Home / Archives / Analysis / پاکستان میں بلوچ قومی تحریک کی نئ جہتیں

پاکستان میں بلوچ قومی تحریک کی نئ جہتیں

تحریر: ڈاکٹر نصیر دشتی

یہ مقالہ ڈاکٹر دشتی کی 2005 میں شائع کی گئی آرٹیکل پاکستان میں بلوچ قومی تحریک کی نئ جہتیں سے ایک اقتباس ہے جو ڈاکٹر صاحب نے لندن میں قائم کی گئی تنظیم بلوچ اسٹوڈنٹس اینڈ یوتھ ایسوسی ایشن کے 2013 میں منعقدہ پروگرام کے دوران تقریری صورت میں پڑھا تھا۔ اس مقالے میں کافی ساری غور طلب باتیں ہیں۔ جن پر عمل کرنے کا وقت آہستہ آہستہ ھاتھوں سے نکل رہا ہے۔ بلوچستان آفیئرز اس مقالے کو اس سوچ کے ساتھ شائع کر رہا ہے کہ آئندہ دنوں میں بلوچ حلقوں میں قومی تحریک اور بلوچ کی اتحاد کو لیکر سنجیدہ اور سیر حاصل بحث و مباحثے ایک قابلِ عمل پیش رفت کے لیئے شروع ہوں۔

قومی آزادی کی جدوجہد ایک پیچیدہ راستہ ہے جس میں کئی رکاؤٹیں عبور کرنی پڑتی ہیں- اس کی کامیابی بہت سارے عوامل پر منحصر ہے جس میں عوامی ردعمل ، مضبوط قیادت ، سیاسی اور مزاحمتی اداروں کا قیام اور قابل عمل حکمت عملی تشکیل دینا شامل ہیں۔ ایران اور پاکستان میں بلوچ کی قومی مزاحمت اُن کی خودمختاری کے حصول کی خوائش کا اظہار ہے- اب چونکہ بلوچ قومی جدوجہد ایک اہم اور نازک مرحلے میں داخل ہو رہی ہے ، بلوچ قوم پرست قیادت اور سیاسی گروہ مختلف حلقوں کے دباؤ میں ہیں کہ وہ قومی نجات کے لئے چند نکات پر متفق ہو کر پر ایک اتحاد تشکیل دیں- یہ مقالہ قومی آزادی کی جدوجہد کے تناظر میں بلوچ قوم پرستوں کے اتحاد پر ایک مختصر تجزیہ ہے-

بلوچوں کو اب یقین ہو گیا ہے کہ بحیثیت قوم ان کی شناخت پہلے سے کہیں زیادہ خطرے میں ہے- قبضے کی طویل اور تاریک عرصے کے دوران ، انہیں قابض طاقتوں کے ہاتھوں قومی ذلت سے کئیں زیادہ سہنا پڑا ہے- بہت سے قوم پرست دانشور اور سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ بلوچوں کے لئے موجودہ حالات ابھی یا کبھی نہیں کے مترادف ہیں۔ کیوں کہ ان کی زبان معدوم ہونے کے دہانے پر ہے، ان کی ثقافتی روایات کو کمزور کر کے بیرونی روایات اور اقدار سے تبدیل کیا جا رہا ہے اور یہ بھی بلوچ قوم پرست تنظیموں کے لیئے لمحہء فکریہ ہے کہ بلوچستان پر قابض مذہبی بنیاد پرست ریاستیں بلوچ کے سیکولر معاشرے میں مذہبی شدت پسندی پھیلا رہے ہیں، اور یہ بھی کہ بلوچ دنیا کی امیر ترین زمینوں میں سے ایک کا مالک ہو کر بھی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔

کئی دہائیوں سے بلوچ عوام اپنے خون پسینے سے مقبوضہ قوتوں کے خلاف مزاحمت کرتے آ رہے ہیں- تاریخی طور پر دیکھا جائے۔ تسلط اور مضبوط قوتوں کے خلاف بلوچ کی مزاحمت ایک بے اَنت داستان ہے جو کئی صدیوں سے جا ری ہے اور شروع دن سے جب بلوچستان پر بیرونی قوتوں نے قبضہ کیا ۔بلوچ تب سے غیر متزلزل مزاحمت کرتے آ رہے ہیں- لیکن قیادت اور عوام کی بے پناہ قربانیوں کے باوجود ، بلوچ ایک با وقار زندگی اور خودمختار ریاست کے حصول کو تکمیل کیوں کر نہیں دے سکا؟ یہ سوال اہمیت کا حامل ہے کیوں کہ موجودہ حالات میں یہ قوم پرست حلقوں میں بہت زیادہ ابہام اور بے چینی کا باعث بن رہا ہے- دشمن کے خلاف قومی مزاحمت کو معنی خیز انداز دینے کے لئے اس سوال کا سائنسی جواب ڈھونڈنا بہت ضروری ہوگیا ہے-

ایشیاء اور افریقہ میں ، 19 ویں اور 20 ویں صدی کے دوران وہ ساری قومی آزادی کی مزاحمتی تحریکیں کامیاب ہوئیں جن میں کامیابی کے کچھ شرائط پورا کرنے کی صلاحیت موجود تھی- ایک کامیاب قومی نجات کی تحریک کیلئے لازم ہے کہ:

١) مظلوم لوگوں میں آمدگی ہو کہ وہ ہر صورت ظالم کا مقابلہ کرئینگے۔
٢) ایک ایسی سیاسی قیادت موجود ہو جسے بھرپور عوامی حمایت حاصل ہو یا جو بھر پور عوامی حمایت حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
٣) مزاحمتی تحریک کے لیئے عوامی حمایت کیساتھ ساتھ بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے کے لئے سازگار ماحول موجود ہو۔
٤) کوئی ایسی تنظیم یا سیاسی ادارہ موجود ہو جو قومی مزاحمت کے مختلف پہلوؤں کو ایک لڑی میں
پرونے کی اہلیت رکھتا ہو-

آئیں دیکھیں کہ آیا بلوچ قومی مزاحمتی تحریک کامیاب ہونے کے لئے ان شرائط کو پورا کرتی ہے کہ نہیں؟

اس میں کوئی شک نہیں کہ بلوچ عوام دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے نہ صرف تیار رہے ہیں بلکہ اب بھی تیار ہیں۔ بلوچ قومی جدوجہد کی تاریخ گواہ ہے کہ اپنے وقار اور خودمختاری کو حاصل کرنے کے لئے بلوچ جدوجہد میں لاتعداد قربانیاں دینے کے لئے ہمہ وقت تیار رہے ہیں- بلوچ خوش قسمت ہیں کہ وہاں نا صرف بلوچ قومی جدوجہد کے پرانے رکھوالے یا معمر شخصیات ابھی بھی حیات ہیں بلکہ دوسری جانب ایک اور نو عمر سیاسی قیادت بھی موجود ہے جو عوامی حمایت حاصل کرنے کے قابل ہے- بلوچ قیادت کے یہ دونوں درجے ایک ساتھ مل کر نہ صرف تجربہ رکھتے ہیں بلکہ قومی مزاحمت کی منصوبہ بندی ، تیاری اور مجموعی طور پر اِن منصوبوں کو قابلِ عمل بنانے کی طویل اور پُر مشقّت عمل کو انجام دینے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں-

بلوچ سرزمین پر کنٹرول رکھنے والی ریاستوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے بلوچ تحریک کی حمایت میں بین الاقوامی اور علاقائی سیاست میں سازگار معروضی حالات پیدا ہو چکے ہیں۔ ایران اور پاکستان معاشی اور معاشرتی تباہی کے دہانے پر ہیں- سیاسی طور پر ، وہ مذہبی دہشت گردی اور بنیاد پرستی کو برآمد کرنے کی پالیسیوں کو بڑھاوا دے رہے ہیں جس کی وجہ سے دونوں ریاستیں عالمی برادری سے دور ہو چکے ہیں- بلوچ قومی جدوجہد کا نیا اور بظاہر آخری مرحلہ ایک نئی دنیا کے نئے سیاسی حالات کے تناظر میں رونما ہورہا ہے جس میں مذہبی بنیاد پرست اور بدمعاش ریاستیں عالمی برادری کے دباؤ میں ہیں-

یہ سوال جو بلوچ قومی تحریک کے بہت سے مبصرین کے لئے حیران کن ہوسکتا ہے کہ بلوچ قومی تحریک میں کیا کمزوریاں موجود ہیں جن کی وجہ سے قومی تحریک ساز گار ماحول کی موجودگی میں بھی اپنے مقاصد کے حصول سے کوسوں دور ہے۔ عوام بڑی قربانی دینے کو تیار ہے، ایک قابل احترام اور قابل اعتماد قیادت بھی موجود ہے، سازگار بین الاقوامی حالات بھی موجود ہیں آخر وجہ کیا ہو سکتی ہے کہ بلوچ قومی مزاحمتی تحریک اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے سے قاصر ہے؟ اس معاملے کی حقیقت یہ ہے کہ یہ سوال ایک طویل عرصے سے مختلف قوم پرست جماعتوں اور گروہوں سے وابستہ سیاسی کارکنوں کو پریشان کررہا ہے۔ وہ ایک دوسرے سے سوال کرتے رہے ہیں کہ طویل جدوجہد میں ، مشترکہ دشمن کا مقابلہ کس طرح کرنا چاہئے اور اس ضمن میں قیادت کسے کرنی چاہئے؟ کیا مختلف چھوٹی چھوٹی سیاسی تنظیمیں ، گروہ اور افراد اس پوزیشن میں ہیں کہ وہ قومی وقار اور قومی آزادی کے خواب کی آبیاری کر سکیں؟ میرے نزدیک، ان تمام اہم سوالات کے جوابات تلاش کرنے کی کوشش میں مصروف بلوچ قیادت ، دانشور اور سیاسی کارکنوں کو وہ تمام عوامل ذھن میں رکھنے چاہیں جو ایک قومی تحریک کی کامیابی کیلئے لازم ہیں-

قومی آزادی کی جدوجہد نہ تو ساکت ہے اور نہ ہی یہ کسی خلا میں رونما ہوتی ہے- بلوچ قیادت کو اس بار یہ سمجھ لینا چائیے کہ جیت خواہش یا خواب پر نہیں بلکہ حالات اور تاریخی عوامل کی سمجھ بوجھ پر منحصر ہے- یہ باور کرنا اور کروانا غلط ہوگا کہ جدوجہد کا راستہ مکمل طور پر الگ تھلگ گروہوں کی سرگرمیوں سے طے ہوتا ہے،اور یہ کہنا کہ عوام کا عزم چٹان کی مانند ہے اور وہ خود بخود قومی جدوجہد میں شامل ہوجائیں گے- درحقیقت تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ انتہائی گہری سیاسی ماس موبلائزیشن کے بغیر بہت زیادہ امکان ہے کہ قومی مزاحمت میں لوگوں کی شمولیت کے نتائج مثبت نہ ہوں۔ لہذا یہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ قومی آزادی کی تحریک کی قیادت وسیع بنیاد پر اور ملک گیر ہو- یہ تب ہی ممکن ہوسکتا ہے جب مختلف گروہوں کی قیادت کو مشترکہ پلیٹ فارم پر متحرک ہونے کی بنیادی اہمیت کا احساس ہو- یہ احساس دشمن کے خلاف معنی خیز جدوجہد کے سوال کا مناسب جواب مہیا کرسکتا ہے۔

ایشیاء اور افریقہ میں مختلف قومی آزادی کی تحریکوں کی تاریخ کا سائنسی تجزیہ کرنے کے بعد ایک تنظیم یا ادارے کی بنیادی اہمیت کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہےجو قومی مزاحمتی تحریک کی حکمت عملیوں کو ہموار کرنے ، ترتیب دینے اور ان پر عمل درآمد کرنے کی اہلیت رکھتی ہو- بلوچ قومی جدوجہد کو درپیش مسائل کا حل قوم پرست جماعتوں، گروپس اور افراد کے ایک وسیع اتحاد کی تشکیل سے براہ راست منسلک ہے جو اس وقت علیحدہ اداروں کی حیثیت سے قوم پرست محاذ پر سرگرم عمل ہیں-

بلوچوں کو درپیش حالات میں یہ ضروری ہے کہ تمام مزاحمتی تحریکوں اور سیاسی تنظیموں ، گروہوں اور افراد کا وقت ضائع کیے بغیر ایک “متحدہ محاذ” تشکیل دینا چائیے – ہر محب وطن پر یہ تاریخی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس طرح کے محاذ کے قیام کا مطالبہ کرے- قوم پرست قوتوں کا اس طرح کا اتحاد واضح طور پر دور رس اور مثبت نتائج برآمد کرے گا اور اسے بڑی حمایت حاصل ہوگی- مختلف قوم پرست اور سماجی گروہوں کے مابین عمل کی یکجہتی اور اتحاد ایک جامع اور ہمہ جہت مزاحمتی تحریک کی طرف پیش قدمی کے لئے نہ صرف اخلاقی جواز پیدا کرے گی بلکہ اس سے زیادہ اہم یہ کہ درست سمت کی طرف روانگی کے لئے حالات پیدا ہوں گے- متحدہ محاذ کی تشکیل کے عمل کے دوران ، درج ذیل اہم نکات پر مناسب غور و فکر کرنا ضروری ہے۔

اس محاذ کا پروگرام بلوچ عوام کی حقیقی ضروریات اور خواہشات کا عکاس ہونا چاہئے۔

متحدہ محاذ کے بینر تلے جدوجہد بلوچ عوام کی جدوجہد ہونی چاہئے ، وہ بلوچ جن کو حوصلہ اُنکی اپنی تکالیف اور تجربات سے ملا ہو۔

بلوچ قائدین میں بعض رہنماؤں اور گروہوں کے شکوک و شبہات کو مدنظر رکھتے ہوئے موجودہ اقدام مختلف دھڑوں کو ایک سیاسی جماعت میں متحد کرنے کی کوشش بلکل بھی نہیں ہونی چاہئے تاہم ، متحدہ محاذ بنانے میں حصّہ لینے والوں کو اتحاد کی تشکیل اور اپنے حلقوں میں اتحاد پر اُٹھنے والے سوالات پر بحث مباحثہ کرکے اُنھیں حل کرنے کے لئے تیار رہنا چاہئے- سیاسی تنظیموں کو اپنی اپنی شناخت برقرار رکھتے ہوئے مختلف دھڑوں میں سیاسی اور معاشرتی طور پر نزدیکی لاکر رائے عامہ ہموار کرنا چائیے جو بعد میں حقیقی اتحاد کے خواب کو شرمندہ ء تعبیر کر سکیں۔

موجودہ حالات میں ، یہ بھی ضروری ہے کہ متحدہ محاذ بلوچ صفوں کے اندر قائم حلیفوں اور موقع پرستوں کی حمایت حاصل کرنے کے لئے اپنی توانائی ضائع نہ کرے بلکہ حقیقی قوم پرستوں کے مابین اتحاد کی فکر کرنی چاہئے-

متحدہ محاذ ذاتی مفادات اور وقتی فائدے کا اتحاد نہیں ہونی چاہئے بلکہ قومی آزادی کے حتمی مقصد کے احترام اور حصول پر مبنی مشترکہ اور حقیقی سیاسی اتحاد ہونا چاہئے۔

گولڈ سمتھ لائن کے دونوں اطراف مزاحمتی قوتوں کی سرگرمیوں کو موثر انداز میں ہم آہنگ کرنا متحدہ محاذ کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہونا چاہئے۔

متحدہ محاذ کو عوام کی منظم طاقت پر بھرپور یقین رکھنا چاہئے۔ معاشرے کی بنیادی تبدیلی کے لئے اہم محرک کی حیثیت سے اور ہمارے خاص حالات میں ایک نئی بلوچ سیاست کی تعمیر نو میں مددگار ثابت ہونی چائیے جو اکیسویں صدی کے تقاضوں کے عیں مطابق ہو-

متحدہ محاذ اس بات پر قائل ہونا چاہئے کہ سیاسی اور معاشی طاقت عوام کا حق ہے-اس طرح جس قوم پرستی کے لئے متحدہ محاذ کھڑا ہو وہ بلوچ عوام کے لئے آزادی ، خوشحالی اور وقار کا تصور ہونا چاہئے-

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پچھلے کئی سالوں سے بلوچ قومی مزاحمت بیان بازی اور ہر طرح کے غلط فہمیوں کے ساتھ ساتھ خیالی دنیا اور خواہشات کا شکار رہا ہے۔ ایسی قیادت جو اس حقیقت کا ادراک کرنے میں ناکام رہتی ہے کہ حقیقی صورتحال کو نظر انداز کرنا اور خیالی قوتوں ، تصورات اور نظریات سے کھیلنا ناکامی کو دعوت دینا ہوتا ہے- ماضی کی تحریکوں کے تجربات ثابت کرتے ہیں کہ انقلابی لگنے والے جملے ہمیشہ انقلابی پالیسی کی عکاسی نہیں کرتے اور انقلابی لگنے والی پالیسی ہمیشہ انقلابی پیش قدمی میں مدد و معاون نہیں ہوتے- درحقیقت جو “انقلابی” دکھائی دیتا ہے وہ رد-انقلابی بھی ہوسکتا ہے- عارضی اور ناقص منصوبہ بندی، اور مزاحمتی حکمت عملی کے بچگانہ پن قومی آزادی کی کوششوں میں رکاوٹ ہیں- وہ حتمی مقصد کے حصول کے امکان کو آگے بڑھانے سے قاصر ہیں۔ اور واضح طور پر نقصاندہ ہیں- لہذا یہ واضح ہے کہ نہ صرف ایک مزاحمتی تحریک کا تنظیمی ڈھانچہ اہم ہوتا ہے بلکہ پالیسیوں کا حقیقی حالات سے ابھرنا بھی بہت اہم ہوتا ہے نا کہ بے معنی مفروضوں سے- غیر منظم تشدد اور بہادری کی انفرادی کارروائیوں کا ہیجان مزاحمت کی عسکریت پسندی کے جذبہ کے طور پر سمجھا جاسکتا ہے لیکن آج کے بین الاقوامی سیاسی ماحول میں ان کو قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا- کسی قوم کے لئے آزادی کی جنگ جذبے سے زیادہ حقیقت پسندی کا تقاضا کرتی ہے- یہ ڈرامہ سے زیادہ عملیت پسندی کی فوقیت کا مطالبہ کرتی ہے- یہ قوم کو درپیش اصل حالات میں نظریہ اور عمل کے نفاذ کے لئے معروضی افہام و تفہیم کا مطالبہ کرتی ہے- یہ مزاحمت کو درپیش رکاوٹوں کا سنجیدہ جائزہ لینے کا مطالبہ کرتی ہے- یہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کرتا ہے کہ قومی آزادی کی جدوجہد تلخ اور طویل ہے-

مزاحمتی تحریک کی کامیابی کے لئے ، عوام کو متعدد طریقوں سے متحرک کرنے کی ضرورت ہوتی ہے- اور یہ قوم پرست قوتوں کے وسیع اتحاد کے بینر تلےتمام قابل عمل حکمت عملیوں کو بروۓ کار لگانے کا مطالبہ کرتی ہے- یہ ضروری ہے کہ متحدہ محاذ کو عسکریت پسندی کے ان تمام مظاہروں کو مسترد کرنا چاہئے جو مسلح مزاحمت کو سیاسی محاذ سے الگ گردانتے ہیں۔ سیاسی یا منظم کنٹرول سے باہر شخص کے ہاتھ میں بندوق ڈاکو کے ہاتھ میں بندوق سے مختلف نہیں ہے- سیاسی قیادت اور اداروں کو تمام سیاسی اقدام کیساتھ ساتھ مزاحمتی سرگرمیوں پر مکمل کنٹرول حاصل ہونا چاہئے- اور اس بارے میں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہئے- سیاسی قیادت کی بالا دستی پر کوئی شک وشبہات نہیں ہونی چاہئے- ہر طرح کی مزاحمت کو سیاسی قیادت کے ماتحت ہونا چاہئے- یہ ایک آزمودہ طریقہ کار ہے اور ایشیاء اور افریقہ میں قومی آزادی کی کامیاب تحریکوں کے تجربات سے پیدا ہوا ہے-

کسی قوم کی کسی دوسری قوم کے تسلط سے آزاد کرنے کی تاریخ ہمیشہ ہی ایک خوفناک جدوجہد رہی ہے جو مظلوموں کی جانب سے بے تحاشہ قربانیوں اور تکلیفوں کا مطالبہ کرتی ہے- تاہم ، صرف منظم اور متحد قومی تحریکیں اپنے عوام کے دکھوں کا مداوا کر سکتے ہیں اور اپنی قومی مزاحمت کو قومی آزادی کی معنی خیز جدوجہد میں ڈھال سکتے ہیں- یہ بلوچوں کے لئے آزمائش کا وقت ہے- موجودہ حالات میں بلوچ عوام اور مزاحمتی قیادت کی یکجہتی ضروری ہے- اتحاد قائم کرنا اور قومی مزاحمتی تحریک کے لئے ممکنہ حکمت عملی تیار کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ یہ ضروری ہے کہ سیاسی قیادت بروقت استدلال کرکے وقت پر عمل کرے- دانشوروں اور سیاسی قیادت کو اپنے شکوک و شبہات کو ختم کرنا پڑے گا- انہیں اہم قومی امور پر بڑ بڑانہ اور بھٹکنا چھوڑنا پڑے گا- انہیں لوگوں تک پہنچنا ہے اور ایسی زبان بولنی ہے جسے بلوچ عوام قدرکی نگاہ سے دیکتھی ہو اور بین الاقوامی برادری جسے سمجھ سکتی ہو- وہ رہنما اور گروہ جو سیاسی حرکت اور اتحاد کی اہمیت کو سمجھنے سے قاصر ہیں یا ایسے رہنما جو بلوچ عوام کے نئے مزاج سے مطابقت رکھنے میں ناکام رہتے ہیں وہ یقینی طور پر سرِ راہ ہی گِر جاتے ہیں-

ڈاکٹر نصیر دشتی لندن میں قیام پزیر لکھاری ہیں اور انتھروپولوجی میں پی ایچ ڈی ہیں. جو جنوبی اور وسط ایشائی امور پر اکثر لکھتے رہتے ہیں. وہ بلوچستان پر لکھی گئی کافی کتابوں کے مصّنف ہیں جن میں سر فہرست ہیں- (2018 ) Tears of Sindhu: Sindhi National Struggle in the Historical Context The Baloch Conflict with Iran and Pakistan: aspects of a national liberation struggle (2017) ، The Baloch and Balochistan: a historical account from the beginning to the fall of the Baloch State (2012) ، The Voice of Reason (2008) and In a Baloch Perspective (2008 ،-انہوں نے بالعموم جنوبی وسطی ایشیاء سے متعلق موجودہ معاملات اور بالخصوص بلوچستان اور سندھ سے متعلق متعدد مضامین تحریر کی ہیں۔

٦ نومبر 2019 کو بلوچستان افیئرز میں شائع ہوا

Share on :
Share

About Administrator

Check Also

انسانی حقوق کی تنظیموں کا برلن میں بلوچستان حوالے کانفرنس کے انعقاد کا اعلان

لندن: بلوچستان کے عوام کے حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لئے کام کرنے والی …

Leave a Reply

'
Share
Share
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com