Home / Archives / بی این پی نے کیچ ضمنی الیکشن کے نتائج کو مسترد کردیا ، آئندہ کے لائحہ عمل کیلئے کمیٹی قائم

بی این پی نے کیچ ضمنی الیکشن کے نتائج کو مسترد کردیا ، آئندہ کے لائحہ عمل کیلئے کمیٹی قائم

کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی نے پی بی47کیچ میں ہونے والے ضمنی انتخابات کے نتائج پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کیلئے کمیٹی قائم کردی ۔کمیٹی انتخابات میں ہونے والی بے ضابطگیوں سے متعلق اپنی سفارشات پارٹی رہنماؤں کر پیش کریگی ۔

گزشتہ روز کوئٹہ پریس کلب میں بلوچستان اسمبلی میں بی این پی کے پارلیمانی لیڈر ملک نصیر احمد شاہوانی کا پارٹی کے مرکزی رہنماؤں نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی، موسٰی بلوچ، ساجد ترین ، غلام نبی مری ودیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ2018ء کے انتخابات سے قبل ہونے والی مردم شماری کے نتائج کے تحت ہونے والی حلقہ بندیوں میں بلوچستان نیشنل پارٹی کو حاصل ہونے والی عوامی پذیرائی اورمینڈیٹ سب کے سامنے عیاں ہے ۔

عام انتخابات میں کوئٹہ کی قومی اسمبلی کی نشست این اے265اور صوبائی اسمبلی کی نشست پی بی31پر پارٹی کے امیدوار نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی کی جیت کوہار میں تبدیل کیا گیا ۔

اسی طرح پنجگور اور قلات کی قومی اسمبلی کی نشستوں پر بی این پی کے امیدواروں نذیر بلوچ اور منظور بلوچ کی کامیابی کو شکست میں تبدیل کرنے والوں نے وڈھ اور مستونگ میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں بھی بی این پی اور پارٹی کے حمایت یافتہ امیدواروں کی کامیابی کو ناکامی میں تبدیل کرنے کی کوشش کی تاہم عوامی دباؤ اور پارٹی کوملنے والی بھاری اکثریت سے وہ اپنے عزائم میں ناکام ہوئے ۔

2018ء کے عام انتخابات میں پارٹی کے مینڈیٹ کو چھینا نہیں جاتا تو اس وقت وفاق میں ہمارے کامیاب نمائندوں کی تعداد8جبکہ بلوچستان اسمبلی میں15ہوتی بلوچستان میں ہونے والے انتخابات پہلے سے ڈیزائن کئے گئے ہوتے ہیں جس کے تحت صوبے کے وزیراعلٰی اور کابینہ کے اراکین کا چناؤ انتخابات سے قبل ہی کیا جاتا ہے ۔

جس کی واضح مثال بلوچستان میں نومولود جماعت کی حکومت ہے موجودہ حکومت میں شامل لوگوں کی اکثریت نے2018ءکےانتخاباتسے6ماہقبلنلیگسےاستعفٰیدیکربیاےپیکےنامسےنئیجماعتبنائیاوروہ جماعت جسے بنے6ماہ کا عرصہ بھی نہیں گزراتھا وہ بلوچستان کی اکثریتی جماعت بن گئی ہے ۔

نصیر شاہوانی کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ روز صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی بی47کیچ میں ہونے والے ضمنی انتخابات کے56پولنگ اسٹیشنز کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق بی این پی کے امیدوار جمیل بلوچ نے5686ووٹ حاصل کئے تھے جبکہ مد مقابل حکمران جماعت کے امیدوارنے5122ووٹ لیے تھے ۔

لیکن آج آنے والے نتائج کے مطابق حکمران جماعت کے امیدوار کو مند کے ان حساس پولنگ اسٹیشنز کے ہزاروں ووٹ ملے ہیں جہاں الیکشن کے روز4بجے تک لاؤڈ اسپیکر کے ذریعہ ہونے والے اعلانات کے باجود ووٹ ڈالنے محض چار لوگ ہی نکلے تھے ۔

انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز کے نتائج کے تحت حکمران جماعت کے امیدوار کو بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل ہونا معنی خیز ہے ۔ عام انتخابات کی طرح مستونگ اور وڈھ میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں بھی پارٹی کے مینڈیٹ کو چھیننے کی کوششیں کرنے والوں کو عوامی دباؤ اور بھاری اکثریت سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ۔

لالا رشید2018ء کے انتخابات سے قبل بی این پی کا حصہ رہے ہیں عام انتخابات میں پارٹی کی جانب سے ٹکٹ نہ دیئے جانے پر انہوں نے آزاد حیثیت سے الیکشن میں حصہ لیکر2000ووٹ لیے تھے ۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں موجودہ شورش اور بے چینی اور بدامنی کی وجہ عوام کے مینڈیٹ کا احترام نہ کرنا ہے بلوچستان کے عوام کے مینڈیٹ کا احترام کیا جائے بی این پی کا مینڈیٹ چھین کر ہمیں اس حدتک مجبور نہ کیا جائے کہ ہم سڑکوں پر نکلیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ بی این پی بلوچستان کی صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی بی26پر ہونے والے انتخابات سے متعلق نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی ، ملک نصیر احمد شاہوانی ، موسٰی بلوچ، ساجد ترین اور غلام نبی مری شامل ہیں ۔

جبکہ کیچ کے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی بی47پر ہونے والے ضمنی انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات سے متعلق قائم کمیٹی میں رکن قومی اسمبلی آغا حسن بلوچ ،احمد نواز بلوچ، اختر حسین لانگو، اکبر مینگل ، حمید بلوچ شامل ہیں جو انتخابات میں ہونے والی بے ضابطگیوں سے متعلق اپنی سفارشات پارٹی رہنماؤں کو پیش کرینگے ۔

جس کے بعد پارٹی بے ضابطگیوں سے متعلق حکمت عملی وضع کرے گی۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ساجد ترین ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے اس کا سیاسی حل تلاش کیا جائے ۔

ضمنی انتخابات کے نتائج کو تبدیل کرکے ان قوتوں کے موقف کو تقویت دی گئی ہے جو پارلیمنٹ ،جمہوریت اور ووٹ کو بلوچستان کے مسئلہ کا حل نہیں سمجھتے ۔ بلوچستان کو کالونی کے طور پر جلایا جارہا ہے ۔ عام اور ضمنی انتخابات میں ہونے والی بے ضابطگیوں میں ملوث عناصر کو سزادی جائے ۔

وفاق میں اپنے چھ نکات کے بدلے صدر، وزیراعظم ، اسپیکر ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کے انتخابات میں بی این پی نے حکمران جماعت کو سپورٹ کیا تاہم حکومت کا حصہ نہیں بنے وفاقی حکومت کے افغان مہاجرین کو شہریت دینے سے معلق آنے والے بیان سمیت دیگر اہم مسائل پر بی این پی کا موقف واضح ہے۔ بلوچستان کے حقیقی نمائندوں کو دیوار سے لگانے کے بجائے ان کو راستہ دیا جائے ۔

Source: dailyazadiquetta.com

Share on :
Share

About Administrator

Check Also

Fishermen protest in Gwadar, want their demands fulfilled

The Fishermen Alliance were expressing that with the construction of Eastbay Expressway to link Gwadar …

Leave a Reply

'
Share
Share
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com