Home / Archives / Analysis / بلوچ سیاسی منظرنامہ اور منجمد معاشرہ

بلوچ سیاسی منظرنامہ اور منجمد معاشرہ

ڈاکٹر خورشید کریم

معاشرتی زندگی کئی عوامل سے گزر کر ایک ترتیب جنم دیتی ہے اور یہ عوامل اُس معاشرے میں زندہ رہنے والے انسانوں کی زندگیوں کا تعین کرتی ہیں- چونکہ انسان ایک ترقی پسند مخلوق ہے۔ اور معاشرتی ارتقا کی تہ در تہ پرتھوں سے گزر کر، غلطیوں سے سیکھ سیکھ کر آگے کی منزلوں کو طے کرتا ہے۔ کسی بھی معاشرے کی ارتقائی بنیادیں اُس معاشرے کے علم اور آگائی سے جنم لیتی ہیں۔ اور کسی بھی معاشرے میں موجود لوگوں میں علم اور آگاہی کی گہرائیاں اُس معاشرے میں موجود افراد کی ترقی کے سمتوں کا فیصلہ کرتی ہیں اور معاشرے کو بہتری کی طرف لے کر جاتی ہیں۔ شاید یہی وجہ تھی کہ جب نوآبادیاتی قوتوں نے کسی بھی معاشرے کو کالونائز کیا تو اُن معاشروں سے ہر وہ فہم چھین لیا یا پھر چیھن لینے کی کوشش کی جس سے مقبوضہ معاشرہ ایک مکمل اور منصوبہ ساز تحریک کی طرف چل سکتے تھے۔

ایک مکمل اور منصوبہ ساز تحریک تنظیم کاری اور اداروں کی تشکیل کی جانب لے کر جاتی ہے- اور وہ تنظیم اور ادارے ہی ہوتیں ہیں جو منّظم اور سائنسی بنیادوں پر معاشرے میں میئسر طاقتوں اور کمزوریوں کا تعئین کرتیں ہیں تا کہ معاشرے میں موجود افراد اس میں میئسر معاشرتی قوت، مہارت اور وسائل کو بہتر استعمال کر پائیں۔ لیکن کئی عوامل معاشرتی ارتقاء پر بلواسطہ یا بلا واسطہ اثرانداز ہوتے ہیں جو معاشرے کی ترقیاتی کوششوں کے نتائج کو متاثر کرتے ہیں ۔جیسا کہ کسی بھی معاشرے میں موجود لوگوں میں ترقی کرنے کا جوش اور جذبہ موجود ہونا چائیے۔ اور اُس ترقی کے لئیے لوگوں میں قوت اور صلاحیت موجود ہونی چائیے۔ اور اُس ترقی کو قابلِ عمل بنانےکے لئیے معاشرے میں موجود افراد کے پاس مہارت اور تجربے کا آلہ ہو جانا چایئے ، جن سے وہ اپنے سیاسی اور سماجی مقاصد کے ساتھ ساتھ اپنی سیاسی اور سماجی رویوں کو بھی پراثر انداز میں شکل دے سکیں ۔اور یہی وہ سب عوامل ہیں جو فرد ، برادری ، قوم یا پوری دنیا کی ترقی پر کارگر ثابت ہو سکتے ہیں-

اور اگر معاشرہ محکوم و مظلوم کی بد صورت تفریق کی بنیادوں پر تقسیم ہو تو اُس معاشرے پر با اختیار قوت معاشرے میں بسے لوگوں کی آگاہی اور اُس میں موجود ترقی کے حصول کے لیے میئسر صلاحیتوں اور وسائل پر پاپندی لگاتی ہے- ایسے میں اس معاشرہ کے لیے اپنے طے شدہ مقاصد کا حصول کوئی معمولی بات نہیں ہوتی اور اُن مقاصد کا حاصل کرنا نہایت سنجیدگی، صلاحیت اور علم کا تقاضہ کرتی ہے- سیاسی تناظر میں دیکھا جائے تو ایک ویژنری لیڈرشپ، کلیر روڈ میپ، آگے بڑھنے کی خواہش سمیت منظم تنظیم اور پراثر اداروں کا ہونا لازمی ہے۔ ایسے عوامل کی موجودگی بھی لازم ہے جسے بروۓ کار لا کر تنظیم اور ادارے اپنے قومی مفادات اور مقاصد کے حصول کو ممکن بنا سکے-

بلوچ سیاست کے تناظر میں دیکھا جائے تو پچھلے کئی برسوں سے بلوچ معاشرہ جنگ کی بےقاعدگیوں کا شکار رہی ہے، جنکی وجہ سے ایک طرف ہماری معاشرتی نشوء نما جمود کا شکار ہے۔ تو دوسری طرف قابض قوتوں کی مسلسل بربریت نے بلوچ معاشرے کو پسماندگی اور تاریکی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ آج کا بلوچ سماج ایک سوچھی سمجھی سازش کے تحت سماجی بےضابتگی اور پسماندگی میں دھکیلی جا رہی ہے۔ کچھ بتانے سے پہلے یہ بتاتا چلوں کہ معاشرے بھی فیل ہو کر ختم ہو سکتے ہیں جب11 صدی میں جنوبی افریقہ بیرونی قوت عرب بدوین بنو سلیم اور بنو ھلال کے حملوں کی ذد میں تھی اور ساتھ ساتھ آپسی لڑائی بھی لڑھ رہی تھی تب اُن کا سماج مکمل منہدم ہوگئی اور تاریخ اس طرح کے مثالوں سے بھرا پڑا ہے۔ بلوچ سماج ایک طرف آپسی لڑایئوں میں دھنس گئی ہے جبکہ دوسری طرف ریاست اپنی جڑیں بلوچ سماج میں ایک منّظم پروگرام کے تحت پھیلا رہی ہے۔ جس کی مثالیں بلوچ سماج میں کئی ایک طرح سے دکھائی دیتی ہیں۔ مثلاً پچھلے دہایوں سے بلوچ سماج کو معتدل اور انتہا پسند اسلام کی طرف راغب کرنا، بلوچ کے سماج میں برادرانہ نظام کا خاتمہ کر کہ چند پیسوں کے عوض ایک دوسرے کو، ایک دوسرے کیخلاف استعمال کرنا۔ جبکہ بلوچ قومی تحریک اُن تمام منّظم منصوبوں کیخلاف پچھلے کئی دہائیوں سے بر سرپیکار رہی ہے۔

لیکن گزشتہ دو دہائیوں سے بلوچ قومی تحریک کا ایک نیا فیز تقریباً اوپر بیان کئیے گئے تمام تر صروتحال کی موجودگی میں اُبھر کر سامنے آیا تھا، جہاں ایک طرف بلوچ قومی تحریک کی یہ فیز گزشتہ تمام فیزز سے زیادہ مقبول اور پراثر تھی وہیں دوسری طرف نئے دور کے تقاضوں اور سائنسی بنیادوں سے کوسوں دور تھی۔ جس کی سب سے بڑی مثال بلوچ قومی تحریک کی نئی فیز میں سیاسی اور سماجی بنیادوں میں ملتی ہے۔ گو کہ بلوچ قومی تحریک کی یہ نئی فیز گزشتہ جنم لینے والی بغاوتوں سے کافی زیادہ پر اثر رہی ہے۔ جس کی سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ اس نے بلوچ سماج کے بیشتر طبقات کو قومی تحریک سے منسلک کر دیا۔ اس نے بلوچ کے تمام تر طبقہ منطقہ کو بلوچ کی قومی شناخت، بلوچ کی سماجی اور ثقافتی اقدار سے واقف کرایا۔ اور ایک بھرپور عوامی حمایت لے کر سامنے آگئی تھی۔ پر ان تمام خوبیوں سے قطعہ نظر، بلوچ تحریک کے اس فیز میں کافی ساری کوتاہی اور کمزوری صاف صاف دیکھائی دیتی ہیں۔ جن پر آنکھ موند لینا قومی غیر ذمّہ داری کے ذمرے میں آتی ہے ۔ سب سے بڑی اور سب سے بُری غلطی مصلح جدوجہد اور سیاسی جدوجہد میں فرق کا خاتمہ تھا جس کو بہانہ بنا کر ریاست نے بلوچ کے سیاسی کیڈر کا چُن چُن کر قتل عام کردیا اور اس قتلِ عام کی وجہ سے بلوچ کا سیاسی ماحول خوف اور ڈر کا شکار ہوگیا۔ بازاروں اور محلوں میں سیاسی شعور پھیلانے والے سیاسی کارکنوں نے خوف کی وجہ سے پہاڑوں کا رُخ کیا، جن میں سے بیشتر لوگ وہ تھے جن کی ضرورت پہاڑوں سے زیادہ آبادی کو تھی مگر غیر سیاسی رویوں کی وجہ سے اُن کو آبادی سے بھاگ جانا پڑا۔ جس کی وجہ سے قومی تحریک اور بلوچ سماج کا رابطہ منقطہ ہوگیا۔ جو لوگ گھروں اور بازاروں میں رہ کر بلوچ قومی تحریک کی زبان بن سکتے تھے وہ پہاڑوں میں گئے اور جنگی محاذ پر بوج بن گئے۔ ریاست چاہتی بھی یہی تھی کہ بلوچ سیاسی جہدکار اور بلوچ آبادی کا رابطہ منقطع ہو اور ریاست کا یہ کام ہمارے غیر سیاسی طریقہ کار نے اور آسان کر دیا۔

جب بلوچ جہد کار اپنی جان بچا کر ادھر اُدھر بھاگ رہا تھا ٹیھک اُسی وقت ریاست نے اُن کے خلا کو پُر کرنے کے لئیے بلوچ قومی تحریک سے کئی گنّا زیادہ منّنطم طریقہ کار سے مختلف مکاتبِ فکر کے لوگوں کو لا کر کھڑا کردیا۔ ریاست یہ با خوبی جانتی تھی کہ قوم پرستی کا سایہ پہلے پہل سب سے زیادہ موثر ہوگا، اس لئیے قومی تحریک کے سیاسی کارکنوں کا خلا پُر کرنے کے لئیے سب سے پہلے ریاست نیشنل پارٹی کو لے کر آ گئی تھی۔ ریاستی طریقہ کار کے موثر اور منّظم ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب کسی کا بیٹا غائب کیا جاتا ہے اُسے سامنے سے یہ کہا جاتا ہے کہ فلاں بندے کے پاس جاؤ اُس کے اچھے تعلقات ہیں اللہ خیر کرے گا وغیرہ وغیرہ۔ اب تعلقات کس سے،کس کے اچھے ہیں،مخبری کس نے کی تھی، پیغام کون لے کر جاتا ہے، اور پھر وہاں سے پیغام کون لے کر آتا ہے کہ نماز پڑو، دعا کرو اللہ خیر کرے گا اور ساتھ ساتھ یہ پیغام بھی آ جاتا ہے کہ فلاں بندے سے رابطہ کریں گے تو آپ لوگوں کا بندہ جلدی واپس آسکتا ہے۔ یہ سب کے سب ایک نیٹ ورک میں بندھے لوگ ہوتے ہیں۔ جو مخبری کر کے خاندانوں کو بلیک میل کرتے ہیں اور پھر یہی لوگ ریاست کو باور کراتے ہیں کہ اب یہ خاندان ریاست کے ساتھ ہے تب جا کر اُس خاندان کے لوگوں کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اور یہ ریاستی
لوگ وہی لوگ ہیں جن سے ریاست نے بلوچ قومی تحریک کے سیاسی خلا کو پُر کیا تھا۔ آج بلوچ عوام لاوارث دیکھائی دیتی ہے- وہ عام انسان جو آبادی میں رہ کر بلوچ قومی تحریک میں حصّہ لینا چاہتا تھا اُس کو غلط اور غیر منّظم منصوبوں سے قومی تحریک سے دور رکھا گیا۔ اور قومی تحریک صرف مصلح جدوجہد کو سمجھا جانے لگا۔ آج بلوچ سماج میں عام بلوچ کے ساتھ جو کچھ بھی ہو رہا ہے اُس کی زمّہ داری بلواسطہ یا بلاواسطہ اُن قوتوں کے سر جاتی ہے جنہوں نے بلوچ قومی تحریک کے سیاسی فرنٹ کو اپنی غلط پالسیوں سے ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔

آج بھی قومی پالیسیز پر کوئی حقِ رائے دہی نہیں ہوتا، غلط اور صحیح کے لئیے کوئی اتفاق رائے نہیں ہوتا۔ سیاسی فرنٹ کو غیر موثر سمجھا جاتا ہے۔ عام لوگوں کی زندگیوں پر قومی تحریک کے نام پر لیئے گئے فیصلے کیا بُرا اور کیا اچھا کرنے والے ہیں ان ساری باتوں سے بالاتر ہو کر قومی تحریک کے سب سے زیادہ مقبول اور سب سے زیادہ موثر فیز کو ناکامیابی کے دہانے پر پہنچایا گیا ہے۔ آج بھی ہماری لیڈرشپ میں اتنی بصیرت نہیں کہ وہ بلوچ کی قومی اور سیاسی صورتحال کا صیح معنوں میں تجزیہ کرسکے۔ اور بلوچ عوام سے رابطہ بحال کرنے کی پالیسی ترتیب دے سکے- کم سے کم ہمیں اتنا معلوم ہو جانا چائیے کہ بلوچستان تین ایسی ریاستوں میں موجود ہے جن میں کوئی بھی، کبھی بھی منہدم ہو سکتی ہے۔ اور اگر اس طرح ہوا تو ہماری مثال اُن چینٹویوں کی ہوگی جو بادشاہی کی تخت کے لئیے لڑھ رہے تھے اور اچانک ایک ہاتھی آگئی جس نے سب کو مسل ڈالا۔

شاید کافی دوست میرے اس تجزیے سے اتفاق نہ کریں اسے گمراہ کن قرار دیں لیکن کافی دوست ایسے بھی ہونگے جو ان حقائق سے مُنہ موڈنے کے بجائے،اُن کا سامنا کرنا چاہینگے۔ کمزوری اور کوتائیوں کا مقابلہ کرکے نئے راستے ڈھونڈنا چاہینگے۔

ڈاکٹر خورشید کریم بلوچستان افیئرز کے ایڈوائزری بورڈ کے ممبر ہیں- وہ شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے سیاسی اور سماجی مسائل پر لکھتے ہیں- وہ انڈسٹریل بائیو ٹکنالوجی میں پی ایچ ڈی ہیں-

مؤرخہ 24 اکتوبر 2019 کو بلوچستان افیئرز میں شائع ہوا

Share on :
Share

About Administrator

Check Also

انسانی حقوق کی تنظیموں کا برلن میں بلوچستان حوالے کانفرنس کے انعقاد کا اعلان

لندن: بلوچستان کے عوام کے حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لئے کام کرنے والی …

Leave a Reply

'
Share
Share
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com