Home / Archives / سات سال مکمل ہونے پر لاپتہ دوست محمدکے بیٹی کی دردمندانہ اپیل

سات سال مکمل ہونے پر لاپتہ دوست محمدکے بیٹی کی دردمندانہ اپیل


کوئٹہ: سات سال قبل آج کے دن کراچی انٹر نیشنل ائیر پورٹ سے پاکستانی فوج کے ہاتھوں حراست بعد لاپتہ ہونے والا دوست محمد تاحال بازیاب نہ ہوسکے ۔

دوست محمد بلوچ اومان آرمی کا حاضر سروس آفیسر ہے جو2012کو چھٹیوں پر پنجگور آئے ہوئے تھے واپسی پر ایک اورشخص کے ہمراہ پاکستانی فوج نے کراچی انٹر نیشنل ائیر پورٹ سے حراست میں لے کر لاپتہ کیا ،اس شخص کو کچھ دن بعد چھوڑ دیا گیا لیکن دوست محمد تاحال بازیاب نہ ہوسکا۔

سات سال مکمل ہونے پر دوست محمد کی بیٹی مینابلوچ نے اپیل کرتے ہوئے کہاہے کہ میں اپنی اوراپنی خاندان کی دردلے کرسرکار،انسانی حقوق کے اداروں ، انسانی حقوق کے کام کرنے والے سرگرم کارکنوں اورسوشل میڈیا کے صارفین سے گزارش کرتی ہوں کہ ہمارے خاندان کی آوازبنیں ،آپ صحافی ہیں ،آپ علم رکھتے ہیں،آپ کے قلم میں طاقت ہے،آپ حکمرانوں کے عرش ہلا سکتی ہیں تاکہ میرے ابو کے بازیاب کیاجاسکے ۔

مینا بلوچ نے کہا کہ میرے ابو دوست محمدکو12فروری 2012کوخفیہ ایجنسیوں نے کراچی ائیرپورٹ سے اٹھاکر لاپتہ کیامیرے ابو عمان آرمی کاحاضر سروس آفیسر ہیں اور ہر سال صرف پچیس دنوں کے لئے چھٹیوں پر آتے تھے،اس بار بھی حسب سابق آئے لیکن واپس اپنے ڈیوٹی پہ جانے کے بجائے لاپتہ ہوگئے۔چھٹیوں کے اختتام پر وہ واپس جارہے تھے کہ ائرپورٹ سے ایک اور آدمی کے ہمراہ خفیہ ایجنسی نے اٹھایا،ابو کے ساتھی کو دس دن بعد چھوڑدیا لیکن میرے ابو تاحال لاپتہ ہیں اور ہمیں کچھ معلوم نہیں وہ کس حال میں ہیں یہ بس خدا کو معلوم ہے

انہوں نے کہامیرے ابو عمان آرمی کا آفیسر ہیں وہ عمان میں نوکری کرتے تھے،ان کے نوکری کے پورے ڈاکومنٹ ہمارے پاس موجود ہیں میرے ابو کے زندگی کے زیادہ ترحصہ عمان میں گزرا ہے اور آج تک ہمیں یہ بات سمجھ نہیں آرہی ہے کہ میرے ابو کو کیوں لاپتہ کیاگیا؟
جو یہاں نہ کسی کو جانتا تھا نہ وہ یہاں کے کسی قسم کے سیاسی کام میں ملوث تھے نہ ہی ان کا یہاں سے کسی سے کوئی ذاتی دشمنی ہے۔

مینابلوچ نے کہاابو کے لاپتہ ہونے کے بعد ہم نے کراچی میں ایف آئی آر درج کرنے کی کوشش کی مگر کراچی پولیس نے ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کیااس طرح ابو کی گمشدگی کا ایف آئی آر بھی درج نہیں ہوسکا۔

ہمارا خاندان وائس فاربلوچ مسنگ پرسنز کے کیمپ میں احتجاج کرچکے ہیں اور پریس کانفرس کی ہے،انسانی حقوق کے تنظیموں سے رابطے کے علاوہ ہم نے اپنے ابو کی بازیابی کے لئے ہرممکن کوشش کی لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔

انہوں نے کہامیرے ابو عمان کے وزیر دفاع سعود بن حارب البوسعیدی کے پرسنل گارڈ بھی تھے اسی وجہ سے ہم نے عمان حکومت اور عمان کے وزیر دفاع سے بھی رابطہ کیا وہ ہمارے ابو کی بازیابی کے لئے اپنا کردار دار کریں ۔

مینابلوچ نے مزیدکہامیرے ابو نے دو شادیاں کی ہے ایک پنجگور میں اور ایک عمان میں وہ پورے خاندان کے واحد کفیل تھا ہم خوشحال تھے لیکن میرے ابو کے لاپتہ ہونے کے بعد ہماری زندگی اجیرن بن گئی ہے آج تک ہم ناکردہ گناہوں کا سز اکاٹ رہے ہیں، میرے دادا کوبیٹے کی جدائی کے درد میں بے وقت موت سے دوچار کیا وہ ہر وقت اپنے بیٹے کا راہ تکتے تکتے اس دنیا سے چلے گئے۔

انہوں نے خاندان کی صورت حال کے بارے میں بتائی کہ اپنے بیٹے کے لئے دن رات رونے کی وجہ سے میری دادی کی آنکھوں کی بینائی بہت متاثر ہوئی ہے وہ اچھی طرح دیکھ بھی نہیں سکتی،چل نہیں سکتی ہے جو بھی ہماری اس صورت حال کو دیکھ سکتی ہے ،سن سکتی ہے خدارا ہماری آوازسنیئے،خدا کے لئے میرے ابو کی بازیابی کے لئے آواز اٹھائیے ،ہماری پوری خاندان ذہنی مریض بن چکی ہے،میری بہن بھائی ہر وقت ابوکی راہ تکتے رہتے ہیں اُن کی آنکھیں ہر وقت نم نظر آتی ہیں چھ سال کوئی کم مدت نہیں ہوتی اور ان چھ سالوں میں ہم پہ کیا گزری ہے یہ ہم جانتے ہیں یا وہ لوگ جن کے پیارے ہماری ابو کی طرح لاپتہ ہیں۔

دوست محمد کی ماں ھاتوں بی بی وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے کیمپ میں احتجاج پر بیٹھی ہوئی ہیں

بیٹی مینا بلوچ نے کہاان سات سالوں میں ہم نے کوئی خوشی نہیں دیکھی ہے خوشی کے موقعے ہماری زخموں کو زیادہ تازہ کرتے ہیں ہمارا گھرماتم خانہ بن چکی ہے، میں جانتی ہوں کہ بلوچستان میں صرف کم بخت بیٹیاں ہم نہیں ہیں جنکی آنکھیں اپنے پیاروں کی دیدار کو ترس رہے ہیں مجھ جیسی ہزاروں بیٹیاں اس صورت حال سے گزررہی ہیں جنکی آنکھیں اپنے پیاروں کی دیدار کیلئے ترس رہے ہیں آج ہماری حالت وہی ہے جو اس وقت بلوچستان کے ہزاروں خاندانوں کی حالت ہیں۔

دوست محمد کی بیٹی نے کہا ہمارے دکھ اوردرد لادوا نہیں ہیں ہم حکمرانوں سے کسی بھی چیز کا مطالبہ نہیں کررہے ہیں بس ہمارے ابو کو رہا کریں،انہیں بازیاب کریں انہوں نے کسی کا کچھ نہیں بگاڑاہے،انہیں ناکردہ گناہوں کی سزا دی جارہی ہے۔یہ حکمرانوں کو احساس کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم رُلا کر وہ خوش نہیں ہوسکتے ہیں،آج ہمارے گھروں میں ماتم ہے،ہمارے ابو زندہ ہم سے چھین لئے گئے ہیں،ہمارے لئے زندگی محشر بنادی گئی ہے،آپ اندازہ نہیں لگاسکتے ہیں لاپتہ ہونے والوں کے رشتہ اداروں کا درد کیسی ہوتی ہے،ہم زندہ لاش ہیں خدا کے لئے اتنے سنگ دل نہ بنیں،ہم پہ مزید ظلم نہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ میں حیران ہوں کہ ہمارے سابق چیف جسٹس چھوٹے چھوٹے مسئلوں پر سوموٹونوٹس لیتے ہیں لیکن انہیں ہماری یہ حالت نظر نہیں آتا ہے،وہ بھی حکمرانوں کی طرح سنگ دل بن چکے ہیں،ہماری اس حالت کاعدالت بھی ذمہ دار ہے کیونکہ انصاف دینا ان کا کام ہے لیکن ہمیں افسوس ہے کہ ہم ان کے عدل سے محروم ہیں،میں موجودہ چیف جسٹس سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ میرے ابو کولاپتہ کرنے والوں کے خلاف سوموٹونوٹس لیں ،کہتے ہیں ریاست ماں جیسی ہوتی ہے،عدلیہ حکمرانوں کو گھسیٹ کر کٹہرے میں لاکھڑا کرتاہے لیکن یہاں ریاست اپنی آئین اور قانون کو پاؤں تلے روند کر لوگوں کوغائب کررہاہے اور عدلیہ اُن کاموں میں مصروف ہے جواس کے فرائض میں شامل نہیں ہے،یہ انسانی تاریخ میں انسانیت کے ساتھ سنگین مذاق ہے۔

مینابلوچ نے آخر میں کہا ہمارا مطالبہ غیر آئینی اور غیر قانونی نہیں کیونکہ یہ حق ہمیں ریاست کی آئین دیتی ہے، برائے کرم میں تمام انسان دوست ممالک اور انسانی حقوق کے اداروں سے اپیل کرتا ہوں میرے ابو سمیت تمام لاپتہ کی بازیابی کے لئے اپنا کردار ادا کریں،ہمیں وہ زندگی واپس کردیں کہ جسے ہم خوشی سے جی رہے تھے ،اس انسانی المیے میں ہماری آواز بنئے،ہماری آواز کو حکمرانوں اورعالمی دنیا تک پہنچائیں،یہی آپ کے فرائض منصبی کا تقاضا اور اوریہی انسانیت کا معراج ہے۔


Share on :
Share

About Administrator

Check Also

At UN meeting, US, UK and Canada slam China and Pakistan for ‘persecuting and repressing’ religious minorities

New York: Raising the issue of suppression of religious freedom at the United Nations, the …

Leave a Reply

'
Share
Share
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com