Home / Archives / Analysis / صحت مند تعلیمی ماحول اور بلوچستان یونیورسٹی

صحت مند تعلیمی ماحول اور بلوچستان یونیورسٹی

تحریر: وسیم کاشانی

آپ دنیا کے کسی بھی قوم یا ملک کا جائزہ لیں, کہیں پر بھی نگاہ پھیر لیں , جہاں کہیں بھی صحت مند معاشرہ اپنی عمومی زندگی بسر کرتا ہے وہاں تعلیمی ادارے وہ جگہ ہوتے ہیں جہاں نئی نسل کو آنے والے وقتوں کیلئے تیار کیا جاتا ہے. طلباء کو جب صحت مند ماحول مہیا کیا جاتا ہے وہ صحت مند سرگرمیوں میں ملوث ہوتے ہیں جن سے مستقبل کے تقاضے پورا کرنے کے اہل ایک کیڈر تیار ہوتا ہے جو کسی بھی ملک کے معاشی , سیاسی، معاشرتی اور ثقافتی بہتری میں اپنا کردار ادا کرتا ہے. لیکن ایسا لگتا ہے کہ ہمارا معاشرہ دنیا کے صحت مند معاشروں کے برعکس ہے. جب ہم اپنے معاشرے میں طلباء اور تعلیمی سرگرمیوں کی بات کرتے ہیں تو ہمارے ذہنوں میں یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ آیا ہمارے معاشرے میں طلباء کو وہ تمام سہولیات مہیا کئیے جاتے ہیں جن سے صحت مند معاشروں کے طلباء مستفید ہوتے آرہے ہیں؟ جس کا متوقع جواب نفی ہی میں ہوتا ہے. ان حالات میں ہمارے مقتدرہ طبقہ اور طلباء کی کیا کیا ذمہ داریاں ہونی چاہئیں اس پر ایک تفصیلی بحث ضروری بھی ہے اور مناسب بھی. ہمارے ہاں جو سب سے اچھا اور صحت مند ماحول طلباء کو کم سے کم خرچے پر دیا جا سکتا تھا اور جس سے طلباء کچھ سیکھ کر اپنی اور معاشرے کی مستقبل کا تعین کر سکتے تھے وہ سیاسی اور ثقافتی ماحول ہوسکتا تھا. لیکن بد قسمتی سے ہمارے مقتدرہ قوتوں نے سیاست کیساتھ ساتھ پاکستان میں موجود ثقافتی اکائیوں کو پاکستان کی سالمیت کیخلاف جاننے کی غلطی کی جس سے اتنے مسائل پیدا ہوگئے کہ انہیں حل کرتے کرتے ہمارے ستّر سال گزر گئے ہیں اور ملک میں موجود ہر فرد کو مستقبل کو لیکر غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے-

اگر ہم دنیا کی بات کریں تو یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اکثر ممالک جہاں فعال تعلیمی ادارے ہیں وہاں طلباء کو ایک پرسکون ماحول، جدید تعلیمی نصاب اور غیر نصابی سرگرمیوں کے حوالے سے بہتر سے بہترین سہولیات مہیا کیے جاتے ہیں تاکہ طالب علم اپنے تعلیمی سرگرمیوں میں بہتر طریقے سے پیش رفت کرسکے اور اسکی بہترین ذہنی نشو نما ہو سکے. لیکن اگر ہم پاکستان اور پھر خصوصاً بلوچستان کے تعلیمی اداروں اور ان میں موجود بلوچ طالب علموں کی بات کریں تو یہ کہنا بھی جائز ہے کہ بہتر تعلیمی ماحول کی فراہمی تو دور، ہمیں آئے روز نئے مسائل درپیش آتے ہیں جو واضح طور پر مسلط کردہ ہوتے ہیں اور ہماری تعلیم کو لیکر مقتدرہ قوتوں کی لا پرواہی اور بےحسی کو ظاہر کرتے ہیں- بلوچستان میں تعلیمی ماحول کو جدید خطوط پر استوار کرنا ایک طویل مدتی منصوبہ اور ٹھوس اقدامات کا تقاضہ کرتی ہے- البتہ چند فوری حل طلب مسائل ہیں جس کی وجہ سے ہماری تعلیمی سرگرمیاں بہت حد تک متاثر ہوچکیں ہیں .ان مسائل سے نہ صرف ہمیں تعلیم کے حصول میں پریشانی کا سامنا ہوتا ہے بلکہ ہمیں بہت سی ذہنی اذیتوں سے دوچار ہونا پڑتا ہے. ان مسائل میں سرے فہرست ہمارے تعلیمی اداروں میں سیکورٹی فورسز کا آئے روز اضافہ ہونا ہے جس کی وجہ سے خصوصاً بلوچ طالب علم تذلیل اور بہت بُری ذہنی کوفت کا شکار ہیں اور اکثر اس حوالے سے اپنی تشویش اور ناراضگی کا اظہار کرتے آئے ہیں-

ایک تو بلوچستان کے زمینی حالات اتنے گھمبیر کر دئیے گئے ہیں کہ اس معاشرے میں رہنے والا ہر فرد پھونک پھونک کر قدم رکھتا ہے اور اُس پر ہمارے تعلیمی ادارے بلخصوص بلوچستان یونیورسٹی جہاں آئے روز سیکورٹی کے نام پر بلوچ طالب علموں کا استحصال ہوتا ہے جگہ جگہ ان کو پریشان اور ان کی تذلیل کی جاتی ہے جس کی وجہ سے بلوچ طالب علم نہ صرف اپنی تعلیمی سرگرمیوں سے دور ہوتے جا رہے ہیں بلکہ ملک کی ترقی کے خیال اور اعانت سے لاتعلق ہوتے جا رہے ہیں. ایسے حالات پیدا کیئے گئے ہیں جن میں پڑھنا اور سیکھنا کسی جنگ سے کم نہیں. خوف کا ایک ایسا ماحول بلوچ طلباء کے لیئے پیدا کیا گیا ہے جسکی وجہ سے بلوچ طلباء نے اپنے نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ اپنی غیر نصابی سرگرمیاں بھی ترک کر دیے ہیں اور اپنے گھروں یا ہاسٹل کے کمروں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں. طلباء یونینز جو کسی بھی تعلیمی ادارے میں طلباء کے حقوق کی علمبردار ہوتیں ہیں ان پر پاپندی عائد ہے اور بلوچستان یونیورسٹی میں تو وہ سرگرمیاں بھی بند کر دیئے گئے ہیں جنہیں عموماً پاکستانی راویات میں کبھی غلط سمجھا ہی نہیں گیا مثلاً پچھلے کئی سالوں سے بلوچستان یونیورسٹی کے سالانہ اسپورٹس فیسٹیول بھی بند کر دئیے گئے ہیں.

ایک طالب علم کے صحت مند ذہن کو جتنی ضرورت علم کی ہوتی ہے اُس سے ذیادہ ضرورت ان غیر نصابی سرگرمیوں کی ہوتی ہے جن کی وجہ سے وہ اپنی ذہنی تھکاوٹ دور کرنے میں اور تعلیمی معاملاتِ کو بہتر انداز سے آگے لے جا سکنے میں کامیاب ہو پائے. اور معاشرے کو آنے والے وقتوں میں بہتر افرادی قوت فراہم کرنے میں اپنا کردار نبھا سکے. آج ضرورت اس امر کی ہے کہ بلوچستان میں طلباء کیساتھ ساتھ وہاں موجود ہر طبقے پر ذمّہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ خود سے یہ سوال پوچھیں کہ جس معاشرے میں ہم رہ رہے ہیں آخر وہ معاشرہ کس کروٹ جا رہا ہے اور اس میں ہمارا کردار کیا ہونا چاہیے؟ انہیں چاہیے کہ وہ بلوچستان یونیورسٹی کے ساتھ ہونے والی ذیادتی اور ناانصافی کے خلاف طلباء کے ساتھ اُٹھ کھڑے ہوں تاکہ وہ یونیورسٹی جس نے بلوچستان کے تعلیم یافتہ طبقے کی ایک بڑی قابل ذکر تعداد کو سوچھنے اور سمجھنے کے شیوا سے ہم آنگ کیا ہے اُسے اخلاقی ذبوں حالی سے بچایا جا سکے.اور اس حوالے سے ہمیں اپنی موجودہ اور آنے والی نسلوں کی جانب عائد ذمہ داریوں کا ادراک کرتے ھوئے یک مشت ہوکر اُن قوتوں کے سامنے کھڑا ہونا چاہیے جہنوں نے ہمارے تعلیمی اداروں کو اس حال پہ لاکر کھڑا کیا ہے تاکہ وہ مجبور ہو جائیں اور ہمیں ہمارے تعلیمی حقوق کے ساتھ ساتھ ہمارے جسمانی حقوق سے بھی محروم نہ کر سکیں.

Share on :
Share

About Administrator

Check Also

“Cowards die many times before their deaths”

By Kachkol Ali The paper entitled, “The Pure Theory of Law” is helpful to understand …

Leave a Reply

'
Share
Share
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com