قوموں کی بقا اور ان کی ترقی میں زبان اور ادب کی اہمیت سے کوئی زی شعور انسان انکار نہیں کرسکتا. بلوچ قوم بلا شک و شبہ اس وقت کسمپرسی اور زوال کا شکار ہے اسی طرح بلوچ قوم کا زبان بھی دنیا کی ان زبانوں میں شامل ہے جو اپنی بقا کو قائم رکھنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں. جن لوگوں کا تہذیب، مادر وطن ، مادری زبان اور اس جیسی خرافات سے تعلق ہے ادراک ضرور رکھتے ہیں کہ قوموں کی بقا کے لیے زبان کا پھلنا پھولنا ازحد ضروری ہوتا ہے.بالکل اسی طرح قوم اور زبان کو ترقی دینے کے لیے ادارے قائم کیے جاتے ہیں تاکہ ایک سے زیادہ افراد اپنی استطاعت اور قابلیت کو باہمی مدد و تعاون کے ذریعے ایک یکساں مقصد حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کریں.

بلوچی زبان و ادب کو فروغ اور اس کی بقا کو قائم و دائم رکھنے کے لیے جہاں بلوچ اور بلوچی سے محبت رکھنے والے افراد نے نمایاں کارنامے انجام دیے ہیں وہاں چیدہ ادبی اداروں نے بھی اس کارخیر میں بھرپور حصہ لیا ہے. بلکہ اکثر ادبی شخصیات کے کارنامے انہی اداروں کی مرہون منت سے عام لوگوں تک پہنچی ہیں. ریاست اور اس کی نمائندہ یعنی حکومت وقت ریاستی آئین و قانون کے دائرے میں ایسے شہریوں یا اداروں کی سرپرستی کی ذمہ دار ہے جن کا تعلق عوامی فلاح اور مفاد میں ہو. اسی فلاح و مفاد عامہ کے نام پر سیاسی جماعتیں یا افراد ووٹ کا حقدار ہوتی ہیں اور انہی ووٹوں کی بدولت وہ اقتدار کے منصب پر فائز ہوتے ہیں. بلوچی اکیڈمی کوئٹہ ان اداروں میں صف اول فہرست میں شامل ہے جو بلوچی زبان و ادب کے فروغ میں پچھلے کئی دہائیوں سے سرگرم ہیں.

بلوچی اکیڈمی کو ایک فعال اور مستحکم ادارہ بنانے میں جہاں ادبی شخصیات اور دانشوروں کا کردار رہا ہے وہاں مختلف ادوار میں قوم اور علم دوست سرکاری نمائندوں یعنی حاکموں کا کردار بھی قابل ستائش ہے کہ جنہوں نے اکیڈمی کی عمارت،  سالانہ گرانٹ کی منظوری اور اس میں اضافے کی صورت میں ادارے کو اپنے پائوں پر کھڑا ہونے اور اسے پھلنے پولنے میں کردار ادا کیا.
یہ سلسلہ ستر سالوں سے جاری تھا اور بلوچی اکیڈمی بھی ان ادوار میں ساڑھے چار سو کتابیں جو بلوچ،  بلوچی اور بلوچستان کے سماجی و ادبی موضوعات پر مشتمل ہیں چھاپ چکی ہیں. بلوچی زبان کی سب سے ضخیم اور مستند ڈکشنری بھی اسی اکیڈمی نے چھاپی ہے. اس کے علاوہ بلوچستانیکا کی شکل میں انسائیکلوپیڈیا، بلوچی انگلش ڈکشنری،  انگلش بلوچی ڈکشنری،  بلوچی سندھی اردو ڈکشنری پر باقاعدہ کام شروع کیا جاچکا ہے.

ایسے وقت میں جب ریاست اور بلوچ و بلوچستان کے نمائندگی کے دعویداروں کی سرکار کو بلوچی اکیڈمی کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کی گرانٹ میں اضافہ کرنا چاہیے تھا وہاں اس میں کمی کرکے بلوچی زبان اور اس کے اداروں کو کمزور کرنے کی پالیسی اپنائی گئی.مزید المیہ یہ کہ ایک مستحکم اور فعال ادارے کی گرانٹ کے پپیسوں کی کٹوتی کرکے ایک ایسی ڈمی و کاغذی تنظیم کو عنایت کی گئی ہیں کہ جس کا کوئی زمینی وجود ہی نہیں ہے.

جو حالات آج بلوچی اکیڈمی کو بحیثیت ادارہ درپیش ہیں وہ خود اکیڈمی کے لیے نئی نہیں اور ان حالات کا قوموں یا اداروں پر نازل ہونا کوئی انوکھی بات بھی نہیں ہے مزید یہ کہ  نہ ہی آج کے برسر اقتدار حکمران واحد افراد ہیں جو زبان یا ادب دشمنی کے پیروکار ہیں. تاریخ کا کام ہی یہی ہے کہ یا تو ایسے عوامی حکمرانوں اور حاکموں کو خراج تحسین پیش کرے جنہوں نے عوام اور ریاستوں کی فلاح میں کارنامے سر انجام دیے ہوں یا پھر ایسے افراد اور حاکموں کو لعنت ملامت کرنا ہے کہ جنہوں نے انسانیت، قوموں اور ان کی تہذیبوں کو تاراج کیا ہو. فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ کونسا فرد، افراد یا حکمران کس صف میں کھڑا ہوتا ہے.

بلوچ اور بلوچی سے تعلق رکھنے والے ادیب و دانشور ایسے افراد کو ضرور یاد رکھے گی جنہوں نے ان کی تشخص اور پہچان پر ضرب لگانے میں اپنا کردار ادا کیا ہو یا اس ظلم کے خلاف دانستہ و نادانستہ خاموشی اختیار رکھی ہو. آج کے اقتدار اور طاقت  پر قانض افراد کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ان سے پہلے بھی طاقت اور حاکمیت کے دعویدار گزرے ہیں اور ان کے بعد بھی حاکم برسر اقردار آئیں گے اور ان کو جگہ لے لیں لیکن اصل حاکمیت عوام کے دلوں پر راج کرنا ہے… عوام کی فلاح و بہبود کے لیے جدوجہد کرنا ہی اصل طاقت ہے. اصل طاقت اس کی سرزمین، قومی شناخت ، پہچان اور  اس کی تہذیب و ثقافت کی حفاظت اور ترویج ہے. جس بھی فرد،افراد  یا پھر خود ریاست نے ان ستونوں کو نظرانداز کیا یا پھر ان کی پامالی کی وہ صفحہ ہستی سے ہی مٹ گئے. تاریخ ایسے ہزاروں واقعات سے بھری پڑی ہے.

بلوچی اکیڈمی کے گرانٹ یا مالی وسائل پر کاری ضرب لگانے والے آج کے حکمران یا نام نہاد نمائندے یاد رکھیں کہ ان کے بعد بھی یہ دنیا اور یہ صوبہ باقی رہے گا اور ممکن ہے ایسے قوم دوست و ادب دوست افراد بھی حکومتی ایوانوں میں بیٹھ جائیں جو بلوچی اکیڈمی جیسے حقیقی اداروں کی سرپرستی کرکے دس گنا زیادہ مالی طور پر مستحکم کریں…. یا پھر یہ بھی عین ممکن ہے آج کے غیر عوامی حکمران بلوچی اکیڈمی جیسے اداروں کا گلہ گھونٹ کر ختم ہی کردیں…  بہرحال دونوں صورتوں میں آج کے حاکموں اور نام نہاد نمائندوں کو تاریخ اور قوم قابل تعریف صفوں میں شمار نہیں کرے گی.

Share on :
Share

About Administrator

Check Also

Fishermen protest in Gwadar, want their demands fulfilled

The Fishermen Alliance were expressing that with the construction of Eastbay Expressway to link Gwadar …

Leave a Reply

'
Share
Share
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com