Home / Archives / Analysis / کرتارپور راہداری مذاکرات: نریندر مودی اور عمران خان کے لیے پنجابی عوام اتنے اہم کیوں ہیں؟
REUTERS/GETTY IMAGES

کرتارپور راہداری مذاکرات: نریندر مودی اور عمران خان کے لیے پنجابی عوام اتنے اہم کیوں ہیں؟

ہرجیشور پال سنگھ

مؤرخ

انڈیا اور پاکستان کے حکام نے بدھ کے روز پاکستان میں سکھ برادری کی مذہبی مقام کرتارپور صاحب کو کھولنے کے لیے اٹاری واہگہ بارڈر پر ایک رسمی ملاقات کی ہے۔ 

اس ملاقات میں پاکستانی حکام نے کرتارپور صاحب کے درشن کرنے والوں کے لیے چند شرائط بھی رکھی ہیں۔

ان شرائط میں انڈیا سے تعلق رکھنے والے زائرین کے لیے 15 امریکی ڈالر کے لگ بھگ سروس فیس کی ادائیگی جبکہ کرتارپور صاحب میں زائرین کے زیادہ سے زیادہ قیام کی مدت کے حوالے سے ڈیڈ لائن شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’کرتارپور راہداری کی تعمیر ایک معجزہ ہے‘

پانچ ہزار سکھ یاتری روزانہ کرتارپور آ سکیں گے

سدھو مشرقی پنجاب میں ‘ہیرو،’ بقیہ انڈیا میں ‘غدار کیوں؟’

تاہم انڈین حکام نے ان شرائط ہر اعتراضات اٹھائے ہیں۔

انڈین پنجاب کے وزیرِ اعلی کیپٹن ارمیندر سنگھ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر پوسٹ کیے گئے اپنے ایک پیغام میں ان شرائط کو شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سکھوں کے مذہبی پیشوا گرو نانک دیو جی کی تعلیمات کے خلاف ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کا مطالبہ کرتارپور راہداری کی تعمیر میں رکاوٹیں حائل کرے گا۔@capt_amarinder کی ٹوئٹر پر پوسٹ کا خاتمہ

Capt.Amarinder Singh@capt_amarinder

Disgraceful that @pid_gov has demanded a ‘service fee’ on pilgrims visiting Gurudwara Kartarpur Sahib. Such shallow demands go against the teachings of Guru Nanak Dev Ji. These uncalled for demands by Pakistan will only hinder progress of the #KartarpurCorridor.

تصویر ٹوئٹر پر دیکھیں

8032:53 PM – 4 ستمبر، 2019Twitter Ads info and privacy288 people are talking about this

@capt_amarinder کی ٹوئٹر پر پوسٹ سے آگے جائیں

انڈین حکام کی جانب سے بتائی گئی تفصیلات کے مطابق تمام زائرین جو کرتارپور صاحب درشن کے لیے جائیں گے ان کی وہاں زیادہ سے زیادہ قیام کی مدت صبح سے لے کر شام تک ہو گی۔

تاہم انڈین حکام نے اس شرط کی بھی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کرتارپور معاہدے کی روح کے خلاف ہے۔

انڈین اور پاکستانی حکام کے درمیان حالیہ ملاقات میں اس حوالے سے اتفاق نہیں ہو سکا ہے۔ 

کیا یہ اعتراضات مسئلے کا باعث بنیں گے؟ 

انڈین حکام کی جانب سے پاکستانی شرائط پر اعتراضات کے بعد سوال یہ پیدا ہو گیا ہے کہ آیا یہ اس حوالے سے ہونے والی دو طرفہ بات چیت کو متاثر کریں گے۔ سادہ سا جواب یہ ہے کہ یہ مسئلہ دونوں ممالک کے لیے کافی اہم ہے۔

اور یہی وجہ ہے کہ ان اعتراضات کے بعد بھی اس بات کا اندیشہ نہیں ہے کہ بات چیت تعطل کا شکار ہو جائے گی۔ اگر آپ پاکستان کے نقطہ نظر سے دیکھیں تو پاکستان بھی اس جاری بات چیت سے اپنی پیٹھ نہیں موڑے گا۔

اور انڈیا کی کوشش بھی یہ ہو گی ایسی کوئی صورتحال جنم نہ لے۔

دونوں ممالک میں حکام کے لیے پنجاب میں بسنے والے عوام اور ان کے جذبات بہت اہم ہیں۔ پاکستان میں عمران خان کی حکومت کے لیے ان کے ملک میں بسنے والی سکھ برادری بہت اہمیت کی حامل ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے مگر یہ مسئلہ اس کشیدہ صورتحال کی نظر نہیں ہو گا۔ کیونکہ دونوں ممالک کی حکومتیں اپنی اپنی سکھ برادری کو ناراض کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتیں۔

عمران خان کے لیے پنجابی عوام اتنے اہم کیوں ہیں؟

پاکستان میں عمران خان کی حکومت کے لیے یہ مسئلہ اس لیے بھی کافی اہمیت اختیار کر گیا ہے کیونکہ پاکستانی معیشت اس وقت انتہائی گراوٹ کا شکار ہے۔

کرتارپور صاحب
Image captionپاکستان میں حکام یہ بھی چاہیں گے کہ انڈیا کی سکھ برادری میں پاکستان کے لیے نرم گوشہ پیدا ہو

اور ایسی معاشی صورتحال میں عمران کی حکومت کی سوچ یہ ہے کہ کرتارپور صاحب کو زائرین کے لیے کھولنے کے باعث امریکہ، کینیڈا اور آسٹریلیا میں بسنے والی سکھ کمیونٹی کے افراد کی آمد و رفت یہاں شروع ہو جائے گی۔

پاکستانی حکومت یہ بھی سوچتی ہے کہ اگر ایسا ہو جاتا ہے تو کرتارپور صاحب کو ایک بین الاقوامی سکھ ٹورازم کے مقام میں بدلا جا سکتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ کرتارپور صاحب کی انڈیا میں بسنے والے لوگوں کے لیے بھی انتہائی اہمیت ہے۔ اور جب یہ مسئلہ حل ہو گا تو لازماً وہ یہاں آنا پسند کریں گے۔

اسی صورتحال میں حکومتِ پاکستان کے لیے وہ مواقع پیدا ہوں گے کہ وہ کرتارپور صاحب کو اپنی معیشت کی بہتری کے لیے استعمال کر سکے گی۔

پاکستان میں حکام یہ بھی چاہیں گے کہ انڈیا کی سکھ برادری میں پاکستان کے لیے نرم گوشہ پیدا ہو تاکہ پاکستانی کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی مستقبل میں اس سے مستفید ہو سکے۔

یہ وہ وجوہات ہیں جن کے باعث کرتارپور صاحب پاکستان کے لیے بھی کافی اہم ہے۔

وزیر اعظم مودی کے لیے پنجابی کیوں اہم ہیں؟

انڈین حکومت کی جانب سے جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کے اختتام کے بعد انڈیا اور پاکستان کے تعلقات میں کافی تلخی پیدا ہوئی ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تلخی کے اس ماحول میں انڈین حکومت پاکستان کے ساتھ کرتارپور صاحب کے مسئلے پر بات چیت کیوں جاری رکھے ہوئے ہے۔

اس سوال کا جواب جاننے کے لیے ہمیں انڈین پنجاب کی تاریخ پر ایک نظر ڈالنی ہو گی۔

کرتارپور صاحب
Image captionانڈین پنجاب نے ماضی میں شدت پسندی کے ایک دور کا سامنا کیا ہے جس میں کافی خون ریزی ہوئی اور ماحول کشیدہ رہا

انڈین پنجاب نے ماضی میں شدت پسندی کے ایک دور کا سامنا کیا ہے جس میں کافی خون ریزی ہوئی اور ماحول کشیدہ رہا۔

پاکستان کی طرف سے انڈین پنجاب میں شدت پسندی کو سپورٹ کیا گیا تھا جبکہ پنجاب میں مسائل کو حل کرنے میں انڈین گورنمنٹ کو کافی مشکلات پیش آئیں تھیں۔

ایسی صورتحال میں انڈیا یہ کبھی نہیں چاہے گا کہ کوئی ایسا مسئلہ سر اٹھائے جس کے باعث پاکستان سے دوبارہ انڈین پنجاب میں بسنے والوں کو ورغلانے کی ایسی کوئی کوشش کی جا سکے۔ 

خاص کر ایسے موقع پر جب پہلے ہی انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں حالات بگڑ رہے ہیں انڈین حکام یہ نہیں چاہیں گے کہ ریاست پنجاب میں کسی ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے۔

آئندہ چند روز میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں حالات کے مزید بگڑنے کا اندیشہ ہے۔

انڈین حکومت کا تاثر ہے کہ اس وقت انڈیا میں بسنے والی مذہبی گروپوں میں صرف سکھ وہ کمیونٹی ہے جو انڈیا کی حکومت کو مکمل طور پر سپورٹ کر رہی ہے۔

انڈین حکومت کبھی نہیں چاہے گی کہ کرتارپور کے معاملے پر ایسی صورتحال جنم لے کہ سکھ عوام ناراض ہوں۔

کیونکہ اگر انڈیا میں بسنے والی تمام مذہبی گروہ حکومت کے خلاف ہوں گے تو یہ انڈین حکومت کے تشخص کے لیے بہتر نہیں ہو گا۔

کرتارپور صاحب کا مسئلہ کب حل ہو گا؟

کرتارپور صاحب
Image captionکرتارپور میں واقع گرودوارہ دربار صاحب کا انڈین سرحد سے فاصلہ چند ہی کلومیٹر کا ہے اور یہ پنجاب کے ضلع نارووال کی حدود میں تحصیل شکر گڑھ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں دریائے راوی کے مغربی جانب واقع ہے

امید ہے کہ یہ مسائل جلد ہی حل ہو جائیں گے۔

کیونکہ انڈیا اور پاکستان میں کوئی بھی یہ نہیں چاہے گا کہ اس حوالے سے ہونے والی بات چیت کو روکنے کا الزام اس کے سر جائے کیونکہ دونوں ممالک کے لیے یہ مسئلہ انتہائی اہم ہے۔

اور ایسی صورتحال میں اس مسئلے کے جلد حل ہونے کی امید کافی زیادہ ہے۔

(یہ تجزیہ نمائندہ بی بی سی اننت پرکاش سے ہوئی بات چیت کی بنیاد پر لکھا گیا ہے)

Source: BBC URDU

Share on :
Share

About Administrator

Check Also

آئی ایم ایف کا امدادی پروگرام کے مقررہ اہداف پر نظر ثانی نہ کرنے کا عندیہ

اسلام آباد —  بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے مالی سال …

Leave a Reply

'
Share
Share
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com