Home / Archives / ’پاکستان موت کی سزاؤں پر سب سے زیادہ عمل درآمد کرنے والے ممالک میں شامل‘
رائٹTHINKSTOCK

’پاکستان موت کی سزاؤں پر سب سے زیادہ عمل درآمد کرنے والے ممالک میں شامل‘

شہزاد ملک

 بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان اور انٹرنیشنل فاؤنڈیشن آف ہیومن رائٹس نے پاکستان میں سزائے موت سے متعلق ایک مشترکہ رپورٹ تیار کی ہے جس میں موت کی سزا پانے والے قیدیوں کی حالت زار اور جیلوں میں ناقص انتظامات کا ذکر کیا گیا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں سے ایک ہے جہاں پر موت کی سزا پر سب سے زیادہ عمل درآمد کیا جاتا ہے۔

اس رپورٹ میں جہاں ایک طرف قانون میں پائی جانے والی خامیوں کا ذکر ہے تو وہیں دوسری طرف ’پولیس افسران کی طرف سے مقدمات کی ناقص تفتیش‘ اور متعقلہ عدالتوں میں ’استغاثہ کی کمزوریوں‘ کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ 

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان اور انٹرنیشنل فاؤنڈیشن فور ہیومن رائٹس کی تیار کردہ اس مشترکہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس وقت ملک میں ایسے 32 قوانین ہیں جن کی خلاف ورزی پر موت کی سزا سنائی جاسکتی ہے جبکہ اس کے برعکس قیام پاکستان کے وقت صرف دو جرائم ایسے تھے جن میں موت کی سزا تجویز کی گئی تھی جن میں قتل کے علاوہ دہشت گردی بھی شامل تھی۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سابق فوجی صدر ضیا الحق کے دور میں سب سے زیادہ ایسے قوانین متعارف کروائے گئے جن میں موت کی سزا دی جا سکتی تھی۔

اس رپورٹ کے مطابق سنہ 2015 میں پاکستان کی مختلف عدالتوں نے 418 افراد کو پھانسی کی سزا سنائی اور 333 افراد کو پھانسی دی گئی۔

سنہ 2016 میں 425 افراد کو موت کی سزا سنائی گئی اور 89 افراد کو پھانسی دی گئی۔

سنہ 2017 میں مختلف عدالتوں نے 260 افراد کو موت کی سزا سنائی اور عدالتی فیصلوں پر عمل کرتے ہوئے 64 افراد کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔

سنہ 2018 میں 347 افراد کو موت کی سزا سنائی گئی اور 14 افراد کو پھانسی دی گئی جبکہ رواں سال اگست کے مہینے تک مختلف عدالتوں نے 333 افراد کو موت کی سزا سنائی ہے اور اب تک آٹھ افراد کو پھانسی دی گئی ہے۔ 

اس عرصے کے دوران فوجی عدالتوں نے 306 مقدمات کا فیصلہ سنایا اور ان میں سے 56 افراد کی سزاؤں پر عمل ہوا۔ 

حکومت کا کہنا ہے کہ ’جن افراد کو فوجی عدالتوں نے موت کی سزا سنائی وہ تمام دہشت گرد تھے‘۔

پھانسے چڑھنے سے 24 گھنٹے پہلے۔۔۔

رپورٹ میں پشاور ہائی کورٹ کے ایک ڈویژن بینچ کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس میں اُنھوں نے فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے 70 افراد کی سزاؤں پر عمل درآمد روک دیا۔

رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ گذشتہ 20 برس کے دوران مختلف عدالتوں نے 33 خواتین کو موت کی سزا سنائی ہے تاہم ان میں سے کسی ایک پر بھی عمل درآمد نہیں ہوا۔ جن خواتین کو موت کی سزا سنائی گئی ان پر زیادہ تر منشیات اور گھریلو جھگڑوں کے مقدمات تھے۔

رپورٹ میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ ایسی خواتین قیدی جن کے بچے بھی ہیں اور وہ بچے چھ سال کی عمر تک اپنی والدہ کے ساتھ جیل میں رہ سکتے ہیں تاہم جیلوں میں ان بچوں کی دیکھ بھال کے لیے انتظامات ’غیر تسلی بخش‘ ہیں۔

اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سنہ 2004 سے لے کر رواں سال اگست کے مہینے تک 5089 افراد کو مختلف عدالتوں کی طرف سے سزائے موت سنائی گئی جبکہ گذشتہ سات سال کے دوران 1800 افراد کو موت کی سزا سنائی گئی جن میں سے 520 افراد کی سزاؤں پر عمل درآمد ہوا۔

پاکستان کی مختلف جیلوں میں قیدیوں کی تعداد کا ذکر تو نہیں کیا گیا البتہ یہ ضرور کہا گیا ہے کہ ان جیلوں میں قید افراد وہاں کی گنجائش سے بہت زیادہ ہیں۔

مختلف جیلوں میں سزائے موت کے قیدیوں کے لیے بنائی گئی بیرکوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان بیرکوں میں ایک سے دو افراد کے رہنے کی گنجائش ہے جبکہ وہاں پر چھ سے آٹھ قیدیوں کو رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ نکاسی آب کے ناقص انتظامات کی وجہ سے قیدی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔

اس رپورٹ میں جہاں یورپی یونین کی طرف سے سزائے موت کو ختم کرنے کے مطالبے کو دہرایا گیا ہے وہیں غیر منصفانہ ٹرائل کے خاتمے اور اس ضمن میں قوانین میں ترامیم کرنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

غیر منصفانہ ٹرائل میں استغاثہ کی طرف سے اپنی مرضی کے گواہان کو پیش کرنے کے ساتھ اصل حقائق سامنے نہ لانے اہم وجوہات میں شامل ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ ماتحت عدالتوں کی طرف سے ایسے85 فیصد فیصلوں کو کالعدم قرار دے دیتی ہیں جس میں ماتحت عدالتوں نے موت کی سزا سنائی ہوتی ہے۔

پاکستان کے موجودہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے قتل کے مقدمات سے متعلق اپیلوں پر جتنے بھی فیصلے دیے ہیں ان میں پولیس کی ناقص تفتیش اور کمزور استغاثہ کی وجہ سے مجرموں کو ان الزامات سے یا تو بری کردیا ہے اور یا پھر موت کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کردیا۔

جیل
Image captionایک اہم مسئلہ جیل میں سزا یافتہ ماؤں کے ساتھ رہنے والے بچوں کے لیے ماحول کا بھی ہے

پنجاب کے وسطی شہر سیالکوٹ میں دو بھائیوں کو ڈاکو قرار دیکر اُنھیں سرعام تشدد کرکے قتل کے مقدمے میں موت کی سزا پانے والے سات مجرمان کی سزاؤں کو دس دس سال قید میں تبدیل کردیا۔ 

انسانی حقوق کی دونوں تنظیموں نے ججز اور وکلا سے بھی بات کر کے ان کی آراء کو اس رپورٹ کا حصہ بنایا ہے۔

اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ماتحت عدلیہ بالخصوص قتل کے مقدمات میں مقتول کے ورثا کے جذبات اور خود اپنی جان بچانے کے لیے ایسے فیصلے کردیتے ہیں جو اکثر اوقات قتل کے واقعات سے مطابقت نہیں رکھتے۔

فوجداری مقدمات کی پیروی کرنے والے وکیل افتخار شیروانی کا کہنا ہے کہ قتل کے مقدمات میں پراسیکیوشن کی کامیابی کا تناسب صرف20 فیصد ہے جس کی بنیادی وجہ مقدمے کی صحیح طریقے سے تیاری نہ کرنا اور صحیح حقائق عدالت کے سامنے پیش نہ کرنا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ماتحت عدلیہ میں زیادہ تر فیصلے سوشل جسٹس سسٹم کے تحت ہوتے ہیں جس کی وجہ سے اعلیٰ عدالتوں میں ایسے فیصلے کالعدم قرار دیے جاتے ہیں۔

اس رپورٹ میں جدید خطوط پر تفتیش کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ عدالتوں میں اپنی مرضی کے گواہ پیش کرنے کی بجائے جائے حادثہ سے فرانزک بنیادوں پر ایسے شواہد اکھٹےکریں جسے کوئی عدالت جھٹلا نہ سکے۔

پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین امجد شاہ کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس نےمقدمات کو فوری نمٹانے کے لیے کریمینل جسٹس سسٹم میں اصلاحات لانے کی بات کی ہے لیکن متعلقہ ادارے اس جانب توجہ نہیں دے رہے جس کی وجہ سے عدالتی نظام پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ قتل کے ایک مقدمے کے اندراج سے لے کر اسے اپنے منطقی انجام تک پہنچانے میں15 سال تک کا عرصہ لگ جاتا ہے اور اس عرصے کے دوران مدعی مقدمہ اور ملزمان کے خاندانوں کے لاکھوں روپے وکلا کی فیسوں کی ادائیگی میں خرچ ہوجاتے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے جاری کردہ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی خاندان کے فرد کو سزائے موت ہو جائے تو اس خاندان کے دوسرے افراد پر نفسیاتی اور معاشرتی دباؤ رہتا ہے جبکہ اس کے علاوہ مقدمات لڑنے کی وجہ سے سماجی اور اقتصادی مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اس رپورٹ میں یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ پاکستان میں انسداد تشدد ایکٹ فوری طور پر نافذ کروایا جائے اور اس کے علاوہ ماورائے قتل اور قانون نافد کرنے والے اداروں اور سکیورٹی فورسز کی تحویل میں ہلاکتوں کے واقعات کا سختی سے نوٹس لینا چاہیے اور ایسے افراد کے خلاف کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔

ماہر قانون عبدالرحمن کا کہنا ہے کہ ماورائے عدالت قتل سے متعلق اس طرح کے اقدامات نہیں کیے گئے جو کیے جانے چاہیے تھے۔ اُنھوں نے کہا کہ قانون کے رکھوالوں نے ساہیوال میں چار افراد کو مبینہ طور پر شدت پسند قرار دیکر اُنھیں قتل کردیا لیکن آج تک مقتولین کے ورثا انصاف کے منتظر ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ اس کے علاوہ تھانوں میں بھی تشدد کے دوران درجنوں ملزموں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں لیکن زیادہ تر ان واقعات میں ملوث پولیس اہللکار عدم ثبوت کی بنا پر بری ہوجاتے ہیں۔

ان دونوں تنظیموں نے یہ بھی کہا ہے کہ پاکستانی حکام انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندوں کو ان عدالتوں میں بیٹھنے کی اجازت دیں جہاں پر ایسے مقدمات کی سماعت ہو رہی ہو جس میں ملزم کو موت کی سزا بھی سنائی جاسکتی ہے۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے بھی انسانی حقوق کی تنظیموں نے فوجی عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات میں عدالتی کارروائی دیکھنے کے لیے درخواست کی تھی جو مسترد کرد ی گئی۔

Source: BBC URDU

Share on :
Share

About Administrator

Check Also

جب بھی فوج مداخلت کرتی ہے نتائج برے ہوتے ہیں: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

لاہور —  سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے …

Leave a Reply

'
Share
Share
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com