Home / Archives / Analysis / بلوچ قومی سیاست میں جڑ پکڑتے منفی رویے

بلوچ قومی سیاست میں جڑ پکڑتے منفی رویے

قمبر مالک بلوچ

بلوچ قومی تحریک سے وابستہ سیاسی تنظیموں کی گزشتہ ایک دہائی پر مشتمل بیانات (جو مختلف زرائع ابلاغ سے بلوچ تک پہنچتے آرہے ہیں) اور خصوصاً سوشل میڈیا پر بحث مباحثہ اور تحریروں میں منفی رویوں کا جائزہ لینے کے بعد جو کچھ سامنے آجاتا ہے وہ یہ کہ موجودہ سیاسی مزاحمت کی جدوجہد میں شامل بعض افراد یا گروہوں کے سیاسی و سماجی رویے ایک صدی پر محیط بلوچ قومی سیاست کی اعلیٰ اقدار اور روایات کے بلکل برعکس ہیں۔

قومی نجات کی تحریکیں پیچیدہ عمل ہوتی ہیں کیونکہ ان میں سماج کے تمام رویے اور نقطہ نظر کے لوگ شامل ہوتے ہیں جو ہمیشہ ایک دوسرے پر اثرانداز ہوتے رہتے ہیں۔ یہ تحریکیں بہت ساری دوسرے معاشرتی اہداف سے انحراف کئیے بغیر ان کے مقابلے میں اپنی معاشرتی فلاح، قومی اقدار اور قومی آزادی کو اولین ترجیح دیتی ہیں، اور اس لیئے ان کا عوام سے بھی مطالبہ رہتا ہے کہ وہ ان ترجیحات کے گرد متحد ہوں۔ یہ ترجیحات محض عوام کی ذہنی تسکین کے لیئے نہیں ہوتے بلکہ ان کی بنیاد پر عوام اپنی آج کی کئی آسائشوں کو کل کے بہتر مستقبل کیلئے چھوڑ جاتے ہیں وہ مستقبل جس کی ضمانت قومی تحریک دیتی ہے۔

اس بہتر مستقبل کو جاننے کے لئے بلوچ کی سیاسی جدوجہد کی ایک صدی پر مشتمل تاریخ کا مختصر جائزہ لینا لازمی ہے- سیاسی جدوجہد کی موجودہ تعریف کے مطابق بلوچ سماج میں اسکی بنیادیں 1920 سے پڑنی شروع ہوئیں جب انگریز اور اسکے حواریوں کے خلاف بلوچ کی 80 سال کی مصلح مزاحمت بے دردی سے کچل دی گئی تھی۔ مایوسی کے اُس ماحول میں چند باشعور بلوچ رہنما سیاسی جدوجہد کو بلوچ معاشرے میں متعارف کرانے میں کامیاب ہوگئے- انہوں نے وقت اور حالات کے تقاضوں کو بھانپتے ہوئے بلوچ کی قومی مزاحمت کو سیاسی، سائنسی اور منظم بنیادیں مہیا کرنے کی کوششوں کا آغاز کیا- چند سماجی و سیاسی اہداف بشمول تعلیم کا فروغ، انگریز کی حکمرانی کے خلاف عوامی رائے عامہ کی ہمواری، حکومت قلات میں عوام کی حصہ داری، بلوچوں کے مابین آپسی اتحاد و یکجہتی اور بلوچ سیاست کو بلوچ کی قومی اقدار کی بنیادوں پر بلوچ سماج میں متعارف کرانا، اُن کی بنیادی ترجیحات میں سے تھے- جو کہ بعد میں قلات کی پارلیمان کا پاکستان کے ساتھ الحاق کی مخالفت کی بنیاد بنے- الحاق کی مخالفت کی بنیاد اس بات پر تھی کہ بلوچستان کا وجود ایک الگ ریاست کی صورت میں بحال رہے تاکہ بلوچ کی زبان، اسکی ثقافتی اقدار, منفرد پہچان اور طرز زندگی قائم رہیں اور یہی اہداف آج بھی بلوچ کی پاکستان اور ایران کے ساتھ موجودہ تنازعہ کی بنیاد ہیں-

کوئی بھی انقلابی تحریک یا اس حوالے سے کہا جائے تو کوئی بھی قومی آزادی کی تحریک آفاقی اصولوں پر مبنی نہیں ہوتا کیونکہ ہر معاشرہ دوسرے سے مختلف ہوتا ہے- ہر سماج کے لوگ خود کو درپیش حالات و مشکلات پر ردعمل کا اظہار اپنی سماجی ڈھانچے اور قومی مزاج کے مطابق کرتے ہیں- بلوچ کے سیاق و سباق میں بلوچ کی روزمرّہ زندگی بلوچ کی قومی مزاج کے مطابق گزرتی ہے جو منفرد ثقافتی اخلاقیات کے قوانین و قواعد کا مجموعہ ہے۔ جو کہ نہ صرف لوگوں کی سیاسی، اقتصادی، معاشرتی بلکہ زندگی کی ہر پہلو میں رہنمائی کرتا ہے- گو کہ وقت کے بہاؤ کے ساتھ معاشرے سماجی اقدار اور معیارات کو اپنی ضروریات کے مطابق آراستہ کرتے رہتے ہی ہیں لیکن بہتر مستقبل کی حصول میں اپنی سماجی ڈھانچہ کی بنیادوں کو مسخ نہیں کرتے کیونکہ ایسا کرنا مستقبل کی اس ضمانت سے انحراف کرنا ہے جو قومی تحریکیں اپنے لوگوں کو دیتی ہیں۔ اس لئیے قابض قوتیں مسلسل مظلوم قوم کی ثقافتی اقدار اور سماجی ڈھانچہ کو مسخ کرنے کی کوششیں کرتے ہیں کیوں کہ وہ یہ حقیقت بخوبی جانتے ہیں کہ ان ہی اقدار سے مظلوم اخلاقی قوت و توانائی حاصل کرتے ہیں-

پاکستان کے زیر اثر آنے سے پہلے اور بعد میں بھی بلوچ کی سیاسی جدوجہد پر علاقائی و عالمی سیاست کے اثرات پڑتے رہے ہیں۔ جو بلوچ کی سیاست کو اندرونی تنازعہ اور تجربات کے علاوہ متاثر کرتے رہے ہیں- ہم دیکھ سکتے ہیں کہ 1947 سے لیکر 1970 اور اسکے بعد آج تک سیاسی تنظیموں کی آپسی گٹھ جوڑ کا سلسلہ کم و بیش جاری ہے- نظریات اور نقطہ نظر کی بنیادوں پر آپسی رنجشیں اور تنقیدی مزاح اپنی جگہ لیکن مختلف تجربات و نظریات کی اطلاق میں بلوچ کی نجات دیکھنے والی تمام سیاسی پارٹیوں اور طلبا تنظیموں کی منشور سے البتہ بلوچ اور بلوچستان حذف نہیں ہوئے- کسی بھی تنظیم کی جانب سے اپنے ممبران کے مابین اندرونی وفاداری کا فروغ اکثر دوسرے تنظیم کی طرف عداوت کی شکل میں ابھرتا ہے- نیشنلزم یا قومی نجات کی تحریک البتہ یہ تقاضہ کرتی ہے کہ قومی سیاست سے وابستہ افراد ان تمام سیاسی نظریات کے پیروکاروں کے ساتھ سماجی میل ملاپ رکھیں جن کے طور طریقے شاید ان کے نزدیک ناگوار اور ناموافق ہوں لیکن وہ اپنی اندرونی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے ان نقاط پر یکجہتی کو فروغ دیں جو بلا امتیاز ان سب پر بحیثیت قوم اثرانداز ہوتی ہیں-

لیکن بلوچ سیاست میں موجود منفی رویوں کی وجہ سے آج تک ہم ان بنیادوں پر اتفاق قائم نہیں رکھ پائے ہیں اور نہ ہی نیشنلزم کی حقیقی روح کو اپنی سیاست میں سما پائے ہیں- اختلافات یقینی ہوتے ہیں اور ماضی میں بلوچ سیاسی تنظیموں کے درمیان سیاسی اختلافات جس نہج پر بھی پہنچے بلوچی اقدار کا خیال رکھا گیا- بلوچ سیاست کی تاریخ سے یہ بات عیاں ہے کہ اخلاقی اور سماجی اقدار کی حدود و قیود سے آزاد مخالفت ہوئی بھی تو اسے عوام کی ناپسندیدگی کا سامنا کرنا پڑا لیکن کل کے سیاسی ماحول میں عوامی ناپسندیدگی کا جو احترام تھا وہ آج کافی کم ہوگئی ہے آج کوئی بھی سیاسی تنظیم عوام کے سامنے خود کو جوابدہ نہیں سمجھتا- بلوچ کی سیاسی و سماجی مسائل پر لکھنے والے لکھاریوں کے مابین اتفاق پایا جاتا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے میں بلوچ قومی سیاست کو درپیش دیگر اہم مسائل میں سے ایک منفی رویوں کی رجحان ہے- ان رویوں کے نقصانات کی ایک جھلک چند سال پہلے سب دیکھ چکے ہیں- ان منفی رویوں کی دوبارہ بے لگام ظہور لمحہ فکریہ ہے اور ان کی حوصلہ شکنی یا حوصلہ افزائی کا فیصلہ اس بات کے سمجھنے میں ہے کہ ان منفی رویوں کا بلوچ سماج اور ان تنظیموں کی اپنی وضح کی گئی سیاسی اہداف پر کس طرح کے اثرات ہوسکتے ہیں- اس حوالے سے تمام سیاسی تنظیموں کے منشور ہی ہماری رہنمائی کرسکتے ہیں-

بلوچستان کی موجودہ بلوچ سیاسی جماعتوں اور طلبا تنظیموں بشمول بلوچ نیشنل موومنٹ، بلوچستان نیشنل پارٹی، بلوچ ریپبلکن پارٹی، نیشنل پارٹی اور بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی تمام دھڑے یا گروہوں نے اپنے منشور میں اپنے ممبران کے لئے کم و بیش اخلاقی قواعد طے کئیے ہوئے ہیں جو بلوچی مزاج سے متصادم نہیں ہیں- اس حوالے سے ایک شق جو تقریباً ان بیشتر تنظیموں کی منشور میں شامل ہے کہ کوئی بھی پارٹی رکن کسی اخلاقی بدعنوانی میں ملوث پایا جائے تو اسکے خلاف تادیبی کاروائی کی جائے گی لیکن یہ شق بغیر کسی وضاحت کے ہے۔ لہٰذا وہ رویے جن کی جانب یہ تحریر اشارہ کر رہی ہے آیا اس شق میں بیان کی گئی اخلاقی بدعنوانی کے زمرے میں آتے ہیں یا نہیں یہ کہنا مشکل ہے البتہ اوپر ذکر کی گئی تمام تنظیموں کے منشور میں بلوچ قومی اقدار اعلیٰ کی بحالی اور بلوچ سماج میں یکسانیت، بھائی چارگی اور قومی یکجہتی کی فروغ کی ضمانت موجود ہیں- اگر اسی تناظر میں دیکھا جائے تو سوشل میڈیا پر بلوچ جہد کار اپنی منتشر خیالات کا جس نفرت انگیز اور بدنما طریقے سے اظہار کرتا ہے وہ ان تنظیموں کی وضح کردہ منشور کے بلکل خلاف ہیں- اگر دیکھا جائے تو سوشل میڈیا اور آن لائن اخباروں میں شائع بیانات و تحاریر ان تنظیموں کی اپنی ترتیب دی گئی پارٹی منشور کی پیروی کرتے دیکھائی نہیں دیتے۔

ان بیانات و تحریر میں نہ سیاسی تربیت ہے اور نہ ہی تنقید کے آداب کا وجود ہے۔ بلکہ ایک فرد کے غصّے کا اظہار ہے اور اکثر بد نیتی پر مبنی ہے جو وقتاً فوقتاً قوم کو مایوسی کی طرف دھکیلتی رہتی ہے- ایسے رویے عموماً ممبران کا سیاسی تربیت سے دوری، مطالعہ کی کمی اور بےجا مایوسی سے پیدا ہوتے ہیں- جب سیاسی تنظیم اپنے ممبران میں موجود جذبات و غصہ کو منظم راہ نہیں دے پاتے تو یہی جذبات انہیں اندر ہی اندر کھا جاتے ہیں- انکی مایوسی اور بد تہذیبی کا سبب بنتے ہیں- یہ رویے کسی قومی سیاسی پارٹی کی اعلیٰ اقدار کی عکاس نہیں ہوسکتے کیونکہ گالم گلوچ اور دوسروں کو نیچا دکھانے سے کسی کی سیاسی تربیت نہیں ہوتی- ایسا کرنے سے شاید کوئی اپنی ذہنی تسکین کر پائے لیکن اس سے وہ خود کے لئے احترام اور لوگوں کی حمایت نہیں جیت سکتا-

آج بلوچ اقدار کی تحفظ اور بہتر مستقبل کی ضمانت دینے والی بلوچ سیاسی پارٹیوں کی آپسی چپقلش اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے نے بلوچیت اور بلوچی اقدار کو شرمندہ کرنے کیساتھ ساتھ قومی تحریک سے عام بلوچ کو دور تر دکھیلا ہے- اگر سیاسی جماعتیں اپنی اہداف کا پھر سے مطالعہ کریں اور وقت و حالات کے تقاضوں کو بھانپین تو انہیں ادراک ہوگا کہ انہیں اس غلاظت سے کئی زیادہ اہم سوالات کا سامنا ہے- آج بحیثیت قوم آپ کہاں کھڑے ہیں؟ ہماری سیاسی سرگرمیاں جمود کا شکار ہیں- آپ عوام سے منقطع ہوچکے ہیں اور انکی سیاسی تربیت نہیں ہو پا رہی ہے، آپ اپنے لئے نیا کیڈر پیدا نہیں کر پا رہے – آپ کیسے اپنے لئے ایک سازگار سیاسی ماحول حاصل کرسکتے ہیں اور اپنا رابطہ عوام سے دوبارہ بحال کرسکتے ہیں؟- کیونکہ عوام سے منقطع ہوکر قومی تحریکیں نہیں چلتیں- اپنی غلطیوں اور نقصانات کا تعین کرنے کی ضرورت ہے اور خود کو درپیش مشکلات اور حالات کا صحیح تجزیہ کرنے اور انکی روشنی میں لائحہ عمل ترتیب دینے کی ضرورت ہے- یہ حالات ان تمام سیاسی تنظیموں کی موجودہ قیادت کی صلاحیتوں کا امتحان ہیں کہ کیسے وہ عوام میں پائی جانے والی مایوسی اور غصہ کو ایک بہتر سمت دے سکتے ہیں اور سیاسی تنظیموں سے وابستہ افراد کس قدر ان قومی مسائل کے حل کے لئے ایک دوسرے کے سہولتکار بن سکتے ہیں؟

جس تیزی سے ہماری تنظیمیں سیاسی و اخلاقی زوال کی جانب جا رہے ہیں، ایسے میں ان تنظیموں کے رہنماء بروقت حرکت نہ کریں تو چند سال کے عرصے کے بعد وہ عوامی امنگوں سے دور ہو جائیں گے اور وقت کے ساتھ ساتھ وہ بلوچ سیاست سے غیر متعلقہ ہو جایئنگے- اور پھر مایوسی اور پچھتاوے کے علاوہ ان کے ہاتھ کچھ نہیں لگے گا- لیکن اب بھی وقت ہے کہ کھلے ذہن کے ساتھ صحت مند اور مثبت بحث شروع کی جائے جو مددگار ہونے کے ساتھ ہماری سیاسی و ثقافتی اقدار کی عکاسی بھی کرتا ہو اور بلوچ قومی نجات کی تحریک کو ایک نئے جذبہ کے ساتھ آگے کی طرف گامزن کرنے میں مدد و معاون ثابت ہو-

قمبر مالک بلوچ بلوچستان افیئرز کے ایڈیٹر ہیں اور بلوچستان کے سیاسی اور سماجی مسائل پر لکھتے ہیں-

Share on :
Share

About Administrator

Check Also

بولان میڈیکل کالج کے رجسٹرار کی تعیناتی سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دیدی

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے بولان میڈیکل کالج کی سینئر رجسٹرار کی پوسٹ پر ایف پی …

Leave a Reply

Share
Share
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com