Home / Archives / عطا شاد نے بلوچی ادب کو ایک نئی شناخت دی ہے، ڈاکٹر صبور بلوچ

عطا شاد نے بلوچی ادب کو ایک نئی شناخت دی ہے، ڈاکٹر صبور بلوچ

تربت : یونیورسٹی آف تربت کے ڈین فیکلٹی آف آرٹس ہیومینٹیز اینڈ سوشل سائنسز اور ڈائریکٹر انسٹیٹوٹ آف بلوچی لینگویج اینڈ کلچر پروفیسر ڈاکٹر عبدالصبورربلوچ نے کہا ہے کہ عطاشاد نے اپنی منفرد شاعری کے ذریعے بلوچی زبان و ادب کو ایک نئی شناخت اور پہچان دینے کے ساتھ آزاد نظم کے تجربے سے لے کر نئی شعری تراکیب،علامت اور تشبیہ و استعارات کے استعمال تک، جدید بلوچی شاعری کو ایک نئی تخلیقی زبان دی ہے جس میں عطا شاد کی فنی اور سماجی شعور نے بھر پور کردار ادا کیاہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے نامور بلوچی شاعر اور ادیب عطا شاد کی ستائیسویں برسی کے موقع پر انسٹیٹوٹ آف بلوچی لینگویج اینڈ کلچر کے زیر اہتمام ہونے والی ادبی تقریب کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ عطا شاد نے نہ صرف بلوچی زبان میں غزل کے خوبصورت تجربے کیئے ہیں بلکہ آزاد جمالدینی کے بعد آزاد نظم جیسی صنف کو بلوچی شاعری میں متعارف کرانے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ اس لیے جدید بلوچی شاعری کی تاریخ عطاشاد کے ذکر کے بغیر نامکمل ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر عبدا لصبور بلوچ کا کہنا تھاکہ عطا شاد کی شعری تخلیقات کی ایک اہم پہلو یہ ہے کہ ان کی جڑیں اپنی سرزمین اور کلچر سے پیوست ہیں۔ انہوں نے موضوع اور مواد کو تخلیقی زبان اور شعری قالب میں ڈھال کر ایک منفرد انداز میں پیش کرکے رجحان ساز شاعر کا درجہ حاصل کیا۔ اس لیے نقادان ادب عطا شاد کو ہمیشہ ایک رجحان ساز شاعر کے طور پر یاد رکھیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عطا شاد کی سماجی شعور، فنی محاسن اور تخلیقات کی وجہ سے بلوچی زبان و ادب کو ایک نئی جہت ملی۔تقریب میں انسٹیٹوٹ آف بلوچی لینگویج اینڈ کلچر کے پروفیسر ڈاکٹر عبدالصبور بلوچ اور اسسٹنٹ پروفیسر صادق صباء، طالبعلم عباس حسن، اورشبیر شریف نے عطا شاد کی شاعری اور فن پر اپنے اپنے مقالات پیش کیئے، جبکہ بلوچی زبان کے نامور نوجوان گلوکار اور آئی بی ایل سی کے طالبعلم آسمی بلوچ، نواب بلوچ، ساجد قادر اور رابعہ بلوچ نے عطا شاد کی بلوچی گیت ترنم کے ساتھ پیش کر کے حاضرین مجلس سے داد وصول کیئے۔

اس کے علاوہ بی ایس بلوچی کے طالبعلم حاتم عدنان دشتی نے عطاشاد کی ایک مشہور غزل کی خوبصورت پیروڈی بھی پیش کی۔ تقریب کی نظامت کے فرائض بی ایس بلوچی کے طالبعلم عمران حاصل نے سرانجام دئیے۔ تقریب میں انسٹیٹوٹ آف بلوچی لینگویج اینڈ کلچر، یونیورسٹی آف تربت کے اساتذہ کرام اور طلبہ و طالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

Source: Daily Azadi Quetta

Share on :
Share

About Administrator

Check Also

بولان میڈیکل کالج کے رجسٹرار کی تعیناتی سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دیدی

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے بولان میڈیکل کالج کی سینئر رجسٹرار کی پوسٹ پر ایف پی …

Leave a Reply

Share
Share
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com