Home / Archives / ظلم و ناانصافیوں کیخلاف خاموش نہیں رہیں گے، شہداء کے مشن کی تکمیل کرینگے، قومی حقوق پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، بی این پی

ظلم و ناانصافیوں کیخلاف خاموش نہیں رہیں گے، شہداء کے مشن کی تکمیل کرینگے، قومی حقوق پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، بی این پی

کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماؤں نے کہا ہے کہ شہدائے کے عظیم قربانیوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے کسی قسم کی جدوجہد سے دریغ نہیں کرینگے ان کی قربانیاں نوجوان نسل کیلئے مشعل راہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔

بی این پی شہداء کی نمائندہ جماعت ہے جہنوں نے ہر دور کے ناانصافیوں ظلم و ستم کے سامنے سرخم تسلیم کرنے کے بجائے قربانیاں دیکر قومی تحریک کی جدوجہد کو تقویت بخشی ان خیالات کا اظہار بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی قائمقام صدر ملک عبدالولی کاکڑ، مرکزی ہیومن رائٹس سیکرٹری موسٰی بلوچ،مرکزی کمیٹی کے ممبر غلام نبی مری،ضلعی ڈپٹی جنرل سیکرٹری محمد لقمان کاکڑ، محمد اکبر کرد، یار جان جتک، محمد ادریس پرکانی، حاجی ہدایت اللہ جتک، اور حاجی ریاض احمد مینگل نے بی این پی کوئٹہ کے زیر اہتمام پارٹی کے شہید رہنماؤں بی این پی قلات کے سابق ڈپٹی جنرل سیکرٹری نواب الدین نیچاری شہید سفر خان سمالانی، اور مولا بخش نیچاری کے9ویں برسی کی موقع پر۔

کلی الماس میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے بلوچستان سرزمین کی دفاع اور تحفظ بلوچ قومی حقوق کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے پر ان شہدائے کے قربانیوں کو زبردست الفاظ میں خراج عیقدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی قیمتوں جانوں کا پروا کئے بغیر بلوچستان کی قومی جہد مسلسل میں وابستہ رہے۔

اور قلات منگچر میں پارٹی کو فعال اور متحرک کرنے میں ان دوستوں کی ناقابل فراموش جدوجہد قربانیوں کو کسی بھی صورت میں فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے بی این پی وہ واحد جماعت ہے جنہوں نے ہر دور میں بلوچستان سرزمین کی دفاع اور قومی حقوق کی حصول اور قومی جدوجہد کو آگے بڑھانے میں پارٹی کے دوستوں نے خندہ پیشانی ثابت قدمی مستقل مزاجی کے ساتھ بلوچ قومی حقوق واحق و اختیار ساحل وسائل تہذیب و تمدن بقاء شناخت وجود کیلئے جدوجہد کیا جن کی قربانیاں یہاں کے عوام کے سامنے عیاں ہیں اور ایک کھولی کتاب کی مانند رکھتے ہیں پارٹی و ہ واحد جماعت ہے۔

جو اپنے قائد سردار اختر جان مینگل کی مدبرانہ اور غیر متزلزل قیادت پرگذشتہ کئی عشروں سے حکمرانوں اور ان کے گماشتوں کے ظالمانہ استحصالی و آمرانہ پالیسیوں کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند کھڑیے ہوکر ہر سطح پر آواز بلند کرتے ہوئے جدوجہد میں مصروف عمل ہیں کیونکہ ہمیں بلوچستان سرزمین کی تحفظ اور یہاں کے عوام کے بنیادی حقوق کی جدوجہد تمام تر چیزوں سے عزیز اور مقدم رکھتے ہوئے اصولوں پر کسی بھی صورت میں سودہ بازی نہیں کرینگے۔

انہوں نے کہا کہ22ستمبر کو کوئٹہ میں ہونے والے عظیم الشان احتجاجی جلسہ عام بیاد شہید نواب امان اللہ خان زہری ان کے کمسن پوتے شہید میر مردان زہری،شہید سکندر گورشانی اور شہید مشرف زہری کی عظیم قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرنے اس واقعیے میں ملوث قاتلوں کی گرفتاری اور اصل محرکات کو عوام کے سامنے لانے تک جدوجہد میں کوئی کمی نہیں آئے گی، قومی تحریک کیلئے نواب امان اللہ خان زہری اور ان کے خاندان و ساتھیوں کی لازوال قربانیاں تاریخی و مثالی حیثیت رکھتے ہیں۔

بی این پی کے دوستوں اور کارکنوں کا قتل و غارت گری ظلم و ستم کا نشانہ بنانے کا بنیادی سبب بلوچ نیشنلزم کی حقیقی سیاست فکر و فلسفہ افکار و سوچ کو کمزور کرکے بلوچ مال مڈی ساحل وسائل پر دائمی قبضہ جمانے اور حقیقی حق حکمرانی تسلیم نہ کرانے کی پالیسیوں کا تسلسل ہے کیونکہ بالادست قوتوں کی نظریں بلوچستان کے دولت سے مالا مال خطے کی سرزمین اور750کلو میٹر بحر بلوچ اور جیو پولیٹکل کے اہمیت کے حامل بلوچستان کے وطن پر مرکوز ہیں اور انھیں یہاں کے عوام کی ترقی خوشحالی فلاح و بہبود اور دیگر بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی سے کوئی سروکار نہیں ہیں۔

انھیں بلوچستان کے وساحل درکار ہیں تاکہ وہ اپنے بڑتی ہوئی معاشی مفادات کی تکمیل کو یقینی بناکر اور اپنے بڑھتی ہوئی آبادی کو یہاں بسا کربلوچستان کی جغرافیائی ڈیمو گرافک تبدیلی کو تبدیل کرکے بلوچ عوام کو اقلیت میں تبدیل کرسکے یہی وجہ ہے کہ وہ بلوچستان کے قومی سیاسی سوال کو ضعیف اور کمزور کرنے کیلئے بلوچستان کی حقیقی قومی جدوجہد سے دنیا اور لوگوں کی توجہ ہٹانے کیلئے۔

بلوچستان میں خودساختہ نام نہاد قبائلی جھگڑوں کا جواز بنا کر اس خطے کو میدان جنگ بنانے مذہبی انتہاء پسندی دہشت گردی فرقہ واریت تعصب تنگ نظری اور نفرت کا ماحول بنا کر اپنے توسعی پسندانہ پالیسیوں کو تقویت دینا چاہتے ہیں لیکن یہ حکمرانوں اور ان کی غلط فہمی ہے کہ وہ اکسیویں صدی میں مزید دنیا اور لوگوں کو بے وقوف بنا کر بلوچستان کی قومی جدوجہد کو کاؤنٹر کرنے میں کامیاب ہونگے۔

اور ایسے حالات میں جب بی این پی جیسا سیاسی نظریاتی فکری یہاں کے تمام اقوام کے نمائندہ قومی جماعت کے ہزاروں سیاسی کارکنان بلوچستان کے کونے کونے میں موجود سیاسی جدوجہد سے وابستہ اور قومی تحریک پر پارٹی کی مضبوط گرفت اور یہاں کے عوام کی نظریں پارٹی کی اصولی موقف اور سیاست پر مرکوز ہیں یہی وجہ ہے کہ بی این پی نے ہمیشہ گروہی ذاتی مفادات سے بالاتر ہوکر بلوچستان کی اجتماعی قومی مفادات کو اولیت دی۔

اور بلوچستان کے شہداء غازیوں اور ان سیاسی کارکنوں کی آرمانوں احساست جذبات کی عملی معنوں میں ترجمانی کی جنہوں نے ہمیشہ ناانصافیوں ظلم و جبر اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف خاموشی اختیار نہیں کی یہی وجہ ہے کہ آج یہاں کے باشعور عوام ان تمام نام نہاد جماعتوں اور ان کے رہنماؤں کو مسترد کیا کہ جنہوں نے عوام کو اقتدار کے رسائی کیلئے سیڑھی کے طور پر استعمال کرتے ہوئے بلند و بانگ دعوئے کئے لیکن اقتدار کے بعد وہ تمام حصول عوام کے وعدے صوبے کے اجتماعی حقوق اور دیگر مفادات کو بھول ان قوتوں کے استحصالی منصوبوں میں برابر شریک رہے۔

جو گذشتہ ستر سالوں سے بلوچستان کے لوگوں کو احساس محرومی غربت معاشی تنگ دستی استحصال کرتے چلے آرہے ہیں انہوں نے بی این پی کے کارکنوں کو ہدایت کی ہے کہ آنے والے چیلنجز و مشکلات کا مقابلہ کرنے کیلئے پارٹی کو مزید منظم بنوا کر عوام کے ساتھ قریبی روابط رکھیں اور عوام نے جو توقعات پارٹی کے ساتھ وابستہ کئے ہوئے ہیں انہیں کسی بھی صورت میں مایوس نہیں کرینگے۔

اس موقع پرر ماما بجلی بلوچ، ماما عبدالودود مینگل، سنگت سیف اللہ سمالانی، محمد آصف جتک، خدائے رحیم قلندرانی، محمد ابراہیم بلوچ، غلام نبی سمالانی سمیت کلی الماس، کلی سمال آباد، کلی جتک آبادائیر پورٹ روڈ سے ملحقہ پارٹی کے عہدیداران اور کارکنان نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور22ستمبر کے جلسے کو کامیاب بنانے کیلئے مختلف کمیٹیاں تشکیل دے کر دوستوں کو ذمہ داریاں سونپ دی۔

Source: Daily Azadi Quetta

Share on :
Share

About Administrator

Check Also

آئی ایم ایف کا امدادی پروگرام کے مقررہ اہداف پر نظر ثانی نہ کرنے کا عندیہ

اسلام آباد —  بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے مالی سال …

Leave a Reply

'
Share
Share
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com