Home / Archives / یورپی یونین کو پاکستان سے برآمدات میں 50 فی صد اضافہ

یورپی یونین کو پاکستان سے برآمدات میں 50 فی صد اضافہ

یورپی یونین کی تجارت سے متعلق جنرلائزڈ اسکیم آف پریفرنسز (جی ایس پی) نے اپنی تیسری دو سالہ رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان کی یورپی یونین کو برآمدات میں تین سال سے مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ 

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے کے بعد یورپی یونین کو پاکستان سے برآمدات میں چھ ارب 80 کروڑ یورو کا اضافہ دیکھا گیا ہے جو تقریباً 50 فی صد اضافہ بنتا ہے۔ 

رپورٹ میں اس بات پر اطمینان کا ظاہر کیا گیا ہے کہ پاکستان نے خواتین اور بچوں کے حقوق کے تحفظ، غیرت کے نام پر قتل روکنے، خواجہ سراؤں کا تحفظ یقینی بنانے، ماحولیات کے تحفظ اور بہتر طرز حکمرانی میں کافی بہتری دکھائی ہے۔

رپورٹ میں اس بات پر بھی اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے کہ پارلیمنٹ نے ملٹری کورٹس میں شہریوں پر مقدمات چلانے کے قانون کو مزید توسیع نہیں دی۔

یورپی یونین کی رپورٹ میں اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے کہ پاکستان کی اینٹی نارکوٹکس فورس نے منشیات فروشوں کو پکڑنے میں کافی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ بالخصوص ان گروہوں کے خلاف جو تعلیمی اداروں کے اطراف میں منشیات فروخت کرتے تھے۔ البتہ اس بات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے کہ اسمگلنگ کے راستوں کو مکمل سیل کیا جائے اور علاقائی تعاون کو فروغ دیا جائے۔

البتہ ساتھ ہی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان میں انتہائی سنگین جرائم جن میں سزائے موت دی جا سکتی ہے، ان کی تشریح اور تعریف بین الاقوامی معیار اور قوانین سے ہم آہنگ دکھائی نہیں دیتی۔

جبری گمشدگی پر قانون سازی نہ کی جا سکی’

یورپی یونین کی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان میں جبری گمشدگیوں اور مزدوروں سے متعلق قانون سازی نہیں ہوئی۔ 

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومتی یقین دہانیوں کے باوجود اب تک جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کرنے والوں کے خلاف کوئی قانونی کارروائی شروع نہیں کی گئی۔ حالانکہ پاکستان 2012 میں جبری گمشدگی کو جرم تصور کرنے سے متعلق عالمی قوانین کو تسلیم کر چکا ہے۔

‘ملک میں آزادی اظہار رائے برقرار رکھنا مشکل ہو گیا’

یورپی یونین نے اپنی رپورٹ میں آزادی اظہار پر عائد پابندیوں پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سول سوسائٹی اور اختلاف رائے رکھنے والی آوازوں کے لیے کام کرنا مشکل ہو گیا ہے جب کہ صحافیوں کے خلاف جرائم کرنے والوں کو “اعلیٰ درجے کا استثنیٰ” حاصل ہے۔ 

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آزادی اظہار رائے کو دبانے کے لیے قومی سلامتی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔

رپورٹ میں 144 بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں میں سے 20 کی رجسٹریشن منسوخ کرنے اور انہیں ملک بدر کرنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

جی ایس پی رپورٹ کیا ہے؟

جنرلائزڈ اسکیم آف پریفیرنس (جی ایس پی) 27 ممالک پر مشتمل یورپی یونین کی تجارتی پالیسی کا بنیادی نکتہ ہے جس کا مقصد ترقی پذیر ممالک سے تعاون کرنا اور ان کی پائیدار ترقی کو ممکن بنانا ہے۔ 

اس پروگرام کے تحت یورپی یونین ان ممالک میں غربت کے خاتمے، ملازمتوں کے مواقع بڑھانے، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور دیگر نکات پر ریٹنگ کی جاتی ہے۔ اچھی ریٹنگ رکھنے والے ممالک کو یونین کے رکن ممالک سے تجارت میں مختلف قواعد اور ٹیرف میں نرمی فراہم کی جاتی ہے۔ 

اس پروگرام کے تحت دنیا کے ترقی پذیر ممالک کو ان کے کارکردگی کے حساب سے بالترتیب جی ایس پی، جی ایس پی پلس یا ای بی اے کا درجہ دیا جاتا ہے۔ 

اس وقت پاکستان سمیت آٹھ ممالک کو جی ایس پی پلس کا درجہ حاصل ہے۔ پاکستان کو یہ درجہ 2014 میں ملا تھا۔

جی ایس پی پلس سے اگلا درجہ ای بے اے کا ہے جو بنگلہ دیش کو حاصل ہے۔ ای بی اے کا درجہ حاصل کرنے والے ممالک یورپی یونین کے ساتھ معاہدے کے تحت مستقل تجارتی پارٹنر بن سکتے ہیں۔ 

یہ رپورٹ یورپی یونین کی پارلیمنٹ میں پیش کر دی گئی ہے جس پر اب اس ماہ کے آخر میں پارلیمنٹ کوئی فیصلہ کرے گی۔

Share on :
Share

About Administrator

Check Also

بولان میڈیکل کالج کے رجسٹرار کی تعیناتی سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دیدی

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے بولان میڈیکل کالج کی سینئر رجسٹرار کی پوسٹ پر ایف پی …

Leave a Reply

Share
Share
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com