Home / Archives / حکومت چھ نکات پر عملدرآمد میں سست روی کا مظاہرہ کررہی ہے، لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کیا جائے، اختر مینگل

حکومت چھ نکات پر عملدرآمد میں سست روی کا مظاہرہ کررہی ہے، لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کیا جائے، اختر مینگل

دشت: بلوچستان نیشنل پارٹی کی مرکزی کمیٹی کا اجلاس دشت گونڈین میں منعقد ہوا اجلاس کی صدارت پارٹی کے مرکزی صدر سردار اختر جان مینگل نے کی جبکہ اجلاس کی کارروائی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی نے چلائی اجلاس میں شہید نواب امان اللہ خان زہری اور دیگر شہداء کے فاتحہ خوانی کی گئی اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

اجلاس میں بلوچستان، ملکی بین الاقوامی سیاسی صورتحال، ساؤتھ ایشیاء مڈل ایسٹ کے بدلتے ہوئے حالات اور ملک پر اس کے اثرات، پارٹی تنظیم کاری، قومی کونسل سیشن کے تاریخ کا تعین اور آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے تفصیل سے بحث و تمیز کی گئی اجلاس میں کہا گیا کہ بی این پی کے چھ نکات پر حکومت سے معاہدہ کیا گیا تھا۔

اس پر بھی سیر حاصل بحث کی گئی اور کہا گیا کہ بلوچستان کے اجتماعی قومی مفادات سے وابستہ چھ نکات اجتماعی نوعیت کے ہیں اسی بنیادوں پر حکومت کے ساتھ جو اتحاد کیا گیا تھا ہماری اولین ترجیحات اور مقاصد بھی یہی ہیں کہ بلوچستان کے لاپتہ افراد کو بازیاب، افغان مہاجرین کی باعزت واپسی، گوادر سے متعلق قانون سازی جو ہماری قومی تشخص اور سرزمین کا اہم اہمیت کا حامل ہے فوری طور پر اس حوالے سے قانون سازی کی جائے ہزاروں سالوں پر ہماری تاریخ ہے۔

اپنی سرزمین پر ہی اقلیت میں تبدیل نہ ہوں قانون سازی کے بعد دیگر صوبوں اور علاقوں سے آنے والے لوگوں کو شناختی کارڈز، پاسپورٹ اور انتخابی فہرستوں میں اندراج پر پابندی ہونی چاہئے بلوچستان میں جھوٹے اور بڑے ڈیمز فوری طور پر بنائے جائیں کیونکہ جس تیزی کے ساتھ سرزمین پانی کی سطح گر رہی ہے کسی حد تک پانی کے بحران پر قابو پایا جا سکے اجلاس میں کہا گیا ہے کہ وفاق حکومت میں بلوچستان کے کوٹہ اور فارن سروسز میں نظر انداز کیا گیا یہ امر قابل تشویش ہے۔

بلوچستان جو پہلے ہی صنعتیں نہ ہونے، زراعت اور گلہ بانی کا شعبہ بھی زبوں حالی کا شکار ہے بلوچستان کے عوام معاشی اور معاشرتی طور پر کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں ایسے بحرانی حالات میں بلوچستان کو وفاقی ملازمتوں میں یکسر نظر انداز کرنے سے یقینا احساس محرومی میں اضافہ ہوگا جعلی ڈومیسائل کے ذریعے کچھ ملازمتیں دی بھی گئیں ہیں ان کا تعلق بلوچستان سے نہیں ہے بلوچستان کے وسائل پر یہاں کے عوام کا اولین حق ہے بلوچستان کے وسائل لوٹے جاتے ہیں۔

وسائل میں بلوچستان کے حصے میں اضافہ ہمارے چھ نکات میں شامل ہے اجلاس میں بحث و تمیز کے بعد اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا کہ پارٹی کے چھ نکات اور ترقیاتی اسکیموں کے حوالے سے جو9نکات ہیں اس پر وفاقی حکومت سست روی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔

اجلاس میں کہا گیا کہ فوری طور پر لاپتہ افراد کی بازیابی سمیت بلوچستان کے اہمیت نوعیت کے معاملات کو فوری طور پر حل کیا جائے تاکہ بلوچستان کے لاپتہ افراد کے لواحقین جس ذہنی کوفت اور کرب سے گزر رہے ہیں ان کا خاتمہ ہو سکے بلوچستان کے معاملے کو سیاسی بنیادوں پر حل کرنے کی ضرور ت ہے۔

حکومت وقت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ پارٹی کے ان نکات پر عملدرآمد کرنے کی فوری طور پر اقدامات کرے قومی جمہوری سیاسی جماعت ہونے کے ناطے پارٹی نے ہمیشہ بلوچستان کے وسیع تر مفادات کی ترجمانی کرتے ہوئے ثابت قدمی، طویل جہد کی اور معاشرے میں فرسودہ قبائلی رشتوں کے خاتمے اور بلوچستان میں سیاسی شعوری اور فکری جدوجہد کے ذریعے قومی تشخص، وسائل پر دسترس اور عوام کی زندگیوں میں مثبت خوشحال معاشرے کے قیام کیلئے جدوجہد کو تقویت دی جمہوری اداروں کا استحکام اور عوام کی زندگی میں تبدیلیاں لانے کیلئے عملی جدوجہد بھی کی تاکہ اکیسویں صدی میں بلوچستان کے عوام جو کسمپرسی، زبوں حالی اور سماجی طور پر مسائل سے دوچار ہیں عوام کے مسائل کم اور مثبت تبدیلیاں رونما ہو سکیں بی این پی ترقی پسند، روشن خیال سیاسی قوت ہے جو بلوچستان کے معاشرے میں مثبت قوم پرستی کے رجحانات کو پروان چڑھا رہی ہے۔

تنگ نظری، تعصب اور دیگر سماجی منفی خیالات و افکار کے خاتمے کیلئے بھی جدوجہد کر رہے ہیں تاکہ بلوچ اور بلوچستانی عوام کے حقوق کا تحفظ ہر پلیٹ فارم پر کیا جا سکے اس حوالے سے ماضی کیطرح اب بھی عوام کے حقوق ساحل وسائل کے تحفظ کیلئے جہد کرتے رہیں گے۔

ترقی پسند جماعت ہونے کے ناطے معاشرے میں ترقی و خوشحالی کے ہرگز مخالف نہیں لیکن حکومت وقت کی بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ترقی و خوشحالی کیلئے پروجیکٹس ترتیب دیتے وقت بلوچستانی عوام کے مفادات کو ملحوظ خاطر رکھے اور ایسے فیصلوں سے اجتناب کرے جس سے احساس محرومی جنم لے گوادر کو وفاقی ڈویژن بنانا دراصل آئین کی خلاف ورزی اورصوبائی خودمختاری کے برخلاف ہے اس حوالے سے جو تشویش پائی جا رہی ہے۔

حکومت وقت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات نہ کرے جس سے عوام کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے اجلاس میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی حالات جس تیزی سے بدل رہے ہیں یقینا بلوچستان پر اس کے اثرات زیادہ پڑیں گے خدشات و تحفظات ہیں ان کو مد نظر رکھ کر حکمران بلوچستان کے مفادات کے تحفظ کو یقینی بنائیں تاکہ بلوچستان کے عوام میں جو تشویش پائی جاتی ہے۔

اس میں کمی ہو سکے اور دوسروں کی جنگ کا حصہ بننے کی بجائے ملکی مفادات کو ملحوظ خاطر رکھا جائے تاکہ بلوچستان سمیت ملک نقصانات سے بچ سکے اجلاس میں کہا گیا کہ بلوچستان سے افغان مہاجرین کے انخلاء اور شناختی کارڈز کے غیر قانونی اجراء کے حوالے سے بھی کہا گیا کہ بلوچ اور بلوچستانی عوام کے مفادات کی خاطر کسی بھی غیر قانونی شناختی کارڈز، پاسپورٹ اور دیگر دستاویزات کو قبول نہ کیا جائے کیونکہ پیسوں اور سیاسی بنیادوں پر غیر ملکی افغان مہاجرین کے شناختی کارڈز بنانے کا عمل کوئٹہ و دیگر اضلاع سے جاری کئے جا رہے ہیں جو مقامی عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔

اجلاس میں اس بات کا اعادہ بھی کیا گیا کہ ہر فورم پر افغان مہاجرین کے انخلاء کیلئے آواز بلند کی جائے گی تاکہ بلوچستان کے عوام کے مفادات کو مزید ٹھیس نہ پہنچ نادرا کے ارباب و اختیار کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ2017میں جاری نوٹیفکیشن پر من و عن عملدرآمد کیا جائے۔

اس نوٹیفکیشن کی روح کے مطابق اقدامات نہ کرنا غیر قانونی ہو گا اجلاس میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں بحرانی حالات و واقعات کے پیش نظر اس بات پر زور دیا گیا کہ ترقی پسند، نظریاتی، فکری قومی سیاسی ہونے کے ناطے پارٹی اداروں کو مزید مضبوط کرنے، جمہوری رجحانات کو پروان چڑھاتے ہوئے تنظیم کاری کے مراحل کو فوری مکمل کیا جائے اس حوالے سے مختلف تجاویز بھی دی گئیں اور سیر حاصل بحث بھی کی گئی۔

اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ پارٹی کو شعوری و فکری طور پر مزید مضبوط و مستحکم بنانے کے حوالے سے اقدامات کئے جائیں گے کیونکہ موجودہ حالات کو مد نظر رکھ کر مضبوط پارٹی ہی موجودہ بحرانات کا مقابلہ کر سکتی ہے۔

اجلاس میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان و ملکی سطح پر تنظیمی مراحل کو مکمل کرنے کیلئے تمام اضلاع کے ارباب و اختیار کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے اضلاع اور تحصیلوں میں پارٹی آئین کے مطابق پارٹی انتخابات کے مراحل کو مکمل کریں تاکہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے ضلعوں، تحصیل، وارڈز میں انتخابی مرحلہ مکمل ہونے کے بعد پارٹی کا

قومی کونسل سیشن کا اعلان کیا جائے قومی کونسل سیشن کی تیاریوں کے حوالے سے پارٹی کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی، مرکزی سینئر نائب صدر ملک عبدالولی کاکڑ، منظور بلوچ، موسٖی بلوچ، اختر حسین لانگو، میر ہمایون کرد پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی جو قومی کونسل سیشن کی تیاریوں کے حوالے سے اقدامات کریں گے۔

اسی طرح آئینی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی جو مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ، نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی، ساجد ترین ایڈووکیٹ، غلام نبی مری، ثناء بلوچ پر مشتمل ہوگی جو پارٹی آئین میں اصلاحات اور سفارشات مرتب کر کے کاپیاں ضلع کو بھیجے گی تاکہ وہ بھی اپنی سفارشات آئینی کمیٹی کو بھجوا سکیں اجلاس میں کہا گیا کہ شہید نواب امان اللہ خان زہری اور ان کے ساتھیوں کو بی این پی سے وابستگی پر نشانہ بنایا گیا جو خالصتا سیاسی مقاصد کی بنیادوں کی گئی۔

شہید نواب امان اللہ زہری کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ شہید نے پوری زندگی غیر متزلزل انداز میں ثابت قوم ہو کر جدوجہد کی ان کی شہادت پارٹی کیلئے کسی المیے سے کم نہیں ان کی شہادت سے جو خلاء بنا اسے پر کرنا ممکن نہیں پارٹی کے شہداء کو ہمیشہ قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

شہداء کی قربانیوں کو اہم مشعل راہ سمجھتے ہیں آج پارٹی جو بلوچستان میں مضبوط عوامی قوت ہے دراصل ان شہادت کی قربانیوں، مسلسل جدوجہد اور پارٹی کے دوستوں کی ثابت قدمی، مستقل مزاجی کی وجہ سے ہے۔

اجلاس میں پارٹی کے سرپرست اعلی سردار عطاء اللہ خان مینگل کی ہمشیرہ، پارٹی کے سینئر نائب صدر ملک عبدالولی کاکڑ کی اہلیہ، خواتین سیکرٹری زینت شاہوانی کی ہمشیرہ، جاوید بلوچ کی والدہ،بی ایم کٹی کے انتقال، جمال مینگل کے والد، بی این پی سبی کے رہنماء در محمد مینگل کی اہلیہ کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی۔

اجلاس میں بی ایم کٹی کے انتقال پر بھی افسوس کا اظہار کیا گیا۔ دریں اثناء بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل،مرکزی رہنماء نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کا ہر شہری نواب نوروز خان اور انکے خاندان کی قربانیوں کا معترف ہے ہمیں جنازے اٹھانے اور جلسہ کرنے کے تجربات ہیں آج کے جلسہ سے پیغام جائیگا کہ بلوچستان کے لوگ سیاسی عمل میں کسی اور کی مداخلت کو مزید برداشت نہیں کرینگے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہاکی گراؤنڈ کوئٹہ میں آج ہونے والے جلسہ کے انتظامات کا جائزہ لینے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا اس موقع پر پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی، سینئر نائب صدر ملک ولی کاکڑ، سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ، رکن قومی اسمبلی عاشم نوتیزئی،اختر حسین لانگو،احمد نواز بلوچ سمیت پارٹی کی مرکزی کابینہ سینیٹرل کمیٹی ضلع کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے پارٹی رہنماء اور کارکن بھی موجود تھے۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے بی این پی کے سربراہ رکن قومی اسمبلی سردار اختر جان مینگل نے کہا کہ جہاں تک کوئٹہ میں آج ہونے والے جلسے کا تعلق ہے تو ہم نے اپنے لوگوں کے جنازے بھی اٹھائے ہیں اور جلسے بھی کئے ہیں اس لحاظ سے ہمیں دونوں تجربات حاصل ہیں۔ آج ہونے والے جلسے کا مقصد شہید نواب امان اللہ خان زہری اور ساتھیوں کو خراج عقیدت پیش کرنا ہے۔

بلوچستان میں ایک عرصہ سے سیاسی لوگوں کا قتل عام کیا جارہا ہے صوبے میں سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کو حقیقی سیاست سے دور رکھنے کیلئے ذاتیات،قبائلی دشمنیوں، فرقہ اور علاقہ پرستی کا رنگ دیکر ان کو شہید کیا گیا انہوں نے کہا کہ نواب نورزوز خان کے گھرانے کی قربانیوں اور جدوجہد کا پاکستان میں رہنے والا ہر شہری معترف ہے انہوں نے کہا کہ نواب امان اللہ زہری انکے پوتے اور ساتھیوں کے قتل میں ملوث ملزمان کو اب تک گرفتار نہیں کیا گیاجو باعث تشویش ہے۔

اس موقع پر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا کہ آج ہونے والا جلسہ بلوچستان کی سیاست میں مثبت کردار ادا کریگا جلسہ میں تمام برادریوں،طبقات،بلوچ، پشتون، سیٹلرز، ہزارہ یکجا ہوکر بلوچستان میں امن خوشحالی اور یکجہتی کا پیغام دینگے جلسے سے یہ پیغام جائیگا کہ سیاسی عمل کا راستہ روکنے والے ملک اور صوبے کا نقصان کررہے ہیں بلوچستان کے لوگ سیاسی عمل میں کسی اور کی مداخلت کو مزید برداشت نہیں کرینگے۔

Source: Daily Azadi Quetta

Share on :
Share

About Administrator

Check Also

جب بھی فوج مداخلت کرتی ہے نتائج برے ہوتے ہیں: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

لاہور —  سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے …

Leave a Reply

'
Share
Share
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com