Home / Archives / Analysis / ہمارے سیاسی رویے

ہمارے سیاسی رویے

ڈاکٹر خورشید کریم

گزشتہ چند دہائیوں کی بلوچ سیاست میں جو تقسیم کا رویہ چلا آتا رہا ہے، اس میں کچھ ایسے عوامل شامل ہیں جو ہر تقسیم میں متواتر دیکھائی دیتے ہیں جیسا کہ عدمِ برداشت، بد نیّتی، ذاتی مفاد اور رومانیت وغیرہ وغیرہ۔ ان عوامل میں کچھ زیادہ نقصان دہ ہیں اور کچھ کم، لیکن نقصان دہ سب ہی ہیں۔ ایک بنیادی وجہ جو کچھ عوامل کو زیادہ نقصان دہ بناتی ہے وہ یہ ہے کہ اس سے پہلے بلوچ سیاست اور سماج میں ان کی پریکٹس بلکل بھی نہیں ہوتی تھی لیکن آج وہ عوامل بلوچ سیاسی ورکر کے ہاتھوں پہنچا دیئے گئے ہیں اور آھستہ آھستہ بلوچ سیاست کے ساتھ ساتھ سماجی ڈھانچے میں پیوست ہورہے ہیں۔

چونکہ بلوچ کی معاشی اور معاشرتی زندگی اس کے ہمسایوں کی معاشی اور معاشرتی زندگی کی طرح مننظم نہیں رہی ہے، وہ ایک بہت بڑی زمین پر چھوٹی چھوٹی مختلف آبادیوں میں بٹے ہوئے تھے۔ ان چھوٹی چھوٹی آبادیوں کی معاشی اور معاشرتی زندگیوں کو اکٹھا کرنے کے لئے جو انفرااسٹرکچر درکار تھا وہ ریاست قلات کے پاس موجود نہیں تھا۔ اور جب کسی ثقافت کی چھوٹی چھوٹی کڑیاں آپس میں ملنے جلنے میں دیر کر دیتی ہیں تب خارجی ثقافتیں اُس ثقافت کی آپسی کڑیوں پر اپنا گانٹھ لگا لیتے ہیں جن کے چھاپ متاثرہ ثقافت میں نسل در نسل منتقل ہوتے رہتے ہیں۔

چونکہ بلوچ کے پاس انفراسٹرکچر نہیں تھا اس لئیے جو بلوچ آبادی جس منّظم معاشرے کا ہمسایہ ہوتا تھا وہاں کے معاشرتی اور معاشی زندگیوں سے اُس نے متاثر ہونا ہی ہونا تھا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جو آبادیاں سب سے زیادہ ایران سے قریب ہیں اُن میں بلوچی سے زیادہ فارسی کے رنگ ملتے ہیں۔ جو آبادی سب سے زیادہ سندھ کے قریب ہے اس میں بلوچی سے زیادہ سندھی بستا ہے، اور جو افغانستان کے قریب ہے اس میں افغانی زیادہ بستا ہے۔ بلوچ کی معاشرتی زندگی کی طرح بلوچ کی سیاسی زندگی بھی منّظم سیاسی نظام سے متاثر ہوتی آ رہی ہے۔

بلوچ کی سیاسی زندگی چونکہ انگریز کے خلاف سیاسی مزاحمت سے شروع ہوتی ہے۔ شروع کے سیاسی رویوں میں بلوچ ثقافت کی چھاپ سب سے زیادہ ملتی ہے۔ کوئی ذاتی مفاد نہیں، کوئی عدم برداشت نہیں، کوئی تقسیم نہیں، کوئی لالچ نہیں۔ کچھ بلوچ نوجوان انگریز کے خلاف سیاسی آگاہی دینے میں جُٹ جاتے ہیں اور وہ اپنے سیاسی عمل کو بلوچ ثقافتی اقدار کو سامنے رکھ کر آگے بڑھاتے ہیں۔ اس کے بعد کی سیاست میں پاکستانی ریاست نے ہر وہ عوامل انجیکٹ کرنے کی کوشش کی ہے جو سیاسی پریکٹسز کو بلوچ سے زیادہ پاکستانی بنا سکیں اور وہ سیاسی پریکٹسز ہماری ہی سیاسی پارٹیاں ہماری معاشرتی اور ثقافتی زندگیوں میں لاتی ہیں۔ چونکہ پاکستان بھی انگریز کی طرح “ڈیوائد اینڈ رول” کی پالیسی پر کام کرتا ہے۔ لیکن انگریز اور پاکستان کے ہدف مختلف ہیں۔ انگریز کا ہدف بلوچ کی قبائلی زندگی تھی کیونکہ لوگ قبائل کے تھے اور قبائل سردار کے اور سردار انگریز کا۔ آج پاکستان نے قبائلی زندگی کو سیاسی زندگی سے بدل دیا باقی پورے کا پورا سائیکل ایک ہے۔ یعنی لوگ سیاسی پارٹی کے ہیں، سیاسی پارٹی سیاستدان کا اور سیاستدان پاکستان کا۔ اور جو سیاسی پارٹیاں پاکستان کی نہیں بھی ہوں اُن کے سیاسی رویے پورے کے پورے پاکستانی ہوتے ہیں۔ جو سیاسی پارٹیاں آج پاکستان کی پارلیمنٹ میں بیھٹے ہیں یا جو آزادی کی جنگ لڑھ رہے ہیں اگر ان کے آئیڈیالوجیز پر نہیں ان کے سیاسی رویوں پر بات کریں تو سیاسی رویے ایک جیسے دیکھائی دیتے ہیں۔ عدم برداشت، دھوکہ دھی اور بد نیتی کی سیاست آزادی پسندوں میں موجود ہے جو کہ بلوچ سیاسی، معاشی، معاشرتی اور ثقافتی زندگیوں کا کبھی بھی حصّہ نہیں رہا ہے۔ اور یہ سب پاکستان نے کچھ دہائی پہلے ہمارے سیاسی ڈھانچے میں ڈال دئیے ہیں ۔جب آج کا کامریڈ اور میں جوان ہو رہے تھے تب وہ سیاسی رویے ہمارے معاشرتی زندگیوں کے حصّے بن چکے تھے جن سے کامریڈ اور میں متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ پائے۔

آج بھی بلوچ معاشرہ نفسیاتی طور پر اس بلوچ کو اپنا آئڈیل سمجھتا ہے جو کسی بھی بیرونی قوت سے متاثر نہیں ہوتا۔ میری طرح آپ نے بھی لوگوں کو کسی کی لالچ یا دھوکہ دھی یا ظلم پر یہ کہتے ہوئے سنا ہوگا کہ “بلوچ اس طرح نہیں کرتا” اس کا مطلب یہ ہوا کہ بلوچ معاشرے میں بلوچ کردار آج بھی نفسیاتی طور پر موجود ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ جو واقعی میں بلوچ سیاسی پارٹیاں ہیں ایک دوسرے پر نکتہ چینی کے بجائے اپنے اپنے سیاسی رویوں پر کام کریں کہ کیسے ممکن بنایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی کھڑی کی گئی سیاسی رویوں کے مدمقابل اپنا ایک سیاسی نظام سامنے لایا جائے۔ جس میں سارے سیاسی رویے بلوچ کی ثقافت کے عکاس ہوں۔

ڈاکٹر خورشید کریم بلوچستان افیئرز کے ایڈوائزری بورڈ کے ممبر ہیں- وہ شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے سیاسی اور سماجی مسائل پر لکھتے ہیں- وہ انڈسٹریل بائیو ٹکنالوجی میں پی ایچ ڈی ہیں-

Share on :
Share

About Administrator

Check Also

بلوچستان،بیرون ملک سے آنیوالے 1074 افراد کا کورونا ٹیسٹ کرنے کا فیصلہ

کوئٹہ: حکومت بلو چستان کا بیرون ملک سے آنے والے 10ہزار 743افراد کے کو رونا …

Share
Share
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com