Home / Archives / بولان میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنس کی داخلہ پالیسی قبول نہیں، سابقہ ضوابطہ بحال کئے جائیں،بلوچ طلباء ایکشن کمیٹی

بولان میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنس کی داخلہ پالیسی قبول نہیں، سابقہ ضوابطہ بحال کئے جائیں،بلوچ طلباء ایکشن کمیٹی

کوئٹہ: بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنس کے داخلہ پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بلوچستان تعلیمی لحاظ سے پسماندگی کی واضح علامت ہے جہاں تعلیمی اداروں میں سہولیات کی عدم فراہمی کی وجہ سے طلبا و طالبات کا مستقبل تاریکی کا منظر پیش کررہی ہیں۔

اس منظر نامے میں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی جانب سے نئی داخلہ پالیسی میں بلوچستان کے طالب علموں کو مکمل نظر انداز کیا گیا ہے جس کی ہم ہر پلیٹ فارم میں مذمت کریں گے۔پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے نئے داخلہ پالیسی میں انٹر میں65فیصد مارکس جبکہ داخلہ ٹیسٹ میں کامیابی کے لئے60فیصد کی شرط رکھی ہیں جو بلوچستان کے تعلیمی صورتحال کو نظر انداز کرکے مرتب کی گئی ہیں۔

بلوچستان میں تعلیم کی مخدوش صورتحال،تعلیمی انتظامیہ کی اجارہ دارانہ پالیسی، تعلیمی اداروں میں سہولیات کا فقدان اور دیگر کئی مسائل دانستہ طور پر کھڑا کرنے کی کوششوں کا مقصد بلوچ طالب علموں کو دیوار سے لگانے کی ایک سازش ہے جس کا منطقی انجام بلوچستان کے مستقبل کے لئے نیگ شگون ثابت نہیں ہوگا۔

ترجمان نے اپنے بیان کے آخر میں بلوچستان حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ داخلہ پالیسی حوالے ایک مانیٹرنگ ٹیم تشکیل دیکر تمام امور کا جائزہ لینے کے بعد سابقہ داخلہ پالیسی کو ایک بار پھر بحال کیا جائے تاکہ سینکڑوں طالب علموں کا مستقبل بچایا جاسکے۔

Source: Daily Azadi Quetta

Share on :
Share

About Administrator

Check Also

جب بھی فوج مداخلت کرتی ہے نتائج برے ہوتے ہیں: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

لاہور —  سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے …

Leave a Reply

'
Share
Share
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com