Home / Archives / جامعہ بلوچستان ویڈیو سکینڈل‘ طلباء تنظیموں کا احتجاج جاری‘ وائس چانسلر کی فوری برطرفی کا مطالبہ

جامعہ بلوچستان ویڈیو سکینڈل‘ طلباء تنظیموں کا احتجاج جاری‘ وائس چانسلر کی فوری برطرفی کا مطالبہ

کوئٹہ: بلوچستان طلباء تنظیموں کے رہنماؤں زبیر شاہ آغا،کبیر افغان،ملک زبیر بلوچ نے کہا ہے کہ وائس چانسلر کو بچانے کیلئے نادیدہ قوتیں سرگرم ہوچکی ہیں اور ہر حال میں وائس چانسلر کو محفوظ راستہ دینے کی راہ ہموار کی جارہی ہے۔

جس کی طلباء ایجو کیشنل الائنس مذمت کرتی ہے کیونکہ اس اسینڈل کے ذمہ دار یہی وائس چانسلر ہے اور یونیورسٹی میں گزشتہ چھ سالوں کے دوران جو بھی بے قاعدگیاں،میرٹ کی خلاف ورزیاں،اقرباء پروری،غیر قانونی تعیناتیاں اور کرپشن ہوئی ہے۔

اور یوبین نامی بد نام زمانہ تنظیم کے ذریعے جس طرح بلیک میلنگ اور جنسی ہراسگی کا ماحول بنایا گیا اس کی تحقیقات کیلئے ایک اعلی سطح کمیشن بنایا جائے ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ بلوچستان یونیورسٹی کے بلیک میلنگ اور جنسی ہراسگی اور خفیہ کیمروں کے ذریعے ویڈیوز بنانے کے خلاف گزشتہ ایک ہفتے سے بلوچستان سمیت ملک کی دیگر حصوں میں شدید احتجاج جاری ہے۔

احتجاج میں شریک عوام،سیاسی پارٹیوں،طلباء تنظیموں،صحافیوں،وکلاء،ڈاکٹرز،دانشوروں،سول سوسائٹی،انسانی حقوق تنظیموں،منتخب ممبران اسمبلی،اساتذہ تنظیموں اورمیڈیا کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ وائس چانسلر کو برطرف کے ہی صاف اور شفاف تحقیقات ممکن بنائی جاسکتی ہے لیکن وائس چانسلر کی ہٹ دھرمی انتہاء کو پہنچ چکی ہے اور مزید دکھ اور تکلیف کی بات ہے۔

کہ گورنر وائس چانسلر کو برطرف کرنے کی بجائے سیاسی پارٹیوں اور طلباء تنظیموں کو تلقین کررہے ہیں کہ وہ بیانات دینے سے گریز کرے جو اس پسمانڈہ و غریب صوبے کے عوام کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے بلوچستان یونیورسٹی میں اس اسکینڈل میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی اورگرفتاری کرنے کی بجائے یونیورسٹی انتظامیہ نے ایک بار پھر یونیورسٹی کے اندر طلباء تنظیموں پر دباؤ ڈالنے کیلئے یونیورسٹی کے داخلی دروازوں پر طلباء کو ہراساں کرنا شروع کر دیا ہے۔

تاکہ طلباء وطالبات کے جائز اور قانونی احتجاج کو ختم کیا جاسکے۔دریں اثناء گورنر بلوچستان اور وزیر اعلی بلوچستان کوفوری طورپر مستعفی ہوجائیں یونیورسٹی کی صورتحال پر ان کی خاموشی تاریخ کا سیاہ باب تصور کی جائے گی ان خیالات کااظہار پشتونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن،بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن،بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی اور دیگر طلباء تنظیموں کے رہنماؤں نے گورنمنٹ پوسٹ ڈگری کالج کے ایک بڑی ریلی کی قیادت کرتے ہوئے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

مقررین نے کہا کہ ایک بے حس معاشرے کے حکمران ہمیشہ ایسے واقعات پر خاموش ہیں انہوں نے کہا کہ اب تو ایف آئی اے پر بھی دباؤ بڑھا دیا گیا ہے کہ وہ تحقیقات میں تیزی نہ لائے یار محمد بریال،وحید بلوچ،شاہ دوست،امین بلوچ نے مزید کہا کہ ایک ہفتے سے طلباء،سیاسی جماعتیں اور سول سوسائٹیز سراپا احتجاج ہے۔

لیکن وائس چانسلر کو بچانے کی اب بھی کوششیں جاری ہیں مقررین نے کہا کہ 21اکتوبر بروز سموار 10بجے بلوچستان یونیورسٹی کے سامنے دھرنا دیا جائے گا اور احتجاج کو مزید منظم کر کے جمہوری انداز میں آگے بڑھایا جائے گا۔

Source: Daily Azadi Quetta

Share on :
Share

About Administrator

Check Also

Why the Student Solidarity March is being organised across the country

In the midst of fee hikes, harassment scandals and arrests from campuses, students across the …

Leave a Reply

'
Share
Share
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com