Home / Archives / بلوچستان کا مسئلہ بات چیت سے حل ہوگا،شہید نواب بگٹی کے نعرے کو ہم نے جامع انداز میں حکمرانوں کے سامنے پیش کیا، اختر مینگل

بلوچستان کا مسئلہ بات چیت سے حل ہوگا،شہید نواب بگٹی کے نعرے کو ہم نے جامع انداز میں حکمرانوں کے سامنے پیش کیا، اختر مینگل

کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ و رکن قومی اسمبلی سردار اختر جان مینگل نے کہا ہے شہید نواب اکبر خان بگٹی کے ساحل وسائل کے نعرے کو ہم نے جامع انداز میں حکمرانوں کے سامنے پیش کیا ہے۔

بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے یہ نہ بندو ق نہ توپ سے حل ہوگا بات چیت کے ذریعے مسئلہ کا حل نکالا جائے۔1970سے اب تک بی این پی نے25ماہ حکومت کی اس کے علاوہ ہمارے اکابرین اور ہم نے ہمیشہ اپوزیشن کا کردار ادا کیا ہے،عوام کو معلوم ہے کون سی جماعت عوام کے حقوق کی جدوجہد کر رہی ہے اور کون اسلام آباد کی منڈیوں میں بلوچستان کا سودا کر رہے ہیں۔

1970سے اب تک بی این پی نے25ماہ حکومت کی اس کے علاوہ ہمارے اکابرین اور ہم نے ہمیشہ اپوزیشن کا کردار ادا کیا ہے، ماضی میں وزارت اعلٰی لینے سمیت دیگر جھوٹے الزامات لگائے گئے جو ثابت نہ ہوسکے آج چھ نکات کے خلاف پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے ہمیں مخالفین کی پرواہ نہیں ہمارا ضمیر مطمئن ہے،بی ایس او اور بی این پی نقل کے ناسور اور منشیات کے خلاف مہم شروع کرے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیشنل پارٹی کے رہنماء ٹکری شفقت لانگو کی بی این پی میں شمولیت کے موقع پر کوئٹہ پریس کلب میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر بی این پی کے نائب صدر آغا موسٰی جان بلوچ، مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ، اختر حسین لانگو، ٹکری شفقت لانگو نے بھی خطاب کیا۔

شمولیت تقریب میں بی این پی کے مرکزی رہنماء نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی، ملک ولی کاکڑ،موسٰی بلوچ، ثناء بلوچ، ہاشم نوتیزئی سمیت پارٹی رہنماؤں و کارکنوں نے شرکت کی۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے پارٹی کی مرکزی کابینہ، سینٹرل کمیٹی کے اراکین اور کارکنوں کی جانب سے ٹکری شفقت لانگو کوپارٹی میں شمولیت پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ٹکری شفقت لانگو نے30سالہ اپنی سیاسی رفقت میں تجربہ حاصل کیا ہے کہ بلوچستان کے وجودننگ وناموس، عزت اورحقوق کیلئے جدوجہد کون کررہا ہے اور وہ کون لوگ ہیں جنہوں نے بلوچستان کا سودا اسلام آباد کی منڈیوں میں کیا۔

انہوں نے کہا کہ میں نے1988سے لیکر2019ء تک اقتدار کے جو دور دیکھے ہیں ان میں میری اور میرے والد صاحب کے دور حکومت کا دورانیہ25مہینے رہا ہے۔صوبے میں قوم پرستانہ سیاست کا دور اقتدار25مہینے رہا ہے جبکہ باقی70سالوں میں ہمارے وہ اکابرین جو زندہ و سلامت ہیں جو اس دنیا میں موجود نہیں یا شہید کردیئے گئے ہیں انہوں نے اپنی پوری زندگی اپوزیشن میں رہ کر گزارہی ہے۔

جو آج اقتدار میں ہیں یا ان سے پہلے برسر اقتدار رہے ہیں کیا ہمارے بزرگ ان کی طرح اہل نہیں تھے کہ حکومت کرسکیں، انہو ں نے کہا کہ اس ملک میں حکومت کے بدلے ہمیشہ کچھ دینا پڑتا ہے ترازو کے پلڑے میں ایک طرف حکومت اور دوسری طرف لوگوں کے ضمیر رکھ کر سودا کرنے کی دعوت دی جاتی ہے ہمارے اکابرین نے قومی حقوق،ماؤں بہنوں کی ننگ وناموس کو اقتدار کے بدلے ترحیح دی آج اس اجتماع میں وہ گوکہ شامل نہیں ہے مگر ان کے دوست اور دشمن دونوں ان کا نام عزت سے لیتے ہیں۔

اس دوران بڑے بڑے حکمرانوں نے ملک اور صوبے میں پیسے کی لالچ اور ڈنڈے کے زور پر دس دس سال حکمرانی کی ہے جنکا آج نام تک لینے والا کوئی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ مخالفین کا کام ہی مخالفت کرنا ہے جو یہ کرتے رہیں گے بی این پی کی قیادت اور کارکن بلوچ قوم کو جوابدہ ہیں بلوچستان کے سوداگروں کے سامنے جوابدہ نہیں، نواب اکبر خان بگٹی کی شہادت پر جب پارٹی نے فیصلہ کیا کہ ہم نے اسمبلیوں سے استعفٰی دینا ہے تو ہم پر الزام لگایا گیا کہ یہ اپنی سیاست کو چمکانے کیلئے اسمبلیوں سے استعفٰی دے رہے ہیں۔

اس مجمع میں ہم نے مخالفت کرنے والوں کو دعوت دی کہ وہ بھی اپنی سیاست چمکاتے ہوئے استعفٰی دیں، مشرف کے دور حکومت میں بلوچستان میں ہونے والے آپریشن کیخلاف بی این پی نے جب گوادر سے کوئٹہ تک لانگ مارچ کا اعلان کیا تو کہا گیا کہ یہ الیکشن کی تیاری کررہے ہیں، مجھ سمیت700سے زائد ہمارے کارکنوں کو پابند سلاسل کرکے ان پر تشدد کیا گیا تو اس وقت دعوے کئے جارہے تھے کہ یہ وزارت اعلٰی کا امید وار بننے جا رہا ہے۔

جب میں نے جلاوطنی ترک کرکے لاپتہ افراد کے حوالے سے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تو بھی ہمارے خلاف پروپیگنڈہ کیا گیا2013ء کے الیکشن میں جب ہم نے انتخابات میں حصہ لیا تو کہا گیا کہ مجھے وزیر اعلٰی بنائیں گے بعد میں جو وزیراعلٰی بنا وہ تاریخ کے اوراق میں لکھ دیا گیا ہے۔ چھ نکات پر کون سا دن نہیں گزرا کہ ہمارے مخالفین کی خبریں اخبارات میں شائع نہیں ہوئی ہوں۔

انہوں نے کہا کہ نواب اکبر خان بگٹی کی شہادت سے پہلے تمام سیاسی جماعتوں نے بلوچستان کے ساحل وسائل کا نعرہ لگایا تھا ہم نے نواب اکبر خان بگٹی نے جس ساحل وسائل کا نعرہ لگایا تھا اسے ہم نے اپنے چھ نکات میں ایک جامع انداز میں حکمرانوں کے سامنے پیش کیا ہے۔

ہمارے چھ نکات میں ساحل بھی ہے اور وسائل بھی گوادر سے متعلق ہم جن خدشات کو محسوس کررہے ہیں کہ ترقی کی آڑ میں وہاں کی مقامی آبادی کو اقلیت میں تبدیل نہیں کیا جائے گا ہم نے وفاقی حکومت سے معاہدہ کیا ہے کہ گوادر سے متعلق قانون سازی کرکے ماسوائے گوادر کے باہر سے آنیوالے لوگوں کو شناختی کارڈ بناکر ووٹ کاسٹ کر نے کا حق نہیں دیا جائیگا۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ سرمچاروں کی بندوقوں سے نہ چھاؤنیوں کی توپوں سے حل ہوگا یہ مسئلہ سیاسی ہے اسے سیاسی طریقے سے بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے، میری گزارش پر اسپیکر قومی اسمبلی نے تمام پارلیمانی پارٹیوں کے اراکین کی ایک کمیٹی بنائی ہے جو بلوچستان کا دورہ کرکے تمام طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والوں سے ملاقات کرکے اس بات کا جائزہ لے گی آیا قصور وار کون ہے۔

یہاں کے لوگ قصور وار ہیں یا وہ لوگ جنہوں نے اپنے اقتدار کو بچانے کیلئے بلوچستان کو بلی پر چڑھایا ہوا ہے پارلیمانی اراکین کی جانب سے مرتب کی جانیوالی رپورٹ سب کو قابل قبول ہوگی اگر ہمارا گناہ یہ ہے تواس سے لزت دار گان کوئی اور نہیں ہوسکتا ہے۔ بلوچستان کا ذمہ کسی ایک فرد یا ایک پارٹی پر عائد نہیں ہوتا اس معاشرے میں بسنے والے ہم سب اس کے قرض دار ہیں اور ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ سیاسی لوگ اصولی سیاسی جدوجہد سے بلوچستان کے مسائل کو حل کی جانب لے جائیں۔

بی ایس او کے نوجوانوں سے میری گزارش ہے کہ وہ سیاست ہمیں کرنے دیں اور خود تعلیم پر توجہ دیں، بی ایس او کے دوست نقل کے ناسور کے خاتمے کیلئے مہم شروع کرکے قومی جرم میں جو ملوث ہو اس کو کسی بھی طور پر نہ بخشا جائے۔

انہو ں نے کہا کہ ہم ایک باوقار عزت دار تعلیم یافتہ قوم بننا چاہتے ہیں پارٹی کے ہر کارکن کو ذمہ داری دیتا ہوں کہ اپنے گلی کوچوں میں منشیات کیخلاف مہم شروع کریں ان ناسوروں سے نجات حاصل کئے بغیر ہم ایک قوم نہیں بن سکتے، انہوں نے کہا کہ عالمی حالات کا مقابلہ اگر بحیثیت قوم ہم نے نہیں کیا تو یہ قوم اور بلوچستان نہیں رہیں گے۔

تیسری عالمی جنگ کا سینٹرل پوائنٹ بلوچستان قراردیکر دوسرے ممالک کی جنگوں کا اڈہ بلوچستان کو بنایاجارہاہے اس کیلئے ہمیں صف بندی کرنی چائیے۔ انہوں نے کہا کہ چھ نکات میں سے کوئی ایک نکتہ بتا یاجائے جس میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے لیے مراعات کا مطالبہ کیا گیاہو ہم نے تمام قبائل چاہے ان کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت،تنظیم سے ہے ان کی بازیابی کا مطالبہ کیاہے اگر کسی پر کوئی الزام ہے تو نیشنل ایکشن پلان کے تحت ان کیخلاف کیسز چلائے جائیں۔

نیشنل ایکشن پلان ماسوائے بلوچستان نیشنل پارٹی کے میاں نواز شریف کے اتحادیوں اور موجودہ اپوزیشن اور اس وقت کی اپوزیشن اور حکمران جماعتوں نے ترتیب دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کبھی مطالبہ نہیں کیا کہ اگر کوئی کسی جرم میں ملوث ہے تو اسے رہا کیا جائے ہاں اتنا ضرور کہا ہے کہ اگر بھارتی جاسوس گلبھوشن یادو کی انکے رشتہ داروں سے ملاقات کرائی جاتی ہے اور اسے ٹی وی اسکرین پر دکھا کر اسے زندہ اور سلامت دیکھا یا جاتا ہے تو اس والد کا بھی حق ہے کہ اس پتہ چلے کہ اسکا بیٹا زندہ بھی ہے یا نہیں،اس خاتون کو بتایا جائے کہ اس کا شوہر زندہ ہے یا وہ بیوہ ہوگئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کے حالیہ اجلاس کے موقع پر بلوچستان کے تعلق رکھنے والے اراکین قومی اسمبلی کو میں نے دعوت دی کہ اجتماعی مسائل کے حل میں وہ ہمارا ساتھ دیں ان کا بھی دل چاہتا ہے مگر انہیں اپنی زندگیاں زیادہ عزیز ہیں تنہا تنہا تو ہم سب نے مرنا ہے مزہ تب آئے کہ جب ہمارے اجتماعی جنازے نکلیں گے۔ شاہداب تک اجتماعی جنازہ بی این پی کے کارکنوں کے نصیب میں ہی لکھے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہالی شان محل سے ہمارے کارکنوں کی قبریں ہمیں زیادہ عزیز ہیں۔سردار اختر جان مینگل کے صحافیوں کے یوم سیاہ کے موقع پر صحافی برداری سے یکجہتی کا اظہار کیا۔

Source: Daily Azadi Quetta

Share on :
Share

About Administrator

Check Also

Rights Commission Pakistan releases its annual report in Quetta

QUETTA: The Human Rights Commission of Pakistan (HRC) on Thursday released its annual report regarding …

Leave a Reply

'
Share
Share
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com